🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

75. ما قالوا: في البكاء من خشية الله
اللہ کے خوف سے رونے کا بیان
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36741 ترقیم الشثری: -- 38330
٣٨٣٣٠ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن عبد الملك بن عمير قال: اوصى رجل ابنه فقال: يا بني اظهر الياس مما في ايدي الناس، فإنه (غنى) (١) ، (وإياك) (٢) وطلب الحاجات فإنه (فقر) (٣) حاضر، وإياك وما يعتذر منه بالقول، وإذا صليت فصل صلاة مودع لا ترى انك تعود، وإن استطعت ان تكون اليوم خيرا (منك) (٤) ⦗٧٦⦘ امس (وغدا) (٥) خيرا منك (اليوم) (٦) فافعل.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ]: (غنا).
(٢) في [ع]: تكرر.
(٣) في [هـ]: (فقد).
(٤) في [ع]: (من).
(٥) في [س]: (غدا).
(٦) سقط من: [س].

حضرت عبدالملک بن عمیر رحمہ اللہ کا ارشاد ہے کہ ایک آدمی نے اپنے بیٹے کو نصیحت کی کہ لوگوں کے ہاتھوں میں موجود چیز سے ناامیدی ظاہر کر اس لیے کہ یہی غنا ہے۔ اور اپنے آپ کو حاجات کے مانگنے سے بچا کیونکہ یہی اس زمانہ کا فقر ہے اور اپنے آپ کو ان باتوں سے بچا جن کی معذرت کرنی پڑے اور جب تو نماز پڑھے تو ایسی نماز پڑھ کہ جیسے یہ آخری نماز ہے یہ مت سمجھ کہ دوبارہ بھی موقع ملے گا۔ اور اگر تو اس طرح کرسکتا ہو تیرا آج کل سے بہتر اور آئندہ کا دن آج سے بہتر ہو تو اس طرح ضرور کر۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38330]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38330، ترقيم محمد عوامة 36741)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36742 ترقیم الشثری: -- 38331
٣٨٣٣١ - حدثنا شاذان قال: حدثنا مهدي بن ميمون عن يونس بن خباب قال: قال لي مجاهد: الا (انبئك) (١) بالاواب الحفيظ، قلت: بلى، قال: هو الذي يذكر ذنبه إذا خلا فيستغفر الله منه.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س، ع]: (أنبيك).
حضرت یونس بن خباب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھ کو مجاہد نے فرمایا کہ میں تجھ کو توبہ کرنے والے اور حفاظت کرنے والے کے بارے میں نہ بتاؤں؟ میں نے کہا کیوں نہیں تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ وہ شخص ہوتا ہے جو اکیلے میں اپنے گناہوں کو یاد کرکے اللہ سے معافی مانگتا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38331]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38331، ترقيم محمد عوامة 36742)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36743 ترقیم الشثری: -- 38332
٣٨٣٣٢ - حدثنا الحسن قال: سمعت زهيرا ابا خيثمة قال: حدثنا ابو إسحاق الهمداني قال: كان الحسن -يعني البصري- يشبه باصحاب رسول الله ﷺ.
حضرت ابواسحاق ہمدانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حسن بصری رحمہ اللہ آپ کے صحابہ کے بہت متشابہہ تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38332]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38332، ترقيم محمد عوامة 36743)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36744 ترقیم الشثری: -- 38333
٣٨٣٣٣ - حدثنا الحسن بن موسى قال: حدثنا حماد بن سلمة عن حميد ويونس بن عبيد انهما قالا: قد راينا الفقهاء فما راينا منهم احدا اجمع من الحسن.
حضرت حمید رحمہ اللہ اور یونس بن عبید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم نے بہت سے فقہاء دیکھے ہیں لیکن ان میں حسن رحمہ اللہ جیسا جامع شخصیت کا مالک نہیں دیکھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38333]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38333، ترقيم محمد عوامة 36744)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36745 ترقیم الشثری: -- 38334
٣٨٣٣٤ - حدثنا الحسن بن موسى قال: حدثنا ابو هلال قال: حدثنا خالد بن (رباح) (١) ان انس بن مالك سئل عن مسالة فقال: عليكم بمولانا الحسن فاسالوه، فقالوا: نسالك يا (ابا) (٢) حمزة (وتقول) (٣) : سلوا مولانا الحسن، فقال: إنا سمعنا وسمع، فنسينا وحفظ (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ط، هـ]: (رياح).
(٢) في [جـ، ع]: (با).
(٣) في [ب]: (ويقول).
(٤) منقطع؛ خالد بن رباح لم يدرك أنس بن مالك، أخرجه ابن سعد ٧/ ١٧٦.

حضرت انس مالک رضی اللہ عنہ سے کوئی مسئلہ پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دیا ہمارے غلام حسن سے دریافت کرو۔ لوگوں نے کہا کہ اے ابوحمزہ ہم آپ سے مسئلہ پوچھتے ہیں اور آپ کہتے ہیں کہ ہمارے غلام حسن سے پوچھو؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ ہم نے بھی سنا اور اس نے بھی سنا لیکن ہم بھول گئے اور اس نے یاد رکھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38334]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38334، ترقيم محمد عوامة 36745)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36746 ترقیم الشثری: -- 38335
٣٨٣٣٥ - حدثنا حميد بن عبد الرحمن عن حسن عن موسى القارئ عن طلحة ابن عبد الله قال: كان زاذان يعلم بلا شيء.
حضرت طلحہ بن عبد اللہ فرماتے ہیں کہ ”زاذان“ بغیر کسی چیز کے تعلیم دیا کرتے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38335]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38335، ترقيم محمد عوامة 36746)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36747 ترقیم الشثری: -- 38336
٣٨٣٣٦ - حدثنا يزيد بن هارون (قال) (١) : حدثنا فرج بن فضالة عن اسد بن وداعة قال: كان شداد بن اوس إذا اوى إلى فراشه (كانه) (٢) حبة قمح على مقلى ثم يقول: اللهم إن النار (قد) (٣) (منعتني) (٤) النوم؛ ثم يقوم إلى الصلاة (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [س].
(٢) سقط من: [ع].
(٣) سقط من: [ع].
(٤) في [س]: (منفعتي).
(٥) ضعيف؛ لضعف فرج بن فضالة، أخرجه المروزي في التهجد (٧٠)، وأبو نعيم في الحلية ١/ ٢٦٤، وابن عساكر ٢٢/ ٤١٥، وأحمد في الزهد ص ١٦٥.

حضرت اسد بن وداعہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ شداد بن اوس جب اپنے بستر پر جاتے تو یوں لگتا جیسے دانہ کڑاہی میں ہو پھر فرماتے کہ اے اللہ مجھ کو جہنم کی آگ نے سونے سے روک دیا ہے پھر نماز کی طرف کھڑے ہوجاتے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38336]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38336، ترقيم محمد عوامة 36747)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36748 ترقیم الشثری: -- 38337
٣٨٣٣٧ - حدثنا ابن نمير عن إسماعيل عن عمارة بن القعقاع عن ابي (زرعة) (١) عن عمر بن الخطاب قال: (٢) اجود الناس من جاد على من (لا) (٣) يرجو ثوابه، وإن (احلم) (٤) الناس من عفا بعد القدرة، وإن ابخل الناس الذي (يبخل) (٥) بالسلام، وإن اعجز الناس الذي يعجز في دعاء الله (٦) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (ذرعه).
(٢) في [هـ]: زيادة (أن).
(٣) سقط من: [س].
(٤) في [جـ]: (أعلم).
(٥) في [ب]: (بخل).
(٦) ضعيف منقطع، إسماعيل هو ابن مسلم المكي ضعيف، وأبو زرعة لم يدرك عمر.

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے کہ لوگوں میں سے سب سے زیادہ سخی وہ شخص ہے جو اس پر سخاوت کرے کہ جس سے ثواب کی امید نہ ہو۔ اور لوگوں میں سے سب سے بردبار وہ شخص ہے جو قدرت کے باوجود معاف کردے اور لوگوں میں سے سب سے بخیل وہ شخص ہے کہ جو سلام کرنے میں بھی بخل کرے۔ اور لوگوں میں سے سب سے زیادہ عاجز وہ شخص ہے جو اللہ سے دعا کرنے میں بھی عاجز ہو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38337]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38337، ترقيم محمد عوامة 36748)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36749 ترقیم الشثری: -- 38338
٣٨٣٣٨ - حدثنا يزيد بن هارون قال: اخبرنا سلام بن مسكين قال: سمعت الحسن يقول: إذا نام العبد في سجوده باهى الله به الملائكة يقول: انظروا عبدي يعبدني وروحه عندي.
حضرت حسن رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے کہ جب آدمی سجدہ میں سوجاتا ہے تو اللہ اس پر اپنے فرشتوں کے سامنے فخر کرتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ دیکھو میرے اس بندے کی طرف وہ میری عبادت کر رہا ہے اور اس کی روح میرے پاس ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38338]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38338، ترقيم محمد عوامة 36749)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36750 ترقیم الشثری: -- 38339
٣٨٣٣٩ - حدثنا اسود بن عامر (قال) (١) : حدثنا ابن (ابي) (٢) (السميط) (٣) عن قتادة عن مطرف قال: (لفضل) (٤) العلم احب إلي من فضل العبادة، وملاك دينكم الورع.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [س].
(٢) سقط من: [جـ].
(٣) في [ب]: (سميط).
(٤) في [ب]: (الفضل).

حضرت مطرف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ علم کا مرتبہ میرے نزدیک عبادت کے مرتبہ سے زیادہ ہے اور دین کا سرمایہ پرہیزگاری ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38339]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38339، ترقيم محمد عوامة 36750)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں