مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
43. ما جاء في خلافة أبي بكر (وسيرته) في الردة
سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے بارے میں وارد احادیث اور آپ کا ارتداد کے بارے میں طریقہ کار
ترقیم عوامۃ: 38197 ترقیم الشثری: -- 39824
٣٩٨٢٤ - حدثنا (١) غندر عن شعبة عن سعد بن إبراهيم قال: سمعت عبيد الله ابن عبد (الله) (٢) بن عتبة يحدث عن ابن عباس عن عبد الرحمن بن عوف (قال: حج عمر فاراد ان يخطب الناس خطبة، فقال عبد الرحمن بن عوف) (٣) : إنه قد اجتمع عندك رعاع الناس وسفلتهم، فاخر ذلك حتى تاتي المدينة، قال: فلما قدمت المدينة دنوت قريبا من المنبر، فسمعته يقول: إني قد عرفت اناسا يقولون: إن خلافة ابي بكر (فلتة) (٤) وإنما كانت (فلتة) (٥) ، ولكن الله وقى شرها، إنه لا خلافة إلا عن مشورة (٦) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ]: زيادة (أبو بكر عن).
(٢) سقط من: [ع].
(٣) سقط من: [ع].
(٤) في [ع]: (فلت).
(٥) في [ع]: (قلته).
(٦) صحيح؛ أخرجه أحمد (٣٥٢)، وأصله في البخاري (٦٨٢٩)، ومسلم (١٦٩١).
حضرت عبد الرحمان بن عوف سے روایت ہے کہ حضرت عمر نے حج کیا اور آپ نے لوگوں کو ایک خطبہ دینے کا ارادہ کیا۔ تو حضرت عبد الرحمان بن عوف نے عرض کیا۔ (اس وقت) آپ کے پاس معمولی درجہ کے اور متفرق مقامات کے لوگ جمع ہیں۔ لہٰذا آپ مدینہ آنے تک خطبہ کا ارادہ مؤخر کردیں۔ راوی کہتے ہیں: پھر جب میں مدینہ پہنچا تو میں منبر کے قریب ہو کر بیٹھ گیا۔ اور میں نے حضرت عمر کو کہتے سنا۔ مجھے اس بات کا پتہ چلا ہے کہ لوگ کہتے ہیں۔ حضرت ابوبکر کی خلافت اچانک رونما ہوگئی تھی۔ واقعۃً وہ اچانک تھی لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کی خلافت کے شر (کے امکان کو) ختم فرما دیا (اور اب) یہ خلافت مشورہ سے ہی (باقی) ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39824]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39824، ترقيم محمد عوامة 38197)
ترقیم عوامۃ: 38198 ترقیم الشثری: -- 39825
٣٩٨٢٥ - حدثنا عبد (الاعلى) (١) عن ابن إسحاق عن (عبد الله) (٢) بن ابي بكر ⦗١٣٩⦘ عن (الزهري) (٣) عن عبيد الله بن عبد الله (بن عتبة) (٤) عن ابن عباس قال: كنت (اختلف إلى عبد الرحمن) (٥) بن عوف (ونحن بمنى) (٦) مع عمر (بن الخطاب) (٧) ، اعلم عبد الرحمن بن عوف القرآن، فاتيته في المنزل فلم اجده فقيل: هو عند امير المؤمنين، فانتظرته حتى جاء فقال لي: قد (غضب) (٨) هذا اليوم غضبا (٩) ما رايته (غضب) (١٠) مثله منذ كان، قال: قلت: لم ذاك؟ قال: بلغه ان رجلين من الانصار ذكرا بيعة ابي بكر فقالا: والله ما كانت إلا فلتة، فما يمنع امرءا إن هلك هذا ان يقوم إلى من (يحب) (١١) فيضرب على يده فتكون كما كانت. قال: فهم عمر ان يكلم الناس، قال: فقلت: لا تفعل يا امير المؤمنين، فإنك ببلد قد اجتمعت إليه (افناء) (١٢) العرب كلها، وإنك إن قلت مقالة حملت عنك وانتشرت في الارض كلها، فلم تدر ما يكون في ذلك، وإنما يعينك من قد عرفت انه سيصير إلى المدينة. فلما قدمنا المدينة رحت (مهجرا) (١٣) حتى اخذت (عضادة) (١٤) المنبر اليمنى، ⦗١٤٠⦘ وراح إلي سعيد بن زيد بن عمرو بن نفيل حتى جلس معي، (فقلت) (١٥) : ليقولن هذا اليوم مقالة (ما قالها) (١٦) منذ استخلف، قال: وما عسى ان يقول؟ قلت: ستسمع (ذاك) (١٧) . قال: فلما اجتمع الناس خرج عمر حتى جلس على المنبر ثم حمد الله واثنى عليه ثم ذكر رسول الله ﷺ فصلى عليه ثم قال: إن الله ابقى رسوله بين اظهرنا ينزل عليه الوحي من الله يحل به ويحرم، ثم قبض الله رسوله فرفع (معه) (١٨) ما شاء ان يرفع، وابقى منه ما شاء ان يبقى، فتشبثنا ببعض، وفاتنا بعض. فكان مما كنا نقرا (في) (١٩) القرآن: ﴿لا ترغبوا عن آبائكم، فإنه كفر بكم ان ترغبوا عن آبائكم﴾ ونزلت آية الرجم، فرجم النبي ﷺ ورجمنا معه، والذي نفس محمد بيده لقد حفظتها (وعلمتها) (٢٠) وعقلتها لولا ان يقال: كتب عمر في المصحف ما ليس فيه، لكتبتها بيدي كتابا، والرجم على ثلاثة منازل: حمل بين، او اعتراف (من) (٢١) صاحبه، او شهود عدل، كما امر الله. وقد بلغني ان رجالا يقولون في خلافة ابي بكر: إنها كانت فلتة ولعمري إن كانت كذلك، ولكن الله اعطى خيرها (ووقى) (٢٢) شرها؛ (وايكم) (٢٣) هذا الذي تنقطع إليه الاعناق كانقطاعها إلى ابي بكر. ⦗١٤١⦘ إنه كان من شان الناس ان رسول الله ﷺ توفي فاتينا فقيل لنا: إن الانصار قد اجتمعت في بني ساعدة مع سعد بن عبادة يبايعونه، فقمت وقام ابو بكر وابو عبيدة ابن الجراح نحوهم فزعين ان يحدثوا في الإسلام (فتقا) (٢٤) ، فلقينا رجلان من الانصار، (رجلا) (٢٥) صدق: عويم بن ساعدة ومعن بن عدي، فقالا: اين تريدون؟ فقلنا: قومكم لما بلغنا من امرهم، (فقالا) (٢٦) : ارجعوا فإنكم لن تخالفوا، ولن يؤت شيء تكرهونه، فابينا إلا ان نمضي، وانا (ازوي) (٢٧) كلاما اريد ان اتكلم به. حتى انتهينا إلى القوم وإذا هم (عكر) (٢٨) هناك على سعد بن عبادة، وهو على سرير له مريض، فلما غشيناهم تكلموا فقالوا: يا معشر قريش! منا امير ومنكم امير، فقام (الحباب) (٢٩) بن المنذر فقال: انا (جذيلها) (٣٠) المحكك وعذيقها (المرجب) (٣١) ، إن شئتم والله رددناها جذعة. فقال ابو بكر: على رسلكم، فذهبت لاتكلم فقال: (انصت) (٣٢) يا عمر، فحمد الله واثنى عليه ثم قال: يا معشر الانصار إنا والله ما ننكر فضلكم ولا بلاءكم في الإسلام ولا حقكم الواجب علينا، (ولكنكم) (٣٣) قد عرفتم ان هذا الحي من قريش بمنزلة من العرب ليس بها غيرهم، وإن العرب لن تجتمع إلا على رجل منهم، ⦗١٤٢⦘ فنحن الامراء وانتم الوزراء، فاتقوا الله ولا تصدعوا الإسلام، ولا تكونوا اول من احدث في الإسلام، الا وقد رضيت لكم احد هذين الرجلين لي ولابي عبيدة بن الجراح، فايهما بايعتم فهو لكم ثقة. قال: فو الله ما بقي شيء كنت احب ان اقوله إلا وقد قاله يومئذ غير هذه الكلمة، فوالله لان اقتل ثم احيا (ثم اقتل ثم احيا) (٣٤) في غير معصية احب إلي من ان اكون اميرا على قوم فيهم ابو بكر. قال: ثم قلت: يا معشر الانصار! يا معشر المسلمين! إن اولى الناس بامر رسول الله ﷺ-من بعده ثاني اثنين إذ هما في الغار، ابو بكر السباق (المتين) (٣٥) ، ثم اخذت بيده وبادرني (رجل من الانصار) (٣٦) فضرب على (يده) (٣٧) قبل ان اضرب على يده، (ثم ضربت) (٣٨) على يده، [ (وتتابع) (٣٩) الناس. وميل على سعد بن عبادة فقال: الناس] (٤٠) قتل سعد، فقلت: (اقتلوه) (٤١) قتله الله، ثم انصرفنا وقد جمع الله امر المسلمين بابي بكر، (فكانت) (٤٢) (لعمر) (٤٣) الله (فلتة) (٤٤) كما (قلتم) (٤٥) اعطى الله خيرها ووقى شرها، فمن دعا إلى مثلها فهو ⦗١٤٣⦘ (الذي) (٤٦) لا بيعة له ولا لمن بايعه (٤٧) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ]: (الأعلا).
(٢) في [أ، ب، س، ق، هـ]: (عبيد اللَّه).
(٣) في [ب]: بياض.
(٤) في [ب]: بياض.
(٥) في [ب]: بياض.
(٦) في [ب]: بياض.
(٧) في [ب]: بياض.
(٨) في [أ، ب]: (غضبت).
(٩) في [أ، ب]: زيادة (شديدًا).
(١٠) في [ع]: (غضبت).
(١١) في [س]: (يحبب).
(١٢) في [ع]: (أقياء).
(١٣) في [ع]: (سحرًا).
(١٤) في [أ، ب]: (عصارة)، وفي [جـ]: (عضارة)، وفي [ع]: (عضاءتي).
(١٥) في [أ، ب]: (فقالت).
(١٦) سقط من: [ع].
(١٧) في [ق، هـ]: (ذلك).
(١٨) في [هـ]: (منه).
(١٩) في [ق، هـ]: (من).
(٢٠) في [س، ع]: (ففعلتها).
(٢١) هكذا في: [ق، هـ]، وفي باقي النسخ: (عن).
(٢٢) في [ب]: (وقى).
(٢٣) في [هـ]: (إياكم).
(٢٤) سقط من: [ع].
(٢٥) في [هـ]: (رجل).
(٢٦) في [أ، ب، جـ ع، ي]: (فقال)، وفي [س]: (قال).
(٢٧) في [أ، ب، س، ط]: (أروي).
(٢٨) أي: مجتمعون، وفي [ق، هـ]: (عكوف).
(٢٩) في [أ، ب]: (الخباب).
(٣٠) في [ع]: (جديعها).
(٣١) في [أ، ب]: (الوجب)، وفي [ع]: (المرحب).
(٣٢) في [س]: (ألفت).
(٣٣) في [س]: (للكنم).
(٣٤) سقط من: [ب].
(٣٥) في [أ، ب، س، ط]: (المبين)، وسقط من: [ي].
(٣٦) في [ي]: بياض.
(٣٧) في [أ، ب]: (يديه).
(٣٨) في [ع]: (فضربت).
(٣٩) في [ب، ع]: (وتبايع).
(٤٠) في [ي]: ما بين المعكوفين بياض.
(٤١) في [جـ]: (اقتلوا).
(٤٢) في [أ، ب]: (وكانت).
(٤٣) في [ع]: (لعمرو).
(٤٤) سقط من: [أ، ب، ط، هـ].
(٤٥) في [هـ]: (قتلتم).
(٤٦) في [أ، هـ]: (للذي).
(٤٧) حسن؛ ابن إسحاق صدوق، أخرجه البخاري (٦٨٣٠)، ومسلم (١٦٩١).
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں عبد الرحمان بن عوف کے پاس آتا جاتا رہتا تھا اور (اس وقت) ہم حضرت عمر بن خطاب کے ساتھ مقام منیٰ میں تھے۔ میں عبد الرحمان بن عوف کو قرآن پڑھا تا تھا پس میں ان کے پاس منزل میں آیا تو میں نے انہیں نہیں پایا۔ کہا گیا کہ وہ امیر المؤمنین کے پاس ہیں۔ چناچہ میں ان کا انتظار کرنے لگا یہاں تک کہ وہ آگئے اور انہوں نے بتایا۔ آج حضرت عمر کو اتنا شدید غصہ آیا تھا کہ اس سے پہلے کبھی ان کو اتنا غصہ نہیں آیا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: میں نے پوچھا: یہ کیوں؟ عبد الرحمن بن عوف نے جوا ب دیا۔ حضرت عمر کو یہ بات پہنچی کہ انصار میں سے دو آدمیوں نے حضرت ابوبکر کی بیعت کا ذکر کیا تو پھر ان دونوں نے کہا۔ بخدا! ان کی بیعت تو اچانک ہوگئی تھی۔ وہ اس کے ہاتھ پر مارتا پھر جو ہوتا سو ہوتا۔ راوی کہتے ہیں: پھر حضرت عمر نے لوگوں سے گفتگو کرنے کا ارادہ کیا۔ راوی کہتے ہیں: میں نے عرض کیا۔ اے امیر المؤمنین! آپ (ابھی) گفتگو نہ کریں کیونکہ آپ (اس وقت) ایسے شہر میں ہیں کہ آپ کے پاس تمام عرب کے دور دراز غیر معروف علاقوں کے لوگ جمع ہیں۔ اور آپ اگر (اب) کوئی بھی بات کریں گے تو وہ آپ سے منسوب ہو کر تمام زمین میں پھیل جائے گی۔ پھر آپ کو نہیں معلوم کہ کیا ہوگا۔ آپ کے مطلب کے لوگ تو وہی ہیں جن کو آپ جانتے ہیں کہ وہ مدینہ واپس جائیں گے۔ ٢۔ پھر جب ہم مدینہ میں آئے تو میں سویرے سویرے چلا گیا یہاں تک کہ میں نے منبر کے دائیں پائے (کے ساتھ جگہ) پکڑ لی۔ پھر حضرت سعید بن زید بن عمرو بن نفیل بھی میری طرف آئے یہاں تک کہ وہ بھی میرے ساتھ بیٹھ گئے۔ میں نے (ان سے) کہا۔ آج کے دن حضرت عمر ایسی گفتگو کریں گے کہ ویسی گفتگو انہوں نے خلیفہ بننے کے بعد سے کبھی نہیں کی۔ سعید نے پوچھا۔ وہ کیسی بات کریں گے؟ میں نے جواب دیا، ابھی تم وہ بات سُن لو گے۔ ٍ ٣۔ راوی کہتے ہیں: پھر جب لوگ جمع ہوگئے تو حضرت عمر باہر تشریف لائے یہاں تک کہ آپ منبر پر بیٹھ گئے۔ آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمدو ثنا بیان کی پھر آپ نے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ذکر کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود پڑھا۔ پھر آپ نے فرمایا: یقینا اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہمارے درمیان باقی رکھا ان پر اللہ کی جانب سے وحی نازل ہوتی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے ذریعہ حلال و حرام بیان کرتے تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو (کی روح کو) قبض کرلیا پس جو کچھ ان کے ہمراہ اللہ نے اٹھانا چاہا وہ اٹھا لیا۔ اور جس کو اللہ نے باقی رکھنا چاہا تھا اس کو باقی رکھا۔ چناچہ بعض باتوں کے ساتھ تو ہم وابستہ رہے اور بعض باتیں ہم سے فوت ہوگئیں۔ پس ہم قرآن میں سے جو کچھ پڑھتے تھے اس میں یہ بھی تھا۔ ولا ترغبوا عن آباء کم فانہ کفر بکم ان ترغبوا عن آباء کم۔ اور رجم کی آیت بھی نازل ہوئی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رجم بھی کیا تھا اور ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ رجم کیا تھا۔ قسم اس ذات کی جس کے قبضہ میں محمد کی جان ہے! بلاشبہ میں نے (خود) اس آیت کو یا د کیا تھا اور اس کو سمجھا تھا اور معلوم کیا تھا۔ اگر اس بات کا ڈر نہ ہوتا کہ کہا جائے گا۔ عمر نے قرآن میں اس بات کو لکھا جو اس میں سے نہیں ہے تو البتہ میں اس آیت رجم کو اپنے ہاتھوں سے لکھتا۔ رجم کی تین حالات ہیں۔ واضح حمل ہو۔ یا زانی کی طرف سے اقرار ہو یا عادل گواہ ہوں۔ جیسا کہ حکم خداوندی ہے۔ ٤۔ مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ کچھ لوگوں نے حضرت ابوبکر کی خلافت کے بارے میں یہ بات کہی ہے کہ یہ تو اچانک ہوگئی تھی۔ میری عمر کی قسم! اگر چہ بات ایسی ہی تھی لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کی خلافت کی خیر و برکت عطا فرمائی اور اس کے شر سے محفوظ فرما لیا۔ تم میں سے کون سا آدمی ہے جس کے لئے (لوگوں کی) گردنیں یوں خم ہوجائیں جیسا کہ حضرت ابوبکر کے لئے خم ہوگئیں تھیں۔ ٥۔ یقینا لوگوں کا معاملہ کچھ ایسا تھا کہ (جب) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وفات پا گئے تو ہمارے پاس معاملہ لایا گیا اور ہمیں کہا گیا۔ انصار، سعد بن عبادہ کے پاس بنو ساعدہ میں جمع ہیں اور سعد کی بیعت کر رہے ہیں۔ چناچہ میں، حضرت ابوبکر، حضرت ابو عبیدہ بن جرا ح ان کی طرف پریشانی کے عالم میں اٹھ کھڑے ہوئے کہ (مبادا) وہ اسلام میں کوئی دراڑ پیدا کردیں۔ پس ہمیں انصار ہی میں سے دو سچے آدمی ملے۔ عویم بن ساعدہ اور معن بن عدی۔ انہوں نے پوچھا: تم کہاں جا رہے ہو؟ ہم نے کہا: تمہاری قوم کے پاس، کیونکہ ہمیں ان کے بارے میں کوئی بات پہنچی ہے۔ ان دونوں نے کہا۔ واپس چلے جاؤ کیونکہ تمہاری مخالفت نہیں کی جائے گی اور ایسی چیز نہیں لائی جائے گی جس کو تم ناپسند کرو۔ لیکن ہم نے آگے جانے پر ہی اصرار کیا۔ اور میں (عمر) وہ کلام تیار کر رہا تھا جس کے ب [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39825]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39825، ترقيم محمد عوامة 38198)
ترقیم عوامۃ: 38199 ترقیم الشثری: -- 39826
٣٩٨٢٦ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن عاصم عن زر عن عبد الله قال: لما قبض رسول الله ﷺ قالت الانصار: منا امير ومنكم امير، قال: فاتاهم عمر فقال: يا (معاشر) (١) الانصار! الستم تعلمون ان رسول الله ﷺ امر ابا بكر ان (يصلي) (٢) بالناس؟ قالوا: بلى، قال: فايكم تطيب نفسه ان يتقدم ابا بكر، (قالوا) (٣) : نعوذ بالله ان نتقدم ابا بكر (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ، ع]: (معشر).
(٢) في [س]: (تصلي).
(٣) في [هـ]: (فقالوا).
(٤) ضعيف؛ رواية عاصم عن زر ضعيفة، أخرجه أحمد (٣٧٦٥)، والحاكم ٣/ ٦٧، والنسائي ٢/ ٧٤، وابن سعد ٣/ ١٧٨، والفسوي ١/ ٤٥٤، والبيهقي ٨/ ١٥٢، وابن أبي عاصم في السنة (١١٥٩)، والضياء (٢٢٩)، وابن عبد البر في التمهيد ٢٢/ ١٢٨، والخطابي في الغريب ٢/ ١٢٤.
حضرت عبد اللہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (کی روح مبارکہ) قبض ہوئی تو انصار نے کہا۔ ایک امیر ہم میں سے ہوگا اور ایک امیر تم (مہاجرین) میں سے ہوگا۔ راوی کہتے ہیں: حضرت عمر ان کے پاس آئے اور فرمایا: اے گروہانِ انصار! کیا تمہیں یہ بات معلوم نہیں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابوبکر کو یہ حکم دیا تھا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں؟ انصار نے کہا۔ کیوں نہیں! حضرت عمر نے کہا۔ پھر تم میں سے کس کا دل اس بات پر خوش ہے کہ وہ ابوبکر سے آگے بڑھے۔ انصار کہنے لگے۔ ہم اللہ سے اس بات کی پناہ مانگتے ہیں کہ ہم ابوبکر سے آگے بڑھیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39826]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39826، ترقيم محمد عوامة 38199)
ترقیم عوامۃ: 38200 ترقیم الشثری: -- 39827
٣٩٨٢٧ - حدثنا محمد بن بشر (حدثنا) (١) عبيد الله بن عمر (حدثنا) (٢) زيد بن اسلم عن ابيه اسلم انه حين بويع لابي بكر بعد رسول الله ﷺ كان علي والزبير (يدخلان) (٣) على فاطمة بنت رسول الله ﷺ فيشاورونها ويرتجعون في امرهم، فلما بلغ ذلك عمر بن الخطاب خرج حتى دخل على فاطمة فقال: يا بنت رسول الله ﷺ (٤) والله ما من (الخلق) (٥) (احد) (٦) احب إلينا من ابيك، وما من احد ⦗١٤٤⦘ (احب) (٧) إلينا بعد ابيك منك، وايم الله ما ذاك (بمانعي) (٨) ان اجتمع هؤلاء النفر عندك؛ ان امرتهم ان يحرق عليهم (البيت) (٩) ، قال: فلما خرج عمر جاؤوها (فقالت) (١٠) : تعلمون ان عمر قد جاءني وقد حلف (بالله) (١١) لئن عدتم ليحرقن عليكم البيت، وايم الله (ليمضين) (١٢) لما حلف عليه، فانصرفوا راشدين، فرءوا رايكم ولا ترجعوا إلي، فانصرفوا عنها (فلم) (١٣) (يرجعوا) (١٤) إليها حتى بايعوا لابي بكر (١٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع، هـ]: (نا).
(٢) في [ع]: (أخبرنا).
(٣) في [ع]: (يدقون).
(٤) سقط من: [أ، ب، ع].
(٥) سقط من: [هـ].
(٦) في [أ، ب]: (أحدًا).
(٧) في [ب]: (رعب).
(٨) في [ع]: (بما نعني).
(٩) في [ع]: (الباب).
(١٠) في [ع]: (قالت).
(١١) في [أ]: (للَّه).
(١٢) في [ع]: (لتمضين).
(١٣) في [ع]: (ولم).
(١٤) في [جـ]: (رجعوا).
(١٥) صحيح؛ أخرجه أحمد في فضائل الصحابة (٥٣٢)، وابن عبد البر في الاستذكار ٣/ ٩٧٥، وابن أبي عاصم في الآحاد (٢٩٥٢)،
حضرت زید بن اسلم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (کی وفات) کے بعد جب حضرت ابوبکر کی بیعت کی گئی تو حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت زبیر، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹی حضرت فاطمہ کے ہاں آنے جانے لگے اور ان سے مشاورت کرنے لگے اور اپنے معاملہ (خلافت) میں ان سے تقاضا کرنے لگے۔ پس جب یہ بات حضرت عمر بن خطاب کو پہنچی تو آپ نکل کھڑے ہوئے یہاں تک کہ آپ حضرت فاطمہ کے ہاں داخل ہوئے اور فرمایا: اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹی! خدا کی قسم! تمام مخلوق میں ہمیں تمہارے والد سے زیادہ کوئی محبوب نہیں۔ اور آپ کے بعد والد کے بعد ہمیں آپ سے زیادہ کوئی محبوب نہیں۔ خدا کی قسم! (لیکن) اگر یہ آپ کے پاس (دوبارہ) جمع ہوئے تو مجھے یہ (محبت والی) بات اس سے مانع نہیں ہوگی کہ میں لوگوں کو حکم دوں اور ان تمام (گھر میں موجود) افراد پر گھر کو جلا دیا جائے۔ راوی کہتے ہیں: پس جب حضرت عمر باہر چلے گئے تو یہ حضرات بی بی فاطمہ کے پاس آئے۔ حضرت فاطمہ نے فرمایا: تمہیں معلوم ہے کہ حضرت عمر میرے پاس آئے تھے۔ اور انہوں نے خدا کی قسم کھا کر کہا ہے کہ اگر تم لوگ دوبارہ جمع ہوئے تو وہ ضرور بالضرور تمہیں گھر میں جلا دیں گے۔ اور خدا کی قسم! حضرت عمر نے جو کہا ہے وہ اس کو ضرور پورا کریں گے۔ پس تم لوگ اچھی حالت میں ہی واپس چلے جاؤ۔ اور اپنی رائے کو دیکھ لو۔ میری طرف واپس نہ آنا چناچہ لوگ وہاں سے واپس ہوگئے اور جب تک ان لوگوں نے حضرت ابوبکر کی بیعت نہیں کی یہ (فاطمہ کے پاس) واپس نہیں آئے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39827]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39827، ترقيم محمد عوامة 38200)
ترقیم عوامۃ: 38201 ترقیم الشثری: -- 39828
٣٩٨٢٨ - حدثنا ابن نمير عن هشام بن عروة عن ابيه ان ابا بكر وعمر لم (يشهدا) (١) دفن النبي ﷺ، (كانا) (٢) في الانصار (فبويعا) (٣) قبل ان يرجعا (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ، ع]: (يشهدوا).
(٢) في [ع]: (فكانا).
(٣) في [ي]: (فبايعوا)، وفي [ب]: (فبايعا)، وفي [ق]: (فبويع)، وفي [هـ]: (فدفن).
(٤) مرسل؛ عروة لم يدرك وفاة النبي ﷺ.
حضرت ہشام بن عروہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دفن میں حاضر نہیں تھے۔ یہ دونوں انصار میں موجود تھے۔ پس ان کے واپس آنے سے پہلے ان کی بیعت ہوگئی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39828]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39828، ترقيم محمد عوامة 38201)
ترقیم عوامۃ: 38202 ترقیم الشثری: -- 39829
٣٩٨٢٩ - حدثنا ابن إدريس عن ابن عجلان عن زيد بن اسلم عن ابيه قال: ⦗١٤٥⦘ دخل عمر على ابي بكر وهو آخذ بلسانه (ينضنضه) (١) فقال له عمر: الله، الله، يا خليفة رسول الله (٢) وهو يقول: هاه، إن هذا (اوردني) (٣) الموارد (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (لنضضه)، وفي [س]: (يتصفته).
(٢) في [جـ]: زيادة ﷺ.
(٣) في [ب]: (وردني).
(٤) حسن؛ ابن عجلان صدوق، أخرجه أحمد في الزهد ص ١١٢ وابن سعد ٥/ ١٠، ومالك في الموطأ (١٧٨٨)، وابن وهب في الجامع (٣٠٧)، وأبو يعلى (٥)، والبزار (٨٤)، وأبو نعيم في الحلية ١/ ٣٣، والضياء (٣)، والبيهقي في شعب الإيمان (٤٩٤٧)، وهناد في الزهد (١٠٩٣)، وابن المبارك في الزهد (٣٦٩)، والخطيب في الفصل ١/ ٢٠٢ وابن أبي الدنيا في الورع (٦٢).
حضرت زید بن اسلم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر، حضرت ابوبکر کے پاس حاضر ہوئے تو (دیکھا کہ) حضرت ابوبکر اپنی زبان کو پکڑے ہوئے تھے اور اس کو ہلا رہے تھے۔ حضر ت عمر نے کہا۔ اے خلیفہ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)! اللہ سے ڈرو، اللہ سے ڈرو۔ حضرت ابوبکر کہنے لگے۔ ہاں اسی زبان نے مجھے بہت سے گھاٹوں پر اتارا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39829]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39829، ترقيم محمد عوامة 38202)
ترقیم عوامۃ: 38203 ترقیم الشثری: -- 39830
٣٩٨٣٠ - حدثنا وكيع عن نافع بن عمر عن ابن ابي مليكة قال: قال رجل لابي بكر: يا خليفة الله، قال: لست بخليفة الله، ولكني خليفة رسول الله ﷺ، انا راض بذلك (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) منقطع؛ ابن أبي ملكية لم يدرك أبا بكر، أخرجه أحمد ١/ ١٠ (٥٩)، وأحمد بن منيع في المطالب (٣٨٧٢)، وابن سعد ٣/ ١٨٣، والخلال في السنة (٣٣٤)، وابن عساكر ٣٠/ ٢٩٤، وابن عبد البر في الاستيعاب ٣/ ٩٧٢، والآجري في الشريعة (١١٨٥).
حضرت ابن ابی ملیکہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے حضرت ابوبکر سے کہا۔ اے خلیفۃ اللہ! حضرت ابوبکر نے کہا۔ میں خلیفۃ اللہ نہیں ہوں۔ بلکہ میں خلیفہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہوں اور میں اس پر راضی ہوں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39830]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39830، ترقيم محمد عوامة 38203)
ترقیم عوامۃ: 38204 ترقیم الشثری: -- 39831
٣٩٨٣١ - (١) (حدثنا) (٢) وكيع عن سفيان عن عبد الملك بن عمير عن مولى لربعي بن (حراش) (٣) عن ريعي عن حذيفة قال: كنا جلوسا عند النبي ﷺ فقال:" (إني) (٤) لا ادري ما قدر (بقائي) (٥) فيكم؟ فاقتدوا بالذين من بعدي -واشار إلى ابي بكر وعمر- ⦗١٤٦⦘ واهتدوا بهدي عمار وما حدثكم ابن مسعود من شيء فصدقوه" (٦) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ط]: زيادة (حدثنا أبو بكر قال).
(٢) في [ع]: (أخبرنا).
(٣) في [أ، ب]: (خراشي).
(٤) في [س، ط]: (لي).
(٥) في [ع]: (مقامي).
(٦) مجهول؛ لإبهام المولى، أخرجه أحمد (٢٣٢٧٦)، والترمذي (٣٧٩٩)، وابن ماجه (٩٧)، وابن حبان (٦٩٠٢)، والحاكم ٣/ ٧٥، والبخاري في الكنى ص ٥٠، وابن سعد ٢/ ٣٣٤، وابن أبي عاصم في السنة (١١٤٨)، ويعقوب في المعرفة ١/ ٤٨٠، والحميدي (٤٤٩)، والبزار (٢٨٢٩)، والطبراني في الأوسط (٥٤٩٩)، والطحاوي في شرح المشكل (١٢٢٤)، والبغوي (٣٨٩٤).
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔”میں نہیں جانتا کہ میری تم میں رہنے کی مقدار کتنی باقی ہے۔ پس تم ان دونوں کی اقتداء کرنا جو میرے بعد (خلیفہ) ہوں گے۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کی طرف اشارہ فرمایا: ”اور حضرت عمار کے طریقہ کے مطابق چلنا۔ اور جو حدیث تم کو ابن مسعود بیان کرے تو اس کی تصدیق کرو۔“ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39831]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39831، ترقيم محمد عوامة 38204)
ترقیم عوامۃ: 38205 ترقیم الشثری: -- 39832
٣٩٨٣٢ - حدثنا وكيع عن سالم المرادي ابي العلاء عن عمرو بن (مرة) (١) عن ربعي بن حراش وابي عبد الله رجل من اصحاب حذيفة عن حذيفة قال: كنا جلوسا عند النبي ﷺ فذكر مثل حديث عبد الملك بن عمير إلا انه قالت:"تمسكوا بعهد ابن ام (عبد) (٢) " (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) كذا في النسخ، وهو وهم من أحد الرواة، لعله: (وكيع)، وصوابه: (عمرو بن هرم)، وقد عدلها في [هـ] مصوبًا ذلك مخالفًا ما في النسخ، قال الذهبي في سير أعلام النبلاء ١/ ٤٧٨: "ورواه سالم المرادي عن عمرو بن هرم عن ربعي عن حذيفة"، وقال وكيع: "عن سالم المراوي فقال: عن عمرو بن مرة"، والأول أشبه، وانظر: موارد الظمآن (٢١٩٣)، وتاريخ دمشق ٣٣/ ١١٨، والبدر المنير ٩/ ٥٨٠، والتلخيص الحبير ٤/ ١٩٠.
(٢) في [ع]: (معبد).
(٣) ضعيف؛ سالم ضعيف، وأبو عبد اللَّه مجهول، أخرجه أحمد (٢٣٣٨٦)، والترمذي (٣٦٦٣)، وابن حبان (٦٩٠٢)، والبخاري في الكنى ص ٥٠، وابن سعد ٢/ ٣٣٤، وابن أبي حاتم في الجرح والتعديل ٩/ ٤٠٢، وعبد اللَّه بن أحمد في زوائد فضائل الصحابة (١٩٨)، والطحاوي في شرح المشكل (١٢٣٣)، وابن عدي ٢/ ٦٦٦.
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے۔ پھر (اس کے بعد) انہوں نے عبد الملک بن عمیر کی طرح ہی حدیث بیان کی … لیکن انہوں نے یہ بھی کہا۔ اور ابن ام عبد کے عہد کو مضبوطی سے پکڑو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39832]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39832، ترقيم محمد عوامة 38205)
ترقیم عوامۃ: 38206 ترقیم الشثری: -- 39833
٣٩٨٣٣ - حدثنا ابو اسامة عن ابن عون عن محمد عن رجل من بني (زريق) (١) قال: لما كان ذلك اليوم خرج ابو بكر وعمر حتى (اتيا) (٢) الانصار، فقال ابو بكر: يا معشر الانصار إنا لا ننكر حقكم؛ ولا ينكر حقكم مؤمن، وإنا والله ما اصبنا خيرا إلا ⦗١٤٧⦘ ما شاركتمونا فيه، ولكن لا ترضى العرب ولا تقر إلا على رجل من قريش لانهم افصح الناس السنة، واحسن الناس وجوها، واوسط العرب دارا، واكثر الناس (شجنة) (٣) في العرب، فهلموا إلى عمر فبايعوه، قال: فقالوا: (لا) (٤) ، فقال عمر: لم؟ فقالوا: نخاف الاثرة، قال عمر: اما ما عشت فلا، قال: فبايعوا ابا بكر، فقال ابو بكر لعمر: انت اقوى مني، فقال عمر: انت افضل مني، فقالاها الثانية، فلما كانت الثالثة قال له عمر: إن قوتي (لك) (٥) مع فضلك، قال: فبايعوا ابا بكر (٦) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (رزيق).
(٢) في [ع]: (أتوا).
(٣) في [ع]: (شجمة)، وفي [ي]: (شجنة)، وفي [س]: (سجنته)، وفي [هـ]: (سجية).
(٤) سقط من: [أ، ب].
(٥) سقط من: [أ، ب].
(٦) مجهول، لإبهام الرجل شيخ ابن سيرين، أخرجه ابن سعد ٣/ ٢١١ وابن عساكر ٣٠/ ٢٧٤.
بنو زریق کے ایک آدمی سے روایت ہے کہ جب یہ دن تھا تو حضرت ابوبکر اور حضرت عمر نکلے یہاں تک کہ وہ انصار کے پاس آئے۔ حضرت ابوبکر نے کہا۔ اے گروہ انصار! یقینا ہم تمہارے حق کے منکر نہیں ہیں اور نہ ہی کوئی مؤمن تمہارے حق کا منکر ہوسکتا ہے۔ اور خدا کی قسم! بلاشبہ ہم نے جو خیر بھی حاصل کی ہے تم اس میں ہمارے ساتھ شریک تھے۔ لیکن قریش کے آدمی کے علاوہ کسی اور آدمی پر اہل عرب راضی ہوں گے اور نہ قرار پکڑیں گے۔ کیونکہ قریش کے لوگ سب سے زیادہ فصیح اللسان ہیں اور تمام لوگوں سے زیادہ خوبصورت چہرے والے ہں۔ اور اہل عرب میں سے سب سے وسیع گھر والے ہیں اور عرب کے لوگوں میں سب سے زیادہ باعزت ہیں۔ پس تم آؤ عمر کی طرف اور ان کی بیعت کرو۔ راوی کہتے ہیں: انصار نے کہا: نہیں! حضرت عمر نے پوچھا: کیوں؟ انصار نے جواب دیا۔ ہمیں ترجیح دیے جانے کا اندیشہ ہے۔ حضرت عمر نے کہا۔ بہر حال جب تک میں زندہ ہوں تب تک تو (یہ) نہیں ہوگا۔ حضرت عمر نے کہا۔ چلو پھر حضرت ابوبکر کی بیعت کرلو۔ ٢۔ حضرت ابوبکر نے حضرت عمر سے کہا۔ تم مجھ سے زیادہ قوی ہو۔ حضرت عمر نے (جواباً) فرمایا: آپ مجھ سے زیادہ فضیلت رکھتے ہیں۔ پھر دوبارہ ان دونوں حضرات نے باہم ان جملوں کا تکرار کیا۔ پھر جب تیسری مرتبہ یہ بات ہوئی تو حضرت عمر نے حضرت ابوبکر سے کہا۔ یقینا میری قوت بھی آپ کے لئے ہے اور اس کے ساتھ آپ کو فضیلت بھی حاصل ہے۔ چناچہ لوگوں نے حضرت ابوبکر کی بیعت کرلی۔ ٣۔ محمد کہتے ہیں کہ حضرت ابوبکر کی بیعت کے وقت لوگ حضرت ابو عبیدہ بن الجراح کے پاس گئے تو انہوں نے فرمایا۔ تم لوگ میرے پاس آئے ہو حالانکہ تم میں تین میں سے تیسرا موجود ہے یعنی حضرت ابوبکر۔ ٤۔ ابن عون کہتے ہیں: میں نے محمد سے پوچھا۔ تین میں سے تیسرا کون ہے؟ انہوں نے جواب دیا: ارشاد خداوندی ہے۔ { ثَانِیَ اثْنَیْنِ إِذْ ہُمَا فِی الْغَارِ }۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39833]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39833، ترقيم محمد عوامة 38206)