🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

8. كلام عمر بن الخطاب ﵁
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا کلام
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35583 ترقیم الشثری: -- 37161
٣٧١٦١ - حدثنا ابو خالد (الاحمر) (١) عن يحيى بن سعيد عن القاسم عن اسلم مولى عمر قال: لما قدمنا مع عمر الشام اناخ بعيره وذهب لحاجته فالقيت (فروتي) (٢) بين شعبتي الرحل، فلما جاء ركب على الفرو، فلقينا اهل الشام يتلقون عمر فجعلوا ينظرون فجعلت اشير لهم إليه، قال: يقول عمر: تطمح اعينهم إلى مراكب من لا خلاق له -يريد مراكب العجم (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ع].
(٢) في [أ، ب، س، ع]: (فروى).
(٣) حسن؛ أبو خالد صدوق، أخرجه ابن المبارك في الزهد (٥٨٥)، وابن شبه (١٣٩٩)، وابن عساكر ٨/ ٤١.

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے غلام اسلم سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جب ہم لوگ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ شام گئے۔ انہوں نے اپنے اونٹ کو بٹھایا اور اپنی حاجت کے لیے چلے گئے۔ میں نے سواری کے دونوں حصوں کے درمیان چمڑے کا ملبوس ڈال دیا۔ پھر جب حضرت عمر رضی اللہ عنہائے تو آپ رضی اللہ عنہ اسی چمڑے پر ہی سوار ہوگئے۔ پس ہم اہل شام سے ملے۔ انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا استقبال کیا۔ وہ دیکھنے لگے تو میں ان کو حضرت عمر کی طرف اشارہ کرکے بتلانے لگا۔ راوی کہتے ہیں حضرت نے فرمایا: ان کی آنکھیں ایسے لوگوں کے مراکب کی طرف للچاتی ہیں جن کا کوئی حصہ نہیں ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی مراد عجمی سواریاں تھیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37161]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37161، ترقيم محمد عوامة 35583)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35584 ترقیم الشثری: -- 37162
٣٧١٦٢ - حدثنا وكيع عن إسماعيل عن قيس قال: لما قدم عمر الشام استقبله الناس وهو على بعيره فقالوا: يا امير المؤمنين، لو ركبت (برذونا) (١) يلقاك عظماء الناس ووجوههم، قال: فقال عمر: (الا) (٢) اراكم هاهنا، (إنما) (٣) الامر من هاهنا واشار بيده إلى السماء - (٤) خلوا سبيل جملي (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س، ع]: (بردونا).
(٢) سقط من: [س].
(٣) سقط من: [ع].
(٤) في [س]: زيادة (و).
(٥) صحيح؛ أخرجه أبو نعيم في حلية الأولياء ١/ ٤٧، وابن شبه (١٤٠٩)، والخلال في السنة (٣٩٧).

حضرت قیس سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ شام تشریف لائے لوگوں نے ان کا استقبال کیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہاپنے اونٹ پر تھے۔ لوگوں نے کہا: اے امیر المومنین! اگر آپ غیر عربی گھوڑے پر سوار ہوجاتے کہ لوگوں کے سردار اور رئیس آپ سے ملاقات کریں گے راوی کہتے ہیں اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں تمہیں یہاں دکھائی نہیں دوں گا۔ معاملہ تو وہاں ہوتا ہے اور آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے ہاتھ سے آسمان کی طرف اشارہ کیا۔ تم لوگ میرے اونٹ کا راستہ چھوڑ دو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37162]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37162، ترقيم محمد عوامة 35584)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35585 ترقیم الشثری: -- 37163
٣٧١٦٣ - حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن قيس بن مسلم عن طارق بن شهاب قال: لما قدم عمر الشام اتته الجنود وعليه إزار وخفان وعمامة وهو آخذ ⦗٣٠٢⦘ براس بعيره يخوض الماء، فقالوا له: يا امير المؤمنين، تلقاك الجنود وبطارقة الشام وانت على هذا الحال، قال: فقال عمر: إنا قوم اعزنا الله بالإسلام فلن نلتمس العز بغيره (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح؛ أخرج الحاكم ١/ ١٣٠، وأبو نعيم في الحلية ١/ ٤٧، وابن عساكر ٤٤/ ٥، وابن البخاري في مشيخته ١/ ٤١٣، والبيهقي في الشعب (٨١٩٦).
حضرت طارق بن شہاب سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ شام تشریف لائے تو آپ رضی اللہ عنہ کے پاس بہت سے گروہ حاضر ہوئے اور آپ رضی اللہ عنہ پر (اس وقت) ایک ازار، دو موزے اور ایک عمامہ تھا۔ اور آپ رضی اللہ عنہاپنے اونٹ کے سر کو پکڑ کر اس کو پانی میں ڈال رہے تھے۔ لوگوں نے کہا: اے امیر المومنین! لشکر آپ سے ملاقات کررہے ہیں اور شامی یہودی علماء آپ رضی اللہ عنہ سے مل رہے ہیں۔ اور آپ اس حالت میں ہیں۔ راوی کہتے ہیں اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یقینا ہم وہ لوگ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اسلام سے عزت دی ہے۔ پس ہم اس کے علاوہ کسی چیز سے ہرگز عزت کے متلاشی نہیں ہوں گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37163]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37163، ترقيم محمد عوامة 35585)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35586 ترقیم الشثری: -- 37164
٣٧١٦٤ - حدثنا (محمد) (١) بن فضيل عن الاعمش عن شقيق قال: كتب عمر: إن (الدنيا) (٢) خضرة حلوة، فمن اخذها بحقها كان قمنا ان يبارك له فيها، ومن اخذها بغير ذلك كان كالآكل الذي لا يشبع (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [جـ].
(٢) في [أ]: (الدني).
(٣) صحيح.

حضرت شقیق سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے خط میں تحریر فرمایا: بیشک دنیا میٹھی اور سرسبز ہے۔ پس جو آدمی اس کو اس کے حق کے ساتھ لے گا تو وہ اس لائق ہے کہ اس کے لیے اس میں برکت دی جائے اور جو شخص اس کو اس کے بغیر لے گا تو اس کی مثال اس کھانے والے کی سی ہے جو سیر نہ ہوتا ہو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37164]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37164، ترقيم محمد عوامة 35586)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35587 ترقیم الشثری: -- 37165
٣٧١٦٥ - حدثنا عبد الاعلى عن معمر عن الزهري عن إبراهيم بن عبد الرحمن ابن عوف قال: لما اتي عمر بكنوز، (آل) (١) كسرى فإذا من (الصفراء) (٢) (و) (٣) البيضاء ما يكاد ان (يحارمنه) (٤) البصر، قال: فبكى عمر عند ذلك، (فقال) (٥) عبد الرحمن: ما يبكيك يا امير المؤمنين؟ إن هذا اليوم (ليوم) (٦) شكر وسرور وفرح، فقال عمر: ما كثر هذا عند قوم إلا القى الله بينهم العداوة والبغضاء (٧) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [جـ].
(٢) في [س]: (الصفر).
(٣) سقط من: [أ، ب، جـ].
(٤) في [ع]: (تحار).
(٥) في [جـ، ع]: (قال: فقال).
(٦) في [ط، هـ]: (يوم)، وسقط من: [س].
(٧) صحيح؛ أخرجه معمر كما في الجامع من مصنف عبد الرزاق (٢٠٠٣٦)، والبيهقي ٦/ ٣٥٨، وابن المبارك في الزهد (٧٦٨)، والخرائطي (٥٠٢)، وابن عساكر ٤٤/ ٣٣٩.

حضرت ابراہیم بن عبدالرحمن بن عوف سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آلِ کسریٰ کے خزانے لائے گئے تو اس میں اس قدر سونا، چاندی تھا کہ جس سے آنکھیں چندھیانے لگیں۔ راوی کہتے ہیں اس پر حضرت عمر روپڑے۔ راوی کہتے ہیں حضرت عبدالرحمن نے عرض کیا: اے امیر المومنین! آپ کو کس چیز نے رلا دیا ہے؟ یقینا آج کا دن تو شکر، خوشی اور فرحت کا دن ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ چیزیں جس قوم کے پاس بھی زیادہ ہوتی ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کے درمیان عداوت اور بغض ڈال دیتے ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37165]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37165، ترقيم محمد عوامة 35587)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35588 ترقیم الشثری: -- 37166
٣٧١٦٦ - حدثنا ابو اسامة عن سليمان بن المغيرة عن ثابت عن انس قال: رايت بين كتفي عمر اربع (رقاع) (١) في قميصه (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (رقعًا).
(٢) صحيح؛ أخرجه عبد الرزاق (١٩٩٣٤)، وابن سعد ٣/ ٣٢٧، وابن الأثير في أسد الغابة ٤/ ١٦٩، وابن عساكر ٤٤/ ٣٠٤، وهناد (٧٠١)، وابن أبي الدنيا في إصلاح المال (٣٨١)، والتواضع (١٨١).

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دونوں کندھوں کے درمیان ان کی قمیص میں چار پیوند دیکھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37166]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37166، ترقيم محمد عوامة 35588)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35589 ترقیم الشثری: -- 37167
٣٧١٦٧ - حدثنا عبد الله بن إدريس عن إسماعيل بن ابي خالد عن سعيد بن ابي بردة قال: كتب عمر إلى ابي موسى: اما بعد! إن اسعد الرعاة من (سعدت) (١) به رعيته، (وإن اشقى) (٢) الرعاة عند الله من شقيت به رعيته، وإياك ان (ترتع فيرتع عمالك) (٣) ، فيكون مثلك عند الله مثل البهيمة، نظرت إلى خضرة من الارض فرتعت فيها تبتغي بذلك السمن، وإنما حتفها في سمنها (والسلام عليك) (٤) (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (سعد).
(٢) في [س]: (وأشقاه).
(٣) في [ع]: (تزيغ فيزغ عمالك).
(٤) في [ط، هـ]: (وعليك السلام).
(٥) منقطع؛ سعيد بن أبي بردة لم يدرك عمر، أخرجه أبو نعيم في الحلية ١/ ٥٠، وابن البخاري في المشيخة ١/ ٢٢٣، وابن عبد البر في الاستذكار ٨/ ٣٨١.

حضرت سعید بن ابی بردہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوموسیٰ کی طرف خط لکھا: اما بعد! پس بیشک خوش بخت ترین چرواہا (ذمہ دار) وہ ہے جس کی وجہ سے اس کی رعیت خوشحال ہو اور یقینا اللہ کے ہاں بدبخت ترین چرواہا (ذمہ دار) وہ ہے جس سے اس کی رعیت بدحال ہو۔ خبردار! تم اس بات سے بچو کہ تم (غلط جگہ) چرنے لگو پھر تمہارے عمال بھی چرنے لگیں۔ پس تمہاری مثال اللہ کے ہاں جانور کی سی ہوگی جو زمین کے سبزے کی طرف دیکھتا ہے تو اس میں چرنے لگتا ہے اور اس کا مقصد موٹاپا ہوتا ہے جبکہ اس کے موٹاپے میں ہی اس کی موت ہے۔ والسلام علیک [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37167]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37167، ترقيم محمد عوامة 35589)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35590 ترقیم الشثری: -- 37168
٣٧١٦٨ - حدثنا عبد الله بن إدريس عن هشام عن الحسن قال: قال عمر: الرعية مؤدية إلى الإمام ما ادى الإمام إلى الله، فإذا (رتع رتعوا) (١) (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (أركع أركعوا).
(٢) منقطع؛ الحسن لم يدرك عمر، أخرجه ابن سعد ٣/ ٢٩٢.

حضرت حسن سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: رعایا، امام کی طرف وہی چیز ادا کرے گی جو چیز امام اللہ کی طرف ادا کرے گا پس جب امام چرنے لگتا ہے تو رعایا بھی چرتی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37168]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37168، ترقيم محمد عوامة 35590)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35591 ترقیم الشثری: -- 37169
٣٧١٦٩ - حدثنا عبد الله بن إدريس عن محمد بن عجلان عن إبراهيم عن محمد ابن شهاب قال: قال عمر: لا تعترض فيما لا يعنيك، واعتزل عدوك، ⦗٣٠٤⦘ و (احتفظ) (١) من خليلك (إلا) (٢) الامين، فإن الامين من القوم لا يعادله شيء، ولا تصحب الفاجر فيعلمك من فجوره، ولا تفش إليه سرك، واستشر في امرك الذين يخشون الله (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (حفظ).
(٢) سقط من: [ع].
(٣) منقطع؛ ابن شهاب لم يدرك عمر، أخرجه ابن المبارك في الزهد (ص ٢٠٨)، من طريق سليمان، والبيهقي ١٠/ ١١٢، وابن عساكر ٤٤/ ٣٦١، وسيأتي بنحوه ١٣/ ٢٧٤ [٣٧١٩٥].

حضرت محمد بن شہاب سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: تم اپنے غیر متعلقہ کاموں میں تعرض نہ کرو۔ اور اپنے دشمن سے علیحدہ رہو۔ اور اپنے دوستوں میں سے صرف امانتدار کو خاص کرو۔ کیونکہ لوگوں میں سے امانتدار آدمی کے مقابل کوئی چیز نہیں ہے۔ اور فاجر آدمی کی صحبت نہ پکڑو کہ وہ تمہیں بھی اپنے فجور کی تعلیم دے گا۔ اور تم اس کو اپنا راز نہ بتاؤ۔ اور تم اپنے معاملات میں ان لوگوں سے مشورہ کرو جو اللہ تعالیٰ سے خوف رکھتے ہوں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37169]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37169، ترقيم محمد عوامة 35591)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35592 ترقیم الشثری: -- 37170
٣٧١٧٠ - حدثنا مروان بن معاوية عن محمد بن سوقة قال: اتيت نعيم بن ابي هند فاخرج إلي صحيفة فإذا فيها: من ابي عبيدة بن الجراح ومعاذ بن جبل إلى عمر (ابن الخطاب) (١) : سلام عليك اما بعد، فإنا عهدناك وامر نفسك لك مهم، واصبحت (و) (٢) قد وليت امر هذه الامة احمرها واسودها، (يجلس) (٣) بين يديك الشريف والوضيع والعدو والصديق، و (لكل) (٤) (حصته) (٥) من العدل، فانظر كيف انت عند ذلك يا عمر، فإنا نحذرك يوما تعنو فيه الوجوه، و (تجف) (٦) فيه القلوب، وتقطع فيه الحجج، (ملك) (٧) قهرهم بجبروته، والخلق داخرون له، يرجون رحمته ويخافون (عقابه) (٨) ، وإنا كنا نحدث ان امر هذه الامة سيرجع (في) (٩) آخر زمانها: ⦗٣٠٥⦘ ان يكون إخوان العلانية اعداء السريرة، (وإنا) (١٠) نعوذ بالله ان ينزل كتابنا إليك سوى المنزل الذي نزل من قلوبنا، فإنا كتبنا به نصيحة لك والسلام (عليك) (١١) ، فكتب إليهما: من عمر بن الخطاب: إلى ابي عبيدة ومعاذ بن جبل سلام عليكما اما بعد، فإنكما كتبتما إلي تذكران انكما عهدتماني وامر نفسي لي مهم، واني قد اصبحت قد وليت امر هذه الامة احمرها واسودها يجلس بين يدي الشريف والوضيع والعدو والصديق، ولكل (حصته) (١٢) من ذلك، وكتبتما فانظر كيف انت عند ذلك يا عمر، وانه لا حول ولا قوة (عند ذلك لعمر) (١٣) إلا بالله، وكتبتما تحذراني ما حذرت به الامم قبلنا، وقديما كان اختلاف الليل والنهار بآجال الناس يقربان كل بعيد، ويبليان كل جديد، وياتيان بكل موعود، حتى يصير الناس إلى منازلهم من الجنة والنار، كتبتما تذكران انكما كنتما تحدثان ان امر هذه الامة سيرجع في آخر زمانها: ان يكون إخوان العلانية اعداء السريرة، ولستم باولئك، ليس هذا بزمان ذلك، وإن (ذلك) (١٤) زمان تظهر فيه الرغبة والرهبة، تكون رغبة بعض الناس إلى بعض لصلاح دنياهم، ورهبة بعض الناس من بعض، كتبتما به نصيحة تعظاني بالله ان انزل كتابكما سوى المنزل الذي (نزل) (١٥) من قلوبكما، وانكما كتبتما به (نصيحة تعظان بالله) (١٦) وقد صدقتما، فلا تدعا الكتاب إلي فإنه لا ⦗٣٠٦⦘ غنى (بي) (١٧) عنكما والسلام عليكما (١٨) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب].
(٢) سقط من: [أ، ط، هـ].
(٣) في [أ، ب]: (أجلس).
(٤) في [هـ]: (بكل).
(٥) في [جـ، ط، هـ]: (حصة).
(٦) في [هـ]: (تحف).
(٧) في [ط، هـ]: (تملك).
(٨) في [ع]: (عذابه).
(٩) في [هـ]: (إلى).
(١٠) في [س]: (فإنا).
(١١) سقط من: [أ، ب].
(١٢) في [ط، هـ]: (حصة).
(١٣) في [جـ، س]: (إلا باللَّه العلي العظيم عند ذلك لعمر إلا باللَّه).
(١٤) في [ع]: (ذاك).
(١٥) سقط من: [أ، ب].
(١٦) سقط من: [ط، هـ].
(١٧) سقط من: [أ، ب].
(١٨) منقطع؛ نعيم بن أبي هند لا يروي عن عمر ولا معاذ ولا أبي عبيدة، أخرجه أبو نعيم في الحلية ١/ ٢٣٨، والطبراني ٢٠/ (٤٥)، وابن عساكر ٦٥/ ٦٨.

حضرت محمد بن سوقہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں حضرت نعیم بن ابی ہند کے پاس آیا تو انہوں نے مجھے ایک صحیفہ نکال کر دکھایا۔ اس میں یہ لکھا ہوا تھا۔ ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کی طرف سے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی طرف یہ خط ہے۔ آپ پر سلامتی ہو۔ اما بعد! ہم آپ کو نصیحت کرتے ہیں۔ تمہارے لیے تمہاری ذات کا معاملہ بہت اہم ہے۔ آپ اس وقت ایسی حالت میں ہیں کہ آپ کو اس امت کے سرخ اور سفید پر اختیار حاصل ہوا ہے۔ آپ کے سامنے شریف اور گھٹیا آدمی بیٹھتا ہے اور دوست، دشمن بیٹھتا ہے۔ اور ہر ایک کو انصاف میں اس کا حصہ ملتا ہے۔ اے عمر رضی اللہ عنہ! پس آپ دیکھیں کہ اس وقت آپ کیسے ہو؟ کیونکہ ہم آپ کو اس دن سے ڈراتے ہیں جس دن چہرے جھکے ہوں گے اور دل خشک ہوچکے ہوں گے اور اس دن دلیلیں کاٹ دی جائیں گی۔ ایک بادشاہ ہوگا جو لوگوں پر اپنی جبروت کی وجہ سے غالب ہوگا۔ اور مخلوق اس کے لیے ذلیل ہوگی۔ اپنے رب کی رحمت کی امید کرتے ہوں گے اور اس کے عذاب سے خوف کرتے ہوں گے۔ اور ہمیں یہ بات بیان کی جاتی تھی کہ اس امت کے آخر کا معاملہ اس طرح سے لوٹے گا کہ وہ علانیہ طور پر بھائی اور خلوت کے دشمن ہوں گے۔ اور ہم اس بات سے اللہ کی پناہ پکڑتے ہیں کہ ہمارا یہ آپ کو خط، اس جگہ کے علاوہ اترے جس جگہ ہمارے دلوں سے اترا ہے۔ کیونکہ ہم نے آپ کو صرف خیر خواہی کے لیے لکھا ہے۔ والسلام علیک پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کو تحریر فرمایا: عمر بن خطاب کی طرف سے حضرت ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ اور حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے نام۔ آپ دونوں کو سلام ہو۔ اما بعد! تم نے میری طرف خط لکھا ہے اور مجھے یہ بات یاد دلائی ہے کہ تم مجھے نصیحت کررہے ہو اور میرے لیے میری ذات کا معاملہ بہت اہم ہے اور یہ کہ میں ایسی حالت میں ہوں کہ مجھے اس امت کے سرخ و سیاہ پر اختیار حاصل ہے۔ میرے سامنے شریف اور ذلیل آدمی بیٹھتا ہے اور دوست، دشمن بیٹھتا ہے۔ اور ہر ایک کے لیے اس میں سے حصہ ہے۔ اور تم نے مجھے یہ بات بھی لکھی ہے کہ اے عمر! تم خیال رکھو کہ اس وقت تم کیسے رہتے ہو؟ ایسے وقت میں عمر کے پاس اللہ کی طاقت اور قوت کے علاوہ کسی شے کا سہارا نہیں ہے۔ اور تم نے میری طرف خط لکھ کر مجھے اس بات سے ڈرایا جس سے ہم سے پہلی امتوں کو ڈرایا گیا۔ اور زمانہ قدیم سے یہ دستور ہے کہ گردش لیل ونہار ہر دور کو قریب کردیتی ہے اور ہر جدید کو بوسیدہ کردیتی ہے۔ اور ہر موعود کو حاضر کردیتی ہے۔ یہاں تک کہ لوگ جنت یا جہنم میں اپنی منازل کو لوٹ جاتے ہیں اور تم نے یہ بات لکھ کر بھی مجھے یاد دہانی کروائی کہ تمہیں یہ بات بیان کی جاتی تھی کہ اس امت کا معاملہ آخر زمانہ میں اس طرف لوٹے گا کہ یہ ظاہری طور پر بھائی ہوں گے اور خلوت کے دشمن ہوں گے لیکن تم لوگ ایسے نہیں ہو اور یہ زمانہ بھی وہ نہیں ہے۔ یہ وہ زمانہ ہوگا جس میں خوف اور شوق ظاہر ہوگا۔ بعض لوگوں کا شوق بعض لوگوں کی طرف اپنی دنیا کی بہتری کے لیے ہوگا اور بعض لوگوں سے بعض کا خوف ہوگا۔ تم نے مجھے یہ خط لکھ کر خدا کے نام پر وصیت کی کہ یہ خط اسی جگہ اترے جس جگہ تمہارے دلوں سے اترا ہے۔ تم لوگوں نے یہ خط لکھا ہے اور تم نے سچ لکھا ہے۔ پس تم مجھے خط لکھنا نہ چھوڑنا کیونکہ میرے لیے تمہارے خط کے بغیر چارہ کار نہیں ہے۔ والسلام علیکما [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37170]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37170، ترقيم محمد عوامة 35592)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں