🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

3. ما ذكر في عثمان ﵁
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے تذکرہ کے بیان میں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38892 ترقیم الشثری: -- 40538
٤٠٥٣٨ - حدثنا يزيد بن هارون قال: (اخبرنا) (١) ابو عبيدة عن الحسن قال: إنما (جعل) (٢) الله هذا السلطان ناصرا لعباد الله (ولدينه) (٣) ، فكيف من ركب ظلما على عباد الله واتخذ عباد الله خولا؟ يحكمون في دمائهم واموالهم ما شاءوا، والله ⦗٤٦٠⦘ إن يمتنع احد، والله ما لقيت امة بعد نبيها من الفتن والذل ما لقيت هذه بعد (نبيها) (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ع]: (أنبأنا).
(٢) في [هـ]: (حبل).
(٣) في [ط، هـ]: (ودينه).
(٤) في [جـ]: (نبيها ﷺ)، وفي [س]: (نبيهما).

حسن سے منقول ہے کہ اللہ بادشاہ کو صرف اللہ کے بندوں کی مدد اور اپنے دین کے لیے سلطان بناتا ہے اس کا کیا حال ہوگا جو اللہ کے بندوں پر ظلم کرے اور ان کو اپنا غلام بنالے اور پھر وہ بادشاہ لوگوں کی جانوں اور مالوں کا جس طرح چاہے فیصلہ کرے اللہ کی قسم کوئی منع بھی نہ کرے اللہ کی قسم امت جس فتنے اور ذلت سے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد دوچار ہوئی ہے میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد ایسا فتنہ کبھی نہیں دیکھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40538]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40538، ترقيم محمد عوامة 38892)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38893 ترقیم الشثری: -- 40539
٤٠٥٣٩ - حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن إبراهيم عن همام قال: جاء إلى عمر رجل من اهل الكتاب فقال: السلام عليك (يا ملك) (١) العرب، قال عمر: وهكذا تجدونه في كتابكم؟ اليس تجدون النبي، ثم الخليفة ثم امير المؤمنين ثم الملوك بعد؟ قال له: بلى (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (ما ملك).
(٢) صحيح؛ أخرجه ابن شبه في تاريخ المدينة (١١١١)، ونعيم بن حماد في الفتن (٢٤٧).

ہمام سے منقول ہے ایک شخص اہل کتاب میں سے حضرت عمر کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا السلام علیکم اے عرب کے بادشاہ حضرت عمر نے فرمایا کیا تم اپنی کتاب میں اس طرح پاتے ہو؟ کیا تم اس طرح نہیں پاتے کہ پہلے نبی ہوگا پھر خلیفہ پھر امیر المومنین پھر اس کے بعد بادشاہ ہوگا اس اہل کتاب نے کہا بالکل ایسے ہی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40539]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40539، ترقيم محمد عوامة 38893)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38894 ترقیم الشثری: -- 40540
٤٠٥٤٠ - حدثنا وكيع قال: (حدثنا) (١) الاعمش عن شقيق عن عبد الله وذكر رجلا فقال: اهلكه الشح وبطانة السوء (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (أخبرنا).
(٢) صحيح؛ أخرجه نعيم (٣٤١).

عبداللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک شخص کا تذکرہ کیا پس انہوں نے فرمایا کہ اس کو لالچ نے ہلاک کردیا اور اندرونی برائیوں نے اس کو ہلاک کردیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40540]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40540، ترقيم محمد عوامة 38894)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38895 ترقیم الشثری: -- 40541
٤٠٥٤١ - حدثنا جعفر بن عون عن الوليد بن جميع عن ابي بكر (بن) (١) ابي الجهم عن ابي بردة بن (نيار) (٢) رفعه إلى النبي ﷺ قال:"لا تذهب الدنيا حتى تكون عند لكع بن لكع" (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (عن).
(٢) في [هـ]: (دينار).
(٣) حسن؛ ابن جميع صدوق، أخرجه أحمد في الزهد (١٥٨٣٧)، والطبراني ٢٢/ (٥١٢)، وابن أبي عاصم في الزهد (١٩٧).

ابو بردہ بن نیار سے منقول ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ دنیا ختم نہیں ہوگی جب تک ایسے شخص کے پاس نہ چلی جائے جو خود بھی کمینہ ہو اور اس کا باپ بھی کمینہ ہو (یعنی ایسے گرے پڑے شخص کے پاس جو تقدیم کا مستحق نہ ہو نہ اس کا کوئی حسب نسب ہو اور نہ ہی علم فقہ سے کوئی تعلق ہو) [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40541]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40541، ترقيم محمد عوامة 38895)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38896 ترقیم الشثری: -- 40542
٤٠٥٤٢ - حدثنا غندر عن شعبة عن سعد بن إبراهيم انه سمع اباه قال: رايت ⦗٤٦١⦘ عبد الرحمن بن (عوف) (١) بمنى (محلوقا) (٢) راسه يبكي، (يقول) (٣) : ما كنت اخشى ان ابقى حتى (يقتل) (٤) عثمان (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (إبراهيم).
(٢) في [س]: (مجلوف).
(٣) سقط من: [أ، ب].
(٤) في [ع]: (يقول لي).
(٥) صحيح.

سعد بن ابراہیم فرماتے ہیں کہ انہوں نے اپنے والد سے سنا وہ فرماتے تھے میں نے عبدالرحمن بن عوف کو میٰ ٨ میں اس حالت میں دیکھا کہ ان کا سر منڈھا ہوا تھا اور وہ رو رہے تھے کہہ رہے تھے میں نہیں ڈرتا کہ میں حضرت عثمان کی شہادت تک زندہ رہوں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40542]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40542، ترقيم محمد عوامة 38896)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38897 ترقیم الشثری: -- 40543
٤٠٥٤٣ - حدثنا (عبيد الله) (١) (بن موسى) (٢) عن شيبان عن الاعمش عن سالم ابن ابي الجعد عن عبد (الله) (٣) بن عمرو قال: إنا لنجد في كتاب الله المنزل صنفين في النار: قوم (يكونون) (٤) في آخر الزمان (٥) معهم سياط كانها اذناب البقر يضربون بها الناس على غير جرم، لا يدخلون بطونهم إلا خبيثا، ونساء كاسيات عاريات مائلات مميلات لا يدخلن الجنة ولا يجدن ريحها (٦) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س، ط، هـ]: (عبد اللَّه).
(٢) سقط من: [هـ]، وانظر: القول المسدد ص ٣٣.
(٣) سقط من: [س].
(٤) في [ع]: (يكذبون).
(٥) في [ع]: زيادة (قوم).
(٦) صحيح.

عبداللہ بن عمرو سے راویت ہے ہم نے اللہ رب العزت کی کتاب میں دو قسم کے لوگوں کو آگ میں دیکھا ہے ایک وہ قوم جو آخری زمانے میں ہوگی ان کے پاس گائے کی دم کی طرح کوڑے ہوں گے ان کے ذریعے بغیر کسی جر م کے لوگوں کو ماریں گے وہ اپنے پیٹوں میں خبیث چیزیں (رشوت وغیرہ) ہی داخل کریں گے اور دوسری قسم ان عورتوں کی جو کپڑے نہیں پہنتی ہیں ننگی ہوتی ہیں مائل ہوتی ہیں اور مائل کرتی ہیں وہ جنت میں داخل نہیں ہوں گی اور نہ ہی جنت کی خوشبو سونگھ سکیں گی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40543]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40543، ترقيم محمد عوامة 38897)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38898 ترقیم الشثری: -- 40544
٤٠٥٤٤ - حدثنا يحيى بن ابي (بكير) (١) قال: (حدثنا) (٢) (الهياج) (٣) بن بسطام الحنظلي قال: (حدثنا) (٤) ليث بن ابي سليم عن طاوس عن ابن عباس قال: قال رسول الله ﷺ:"إنها ستكون (امراء تعرفون وتنكرون) (٥) ، (فمن ⦗٤٦٢⦘ باراهم) (٦) نجا، ومن اعتزلهم سلم او كاد، ومن خالطهم هلك" (٧) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (كثير)، وفي [ع]: (بكر).
(٢) في [ع]: (أخبرنا).
(٣) في [أ، ب، جـ، ط، هـ]: (المياج)، وفي [س]: (المباح).
(٤) في [ع]: (أخبرنا).
(٥) في [ع]: (أمرًا يعرفون وينكرون).
(٦) في [س]: (فما راهم)، وفي [ك]: (ناواهم).
(٧) ضعيف؛ لضعف الهياج وليث، والحديث أخرجه الطبراني ١١/ (١٠٩٧٣)، وابن عدي ٧/ ١٣٢، وأخرج نحوه عبد الرزاق (٢٠٦٨٠) من حديث طاوس مرسلًا.

حضرت عباس سے مروی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا عنقریب تمہارے ایسے امراء ہوں گے جن کو تم جانتے ہوگے اور جن پر تم نکیر کرتے ہوگے جو ان سے قتال کرے گا نجات پاجائے گا اور جو ان کے ساتھ مل جائے گا وہ ہلاک ہوجائے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40544]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40544، ترقيم محمد عوامة 38898)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38899 ترقیم الشثری: -- 40545
٤٠٥٤٥ - حدثنا يحيى بن إسحاق قال: اخبرني يحيى بن ايوب عن ابي قبيل عن (تبيع) (١) عن النعمان بن (بشير) (٢) انه قال: ابعثوا إلى املة يذبون عن فساد الارض، فقال له كعب الاحبار: (مه) (٣) لا تفعل، فإن ذلك في (كتاب) (٤) الله المنزل: ان قوما يقال لهم الاملة يحملون بايديهم سياطا كانها اذناب البقر، لا يريحون ريح الجنة، فلا تكن انت اول من يبعث فيهم (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) هو ابن امرأة كعب، وفي [أ، ب، جـ، هـ]: (يثيع).
(٢) في [ع]: (بشر).
(٣) سقط من: [أ، ب].
(٤) في [ع]: (كاب).
(٥) حسن؛ يحيى بن أيوب صدوق، وكذلك تبيع.

نعمان بن بشیر سے روایت ہے کہ پولیس والوں کو بھیجو کہ وہ زمین کا فساد دور کریں تو کعب احبار نے فرمایا کہ ٹھہرو ایسا نہ کرو کیونکہ یہ کتاب اللہ میں ہے کہ ایک قوم ان کو املہ کہا جائے گا (پولیس وغیرہ) ان کے ہاتھوں میں گائے کی دم کی طرح کوڑے ہونگے وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں سونگھیں گے۔ پس تم ان کو سب سے پہلے بھیجنے والے نہ بنو نعمان کہتے ہیں انہوں نے ایسا ہی کیا۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے یحییٰ سے پوچھا املہ کسے کہتے ہیں تو انہوں نے فرمایا تم عراق میں انہیں شرطی (پولیس والا) کہتے ہو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40545]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40545، ترقيم محمد عوامة 38899)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 40546
٤٠٥٤٦ - قال: (ففعل) (١) ، فقلت انا ليحيى: ما الاملة؟ قال: انتم (تسمونهم) (٢) بالعراق الشرط.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (تفعل).
(٢) في [أ، ب]: (تسومونهم)، وفي [جـ، ع]: (تسموهم).

تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40546، ترقيم محمد عوامة ---)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38900 ترقیم الشثری: -- 40547
٤٠٥٤٧ - حدثنا وكيع عن يزيد بن مردانبة عن خليفة بن (سعيد) (١) قال: رايت (عثمان) (٢) في بعض طرق المدينة وهو يقول: مروا بالمعروف وانهوا عن المنكر قبل ان يسلط عليكم شراركم، فيدعوا عليهم خياركم فلا يستجاب لهم، ⦗٤٦٣⦘ قال: و (زحمته) (٣) حملة فاخذ بعضديه فقال: لا اموت حتى تدركني إمارة الصبيان (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، هـ]: (سعد)، وانظر: التاريخ الكبير ٣/ ١٩١، والجرح والتعديل ٣/ ٣٧٧، والثقات ٦/ ٢٦٨، وسير أعلام النبلاء ١/ ٥٤٦.
(٢) سقط من: [س]، وفي مصادر التخريج: (سلمان).
(٣) في [هـ]: (ورحمته).
(٤) مجهول؛ لجهالة خليفة بن سعيد، وأخرجه ابن سعد ٤/ ٨٧، والبخاري في التاريخ ٣/ ١٩١، وابن عساكر ٢١/ ٤٣٣.

خلیفہ بن سعد سے منقول ہے کہ میں نے حضرت عثمان کو مدینے کے کسی راستے پر جاتے ہوئے دیکھا وہ یہ فرما رہے تھے! تم نیکی کا حکم کرتے رہو اور بری باتوں سے روکتے رہو قبل اس کے کہ تم پر تمہارے شریر لوگ مسلط کے جائیں پس تمہارے بہترین لوگ ان پر بددعا کریں گے مگر ان کی بددعا قبول نہ ہوگی پھر ان کو تکلیف نے بوجھل کردیا پس ان کو بازؤں سے پکڑا گیا پھر انہوں نے فرمایا میں اس وقت تک نہ مروں گا جب تک کہ مجھے نو عمر لڑکوں کی امارت نہ پالے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40547]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40547، ترقيم محمد عوامة 38900)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں