🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1. من كره الخروج في الفتنة وتعوذ منها
جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انہوں نے س سے پناہ مانگی ہے
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38544 ترقیم الشثری: -- 40172
٤٠١٧٢ - حدثنا يزيد بن هارون قال: اخبرنا هشام عن محمد عن عبد الرحمن ابن ابي بكرة قال: قدمت الشام قال: فقلت: (لو) (١) دخلت على عبد الله بن عمرو فسلمت عليه فاتيته فسلمت عليه فقال لي: من انت؟ فقلت: انا عبد الرحمن بن ابي بكرة، قال: يوشك بنو (قنطوراء) (٢) ان يخرجوكم من ارض العراق، قلت: ثم نعود؟ قال: انت تشتهي ذلك، (قلت: نعم) (٣) ، (قال: نعم) (٤) ، وتكون لكم سلوة (من) (٥) عيش (٦) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (أن).
(٢) في [أ، ب، جـ، س، ع]: (قنطور).
(٣) سقط من: [ع].
(٤) سقط من: [أ، ب، جـ، س].
(٥) في [ط، هـ]: (بن).
(٦) صحيح؛ أخرجه الحاكم ٤/ ٤٧٥، ونعيم (١٩١١).

حضرت عبدالرحمن بن ابی بکرہ سے روایت ہے فرمایا کہ میں شام گیا اور میں نے (اپنے جی میں) کہا اگر میں حضرت عبداللہ بن عمرو کے پاس جاؤں اور ان کو سلام کروں پس میں ان کے پاس آیا اور انہیں سلام کیا انہوں نے پوچھا کہ تو کون ہے میں نے عرض کیا کہ عبدالرحمن بن ابی بکرہ ہوں انہوں نے ارشاد فرمایا کہ قریب ہے کہ بنی قنطورا (ترک یا روم کے نصاریٰ) تمہیں عراق کی زمین سے نکالدیں میں نے عرض کیا پھر کیا ہم لوٹیں گے؟ انہوں نے ارشاد فرمایا کہ کیا تم اس بات کو چاہتے ہو؟ میں نے عرض کیا جی ہاں انہوں نے ارشاد فرمایا کہ تمہارے لیے زندگی کی بہار ہوگی وہ لوٹنا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40172]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40172، ترقيم محمد عوامة 38544)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38545 ترقیم الشثری: -- 40173
٤٠١٧٣ - حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن (زيد) (١) بن وهب قال: مات رجل من المنافقين فلم يصل عليه حذيفة، فقال له عمر: امن القوم هو؟ قال: ⦗٢٩٥⦘ نعم، فقال له عمر: بالله منهم انا؟ قال: (لا) (٢) ، (ولن) (٣) اخبر به احدا بعدك (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (يزيد).
(٢) سقط من: [أ، ب].
(٣) في [أ، ب]: (ولين).
(٤) صحيح؛ أخرجه مسدد كما في المطالب العالية (٣٦٢٣)، ويعقوب في المعرفة ٣/ ٨٧، وابن عساكر ١٢/ ٢٧٦.

حضرت زید بن وہب سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ منافقین میں سے ایک آدمی فوت ہوا حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے اس کی نماز جنازہ نہیں پڑھی۔ حضرت عمر نے ان سے پوچھا کہ کیا یہ منافقین میں سے ہے؟ انہوں نے ارشاد فرمایا کہ ہاں! حضرت عمر نے ان سے پوچھا ا اللہ کے لیے مجھے بتاؤ کیا میں ان منافقین میں سے ہوں؟ تو انہوں نے ارشاد فرمایا کہ نہیں اور ہرگز میں اس بارے میں آئندہ نہیں بتاؤں گا (کہ کون منافق ہے اور کون نہیں) [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40173]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40173، ترقيم محمد عوامة 38545)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38546 ترقیم الشثری: -- 40174
٤٠١٧٤ - حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن زيد عن حذيفة قال: ما بقي من المنافقين إلا اربعة، احدهم شيخ كبير لا يجد برد الماء من الكبر، قال: فقال له رجل: فمن هؤلاء الذين (ينقبون) (١) بيوتنا ويسرقون علائقنا؟ قال: ويحك، اولئك الفساق (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ، س]: (يقضون).
(٢) صحيح؛ أخرجه البخاري (٤٣٨١)، والنسائي (١١٢١٥).

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے ارشاد فرمایا منافقین میں سے سوائے چار کے کوئی بھی باقی نہیں رہا ان میں سے ایک بوڑھا ہے جو بڑھاپے کی وجہ سے پانی کی ٹھنڈک کو نہیں پاتا راوی کہتے ہیں ایک شخص نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ یہ کون لوگ ہیں جو ہمارے گھروں میں نقب لگاتے ہیں اور ہمارے مالوں کو چوری کرتے ہیں انہوں نے ارشاد فرمایا کہ تیرے لیے ہلاکت ہو یہ تو فساق لوگ ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40174]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40174، ترقيم محمد عوامة 38546)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38547 ترقیم الشثری: -- 40175
٤٠١٧٥ - حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن زيد قال: قرا حذيفة: ﴿فقاتلوا ائمة الكفر﴾ [التوبة: ١٢] ، قال: (ما) (١) (قوتل) (٢) اهل هذه الآية بعد (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، س].
(٢) في [أ، ب]: (قلت).
(٣) صحيح؛ أخرجه ابن جرير ١/ ٨٨٠، وابن أبي حاتم (١٠٠٢٤).

حضرت زید سے روایت ہے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے { فَقَاتِلُوا أَئِمَّۃَ الْکُفْرِ } (یعنی کفر کے سرداروں کو قتل کرو) تلاوت کی اور فرمایا کہ اس آیت کے مصداق لوگ ابھی تک قتل نہیں کیے گئے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40175]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40175، ترقيم محمد عوامة 38547)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38548 ترقیم الشثری: -- 40176
٤٠١٧٦ - حدثنا وكيع عن الاعمش عن عمرو بن مرة عن ابي البختري قال: قال رجل اللهم اهلك المنافقين، (فقال حذيفة) (١) : لو هلكوا ما انتصفتم من عدوكم (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب].
(٢) منقطع؛ أبو البختري لم يسمع من حذيفة، وأخرجه الفريابي في صفة المنافق (٥٨).

حضرت ابو البختری سے روایت ہے کہ ایک صاحب نے کہا کہ اے اللہ منافقین کو ہلاک کردے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اگر وہ ہلاک کردیے گئے تو پھر تم نے اپنے دشمن سے انتقام نہ لیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40176]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40176، ترقيم محمد عوامة 38548)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38549 ترقیم الشثری: -- 40177
٤٠١٧٧ - حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن شمر قال: قال حذيفة: ايسرك ⦗٢٩٦⦘ ان تقتل افجر الناس؟ قال: نعم، قال: إذن تكون افجر منه (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) منقطع؛ شمر لا يروي عن حذيفة، وأخرجه أبو نعيم في الحلية ١/ ٢٨٠.
حضرت شمر سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ کیا تمہیں یہ بات پسند ہے کہ تم لوگوں میں سے سب سے زیادہ گنہگار کو قتل کرو انہوں نے کہا جی ہاں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس وقت تم سب سے گنہگار ہوگے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40177]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40177، ترقيم محمد عوامة 38549)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38550 ترقیم الشثری: -- 40178
٤٠١٧٨ - حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن عمرو بن مرة عن ابي البختري عن حذيفة قال: القلوب اربعة: قلب مصفح فذاك قلب المنافق، وقلب اغلف، فذاك قلب الكافر، وقلب اجرد كان فيه سراجا يزهر، فذاك قلب المؤمن، وقلب فيه نفاق وإيمان فمثله مثل قرحة يمدها قيح ودم، ومثله مثل شجرة يسقيها ماء خبيث وماء طيب، فاي ماء غلب عليها غلب (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) منقطع؛ أخرجه أبو نعيم في الحلية ١/ ٢٧٦، وسبق ١/ ٣٦١ برقم [٣٢٤٢٣١]، وورد من طريق أبي البختري عن أبي سعيد مرفوعًا عند أحمد (١١١٢٩).
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا دل چار قسم کے ہوتے ہیں ایک تو الٹا دل یہ منافق کا دل ہے اور غلاف میں لپٹا ہوا دل یہ کافر کا دل ہے اور صاف دل گویا کہ اس میں چراغ چمک رہا ہے یہ مومن کا دل ہے اور جس دل میں نفاق اور ایمان ہے اس کی مثال پھوڑے کی ہے جس میں پیپ اور خون ہو اور اس کی مثال اس درخت جیسی ہے جس کو خراب پانی اور عمدہ پانی سے سیراب کیا جاتا ہے جو پانی اس پر غالب ہوگا وہ ویسا ہی ہوگا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40178]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40178، ترقيم محمد عوامة 38550)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38551 ترقیم الشثری: -- 40179
٤٠١٧٩ - حدثنا وكيع قال: حدثنا الاعمش عن شقيق عن حذيفة قال: المنافقون الذين فيكم اليوم شر من المنافقين الذين كانوا على عهد رسول الله ﷺ قال: (قلنا) (١) : (يا (ا) (٢) با) (٣) عبد الله وكيف ذاك؟ قال: إن (اولئك) (٤) كانوا يسرون نفاقهم، كان هؤلاء اعلنوه (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط، هـ]: (قلت).
(٢) سقط من: [أ، ع].
(٣) سقط من: [ب].
(٤) في [ع]: (هؤلاء).
(٥) صحيح؛ أخرجه البخاري (٦٦٩٦)، والبيهقي ٨/ ٢٠٠، ووكيع في الزهد (٤٧٥)، والطيالسي (٤١٠)، والخطيب في الموضع ١/ ٥١٣، والفريابي في صفة المنافق (٥٣)، والبغوي في الجعديات (٧٣٤)، وأبو نعيم في الحلية ١/ ٢٨٥، والهروي في ذم الكلام (٩١).

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ آج کل جو منافق تمہارے اندر ہیں وہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے کے منافقین سے زیادہ برے ہیں راوی نے فرمایا ہم نے عرض کیا اے ابو عبداللہ یہ کیسے ہوسکتا ہے انہوں نے فرمایا اس لیے کہ وہ اپنے نفاق کو چھپاتے تھے اور یہ اسے ظاہر کرتے ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40179]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40179، ترقيم محمد عوامة 38551)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38552 ترقیم الشثری: -- 40180
٤٠١٨٠ - حدثنا وكيع قال: حدثنا الاعمش عن مخول بن راشد عن رجل من عبد القيس قال: قال حذيفة: ما (ابالي) (١) بعد سبعين سنة لو دهدهت حجرا ⦗٢٩٧⦘ (من) (٢) فوق مسجدكم هذا (فقتلت) (٣) منكم عشرة (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (أنا).
(٢) سقط من: [س]، وفي [أ، ب، جـ، ع]: (منكم).
(٣) في [أ، ب]: (لقفلت).
(٤) مجهول؛ لإبهام الرواي عن حذيفة، أخرجه الخطابي في الزهد ص ٦٨، وبنحوه نعيم في الفتن (١٩٨٥).

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا سترویں (٧٠) سال کے بعد مجھے اس کی پروا نہیں کہ میں کوئی پتھر تمہاری مسجد کے اوپر سے لڑھکا دوں جو تم میں سے دس آدمیوں کو کچل دے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40180]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40180، ترقيم محمد عوامة 38552)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38553 ترقیم الشثری: -- 40181
٤٠١٨١ - حدثنا يحيى بن عيسى عن الاعمش عن مخول عن رجل قال: كنا مع حذيفة فاخذ حصى فوضع بعضه فوق بعض، ثم قال لنا: انظروا ما ترون من الضوء؟ قلنا: نرى شيئا خفيا، (قال) (١) : والله ليركبن الباطل على الحق حتى لا ترون من الحق إلا ما ترون من هذا (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب، جـ، س، ط، ع، هـ].
(٢) مجهول؛ لإبهام الرجل.

حضرت مخول ایک صاحب سے روایت کرتے ہیں انہوں نے فرمایا کہ ہم حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے انہوں نے کچھ کنکریاں لیں اور ان کو ایک دوسرے کے اوپر رکھا پھر انہوں نے ہم سے ارشاد فرمایا کہ دیکھو اس روشنی کو جو تمہیں نظر آرہی ہے ہم نے عرض کیا کہ ہم تو مخفی چیز دیکھ رہے ہیں۔ انہوں نے ارشاد فرمایا کہ اسی طرح باطل حق پر بلند ہوگا یہاں تک کہ تم حق کو نہیں دیکھو گے مگر اس حالت میں جو حالت تم ان کنکریوں کی دیکھ رہے ہو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40181]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40181، ترقيم محمد عوامة 38553)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں