🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1. من كره الخروج في الفتنة وتعوذ منها
جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انہوں نے س سے پناہ مانگی ہے
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38554 ترقیم الشثری: -- 40182
٤٠١٨٢ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن منصور عن شقيق عن حذيفة قال: ليوشكن ان يصب عليكم الشر من السماء حتى يبلغ الفيافي، قال: قيل: وما الفيافي، يا ابا عبد الله؟ قال: الارض القفر (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح.
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ارشاد فرمایا کہ قریب ہے کہ آسمان سے برائی تم پر اتار دی جائے یہاں تک کہ وہ فیافی تک پہنچ جائے ان سے عرض کیا گیا اے ابو عبداللہ یہ فیافی کیا ہے؟ انہوں نے کہا۔ ویران زمین۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40182]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40182، ترقيم محمد عوامة 38554)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38555 ترقیم الشثری: -- 40183
٤٠١٨٣ - حدثنا علي بن مسهر عن الوليد بن جميع عن ابي الطفيل قال: جاء رجل من محارب يقال له: (عمرو بن) (١) (صليع) (٢) إلى حذيفة فقال له: يا ابا عبد الله حدثنا ما رايت وشهدت؟ فقال حذيفة: (يا عمرو بن (صليع) ) (٣) (٤) ارايت محارب (امن) (٥) مضر؟ قال: نعم، قال: فإن مضر لا تزال تقتل كل مؤمن وتفتنه او ⦗٢٩٨⦘ يضربهم الله والملائكة والمؤمنون حتى لا يمنعوا بطن تلعة، ارايت محارب (امن) (٦) قيس (عيلان) (٧) ؟ قال: نعم، فإذا رايت (عيلان) (٨) قد (نزلت) (٩) بالشام فخذ حذرك (١٠) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [س].
(٢) في [ط، هـ]: (ضليع).
(٣) في [ط، هـ]: (ضليع).
(٤) سقط من: [جـ].
(٥) في [أ، ب]: (من)، وفي [هـ]: (أم).
(٦) في [أ، ب]: (من)، وفي [هـ]: (أم).
(٧) في [ب، جـ، س]: (غيلان).
(٨) في [ب، جـ، س]: (غيلان).
(٩) في [ع]: (توالت).
(١٠) حسن؛ الوليد بن جميع صدوق، أخرجه الحاكم ٤/ ٤٦٩، والبزار (٢٧٩٨)، والطيالسي (٤٢٠)، وعبد الرزاق (١٩٨٨٩)، وأحمد (٢٣٣٦٤)، والبخاري في التاريخ ٦/ ٣٤٤، وابن عساكر ٢٦/ ٨٥، ونعيم في الفتن (١١٦٩)، وانظر: ما بعده.

ابو الطفیل سے روایت ہے کہ قبیلہ بنو محارب میں سے ایک صاحب جن کو عمرو بن صلیع کہا جاتا تھا حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے انہوں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے عرض کیا اے ابو عبداللہ ہم سے وہ بیان کیجیے جو آپ نے دیکھا اور مشاہدہ کیا حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے عمرو بن صلیع محارب کے بارے میں مجھے بتلاؤ کیا وہ مضر میں سے ہے اس نے کہا جی ہاں تو حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا بلاشبہ مضر مسلسل ہر مومن کو قتل کریں گے اور مسلمانوں کو فتنے میں ڈالیں گے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس کے فرشتے اور مومنین ان کو ماریں گے یہاں تک کہ وہ ہر جگہ کثرت سے ہونے کے باوجود اپنا دفاع نہیں کرسکیں گے محارب کے بارے میں بتلاؤ کیا وہ قیس عیلان سے ہیں انہوں نے کہا جی ہاں ارشاد فرمایا جب تم قبیلہ عیلان کو دیکھو جب وہ شام میں آگئے ہیں تو اپنا بچاؤ کرنا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40183]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40183، ترقيم محمد عوامة 38555)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38556 ترقیم الشثری: -- 40184
٤٠١٨٤ - حدثنا يزيد بن هارون عن العوام قال: حدثني منصور بن المعتمر عن ربعي عن حذيفة قال: ادنوا يا معشر مضر، فوالله لا تزالون بكل مؤمن تفتنونه وتقتلونه، حتى يضربكم الله وملائكته والمؤمنون، حتى لا تمنعوا بطن تلعة، قالوا: فلم (تديننا) (١) ونحن كذلك؟ قال: إن منكم سيد ولد آدم، وإن منكم سوابق كسوابق الخيل (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (فدننا).
(٢) صحيح؛ أخرجه أحمد (٥٣٣١٦)، والبخاري في التاريخ ٦/ ٣٢٤، والحاكم ٤/ ٤٦٩، والطحاوي في شرح المشكل (٩٩١)، والطيالسي (٤٢٠)، والبزار (٢٧٩٧)، والطبراني في الأوسط (٦٥٧٩).

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا اے مضر کی جماعت قریب ہوجاؤ اللہ کی قسم تم ہر مومن کو قتل کرو گے اور ان کو فتنے میں ڈالو گے یہاں تک کہ اللہ اور اس کے فرشتے اور مومنین تمہیں ماریں گے یہاں تک کہ تم ہر جگہ کثرت سے رہنے کے باوجود اپنا دفاع نہیں کرسکو گے ان کے اصحاب نے عرض کیا جب ہم اس حالت پر ہوں گے تو کیوں ہم ایسا کریں گے؟ آپ نے فرمایا! یقینا تم میں سے ایک سردار ہوگا اور تم میں کچھ آگے نکلنے والے ہوں گے گھوڑوں میں سے آگے نکلنے والوں کی طرح۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40184]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40184، ترقيم محمد عوامة 38556)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38557 ترقیم الشثری: -- 40185
٤٠١٨٥ - حدثنا عبد الله بن نمير قال: حدثنا الاعمش عن (عبد الرحمن) (١) بن ثروان عن عمرو بن حنظلة قال: قال حذيفة: لا تدع مضر (عبدا لله) (٢) مؤمنا إلا ⦗٢٩٩⦘ فتنوه او قتلوه او يضربهم الله والملائكة والمؤمنون حتى لا (تمنعوا) (٣) ذنب تلعة، فقال له رجل: يا ابا عبد الله تقول هذا وانت رجل من مضر؟ قال: (الا) (٤) اقول ما قال رسول الله ﷺ (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (عبد اللَّه).
(٢) في [هـ]: (عبد اللَّه).
(٣) في [ب، س]: (يمنعوا).
(٤) في [ع]: (لا).
(٥) مجهول؛ لجهالة عمرو بن حنظلة، أخرجه أحمد (٢٣٣٤٩)، والحاكم ٤/ ٤٧٠، والطحاوي في شرح المشكل (٩٨٩)، والطبراني في الأوسط (٦٥٨٩)، رواه البخاري في التاريخ ٦/ ٣٢٤ من طريق ابن نمير والطحاوي في شرح المشكل (٩٩١) من طريق جرير بن حازم، كلاهما عن الأعمش عن ابن ثروان عن هزيل بن شرحبيل عن حذيفة.

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے ارشاد فرمایا مضر کسی اللہ تعالیٰ کے مومن بندے کو نہیں چھوڑیں گے مگر اسے یا تو فتنے میں ڈال دیں گے یا اس کو قتل کردیں گے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اور فرشتے اور مومنین ان کو ماریں گے یہاں تک کہ وہ اپنا دفاع نہ کرسکیں گے ایک صاحب نے ان سے عرض کیا اے ابو عبداللہ آپ یہ بات کر رہے ہیں حالانکہ آپ بھی مضر قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں انہوں نے فرمایا میں وہ کہہ رہا ہوں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40185]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40185، ترقيم محمد عوامة 38557)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38558 ترقیم الشثری: -- 40186
٤٠١٨٦ - حدثنا ابو اسامة قال: حدثنا سفيان قال: حدثنا إبراهيم بن محمد ابن المنتشر عن ابيه قال: قال حذيفة: (إن) (١) اهل البصرة لا يفتحون باب هدى ولا يتركون باب ضلالة، وإن الطوفان قد رفع من الارض كلها إلا (عن) (٢) البصرة (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ع].
(٢) سقط من: [س].
(٣) منقطع؛ محمد بن المنتشر لم يسمع من حذيفة.

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے ارشاد فرمایا بلاشبہ بصرہ کے رہنے والے کوئی ہدایت کا دروازہ کھولیں گے نہیں اور کوئی گمراہی کا دروازہ چھوڑیں گے نہیں اور طوفان ساری زمین سے اٹھا دیا گیا ہے سوائے بصرہ کے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40186]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40186، ترقيم محمد عوامة 38558)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38559 ترقیم الشثری: -- 40187
٤٠١٨٧ - حدثنا يزيد بن هارون قال: اخبرنا عيينة بن عبد الرحمن عن ابيه عن اخيه (ربيعة) (١) بن جوشن قال: قدمت الشام فدخلت على عبد الله بن عمرو فقال: ممن انتم؟ قلنا: من اهل البصرة، قال: (امالا) (٢) فاستعدوا يا اهل البصرة، قلنا: بماذا؟ قال: (بالزاد) (٣) والقرب، خير المال اليوم اجمال يحتمل الرجل عليهن ⦗٣٠٠⦘ اهله ويميرهم عليها، وفرس (وقاح) (٤) شديد، فوالله ليوشك بنو (قنطوراء) (٥) ان يخرجوكم منها حتى يجعلوكم (بركبة) (٦) ، قال: قلنا: وما بنو (قنطوراء؟) (٧) قال: اما في الكتاب فهكذا نجده، واما في النعت فنعت الترك (٨) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: احتمال (رمعة).
(٢) في [ع]: (أما ألا).
(٣) في [جـ]: (بالمزاد).
(٤) في [ع]: (ماح).
(٥) في [أ، ب، جـ، س، ع]: (قنطور).
(٦) في [أ، ب، ط، هـ]: (بدكية)، وفي [جـ، ع]: غير منفوطة، وركبة من نجد تلي الطائف منطقة فسيحة.
(٧) في [أ، ب، جـ، س، ع]: (قنطور).
(٨) مجهول؛ لجهالة ربيعة بن جوشن، وبنحوه أخرجه الحاكم ٤/ ٥٢٢.

حضرت ربیعہ بن جو شن سے روایت ہے انہوں نے فرمایا میں شام کے علاقے میں گیا اور حضرت عبداللہ بن عمرو کی مجلس میں حاضر ہوا۔ انہوں نے پوچھا کہ تم کن میں سے ہو؟ ہم نے عرض کیا اہل بصرہ میں سے انہوں نے فرمایا اے اہل بصرہ لڑائی کی تیاری کرو ہم نے عرض کیا کہ کس چیز کے ساتھ؟ انہوں نے فرمایا توشہ دان اور مشکیزوں کے ساتھ آج بہترین مال وہ اونٹ ہیں جن پر آدمی اپنے گھر والوں کو سوار کرتا ہے اور جن پر غلہ لے کرجاتا ہے اور بہتر ین مال وہ مضبوط کھروں والا گھوڑا ہے (یہ آج کل بہترین مال ہے) اللہ کی قسم عنقریب بنو قنطورا تمہیں بصرہ سے نکال دیں گے یہاں تک کہ تمہیں ایک جماعت بنادیں گے راوی کہتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا کہ بنو قنطورا کون ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ کتاب کے اندر تو میں اسی طرح پاتا ہوں باقی یہ صفت تر کیوں کی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40187]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40187، ترقيم محمد عوامة 38559)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38560 ترقیم الشثری: -- 40188
٤٠١٨٨ - حدثنا وكيع عن إسماعيل بن ابي خالد عن سعيد بن (١) عمرو عن ابي هريرة قال: كيف انتم إذا لم يجب لكم دينار ولا درهم ولا قفيز؟ (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، هـ]: زيادة (أبي).
(٢) صحيح؛ أخرجه البخاري (٣٠٠٩)، وأ حمد (٨٣٦٨)، وأبو يعلى (٦٦٣١).

حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے تمہاری کیا حالت ہوگی اس وقت جب کوئی دینار اور کوئی درہم اور کوئی قفیز تمہیں نہیں دیا جائے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40188]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40188، ترقيم محمد عوامة 38560)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38561 ترقیم الشثری: -- 40189
٤٠١٨٩ - حدثنا وكيع عن عمران عن ابي مجلز قال: اراد عمر ان لا يدع مصرا من الامصار إلا اتاه، فقال له كعب: لا تات العراق فإن فيه تسعة اعشار الشر (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) منقطع؛ أبو مجلز لم يدرك عمر.
حضرت ابو مجلز سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ حضرت عمر نے تمام شہروں کا دورہ کرنے کا ارادہ کیا حضرت کعب نے ان سے عرض کیا کہ آپ عراق نہ جانا کیونکہ وہاں دس حصوں میں سے نو حصے شر ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40189]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40189، ترقيم محمد عوامة 38561)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38562 ترقیم الشثری: -- 40190
٤٠١٩٠ - حدثنا ابو اسامة عن عوف عن قسامة بن زهير قال: سمعت ابا موسى يقول: إن لهذه -يعني البصرة- اربعة اسماء: البصرة والخريبة وتدمر والمؤتفكة (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح.
حضر ت قسامہ بن زبیر سے روایت ہے میں نے حضر ت ابو موسیٰ سے یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اس بصرہ کے چار نام ہیں (بصرہ، خریبہ، تدمر، مؤتفکہ) [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40190]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40190، ترقيم محمد عوامة 38562)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38563 ترقیم الشثری: -- 40191
٤٠١٩١ - حدثنا ابن علية عن هشام عن ابن سيرين قال: رايت كثير بن افلح ⦗٣٠١⦘ في المنام فقلت له: يا (ابن) (١) افلح كيف انتم؟ قال: بخير، قال: قلت: انتم الشهداء؟ قال: لا، إن قتلى المسلمين ليسوا بشهداء ولكنا الندباء.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب، جـ، س، ع].
حضرت محمد بن سیرین سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ میں نے کثیر بن افلح (یہ حرہ کے دن شہید کیے گئے) کو خواب میں دیکھا میں نے ان سے کہا اے ابن افلح تم کیسے ہو انہوں نے فرمایا بھلائی میں ہوں میں نے پوچھا کیا تم شہداء میں ہو انہوں نے فرمایا کہ نہیں مسلمانوں کے مقتول شہداء نہیں ہیں لیکن ہم زیرک و ہوشیار ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40191]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40191، ترقيم محمد عوامة 38563)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں