🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1. من كره الخروج في الفتنة وتعوذ منها
جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انہوں نے س سے پناہ مانگی ہے
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38514 ترقیم الشثری: -- 40142
٤٠١٤٢ - حدثنا ابو اسامة عن ابن عون عن (عمير) (١) بن إسحاق قال: دخلت انا ورجل على الحسن بن علي نعوده، فجعل يقول لذلك الرجل: سلني قبل ان لا تسالني، قال: ما اريد ان اسالك شيئا؟ يعافيك الله، قال: فقام فدخل ⦗٢٨١⦘ [ (الكنيف) (٢) ثم خرج إلينا ثم قال: ما خرجت إليكم حتى لفظت طائفة من كبدي (اقلبها) (٣) ] (٤) بهذا العود، ولقد (سقيت) (٥) السم مرارا، ما شيء اشد من هذه المرة، قال: (فغدونا) (٦) عليه من الغد فإذا هو في السوق، قال: وجاء الحسين فجلس عند راسه فقال: يا اخي من صاحبك؟ قال: تريد قتله؟ قال: نعم، قال: لئن كان الذي اظن، (لله) (٧) اشد نقمة، وإن كان بريئا فما احب ان (يقتل) (٨) بريء (٩) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (عمر).
(٢) في [أ]: (الكنس).
(٣) في [ب]: (أقبلها).
(٤) سقط ما بين المعكوفين من: [ب].
(٥) في [س]: (سيفت)، وفي [ب]: (سبقت).
(٦) في [أ، ب]: (فعدونا).
(٧) في [س]: (اللَّه).
(٨) في [أ]: (أقتل).
(٩) حسن؛ عمير بن إسحاق صدوق على الصحيح؛ أخرجه الحاكم ٣/ ١٩٣، وأبو نعيم في الحلية ٢/ ٣٨، وأبو العرب في المحن ص ٦٤، وابن عساكر ١٣/ ٢٨٢، وابن سعد كما في الإصابة ٢/ ٧٣، وابن أبي الدنيا في المحتضرين (١٣٢)، وابن عبد البر في الاستيعاب ١/ ٣٩٠، وإبن الجوزي في المنتظم ٥/ ٢٢٥.

حضرت عمیر بن اسحاق سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ میں اور ایک آدمی حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لیے حاضر ہوئے حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ اس آدمی سے کہنے لگے مجھ سے پوچھو اس سے پہلے کہ تم مجھ سے نہ پوچھ سکو۔ ان صاحب نے کہا میں آپ سے کچھ نہیں پوچھنا چاہتا ہوں اللہ تعالیٰ آپ کو عافیت عطا کرے راوی نے فرمایا حضرت حسن کھڑے ہوئے اور بیت الخلاء میں داخل ہوئے پھر ہمارے پاس تشریف لائے پھر ارشاد فرمایا میں تمہاری طرف نہیں نکلا یہاں تک کہ میں نے اپنے جگر کا ایک ٹکڑا پھینکا ہے جس کو اس لکڑی سے الٹ پلٹ رہا ہوں مجھے کئی مرتبہ زہر پلایا گیا اس مرتبہ سے زیادہ سخت کوئی چیز نہیں تھی حضرت عمیر نے کہا اگلے دن ہم صبح کو ان کے پاس گئے وہ جان کنی کی حالت میں تھے راوی عمیر نے فرمایا حضرت حسین آئے پس ان کے سر کے پاس بیٹھ گئے اور فرمایا اے بھائی جان آپ کو زہر دینے والا کون ہے انہوں نے فرمایا تم اسے قتل کرنا چاہتے ہو انہوں نے فرمایا ہاں حضرت حسن نے فرمایا اگر تو وہی ہے جس کے بارے میں میرا گمان ہے تو اللہ تعالیٰ اسے سخت سزا دینے والے ہیں اور اگر بری ہے تو میں یہ پسند نہیں کرتا کہ ایک بری آدمی کو قتل کیا جائے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40142]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40142، ترقيم محمد عوامة 38514)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38515 ترقیم الشثری: -- 40143
٤٠١٤٣ - حدثنا (١) ابو الاحوص عن (عبد الله) (٢) بن شريك عن بشر بن غالب قال: لقي عبد الله بن الزبير الحسين بن علي بمكة فقال: يا ابا عبد الله بلغني انك تريد العراق؟ قال: اجل، قال: فلا تفعل فإنهم قتلة ابيك، الطاعنون في بطن اخيك، وإن اتيتهم قتلوك (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ]: زيادة (عبد).
(٢) في [أ، ب، جـ، س، ط، هـ]: (عبيد اللَّه).
(٣) حسن؛ عبد اللَّه بن شريك صدوق، وبشر بن غالب ذكره ابن حبان في الثقات، وروى عنه جمع، وأخرجه يعقوب في المعرفة ٣/ ٧٩، والفاكهي (١٤٧٥)، وأبو الشيخ في تاريخ أصبهان ٢/ ١٨٦، وابن عساكر في تاريخ دمشق ١٤/ ٢٠٣.

حضرت بشر بن غالب سے روایت ہے فرمایا کہ عبداللہ بن زبیر حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ سے مکہ مکرمہ میں ملے حضرت عبداللہ نے پوچھا اے ابو عبداللہ مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ آپ عراق کا ارادہ رکھتے ہیں انہوں نے فرمایا ہاں حضرت عبداللہ نے کہا ایسا نہ کرنا بلاشبہ وہ آپ کے والد کے قاتلین ہیں اور آپ کے بھائی کے پیٹ پر نیزہ مارنے والے ہیں اگر آپ ان کے پاس گئے تو وہ آپ کو قتل کردیں گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40143]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40143، ترقيم محمد عوامة 38515)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38516 ترقیم الشثری: -- 40144
٤٠١٤٤ - حدثنا محمد بن موسى (العتري) (١) عن (جبلة بنت (المصبح) ) (٢) (٣) (قالت) (٤) : اوصى مالك بن ضمرة بسلاحه (للمجاهدين) (٥) من بني ضمرة الا (٦) يقاتل به اهل نبوة، قال: فقال اخوه عند راسه: يا اخي عند الموت تقول هذا؟ قال: هو ذاك، قال: فنحن في (حل) (٧) إن احتاج ولدك ان (يبيع) (٨) ، قال: نعم، (قال) (٩) : فذهب السلاح فلم (يبق) (١٠) منه إلا رمح، قالت: فجاء رجل من ذلك البعث (الذين) (١١) ساروا إلى الحسين فقال: يا ابن (مالك) (١٢) يا موسى! اعرني رمح ابيك اعترض به، قال: فقال: يا جارية! اعطه الرمح، فقالت امراة من اهله: يا موسى اما تذكر وصية ابيك؟ قالت: وقد مر الرجل بالرمح، قالت: فلحق الرجل فاخذ الرمح منه فكسره.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، هـ]: (العنزي)، وفي [ز]: (العدني)، وانظر: اللباب ٢/ ٣٢٩.
(٢) في [أ، ب، ع]: (الصبح)، وفي [ط، هـ]: (الصالح).
(٣) سقط من: [جـ].
(٤) في [س]: (قال).
(٥) في [ط]: (للمهاجرين).
(٦) في [أ]: زيادة (لا).
(٧) في [أ، ب، س]: (رحل).
(٨) في [جـ]: (يتبع)، وفي [هـ]: (ينفع).
(٩) في [ع]: (قالت).
(١٠) في [ب]: (تبق).
(١١) في [أ، ب، هـ]: (الذي).
(١٢) في [ع]: (ملك).

حضرت جبلہ بنت مصفح سے روایت ہے انہوں نے فرمایا حضرت مالک بن ضمرہ نے مجاہدین کو اپنے اسلحہ کے بارے میں وصیت کی خبردار اس سے کشیدگی کرنے والوں کے ساتھ لڑائی کی جائے گی راوی محمد بن موسیٰ نے فرمایا ان کے بھائی نے ان کے سر کے پاس کہا اے بھائی موت کے وقت آپ یہ کہہ رہے ہیں انہوں نے کہا یہ ایسے ہی ہے ان کے بھائی نے کہا اگر آپ کی اولاد کو ضرورت ہو بیچنے کی تو کیا ہمارے لیے یہ جائز ہوگا انہوں نے فرمایا ہاں وہ اسلحہ لے گئے ایک نیزے کے سوا کوئی چیزنہ رہی، راویہ فرماتی ہیں اس لشکر میں سے جو حضر تحسین کے مقابلے میں گیا ایک آدمی آیا مالک بن ضمرہ کے بھائی نے کہا اے مالک کے بیٹے اے موسیٰ مجھے اپنے والد کا نیزہ عاریۃ دینا میں اسے ماروں روای فرماتے ہیں مالک کے بیٹے نے کہا اے لڑکی ان کو نیزہ دے دوان کے گھر والوں میں سے ایک عورت نے کہا اے موسیٰ کیا تمہیں اپنے والد کی وصیت یاد نہیں۔ اور وہ آدمی آپ کے والد کا نیزہ مانگ کرلے گیا۔ پس وہ اس کے پیچھے گئے اور اس سے نیزہ لے کر اسے توڑ دیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40144]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40144، ترقيم محمد عوامة 38516)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38517 ترقیم الشثری: -- 40145
٤٠١٤٥ - حدثنا حسين بن علي عن ابي (موسى) (١) عن الحسن قال: رفع النبي ﷺ الحسن بن علي معه على المنبر فقال:"إن ابني هذا سيد ولعل الله ان يصلح ⦗٢٨٣⦘ به بين فئتين من المسلمين" (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [س].
(٢) مرسل؛ الحسن تابعي، أخرجه النسائي (١٠٠٨٤)، وورد من حديث الحسن عن أبي بكرة، أخرجه البخاري (٢٧٠٤)، وأبو داود (٤٦٦٢)، والترمذي (٣٧٧٣).

حضرت حسن سے روایت ہے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حسن بن علی رضی اللہ عنہ کو اپنے ساتھ منبر پر اٹھایا اور فرمایا میرا بیٹا سردار اور امیر ہے اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے مسلمانوں کی دو جماعتوں کے درمیان صلح کروائے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40145]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40145، ترقيم محمد عوامة 38517)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38518 ترقیم الشثری: -- 40146
٤٠١٤٦ - حدثنا وكيع عن سفيان عن ابيه عن منذر الثوري عن ابن الحنفية قال: الفتنة من قابلها (اجتيح) (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط، هـ]: (احتيج).
حضرت محمد بن حنفیہ سے روایت ہے ارشاد فرمایا جو آدمی فتنے کے روبرو آتا ہے جڑ سے اکھاڑ دیا جاتا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40146]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40146، ترقيم محمد عوامة 38518)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38519 ترقیم الشثری: -- 40147
٤٠١٤٧ - حدثنا حسين بن علي عن ابن عيينة عن ابن طاوس عن ابيه قال: قال ابن (عباس) (١) : جاءني (حسين) (٢) يستشيرني في الخروج إلى ما هاهنا -يعني العراق، فقلت: (لولا) (٣) ان (يزروا) (٤) بي وبك لشبثت يدي في شعرك، إلى اين تخرج إلى قوم قتلوا اباك وطعنوا اخاك، فكان الذي (سخا بنفسي) (٥) عنه ان قال لي: إن هذا (الحرم) (٦) يستحل برجل؛ ولان اقتل في ارض كذا وكذا غير انه يباعده -احب إلي من ان اكون انا هو (٧) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ]: (عياس).
(٢) سقط من: [أ، ب، س].
(٣) سقط من: [ط].
(٤) في [أ، ب]: (يرزؤا)، وفي [هـ]: (يزرؤا).
(٥) سقط من: [س].
(٦) في [أ]: (الحزم).
(٧) صحيح.

حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے فرمایا کہ حضرت حسین میرے پاس عراق کی طرف جانے کے سلسلے میں مشورہ کے لیے آئے میں نے ان سے کہا اگر وہ میرے اور آپ کی ذات پر عیب نہ لگائیں تو میں مضبوطی کے ساتھ آپ سے چمٹ جاتا کہ آپ کہاں جا رہے ہیں ایسے لوگوں کے پاس جنہوں نے آپ کے والد کو شہید کیا اور آپ کے بھائی کو نیزے مارے میرے ساتھ جو انہوں نے بات کے سلسلے میں سخاوت فرمائی اس میں یوں فرمایا یہ حرم کسی آدمی کے لیے لڑائی کے سلسلے میں حلال کیا جائے میں فلاں فلاں زمین میں قتل کردیا جاؤں اگرچہ وہ دور ہے مجھے زیادہ پسندیدہ ہے اس بات سے کہ میں اس آدمی کی طرح ہوں جس کے ساتھ لڑائی کرنے میں حرم کو حلال سمجھا جائے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40147]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40147، ترقيم محمد عوامة 38519)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38520 ترقیم الشثری: -- 40148
٤٠١٤٨ - حدثنا عبيد الله قال: اخبرنا إسرائيل عن ابي إسحاق عن هانئ بن هانئ عن علي قال: ليقتلن الحسين قتلا، وإني لاعرف تربة الارض التي بها يقتل، يقتل قريبا من النهرين (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) منقطع حكمًا؛ أبو إسحاق مدلس.
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ارشاد فرمایا کہ یقینا حسین کو قتل کیا جائے گا اور بلاشبہ میں اس زمین کی مٹی کو پہچانتا ہوں جہاں اسے شہید کیا جائے گا دو نہروں کے درمیان شہید کیا جائے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40148]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40148، ترقيم محمد عوامة 38520)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38521 ترقیم الشثری: -- 40149
٤٠١٤٩ - حدثنا يعلى بن عبيد عن موسى الجهني عن صالح بن اربد النخعي قال: قالت ام سلمة: دخل الحسين على النبي ﷺ وانا جالسة على الباب، فتطلعت فرايت في كف النبي ﷺ شيئا يقلبه وهو نائم على بطنه، فقلت: يا رسول الله! تطلعت فرايتك تقلب شيئا في كفك، والصبي نائم على بطنك وفى موعك تسيل، فقال:"إن جبريل اتاني بالتربة التي يقتل عليها، واخبرني ان امتي يقتلونه" (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) منقطع، صالح لا يروي عن أم سلمة، أخرجه ابن أبي عاصم في الآحاد (٤٢٨)، والطبراني (٢٨٢٠)، كما أخرجه بنحوه أحمد (٢٦٥٢٤)، والحاكم ٤/ ٣٩٨، وعبد بن حميد (١٥٣٣)، والبيهقي في الدلائل ٦/ ٤٦٨، والدارقطني ٥/ ٨٤.
حضرت ام سلمہ سے روایت ہے فرمایا کہ حضرت حسین نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے میں دروازے کے پاس بیٹھی ہوئی تھی میں نے غور کیا اور دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہتھیلی میں کوئی چیز تھی جسے آپ الٹ پلٹ رہے تھے اور حضرت حسین آپ کے پیٹ پر سوئے ہوئے تھے میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں نے غور کیا اور دیکھا کہ آپ اپنی ہتھیلی پر کوئی چیز الٹ پلٹ رہے ہیں اور بچہ آپ کے پیٹ پر سویا ہوا ہے اور آپ کے آنسو جاری ہیں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا بلاشبہ جبرئیل میرے پاس وہ مٹی لے کر آیا تھا جہاں اسے شہید کیا جائے گا اس نے مجھے خبر دی ہے کہ میری امت اسے قتل کرے گی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40149]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40149، ترقيم محمد عوامة 38521)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38522 ترقیم الشثری: -- 40150
٤٠١٥٠ - حدثنا محمد بن عبيد قال: حدثني شرحبيل بن مدرك الجعفي عن عبد الله بن (نجي) (١) الحضرمي عن ابيه انه سافر مع علي، وكان صاحب مطهرته حتى حاذى (نينوى) (٢) وهو منطلق إلى صفين فنادى: صبرا ابا عبد الله، صبرا ابا عبد الله! فقلت: ماذا (ابا) (٣) عبد الله؟ قال: دخلت على النبي ﷺ وعيناه تفيضان، قال: قلت: يا رسول الله ما لعينيك تفيضان اغضبك احد؟ قال:"قام من عندي جبريل فاخبرني ان الحسين يقتل بشط (الفرات) (٤) فلم املك عيني ان فاضتا" (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، هـ]: (يحيى).
(٢) في [أ، ب، س]: (سواء)، وفي [ع]: (بسؤا).
(٣) في [أ، ب، س]: (أنا).
(٤) في [أ، ب، هـ]: (يحيى).
(٥) مجهول؛ لجهالة نجي، أخرجه أحمد (٦٤٨)، والبزار (٨٨٤)، وأبو يعلى (٣٦٣)، والطبراني (٢٨١١)، والضياء ٢ (٧٥٨)، وابن أبي عاصم في الآحاد (٤٢٧)، وابن عساكر ١/ ١٨٧٤، والآجرى في الشريعة (١٦٦٧).

حضرت نجی حضرمی سے روایت ہے فرمایا کہ انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ سفر کیا وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لیے وضو وغیرہ کا انتظام کرنے لگے یہاں تک کہ وہ نینوی شہر کے برابر ہوگئے ارادہ ان کا صفین کی طرف جانے کا تھا تو انہوں نے پکارا ٹھہرو ابو عبداللہ ٹھہرو ابوعبداللہ میں نے کہا کیا ہوگیا ابو عبداللہ کو انہوں نے فرمایا میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گیا اس حال میں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بتلایا میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ کی آنکھیں بہہ رہی ہیں کیا آپ کو کسی نے غصہ دلایا ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جبرئیل میرے پاس کھڑے ہوئے ہیں انہوں نے مجھے بتلایا ہے کہ حسین کو فرات کے کنارے شہید کیا جائے گا پس اپنی آنکھوں پر قابو نہ رہا وہ بہہ پڑیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40150]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40150، ترقيم محمد عوامة 38522)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38523 ترقیم الشثری: -- 40151
٤٠١٥١ - حدثنا ابو معاوية (قال) (١) : حدثنا الاعمش عن سلام (ابي) (٢) شرحبيل عن (ابي) (٣) (هرثمة) (٤) قال: بعرت شاة (له) (٥) ، فقال لجارية له: يا (جرداء) (٦) ، لقد اذكرني هذا البعر حديثا سمعته من امير المؤمنين وكنت معه بكربلاء فمر بشجرة تحتها بعر غزلان فاخذ منه قبضة فشمها، ثم قال: يحشر من هذا الظهر سبعون الفا يدخلون الجنة بغير حساب (٧) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: تكرر.
(٢) في [أ، ب]: (ابن).
(٣) سقط من [س].
(٤) في [أ، ب]: (هزيمة) وفي [س]: (عريمة).
(٥) سقط من: [س].
(٦) في [س]: (حداء).
(٧) مجهول؛ لجهالة أبي هرثمة، وقيل: هريم.

حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ ان کی بکری نے مینگنیاں کیں انہوں نے اپنی باندی سے کہا اے کم بالوں والی اس مینگنی نے ایک حدیث یاد کروا دی جو میں نے امیرالمؤمنین (حضرت علی رضی اللہ عنہ) سے سنی تھی جبکہ میں ان کے ساتھ مقام کربلا میں تھا وہ ایسے درخت کے پاس سے گزرے جس کے نیچے ہرن کی مینگنی تھی اس زمین سے ایک مشت مٹی لی اور اسے سونگھا پھر فرمایا اس زمین کی پشت سے ستر ہزار کو جمع کیا جائے گا جو بغیر حساب کتاب کے جنت میں داخل ہوجائیں گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40151]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40151، ترقيم محمد عوامة 38523)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں