مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
43. ما جاء في خلافة أبي بكر (وسيرته) في الردة
سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے بارے میں وارد احادیث اور آپ کا ارتداد کے بارے میں طریقہ کار
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 39834
٣٩٨٣٤ - قال محمد: واتى الناس عند بيعة ابي بكر ابا (عبيدة) (١) بن الجراح فقال: (اتاتوني) (٢) وفيكم ثالث ثلاثة -يعني ابا بكر، قال ابن عون: فقلت لمحمد: من ثالث ثلاثة؟ قال: قول الله: ﴿ثاني اثنين إذ هما في الغار﴾ [التوبة: ٤٠] (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: بياض.
(٢) في [أ، ب، جـ، س]: (تأتوني).
(٣) منقطع، ابن سيرين لم يدرك أبا بكر، أخرجه ابن سعد ٣/ ١٨١.
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39834، ترقيم محمد عوامة ---)
ترقیم عوامۃ: 38207 ترقیم الشثری: -- 39835
٣٩٨٣٥ - حدثنا جعفر بن عون عن ابي (العميس) (١) عن ابن ابي مليكة قال: سمعت (عائشة) (٢) وسئلت: يا ام المؤمنين (من كان) (٣) رسول الله ﷺ (٤) ⦗١٤٨⦘ [يستخلف) (٥) (لو) (٦) ] (٧) استخلف؟ قالت: ابو بكر، [قال: ثم قيل لها: (ثم) (٨) من] (٩) (١٠) قالت: (ثم) (١١) عمر، قيل: من بعد عمر؟ قالت: ابو عبيدة بن الجراح، (ثم انتهت إلى ذلك) (١٢) (١٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ، ح، ط، ع، هـ]: (العنبس).
(٢) في [س]: بياض.
(٣) في [س]: بياض.
(٤) سقط من: [ع].
(٥) في [ي]: بياض.
(٦) في [هـ]: (أو).
(٧) ما بين المعكوفين سقط من: [أ، ب].
(٨) سقط من: [ع].
(٩) في [ي]: ما بين المعكوفين بياض.
(١٠) في [ع]: زيادة (كانت).
(١١) سقط من: [جـ].
(١٢) سقط من: [هـ].
(١٣) صحيح؛ أخرجه مسلم (٢٣٨٥)، وأحمد في الفضائل (٢٠٤)، وابن سعد ١/ ١٨٠، والنسائي في فضائل الصحابة (٩٨)، والدولابي ٢/ ٧٦٤، وابن عساكر ٢٥/ ٤٧٢.
حضرت ابن ابی ملیکہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا اور (ان سے) سوال کیا گیا تھا۔ اے ام المؤمنین! اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خلیفہ بناتے تو کس کو خلیفہ بناتے؟ انہوں نے جواب دیا۔ حضرت ابوبکر کو۔ راوی کہتے ہیں: پھر آپ سے پوچھا گیا۔ پھر ابوبکر کے بعد کس کو؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا۔ پھر عمر کو۔ پوچھا گیا۔ حضرت عمر کے بعد کس کو؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا۔ حضرت ابو عبیدہ بن الجراح کو۔ پھر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا یہاں پہنچ کر رک گئیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39835]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39835، ترقيم محمد عوامة 38207)
ترقیم عوامۃ: 38208 ترقیم الشثری: -- 39836
٣٩٨٣٦ - حدثنا ابن نمير عن عبد الملك بن (سلع) (١) عن عبد خير قال: سمعت عليا يقول: قبض رسول الله ﷺ على خير ما قبض عليه نبي من الانبياء، (واثنى عليه ﷺ) (٢) ، قال: ثم استخلف ابو بكر فعمل بعمل رسول الله ﷺ (٣) (وبسنته) (٤) ، ثم قبض ابو بكر على خير ما قبض عليه احد، وكان خير هذه الامة بعد (نبيها) (٥) ﷺ (٦) ، ثم استخلف عمر فعمل بعملهما وسنتهما ثم ⦗١٤٩⦘ قبض على خير ما قبض عليه احد، وكان خير هذه الامة بعد (نبيها) (٧) ﷺ (٨) وبعد ابي بكر (٩) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ق، هـ]: (سبع).
(٢) سقط من: [ق، هـ].
(٣) سقط من: [ع].
(٤) في [أ، ب، ع]: (وسنته).
(٥) في [ع]: (نبينا).
(٦) سقط من: [هـ].
(٧) في [س]: (نبينا).
(٨) سقط من: [هـ].
(٩) حسن؛ عبد الملك صدوق، أخرجه عبد اللَّه بن أحمد في زوائد السند (١٠٥٥)، والآجري في الشريعة (١٨٠٤)، والضياء (٦٧٠)، وابن عساكر ٣٠/ ٢٩٢.
حضرت عبد خیر سے روایت ہے کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس بہترین حالت میں موت آئی جس بہترین حالت پر انبیاء کرام کو موت آتی ہے۔ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعریف بیان کی۔ (پھر) حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا۔ اس کے بعد حضرت ابوبکر کو خلیفہ بنایا گیا پس انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عمل اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کے مطابق کام کیا۔ پھر حضرت ابوبکر کی موت بھی اس بہترین حالت میں آئی جس پر کسی آدمی کی بہترین موت آسکتی ہے۔ اور حضرت ابوبکر اس امت میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد سب سے بہترین شخص تھے۔ پھر حضرت عمر کو خلیفہ بنایا گیا چناچہ انہوں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ابوبکر کے عمل اور سنت کے مطابق عمل کیا پھر ان کو بھی اس بہترین حالت میں موت آئی جس پر کسی بھی آدمی کو بہترین موت آسکتی ہے۔ اور حضرت عمر اس امت میں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت ابوبکر کے بعد سب سے بہترین شخص تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39836]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39836، ترقيم محمد عوامة 38208)
ترقیم عوامۃ: 38209 ترقیم الشثری: -- 39837
٣٩٨٣٧ - حدثنا يزيد بن هارون عن سفيان (بن) (١) حسين عن الزهري عن (عبيد الله بن عبد الله) (٢) بن عتبة قال: لما ارتد (من ارتد) (٣) على عهد ابي بكر (اراد) (٤) ابو بكر ان يجاهدهم، فقال عمر (له) (٥) : (اتقاتلهم) (٦) وقد سمعت رسول الله ﷺ يقول:"من شهد ان لا إله إلا الله وان محمدا رسول الله حرم ماله ودمه إلا بحقه وحسابه على الله) ، فقال (له) (٧) ابو بكر: انا لا اقاتل من فرق بين الصلاة والزكاة؟ والله لاقاتلن من فرق بينهما حتى اجمعهما، قال عمر: فقاتلنا معه، فكان والله رشدا، فلما ظفر بمن ظفر (به) (٨) منهم (قال) (٩) : اختاروا بين خطتين: إما حرب مجلية؛ وإما الخطة المخزية، قالوا: هذه الحرب المجلية قد عرفناها، فما الخطة المخزية؟ قال: تشهدون على قتلانا انهم في الجنة وعلى قتلاكم انهم في ⦗١٥٠⦘ النار ففعلوا (١٠) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (عن).
(٢) في [جـ]: (عبد اللَّه بن عبد اللَّه).
(٣) سقط من: [هـ].
(٤) في [أ، ب]: (وأراد).
(٥) سقط من: [هـ].
(٦) في [ع]: (أتقاتلوهم).
(٧) سقط من: [هـ].
(٨) في [جـ]: تكرر.
(٩) في [ي]: (قالوا)، وسقط من: [س].
(١٠) مرسل ضعيف؛ عبيد اللَّه بن عبد اللَّه بن عتبة تابعي، ورواية سفيان عن حسين عن الزهري ضعيفة، وقد ورد الحديث بنحوه من طريق عبيد اللَّه عن أبي هريرة، أخرجه البخاري (١٣٩٩)، ومسلم (٢٠).
حضرت عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکر کے زمانہ میں مرتد ہونے والے لوگ مرتد ہوئے تو حضرت ابوبکر نے ان سے قتال کرنے کا ارادہ فرمایا۔ حضرت عمر نے حضرت ابوبکر سے کہا۔ کیا آپ ان سے قتال کریں گے حالانکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کہتے ہوئے سُنا ہے کہ: ”جو شخص گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں تو اس کا مال اور اس کا خون حرمت حاصل کرلیتا ہے مگر حق کے بدلے میں (حرمت ختم ہوسکتی ہے) اور اس کا (باطنی) حساب اللہ کے ذمہ ہے“؟ حضرت ابوبکر نے فرمایا۔ میں کیسے اس آدمی سے قتال نہ کروں جو نماز اور زکوۃ میں فرق کرتا ہے؟ خدا کی قسم! میں تو ضرور بالضرور اس آدمی سے قتال کروں گا جو ان دونوں میں فرق کرے گا یہاں تک کہ وہ ان دونوں کو جمع کرلے۔ حضرت عمر کہتے ہیں۔ پھر ہم نے حضرت ابوبکر کے ہمراہ قتال کیا۔ پس خدا کی قسم! حضرت ابوبکر راہ حق پر سختی سے قائم رہنے والے تھے۔ پھر جب حضرت ابوبکر نے مرتدین میں سے کچھ لوگوں کو قابو کرلیا تو آپ نے فرمایا: تم دو لائحہ عمل میں سے کسی کو اختیار کرلو۔ یا تو ننگی جنگ ہے۔ اور یا رسوا کن لائحہ عمل ہے۔ انہوں نے کہا۔ یہ ننگی جنگ تم ہم جانتے ہیں لیکن رسواکن لائحہ عمل کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: تم ہمارے مقتولین کے بارے میں یہ گواہی دو کہ وہ جنت میں ہیں اور اپنے مقتولین کے بارے میں گواہی دو کہ وہ جہنم میں ہیں۔ چناچہ انہوں نے یہی کام کیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39837]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39837، ترقيم محمد عوامة 38209)
ترقیم عوامۃ: 38210 ترقیم الشثری: -- 39838
٣٩٨٣٨ - حدثنا يزيد بن هارون عن عبد العزيز بن عبد الله بن ابي سلمة عن عبد (الواحد) (١) بن ابي (عون) (٢) عن القاسم بن محمد عن عائشة انها كانت تقول: توفي رسول الله ﷺ فنزل بابي بكر ما لو نزل بالجبال لهاضها، (اشراب) (٣) (النفاق بالمدينة) (٤) وارتدت العرب، فو الله ما اختلفوا في نقطة إلا طار (ابي) (٥) بحظها و (عنائها) (٦) في الإسلام، وكانت تقول مع هذا: ومن راى عمر بن الخطاب عرف انه (خلق غناء) (٧) للإسلام، كان والله (احوذيا) (٨) (نسيج) (٩) وحده قد اعد للامور (اقرانها) (١٠) (١١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ، س، ط، ق، ع، هـ]: (الرحمن)، وانظر: مصادر التخريج.
(٢) في [ي]: (عرز).
(٣) في [أ، ب]: (شراب).
(٤) في [ي]: بياض.
(٥) في [أ، ب]: (أني)، وفي [ي]: بياض.
(٦) أي: مكانتها، وفي [س]: (غنائها)، وفي [هـ]: (فنائها).
(٧) في [ي]: بياض.
(٨) في [ب، ع]: (أحوزيًا)، وفي [ق]: (أجود).
(٩) في [أ]: (يسبح)، وفي [س]: (النسيج)، وفي [ي]: بياض.
(١٠) في [س]: (اقترابها).
(١١) صحيح؛ الصواب أن عبد الواحد بن أبي عوف ثقة، أخرجه أحمد في الفضائل (٦٨)، والحارث (٩٦٦/ بغية)، والطبراني في الأوسط (٤٣١٨) وفي الصغير (١٠٥١)، وأبو نعيم في معرفة الصحابة (١٨٥)، والبيهقي ٨/ ٢٠٠ والمحاملي في الآمالي (١٠٤)، وابن عساكر ٣٠/ ٣١٢ والعسكري في تصحيفات المحدثين ١/ ٢٠٦، والبلاذري في فتوح البلدان ١/ ١٠٤.
حضرت قاسم بن محمد سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہا کرتی تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وفات پائی تو حضرت ابوبکر پر ایسے مصائب اترے کہ اگر وہ مصائب کسی پہاڑ پر اترتے تو اس پہاڑ کو ریزہ ریزہ کردیتے۔ مدینہ میں نفاق پھیل گیا اور عرب کے (بہت) لوگ مرتد ہوگئے۔ پس خدا کی قسم! لوگوں نے اسلام کے کسی حکم میں اختلاف نہیں کیا مگر یہ کہ حضرت ابوبکر اس کے تحفظ اور دفاع کے لئے دوڑ پڑے۔ اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اس کے ساتھ یہ بھی کہتی تھیں۔ اور جو شخص عمر بن خطاب کو دیکھتا تو جان لیتا کہ ا س کو اسلام سے نقصان دور کرنے کے لئے پیدا کا و گیا ہے۔ اور خدا کی قسم! حضرت عمر تمام معاملات میں نہایت چاق و چوبند تھے بےمثال تھے۔ اور انہوں نے معاملات کے لئے ان کے مناسب لوگوں کو تیار کیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39838]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39838، ترقيم محمد عوامة 38210)