🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1. من كره الخروج في الفتنة وتعوذ منها
جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انہوں نے س سے پناہ مانگی ہے
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38583 ترقیم الشثری: -- 40212
٤٠٢١٢ - حدثنا معاوية (قال) (١) : حدثنا شريك عن عثمان (عن) (٢) زاذان عن حذيفة قال: كيف انتم إذا اتاكم زمان يخرج احدكم من حجلته إلى (حشه) (٣) (فيرجع) (٤) وقد مسخ قردا فيطلب مجلسه فلا يجده (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [جـ، س].
(٢) في [جـ]: (ابن).
(٣) في [س]: (حشره)، وفي [ب]: (حبشه).
(٤) في [جـ]: (فترجع).
(٥) ضعيف؛ عثمان هو ابن عمير أبو اليقظان ضعيف، وأخرجه الداني (٣٤٩).

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا تمہاری کیا حالت ہوگی جب تم پر ایسا زمانہ آئے گا کہ تم میں سے کوئی اپنے کمرے سے نکل کر اپنے بیت الخلاء جائے گا وہ لوٹے گا اس حال میں کہ اس کا چہرہ مسخ کر کے اسے بندر بنادیا گیا ہوگا وہ اپنی بیٹھنے کی جگہ تلاش کرے گا لیکن اسے نہیں پا سکے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40212]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40212، ترقيم محمد عوامة 38583)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38584 ترقیم الشثری: -- 40213
٤٠٢١٣ - حدثنا (يعمر) (١) بن بشر قال: حدثنا ابن مبارك قال: اخبرنا معمر عن إسحاق بن راشد عن عمرو بن وابصة الاسدي عن ابيه قال: إني بالكوفة في داري إذ سمعت على باب الدار: السلام عليكم (ا) (٢) الج؟ فقلت: وعليكم السلام، فلج، فإذا هو عبد الله بن مسعود فقلت: يا (ابا) (٣) عبد الرحمن! آية ساعة (زيارة؟) (٤) وذلك في نحر الظهيرة، قال: طال علي النهار فتذكرت من اتحدث إليه، فجعل يحدثني ⦗٣٠٨⦘ عن رسول الله ﷺ واحدثه، فقال عبد الله: سمعت رسول الله ﷺ يقول:"تكون فتنة: النائم فيها خير من المضطجع، والمضطجع خير من القاعد، والقاعد خير (من القائم، والقائم خير) (٥) من الماشي، والماشي خير من الساعي، قتلاها كلها في النار"، قال: قلت: (ومتى) (٦) ذاك يا رسول الله؟ قال."ذاك ايام الهرج"، قلت: ومتى ايام الهرج؟ قال:"حين لا (يامن) (٧) الرجل جليسه"، (قال) (٨) : قلت: فبم تامرني (إن) (٩) ادركت ذلك؟ قال:" (ادخل) (١٠) بيتك"، قلت: افرايت إن دخل علي؟ قال:" (فوال) (١١) مخدعك"، قال: قلت: افرايت إن دخل علي؟ قال:"قل هكذا، وقل (بؤ) (١٢) بإثمي وإثمك، وكلن عبد الله المقتول" (١٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، هـ]: (معتمر).
(٢) سقط من: [أ، ب، جـ، س، ع].
(٣) سقط من: [ع].
(٤) في [س]: (زباءة).
(٥) سقط من: [جـ].
(٦) في [أ، ب، ع]: (وما نا).
(٧) في [ط، هـ]: (نأمن).
(٨) سقط من: [جـ].
(٩) في [أ، ب]: (إذا).
(١٠) في [أ، ب]: (دخلت).
(١١) سقط من [أ، ب]، وفي [ع]: (فوالي)، وفي [هـ]: (فأدخل).
(١٢) في [هـ]: (أبؤ).
(١٣) مجهول؛ لجهالة عمرو بن وابصة، والخبر أخرجه أحمد (٤٢٨٦)، وأبو داود (٤٢٥٨)، والحاكم ٣/ ٣٢، وعبد الرزاق (٢٠٧٢٧)، والطبراني (٩٧٧٤)، وابن المبارك في المسند (٢٦٢)، والبزار (١٤٤٤)، والمزي ٢٣/ ٤٠٧، وابن عساكر ٦٢/ ٣٣٦، والخطابي في العزلة ص ١١، والحربي في غريب الحديث ١/ ١٣٢.

حضرت وابصہ اسدی سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ میں کوفہ میں اپنے گھر میں تھا اچانک میں نے اپنے دروازے پر یہ بات سنی السلام علیکم کیا میں داخل ہوجاؤ میں نے کہا وعلیکم السلام داخل ہوجاؤ پس وہ عبداللہ بن مسعود تھے میں نے عرض کیا اے ابو عبدالرحمان! یہ ملاقات کا کونسا وقت ہے یہ عین دوپہر کی بات تھی انہوں نے فرمایا دن مجھ پر لمبا ہوگیا تھا میں نے سوچا کہ کسی سے بات چیت کروں پھر مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی احادیث سنانے لگے اور میں بھی ان کو احادیث سنانے لگا حضرت عبداللہ بن مسعود نے فرمایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے کہ ایک فتنہ ہوگا اس میں سونے والا اس میں پہلو کے بل لیٹنے والے سے بہتر ہوگا اور اس میں لیٹنے والا بھنے ا والے سے بہتر ہوگا بیٹھنے والا کھڑے ہونے والے سے بہتر ہوگا اور کھڑا ہونے والا چلنے والے سے بہتر ہوگا اور چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہوگا اس فتنے میں مارے جانے والے سارے جہنم میں جائیں گے راوی حضرت عبداللہ نے فرمایا میں نے عرض کیا یہ کب ہوگا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ نے ارشاد فرمایا یہ ہرج کے ایام میں ہوگا میں نے عرض کیا یہ ایام ہرج کب ہوں گے انہوں نے فرمایا جب کسی آدمی کو اپنے ہمنشین سے امن نہیں ہوگا حضرت عبداللہ نے فرمایا میں نے عرض کیا اگر میں یہ زمانہ پالوں تو آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اپنے گھر میں داخل ہوجانا میں نے عرض کیا اگر کوئی میرے گھر میں داخل ہوجائے تو آپ کی کیا رائے ہے ارشاد فرمایا کہ پھر تو اپنی کوٹھڑی میں گھس جا میں نے کہا اگر وہ وہاں بھی داخل ہوجائے تو آپ کا کیا خیال ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اس طرح کرنا (یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اشارہ کیا تھا جس کی تفصیل مسند احمد کی روایت سے ہوتی ہے کہ راوی نے دائیں ہاتھ سے کلائی کی ہڈی کو پکڑ کر اشارے کی تفصیل کی) اور کہنا میرے گناہ اور اپنے گناہ کے ساتھ لوٹ اور اللہ کا مقتول بندہ بن جانا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40213]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40213، ترقيم محمد عوامة 38584)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38585 ترقیم الشثری: -- 40214
٤٠٢١٤ - حدثنا احمد بن عبد الله عن عبد الحميد بن بهرام قال: (حدثنا) (١) شهر بن حوشب قال: حدثني جندب بن سفيان (٢) رجل من ⦗٣٠٩⦘ (بجيلة) (٣) قال: قال رسول الله ﷺ:"ستكون بعدي فتن كقطع الليل المظلم، تصدم الرجل كصدم (جباه) (٤) فحول الثيران، يصبح الرجل فيها مسلما ويمسي كافرا، ويمسي (مسلما) (٥) ، ويصبح (كافرا) (٦) "، فقال رجل من المسلمين: يا رسول الله! فكيف نصنع عند ذلك؟ قال:"ادخلوا بيوتكم واخملوا ذكركم"، قال رجل من المسلمين: (٧) (افرايت) (٨) إن دخل على احدنا بيته؟ قال رسول الله ﷺ:"فليمسك بيديه وليكن عبد الله المقتول، (ولا يكن عبد الله القاتل) (٩) ، فإن الرجل يكون في قبة الإسلام فياكل مال اخيه ويسفك دمه ويعصي ربه ويكفر بخالقه فتجب له جهنم" (١٠) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب، س]: (حدثني).
(٢) في [أ، ب، جـ، ز، س، ط، ع، هـ]: زيادة (عن)، وانظر: المطالب العالية (٤٣٤١)، ومجمع الزوائد ٧/ ٣٠٣.
(٣) في [هـ]: (بجليلة).
(٤) في [أ، ب، جـ]: (حياة).
(٥) في [ع]: (كافرًا).
(٦) في [ع]: (مؤمنًا مؤمنًا ويصبح كافرًا).
(٧) في [جـ]: زيادة (قال).
(٨) سقط من: [س].
(٩) سقط من: [أ، ب].
(١٠) حسن؛ شهر صدوق مدلس، وصرح بالتحديث، أخرجه أبو يعلى (١٥٢٣)، والروياني (٩٧١)، والطبراني (١٧٢٣)، وابن الأثير في أسد الغابة ١/ ٤٤٥.

حضرت جندب بن سفیان سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا عنقریب میرے بعد فتنے ہوں گے اندھیری رات کے ٹکڑوں کی طرح لوگ انہیں ایسے ٹکرائیں گے جیسے نر بیلوں کی جماعتیں ٹکراتی ہیں ان میں انسان مسلمان ہونے کی حالت میں صبح کرے گا اور شام کو کافر ہوگا اور شام کو مسلمان ہوگا اور صبح کو کافر ہوجائے گا مسلمانوں میں سے ایک صاحب نے عرض کیا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم اس وقت کیا کریں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اپنے گھروں میں داخل ہوجانا اور اپنے آپ کو گمنام کرلینا مسلمانوں میں ایک صاحب نے عرض کیا آپ کا کیا خیال ہے اگر ہم میں سے کسی ایک کے گھر میں کوئی داخل ہوجائے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا وہ اپنا ہاتھ روکے اور اللہ کا مقتول بندہ بن جائے اور اللہ کا قاتل بندہ نہ بنے بلاشبہ انسان کا دین قوی ہوتا ہے پس وہ اپنے بھائی کا مال کھاتا ہے اور اس کا خون بہاتا ہے اور اپنے رب کی نافرمانی کرتا ہے اور اپنے خالق کا انکار کرتا ہے تو اس کے لیے جہنم واجب ہوجاتی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40214]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40214، ترقيم محمد عوامة 38585)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38586 ترقیم الشثری: -- 40215
٤٠٢١٥ - حدثنا عبد (الرحمن) (١) بن محمد المحاربي عن ليث عن (عون) (٢) (ابن) (٣) ابي جحيفة عن عبد الرحمن عن ابن عمر قال: قال رسول الله ﷺ:"ايعجز احدكم إذا اتاه الرجل يقتله -يعني من اهل كذا- ان يقول هكذا -وقال بإحدى يديه على الاخرى- فيكون كالخير من ابني آدم، وإذا هو في ⦗٣١٠⦘ الجنة وإذا قاتله في النار" (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (اللَّه).
(٢) في [ب]: (عوف).
(٣) سقط من: [جـ].
(٤) مجهول؛ لجهالة عبد الرحمن بن سميرة، أخرجه أبو داود (٤٢٦٠)، وأحمد (٥٧٠٨)، والبخاري في التاريخ ٥/ ٢٩١، والطبراني في الأوسط (٢٠١٥)، والمزي ١٧/ ١٦١، وابن عساكر ٧/ ٦٤، والخطيب في تالي التلخيص (٣٤٠).

حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کیا تم میں سے کوئی ایک عاجز ہے اس بات سے کہ جب اس کے پاس کوئی آدمی اس کو قتل کرنے کے لیے آئے مراد ان کی یہ تھی کہ فلاں لوگوں میں سے کوئی کہے کہ وہ یوں کرے اور اشارہ کیا اپنے ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ کی طرف پس وہ ہوجائے گا اولاد آدم میں سے بہترین لوگوں کی طرح اور وہ آدمی جنت میں ہوگا اور اس کا قاتل جہنم میں ہوگا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40215]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40215، ترقيم محمد عوامة 38586)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38587 ترقیم الشثری: -- 40216
٤٠٢١٦ - حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن شقيق عن شريح قال: ما اخبرت ولا استخبرت (مذ) (١) كانت الفتنة، قال له مسروق: لو كنت مثلك لسرني ان اكون قد مت، (قال) (٢) شريح: فكيف باكثر من ذلك: ما في الصدور؟ و (تلتقي) (٣) الفئتان و (إحداهما) (٤) احب إلي من الآخرى.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ك]، في [س]: (لقد).
(٢) في [أ، ب]: (قال له).
(٣) في [أ]: (يلتقي)
(٤) في [س]: (وأحدهما).

حضرت شریح سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ جب سے فتنہ شروع ہوا نہ میں نے اس کی خبر دی اور نہ مجھ سے اس کے بارے میں خبر طلب کی گئی ان سے مسروق نے کہا: اگر میں آپ کی طرح ہوتا تو مجھے یہ بات پسند ہوتی کہ میں مرجاؤں شریح نے اس سے کہا کیا ہوگی اس وقت حالت جب کہ زیادہ ہوجائے وہ فتنہ اس سے بھی زیادہ دو گروہوں کی لڑائی ہوگی اور ان دونوں میں ایک مجھے دوسرے سے زیاد ہ محبوب ہوگا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40216]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40216، ترقيم محمد عوامة 38587)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38588 ترقیم الشثری: -- 40217
٤٠٢١٧ - حدثنا ابو اسامة عن عوف عن ابي المنهال قال: حدثني صفوان بن محرز (١) قال: ليتق احدكم، لا يحولن بينه وبين الجنة (ملء) (٢) كف من دم مسلم.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: زيادة (عن جندب بن عبد اللَّه البجلي).
(٢) في [هـ]: (ملأ).

حضرت صفوان بن محرز سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ تم میں سے ہر ایک اس بات سے بچے کہ اس کے اور جنت کے درمیان ایک ہتھیلی کے بھراؤ کے برابر مسلمان کا خون حائل نہ ہو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40217]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40217، ترقيم محمد عوامة 38588)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38589 ترقیم الشثری: -- 40218
٤٠٢١٨ - حدثنا ابو اسامة عن عوف عن ابي المنهال عن ابي العالية قال: كنا نتحدث انه سياتي على الناس زمان: خير اهله الذي يرى الخير فيجانبه قريبا.
حضرت ابو العالیہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ ہم آپس میں گفتگو کرتے تھے کہ عنقریب لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا اپنے اہل میں سب سے بہترین آدمی وہ ہوگا جو خیر اور بھلائی کو دیکھے گا پس وہ اس پر چلنا شروع ہوجائے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40218]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40218، ترقيم محمد عوامة 38589)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38590 ترقیم الشثری: -- 40219
٤٠٢١٩ - حدثنا إسحاق بن منصور قال: حدثنا اسباط بن نصر عن السدي عن ابيه عن ابي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"لا يفتك مؤمن، الإيمان ⦗٣١١⦘ (قيد) (١) الفتك" (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (قد).
(٢) مجهول؛ لجهالة والد إسماعيل السدي: وهو عبد الرحمن بن أبي كريمة، أخرجه أبو داود (٢٧٦٩)، والحاكم ٤/ ٣٥٣، والبخاري في التاريخ ١/ ٤٠٣، وابن أبي عاصم في الديات ص ٢٢، والمزي ١٧/ ٣٦٨، والخطيب ١٠/ ٣٨٧، وابن عساكر ٣٧/ ٣٩٩.

حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مومن کو دھوکے سے قتل نہیں کیا جائے گا ایمان نے دھوکے سے قتل کرنے کو روک دیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40219]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40219، ترقيم محمد عوامة 38590)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38591 ترقیم الشثری: -- 40220
٤٠٢٢٠ - حدثنا ابو اسامة عن عوف عن الحسن قال: جاء رجل إلى الزبير ايام الجمل فقال: اقتل لك عليا؟ قال: وكيف؟ قال: آتيه فاخبره اني معه ثم افتك به، فقال الزبير: لا، سمعت رسول الله ﷺ يقول:"الإيمان قيد الفتك لا (يفتك) (١) مؤمن" (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب، جـ]: (نفتك).
(٢) منقطع؛ الحسن لم يسمع من بدري مشافهة، أخرجه أحمد (١٤٢٦)، وعبد الرزاق (٩٦٧٦)، والبغوي في الجعديات (٣١٨٤)، وابن عساكر ١٨/ ٤٠٦، وابن أبي عمر في الإيمان (٨١)، وسيأتي ١٥/ ٢٧٩.

حضرت حسن بصری سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ جنگ جمل کے دنوں میں ایک آدمی حضرت زبیر کے پاس آیا اور کہنے لگا کیا میں آپ کے لیے علی رضی اللہ عنہ کو قتل کردوں انہوں نے کہا کیسے اس نے کہا میں اس کے پاس جاؤں گا اور اسے بتلاؤں گا کہ میں اس کے ساتھ ہوں پھر دھوکے سے موقع پا کر قتل کردوں گا حضرت زبیر نے فرمایا نہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ ایمان دھوکے سے قتل کرنے کو روکتا ہے مومن کو دھوکے سے قتل نہیں کیا جائے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40220]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40220، ترقيم محمد عوامة 38591)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38592 ترقیم الشثری: -- 40221
٤٠٢٢١ - حدثنا محمد بن فضيل عن عطاء عن ابي البختري عن حذيفة قال: إن اصحابي تعلموا الخير واني تعلمت الشر، قالوا: وما حملك على ذلك؟ قال: إنه من (يعلم) (١) مكان الشر يتقه (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (تعلم).
(٢) ضعيف منقطع؛ عطاء اختلط وأبو البختري لم يسمع من حذيفة، أخرجه أبو خيثمة في كتاب العلم (٧٤)، والأنصاري في ذم الكلام (٦٢٣).

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا میرے ساتھیوں نے بھلائی کو سیکھا اور میں نے برائی کو سیکھا لوگوں نے عرض کیا آپ کو اس بات پر کس چیز نے ابھارا انہوں نے فرمایا بلاشبہ جو آدمی برائی کے مکان کو جانتا ہو وہ اس سے بچ جائے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40221]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40221، ترقيم محمد عوامة 38592)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں