مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
1. من كره الخروج في الفتنة وتعوذ منها
جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انہوں نے س سے پناہ مانگی ہے
ترقیم عوامۃ: 38534 ترقیم الشثری: -- 40162
٤٠١٦٢ - حدثنا يحيى بن عيسى عن الاعمش عن (١) المنهال عن ابي البختري قال: قال حذيفة: لا يكون في بني إسرائيل (شيء) (٢) إلا كان فيكم مثله، فقال رجل: فينا (يكون) (٣) قوم لوط؟ قال: نعم، وما ترى بلغ ذلك لا ام لك (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ط، هـ]: زيادة (أبي).
(٢) في [أ، ب، س]: (نبي).
(٣) سقط من: [ط، هـ].
(٤) منقطع؛ أبو البختري لم يسمع من حذيفة.
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ارشاد فرمایا بنی اسرائیل میں کوئی چیز واقع نہیں ہوئی مگر اس کی مثل تمہارے اندر بھی واقع ہوگی ایک صاحب نے عرض کیا کیا ہمارے اندر قوم لوط کی طرح ہوگا آپ نے فرمایا ہاں تیرے لیے تیری ماں نہ رہے اس سلسلے میں جو بات پہنچی ہے اس کے بارے میں تیرا کیا خیال ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40162]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40162، ترقيم محمد عوامة 38534)
ترقیم عوامۃ: 38535 ترقیم الشثری: -- 40163
٤٠١٦٣ - حدثنا عبد الله بن نمير عن الاعمش عن المنهال بن عمرو عن ابي البختري عن حذيفة قال: (لتعملن) (١) عمل بني إسرائيل فلا يكون فيهم شيء إلا كان فيكم مثله، فقال رجل: تكون (فينا) (٢) قردة وخنازير؟ قال: وما يبريك من ذلك؟ لا ام لك؛ قالوا: حدثنا يا ابا عبد الله، قال: لو حدثتكم لافترقتم على ثلاث فرق: فرقة تقاتلني، وفرقة لا تنصرني، وفرقة تكذبني، اما إني ساحدثكم ولا اقول: (٣) قال رسول الله ﷺ، ارايتكم لو حدثتكم انكم تاخذون كتابكم (فتحرقونه) (٤) وتلقونه في الحشوش، صدقتموني؟ قالوا: سبحان الله! (٥) ويكون هذا؟ [قال: ارايتكم لو حدثتكم انكم تكسرون قبلتكم، صدقتموني؟ قالوا: سبحان الله! ويكون هذا؟ قال: ارايتكم لو حدثتكم ان (امكم) (٦) تخرج في فرقة من المسلمين، (وتقاتلكم) (٧) ، صدقتموني؟ قالوا: سبحان الله! ويكون هذا؟] (٨) (٩) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، هـ]: (لتعلمن).
(٢) في [ط]: (منا).
(٣) في [س]: زيادة (قال).
(٤) في [ب، س]: (فتحرفونه).
(٥) في [س]: زيادة (بسحره اللَّه).
(٦) في [س]: (إمامكم).
(٧) في [ط]: (يقاتلونكم).
(٨) سقط ما بين المعكوفين من: [أ، ب].
(٩) منقطع؛ أبو البختري لم يسمع من حذيفة، وأخرجه ابن أبي داود في المصاحف (٦٢)، وبنحوه ابن أبي حاتم في التفسير (٦٤٣٠)، والحاكم ٤/ ٤٦٩، ونعيم (١٩٢).
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ارشاد فرمایا کہ تم ضرور بنی اسرائیل والے اعمال کرو گے ان میں کوئی چیز واقع نیں ہوئی مگر تمہارے اندر اس کی مثل ہوگی ایک صاحب نے عرض کیا کیا ہم میں بندر اور خنزیر بھی ہوں گے ارشاد فرمایا تیرے لیے ماں نہ ہو اس سے تمہیں کس نے بری کیا ہے ان کے ساتھیوں نے عرض کیا اے ابو عبد اللہ ہم سے بیان کرو حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اگر میں تم سے بیان کروں تو تم تین گروہوں میں بٹ جاؤ گے اور ایک گروہ مجھ سے لڑائی کرے گا اور دوسرا گروہ میری مدد نہیں کرے گا اور ایک گروہ میری تکذیب کرے گا باقی میں تمہارے سامنے بیان کرتا ہوں اور میں نہیں کہتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا مجھے بتلاؤ تو سہی اگر میں تم سے بیان کروں کہ تم اپنی کتاب کو لے کر اسے جلا دو گے اور اسے بیت الخلاؤں میں پھینک دو گے کیا تم میری تصدیق کرو گے انہوں نے کہا سبحان اللہ کیا یہ بھی ہوگا حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا مجھے بتلاؤ تو سہی اگر میں تم سے بیان کروں کہ تم اپنے قبلہ کو توڑ دو گے کیا تم میری تصدیق کرو گے انہوں نے سبحان اللہ کیا یہ ہوگا (پھر) فرمایا مجھے بتلاؤ تو سہی اگر میں تم سے بیان کروں کہ تمہاری ماں مسلمانوں کے ایک گروہ میں خروج کرے گی اور تم سے لڑائی کرے گی کیا تم میری تصدیق کرو گے انہوں نے کہا سبحان اللہ کیا یہ ہوگا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40163]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40163، ترقيم محمد عوامة 38535)
ترقیم عوامۃ: 38536 ترقیم الشثری: -- 40164
٤٠١٦٤ - حدثنا عبد الرحمن بن مهدي عن سفيان عن حبيب قال: سمعت ابن عمر يقول: يا اهل العراق! تاتون بالمعضلات (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح؛ أخرجه يعقوب في المعرفة ٣/ ١٦ و ٨٢، وأحمد في العلل ٣/ ٢٢٠.
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے ارشاد فرمایا کہ اے اہل عراق تم مشکل راستوں پر چلو گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40164]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40164، ترقيم محمد عوامة 38536)
ترقیم عوامۃ: 38537 ترقیم الشثری: -- 40165
٤٠١٦٥ - حدثنا يزيد بن هارون قال: اخبرنا سفيان بن حسين عن هشام بن يوسف عن (عوف) (١) بن مالك قال: استاذنت على النبي ﷺ فقال:"ادخل" قلت: فادخل كلي او بعضي؟ قال:"ادخل كلك"، فدخلت عليه وهو يتوضا وضوءا (مكيثا) (٢) ، فقال:"يا عوف بن مالك! ست قبل الساعة: موت نبيكم ﷺ (خذ إحدى) (٣) -فكانما انتزع قلبي من مكانه- وفتح بيت المقدس، وموت ياخذكم تقعصون به كما تقعص المغنم، وان يكثر المال حتى (يعطى) (٤) الرجل مائة دينار فيسخطها، وفتح مدينة الكفر، وهدنة تكون بينكم وبين بني الاصفر، (فياتونكم) (٥) تحت ثمانين غاية، تحت كل غاية اثنا عشر الفا فيكونون (اولى) (٦) بالغدر منكم" (٧) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (عمر).
(٢) في [أ، ب، ع]: (مكينا)، وفي [س]: (مكا)، وفي [جـ]: (مكيبا).
(٣) في [أ، ب، جـ، س، ع]: (حدًا حدًا).
(٤) في [س]: (تعطى).
(٥) في [ب]: (فيأتوكم).
(٦) في [جـ]: (أول).
(٧) مجهول؛ لجهالة هشام بن يوسف، أخرجه أحمد (٢٣٩٧١)، وأصله عند البخاري (٣١٧٦).
حضرت عوف بن مالک سے روایت ہے ارشاد فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے داخل ہونے کی اجازت لی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا داخل ہوجاؤ میں نے عرض کیا میں سارا داخل ہوجاؤں یا کچھ (یہ مزاقاً کہا) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا سارا داخل ہوجا میں آپ کے پاس گیا آپ آہستہ سے وضو کر رہے تھے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا عوف بن مالک چھ باتیں قیامت سے پہلے ہوں گی تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی موت یہ ایک لے لے (راوی نے فرمایا) اس بات سے گویا انہوں نے میرادل کھینچ لیا اور (دوسری) بیت المقدس کی فتح حاصل ہوگی اور (تیسری) موت ہوگی تو تمہیں آ ن لے گی تم اس سے جلدی مرجاؤ گے جیسے بکریاں قعاص کی بیماری سے جلدی مرجاتی ہیں اور (چوتھا) مال کثرت سے ہوجائے گا یہاں تک کہ ایک آدمی کو سودینار دیے جائیں گے وہ انہیں ناپسند کرے گا کفار کا شہر فتح ہوگا اور صلح ہوگی تمہارے اور رومیوں کے درمیان وہ تمہا رے پاس اسی جھنڈیوں کے نیچے آئیں گے ہر جھنڈے کے نیچے بارہ ہزار افراد ہوں گے و ہ تم سے عذر کرنے میں آگے ہوں گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40165]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40165، ترقيم محمد عوامة 38537)
ترقیم عوامۃ: 38538 ترقیم الشثری: -- 40166
٤٠١٦٦ - حدثنا وكيع عن النهاس بن (قهم) (١) قال: حدثني شداد ابو عمار عن معاذ بن جبل قال: قال رسول الله ﷺ:"ست من اشراط الساعة: موتي، وفتح بيت المقدس وان يعطى الرجل الف دينار فيسخطها، وفتنة يدخل (حربها) (٢) بيت ⦗٢٩٢⦘ كل مسلم وموت ياخذ في الناس كقعاص المغنم، وان (تغدر) (٣) الروم فيسيرون (باثني عشر) (٤) تحت كل (بند) (٥) اثنا عشر الفا" (٦) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (قيم).
(٢) في [أ، س، ع]: (حزنها)، وفي [ب، ط]: (حرها)، وفي [هـ]: (حزبها).
(٣) في [أ، م]: (تقدم)، وفي [ب، س]: (تقدر).
(٤) في [هـ]: (بثمانين نبذًا).
(٥) في [هـ]: (نبذ).
(٦) مجهول منقطع؛ النهاس مجهول، وأبو عمار لم يسمع من معاذ، أخرجه أححد (٢١٩٩٢)، والطبراني (٢٠/ ٢٤٤).
حضرت معاذ بن جبل سے روایت ہے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا چھ چیزیں قیامت کی نشانیوں میں سے ہیں میری وفات اور بیت المقدس کی فتح، ایک صاحب کو ہزار اشرفیاں دی جائیں گی وہ ان کو ناپسند کرے گا اور ایسا فتنہ ہوگا جس کا غم ہر مسلمان کے گھر میں داخل ہوگا اور موت ہوگی جو لوگوں کو ایسے پکڑ لے گی جیسے قعاص (سینے کی بیماری) بکریوں کو پکڑتی ہے رومی تم سے دھوکہ کریں گے وہ بارہ ہزار کی تعداد میں آئیں گے اور ہر بڑے پرچم کے نیچے بارہ ہزار افراد ہوں گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40166]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40166، ترقيم محمد عوامة 38538)
ترقیم عوامۃ: 38539 ترقیم الشثری: -- 40167
٤٠١٦٧ - حدثنا هوذة بن خليفة حدثنا عوف عن الحسن عن اسيد بن (المنتشر) (١) قال: كنا عند ابي موسى فقال: الا احدثكم حديثا كان رسول الله ﷺ يحدثناه؟ قلنا: بلى، قال: قال رسول الله ﷺ:"لا تقوم الساعة حتى يكثر الهرج"، فقلنا: يا رسول الله! وما الهرج؟ قال:"القتل، القتل"، قلنا: اكثر مما نقتل اليوم؟ قال:"ليس بقتلكم الكفار، ولكن يقتل الرجل جاره واخاه وابن عمه"، قال: فابلسنا حتى ما يبدي احد منا عن واضحة، قال: قلنا: ومعنا عقولنا يومئذ؟ قال:" (تنزع) (٢) عقول اكثر (اهل) (٣) ذلك الزمان، (ويخلف) (٤) هنات من الناس يحسب اكثرهم انهم على شيء، وليسوا على شيء، والذي نفسي بيده لقد خشيت ان يدركني وإياكم الامور، (ولئن) (٥) ادركتنا ما لي ولكم منها (مخرج) (٦) إلا ان ⦗٢٩٣⦘ (نخرج) (٧) منها كما (دخلناه) (٨) " (٩) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ، س، ع]: (المستمر)، وفي [هـ]: (المتشمس)، قال المزي في تهذيب الكمال ٣/ ٢٤٥: "روى له ابن ماجه ووقع عنده أسيد بن المنتشر وهو وهم)، وذكر أن صوابه: (المتشمس).
(٢) في [ب]: (فنزع).
(٣) سقط من: [ع].
(٤) في [جـ، ع]: (يحلف).
(٥) في [ب، ع]: (ولبن).
(٦) في [س]: (فخرج).
(٧) في [ب، س]: (يخرج).
(٨) في [جـ، ع]: (دخلنا)، وفي [أ، ب]: (دخلن).
(٩) صحيح؛ أسيد ثقة، أخرجه أحمد (١٩٦٣٦)، وابن ماجه (٣٩٥٩)، والبخاري في التاريخ ٢/ ١٢، وابن المبارك في مسنده (٢٦٠)، وأبو الشيخ في طبقات المحدثين باصبهان (١٧)، وأبو نعيم في تاريخ أصبهان ١/ ٢٢٦، وأبو يعلى (٧٢٤٧)، وأصله عند البخاري (٧٠٦٤)، ومسلم (٢٦٧٢).
حضرت اسید بن متشمس سے روایت ہے ارشاد فرمایا کہ ہم حضرت ابو موسیٰ کے پاس تھے انہوں نے ارشاد فرمایا کیا میں تمہارے سامنے ایسی حدیث نہ بیان کروں جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم سے بیان کرتے تھے ہم نے عرض کیا کیوں نہیں راوی نے بتلایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ ہرج کثرت سے ہوجائے گا ہم نے عرض کیا ہرج کیا ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا قتل قتل ہم نے عرض کیا اب بھی تو ہم قتل کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تم کفار کو قتل نہیں کرو گے بلکہ کوئی شخص اپنے پڑوسی کو قتل کرے گا اور اپنے بھائی کو اور اپنے چچا کے بیٹے کو راوی کہتے ہیں ہمارے لیے یہ بات پیچیدہ ہوگئی یہاں تک کہ عرض کیا کیا اس دن ہمیں عقل و شعور ہوگا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس زمانے کے اکثر لوگوں کی عقلیں اڑا دی جائیں گی اور ان کے بعد کم عقل لوگ ان کے نائب بن جائیں گے جن میں سے اکثر یہ گمان کریں گے کہ وہ کسی امر (دینی) پر ہیں حالانکہ وہ کسی شے پر نہیں ہوں گے قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے مجھے خوف ہے کہ مجھے اور تمہیں چند امور آن لینگے اور اگر ان امور نے ہمیں پا لیا تو میرے اور تمہارے لیے ان سے نکلنے کا راستہ نہیں ہوگا مگر ایسا ہی کہ جے سل ہم داخل ہوئے تھے (مطلب یہ ہے کہ ہم ان فتنوں میں محفوظ نہ رہیں گے ایسے ہی ہے جیسا کہ ہم اس دن محفوظ تھے کہ جس دن ہم اسلام میں داخل ہوئے تھے)۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40167]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40167، ترقيم محمد عوامة 38539)
ترقیم عوامۃ: 38540 ترقیم الشثری: -- 40168
٤٠١٦٨ - حدثنا غندر عن شعبة عن منصور عن ربعي عن ابي بكرة عن النبي ﷺ (١) انه قال:"إذا المسلمان (حمل) (٢) احدهما على اخيه بالسلاح فهما على حرف جهنم، فإذا قتل احدهما صاحبه (دخلاها) (٣) جميعا" (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ].
(٢) في [س]: (حل).
(٣) في [س]: (وخلاها).
(٤) صحيح؛ أخرجه مسلم (٢٨٨٨)، وأحمد (٢٠٤٢٤)، وبنحوه البخاري (٣١).
حضرت ابو بکرہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا کہ جب دو مسلمانوں میں سے ایک اپنے بھائی کے خلاف اسلحہ اٹھائے تو وہ دونوں جہنم کے کنارے پر ہوتے ہیں اور جب ان دونوں میں ایک دوسرے کو قتل کردے تو وہ دونوں جہنم میں داخل ہوں گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40168]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40168، ترقيم محمد عوامة 38540)
ترقیم عوامۃ: 38541 ترقیم الشثری: -- 40169
٤٠١٦٩ - حدثنا يزيد بن هارون قال: اخبرنا ابن عون عن محمد عن ابي هريرة عن النبي ﷺ قال:"الملائكة (تلعن) (١) احدكم إذا اشار بحديدة، وإن كان (اخاه لابيه) (٢) وامه" (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، س].
(٢) في [س]: (لأخيه وأمه).
(٣) صحيح؛ أخرجه مسلم (٢٦١٦)، وأحمد (٧٤٧٦).
حضرت ابوہریرہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی ایک دوسرے کی طرف لوہے سے اشارہ کرتا ہے فرشتے تم میں سے اس پر لعنت کرتے ہیں اس شخص پر جو لوہے سے اشارہ کرے اگرچہ وہ شخص جس کی طرف اس نے اشارہ کیا وہ اس کا حقیقی بھائی ہی کیوں نہ ہو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40169]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40169، ترقيم محمد عوامة 38541)
ترقیم عوامۃ: 38542 ترقیم الشثری: -- 40170
٤٠١٧٠ - حدثنا وكيع عن عبيد بن طفيل (ابي سيدان) (١) عن ربعي بن حراش قال: قال حذيفة: لتركبن سنة بني إسرائيل حذو النعل بالنعل، والقذة ⦗٢٩٤⦘ بالقذة، غير إني لا ادري (تعبدون) (٢) العجل ام لا (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [س]، وفي [أ، ب]: (أبي شذان)، وفي [هـ]: (عن شاذان).
(٢) في [أ]: (تعبدوا).
(٣) حسن؛ عبيد صدوق.
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ارشاد فرمایا یقینا تم بنی اسرائیل کے طریقے پر چلو گے جیسا کہ جوتا جوتے کے برابر ہوتا ہے اور تیر کا پر دوسرے تیر کے برابر ہوتا ہے مگر میں یہ نہیں جانتا کہ تم بچھڑے کی عبادت کرو گے یا نہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40170]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40170، ترقيم محمد عوامة 38542)
ترقیم عوامۃ: 38543 ترقیم الشثری: -- 40171
٤٠١٧١ - حدثنا عفان قال: حدثنا ابو عوانة قال: حدثنا إبراهيم بن محمد بن المنتشر عن ابيه عن حذيفة قال: إذا (فشت) (١) بقعان اهل الشام (٢) ، فمن استطاع منكم ان يموت فليمت (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (سب).
(٢) أي: انتشر أهل البياض من أهل الشام، مقاييس اللغة ١/ ٢٨١.
(٣) منقطع؛ محمد بن المنتشر لم يسمع من حذيفة.
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ارشاد فرمایا کہ جب شام کے جوان (غلام) کثرت سے ہوجائیں تو جو تم میں سے مرسکتا ہے مرجائے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40171]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40171، ترقيم محمد عوامة 38543)