مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
1. من كره الخروج في الفتنة وتعوذ منها
جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انہوں نے س سے پناہ مانگی ہے
ترقیم عوامۃ: 38564 ترقیم الشثری: -- 40192
٤٠١٩٢ - حدثنا شبابة عن شعبة عن يحيى بن حصين قال: سمعت الحي غير واحد يحدثون عن ابي انه قال لسعد بن ابي وقاص: ما يمنعك من القتال؟ قال: لا حتى يعطوني سيفا يعرف المؤمن من الكافر (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) مجهول؛ لإبهام رواته.
حضرت ابی سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت سعد بن ابی وقاص سے کہا کہ آپ کو کونسی چیز لڑائی سے روکتی ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ کوئی چیز نہیں روکتی یہاں تک کہ تم مجھے ایسی تلوار دو جو مومن اور کافر کو پہچانتی ہو (حضرت سعد بن ابی وقاص فتنوں سے جدا رہتے تھے اور جمل، صفین، تیمں، اور حضرت عثمان کی شہادت ان تمام مواقع میں الگ رہے) [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40192]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40192، ترقيم محمد عوامة 38564)
ترقیم عوامۃ: 38565 ترقیم الشثری: -- 40193
٤٠١٩٣ - حدثنا هوذة بن خليفة قال: حدثنا عوف عن (محمد) (١) بن سيرين عن عقبة بن اوس عن عبد الله بن عمرو قال: يقتتل الناس بينهم على دعوى جاهلية عند قتل امير او إخراجه فتظهر إحدى الطائفتين حين تظهر وهي ذليلة (فيرغب) (٢) فيهم من يليهم من العدو فيسيرون إليهم، ويقتحم اناس في الكفر تقحما (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [جـ].
(٢) في [جـ]: (فيرعب).
(٣) صحيح؛ عقبة بن أوس ثقة على الصحيح؛ أخرجه الحاكم ٤/ ٤٦٨، وعبد الرزاق (٢٠٧٦٦)، ونعيم في الفتن (١٢٧٥)، والداني في السنن الواردة في الفتن (٤٩١).
حضرت عبداللہ بن عمرو سے روایت ہے کہ لوگ آپس میں جاہلیت کی پکار کے تقاضوں پر لڑائی کریں گے کسی امیر کے قتل ہونے یا اس کے نکالنے کے وقت پس دونوں گروہوں میں سے ایک غالب آجائیگا جب کہ وہ ذلیل تھا تو ان کے پاس والے دشمن ان میں رغبت کریں گے اور ان پر حلہ کردیں گے اور لوگ کفر میں گرتے چلے جائیں گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40193]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40193، ترقيم محمد عوامة 38565)
ترقیم عوامۃ: 38566 ترقیم الشثری: -- 40194
٤٠١٩٤ - حدثنا غندر عن شعبة عن يعلى بن عطاء عن عبد الله بن خربوذ عن عبد الله بن عمرو انه قال: ويل للجناحين من الراس، ويل للراس من الجناحين، قال شعبة: فقلت: وما الجناحان؟ قال: العراق ومصر، والراس الشام (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) مجهول؛ لجهالة عبد اللَّه بن خربوذ كذا اسمه في المنفردات لمسلم ص ١٦٧، وقيل: عبد الرحمن كما في التاريخ الكبير ٥/ ٢٧٨، والجرح والتعديل ٥/ ٢٣٠، والثقات ٥/ ٩٣.
حضرت عبداللہ بن عمرو سے روایت ہے کہ انہوں نے ارشاد فرمایا کہ سر کی دونوں جانبوں کے لیے ہلاکت ہے سر کی دونوں جانبوں کے لیے ہلاکت ہے شعبہ راوی کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ دونوں جانبوں سے کیا مراد ہے انہوں نے فرمایا عراق، مصر اور سر سے مراد شام ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40194]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40194، ترقيم محمد عوامة 38566)
ترقیم عوامۃ: 38567 ترقیم الشثری: -- 40195
٤٠١٩٥ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن سلمة قال: اخبرني عبد الله بن المختار عن عباس الجريري عن ابي عثمان النهدي عن عبد الله بن عمرو قال: ليخسفن بالدار إلى جنب الدار، و (بالدار إلى جنب الدار) (١) حيث تكون (المظالم) (٢) (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب]، وفي [جـ، ع]: تكررت.
(٢) في [هـ]: (للظالم).
(٣) صحيح؛ أخرجه نعيم (١٧١١).
حضرت عبداللہ بن عمرو سے روایت ہے انہوں نے فرمایا ایک گھر کو اس کے پاس والے گھر کے پہلو میں دھنسا دیا جائے گا دوسرے گھر کو اس کے پاس والے گھر کے پہلو میں دھنسا دیا جائے گا جہاں پر یہ مظالم ہوں گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40195]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40195، ترقيم محمد عوامة 38567)
ترقیم عوامۃ: 38568 ترقیم الشثری: -- 40196
٤٠١٩٦ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن سلمة قال: اخبرنا ثابت عن غالب ابن عجرد قال: اتيت عبد الله بن عمرو -انا (و) (١) صاحب لي- وهو يحدث الناس فقال: ممن انتما؟ فقلنا: من اهل البصرة، قال: فعليكما إذن (بضواحيها) (٢) ، فلما تفرق الناس عنه دنونا منه فقلنا: رايت قولك: ممن انتما؟ وقولك: عليكما (بضواحيها؟) (٣) إذن، قال: إن دار مملكتها وما حولها مشوب بهم (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [س].
(٢) في [ع]: (بفواحها)، وفي [أ، ب]: (بصواحبها).
(٣) في [ع]: (بفواحها)، وفي [أ، ب]: (بصواحبها).
(٤) حسن؛ غالب بن عجرد ذكره ابن حبان في الثقات وروى عنه جمع.
حضرت غالب بن عجرد سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں اور میرا ساتھی حضرت ابو عبداللہ بن عمرو کے پاس آئے جبکہ وہ لوگوں کے سامنے (احادیث) بیان کر رہے تھے تو انہوں نے پوچھا کہ تم دونوں کون ہو؟ انہوں نے عرض کیا کہ بصرہ والوں میں سے انہوں نے فرمایا تم دونوں پر بصرہ کے متصل علاقے لازم ہیں جب لوگ ان کے پاس سے چلے گئے تو ہم ان کے قریب ہوئے ہم نے ان سے عرض کیا کیا خیال ہے آپکا اپنی بات (تم کہاں سے ہو) اور آپ کی بات کہ تم پر لازم ہے بصرہ کے متصل علاقے انہوں نے فرمایا بیشک بصرہ اور اس کے ارد گرد کے مملو کہ گھر وہاں کے باشندوں کے درمیان مشترک ہوجائیں۔ ثابت راوی کہتے ہیں کہ غالب بن عجرد جب کسی کشادہ مقام میں داخل ہوئے تو دوڑتے ہوئے یہاں تک کہ اس سے نکل جاتے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40196]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40196، ترقيم محمد عوامة 38568)
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 40197
٤٠١٩٧ - قال ثابت: فكان غالب بن (عجرد) (١) إذا دخل على (الرحبة) (٢) سعى حتى يخرج منها.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ]: (عمرو).
(٢) في [هـ]: (الراحبة).
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40197، ترقيم محمد عوامة ---)
ترقیم عوامۃ: 38569 ترقیم الشثری: -- 40198
٤٠١٩٨ - حدثنا ابو معاوية عن عاصم عن ابي عثمان قال: جاء رجل إلى حذيفة فقال: إني اريد الخروج إلي البصرة، فقال: إن كنت لا بد لك من الخروج ⦗٣٠٣⦘ فانزل (عذواتها) (١) ولا تنزل سرتها (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) جمع عذاة، وهي أرض طيبة التربة والماء، انظر: النهاية ٣/ ٢٠٠، ولسان العرب ١٥/ ٤٣، وفي [أ، هـ]: (عزواتها)، وفي [س]: (عروانها).
(٢) صحيح؛ عاصم هو الأحول.
حضرت ابو عثمان نہدی سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ ایک صاحب حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور عرض کیا کہ میں بصرہ جانا چاہتا ہوں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا اگر تمہارے لیے جانا ضروری ہے تو اس کے کنارے میں ٹھہرنا اس کے درمیان میں نہ ٹھہرنا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40198]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40198، ترقيم محمد عوامة 38569)
ترقیم عوامۃ: 38570 ترقیم الشثری: -- 40199
٤٠١٩٩ - حدثنا وكيع قال: حدثنا الاعمش عن ثابت بن هرمز ابي المقدام عن ابي يحيى قال: سئل حذيفة: من المنافق؟ قال: الذي يصف الإسلام ولا يعمل به (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) مجهول؛ أبو يحيى هو عبيد بن كرب العبسي مجهول، أخرجه أبو نعيم في الحلية ١/ ٢٨١، والمروزي في تعظيم الصلاة (٦٨٢)، والفريابي في صفة المنافق (٧٠).
حضرت ابو یحییٰ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے پوچھو کہ منافق کون ہے؟ تو انہوں نے فرمایا جو اسلام کو بیان کرتا ہے اور اس پر عمل نہیں کرتا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40199]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40199، ترقيم محمد عوامة 38570)
ترقیم عوامۃ: 38571 ترقیم الشثری: -- 40200
٤٠٢٠٠ - حدثنا عبيد الله بن موسى عن حسن بن صالح عن معاوية بن إسحاق قال: حدثني رجل من الطائف عن عبد الله بن عمرو قال: لا تقوم الساعة حتى يتهارجون في الطرق تهارج الحمير فياتيهم إبليس فيصرفهم إلى عبادة الاوثان (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) مجهول؛ لإبهام راويه، وبنحوه أخرجه الحاكم ٤/ ٤٥٧، والبزار (٢٣٥٤)، ونعيم في الفتن (١٧٩٩)، وبنحوه مرفوعًا عند ابن حبان (٦٧٦٧).
حضرت عبداللہ بن عمرو سے روایت ہے انہوں نے ارشاد فرمایا قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ تم راستوں میں چوپایوں کی طرح زنا کرو گے ان پر ابلیس مسلط ہوگا اور ان کو بتوں کی عبادت کی طرف پھیر دے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40200]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40200، ترقيم محمد عوامة 38571)
ترقیم عوامۃ: 38572 ترقیم الشثری: -- 40201
٤٠٢٠١ - حدثنا ابو معاوية عن الاعمش (عن شمر عن شهر) (١) بن حوشب عن كعب قال: يقتتل (القرآن) (٢) (والسلطان) (٣) ، قال: فيطا السلطان على (سماخ) (٤) القرآن، (ولايا بلاي) (٥) (ما) (٦) (تنفلتن) (٧) منه.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (شهر عن شمر).
(٢) في [ع]: (العراق).
(٣) سقط من: [ص].
(٤) في [ع]: (صماج).
(٥) سقط من: [أ، ط، هـ].
(٦) سقط من: [ط، هـ].
(٧) في [أ، ب، جـ]: (يعتر)، وفي [س، ع]: (يعتلين)، وفي [جـ]: (يعرضنه).
حضرت کعب سے روایت ہے انہوں نے فرمایا قرآن اور بادشاہ کے درمیان مقابلہ ہوگا وہ بادشاہ قرآن کے احکامات کو روند دے گا ہائے میری مصیبت ہائے میری مصیبت تم اس سے چھٹکارا نہیں پا سکو گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40201]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40201، ترقيم محمد عوامة 38572)