مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
3. ما ذكر في عثمان ﵁
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے تذکرہ کے بیان میں
ترقیم عوامۃ: 38882 ترقیم الشثری: -- 40528
٤٠٥٢٨ - حدثنا معاوية بن هشام عن علي بن صالح عن يزيد بن ابي زياد عن إبراهيم عن علقمة عن عبد الله بن مسعود قال: (بينا) (١) نحن عند رسول الله ﷺ (إذ) (٢) اقبل فتية من بني هاشم، فلما (رآهم) (٣) النبي ﷺ (اغرورقت) (٤) عيناه وتغير لونه، ⦗٤٥٢⦘ قال: فقلت له: (ما نزال نرى) (٥) في وجهك شيئا (نكرهه؟) (٦) قال:"إنا اهل (بيت) (٧) اختار (الله لنا) (٨) الآخرة على الدنيا، وإن اهل بيتي سيلقون بعدي بلاء (وتشريدا) (٩) (وتطريدا) (١٠) ، (حتى) (١١) ياتي قوم من قبل المشرق معهم رايات سود يسالون الحق فلا يعطونه، فيقاتلون (فينصرون) (١٢) فيعطون ما سالوا، فلا (يقبلونه) (١٣) حتى (يدفعوها) (١٤) إلى رجل من اهل بيتي، فيملؤها قسطا كما ملؤوها جورا، فمن ادرك ذلك منكم فلياتهم ولو (حبوا) (١٥) على الثلج" (١٦) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (بين).
(٢) في [ب]: (إذا).
(٣) في [س]: (رأى هم).
(٤) في [أ، ب]: (ذرفت).
(٥) في [أ، ب]: (ما نرى أنرى).
(٦) في [ب]: (تكرهه).
(٧) في [هـ]: (البيت).
(٨) في [هـ]: (لنا اللَّه).
(٩) في [ب، ع]: (وتشديد).
(١٠) في [ع]: (تطريد).
(١١) في [س]: (أحق).
(١٢) في [أ، ب]: (وينصرون)، وفي [هـ]: (فيضرون).
(١٣) في [أ، ب]: (يقبلونها).
(١٤) في [أ، ب، هـ]: (يدفعوا).
(١٥) في [أ، ب]: (حثوا).
(١٦) ضعيف؛ لضعف يزيد بن أبي زياد، أخرجه ابن ماجه (٤٠٨٢)، والبزار ١/ ٢٤٦، وابن أبي عاصم في السنة (١٤٩٩)، والطبراني (١٠٠٣١)، والحاكم ٤/ ٤٦٤، وابن عدي ٧/ ٦٢٥، والعقيلي ٤/ ٣٨١، والشاشي (٣٢٩)، وأبو نعيم في الحلية ٥/ ٧٥، وبعضه عند أحمد (٣٥٧١).
عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تھے کہ اس دوران بنو ہاشم کے کچھ نوجوان سامنے آئے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو دیکھا تو آنکھوں میں آنسو آگئے اور آپ کا رنگ بدل گیا۔ میں نے عرض کیا یا رسو ل اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم آپ کے چہرے پر ایسی شئے کو دیکھ رہے ہیں جسے ہم پسند کرتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے میرے اہل بیت کے لیے آخرت کو دنیا پر ترجیح دی ہے۔ میرے بعد اہل بیت کو ایک آزمائش، انتشار اور جلا وطنی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یہاں تک کہ مشرق کی جانب سے ایک قوم آئے گی ان کے پاس سیاہ جھنڈے ہوں گے وہ حق کا مطالبہ کریں گے مگر ان کو حق نہیں دیا جائے گا پس وہ قتال کریں گے اور نقصان پہنچائیں گے پس ان کا مطالبہ تسلیم کیا جائیگا مگر وہ اسے قبول نہیں کریں گے یہاں تک کہ امر خلافت میرے اہل بیت کے ایک شخص کے سپر د کردیا جائے پس وہ زمین کو ایسے انصاف سے بھر دیں گے جیسے ان سے پہلوں نے ظلم وستم سے بھردیا تھا۔ تم میں سے اگر کوئی اسکو پائے تو اس کو چاہیے کہ وہ ان کے پاس جائے اگرچہ بر ف پر گھسٹ کر جانا پڑے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40528]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40528، ترقيم محمد عوامة 38882)
ترقیم عوامۃ: 38883 ترقیم الشثری: -- 40529
٤٠٥٢٩ - حدثنا وكيع عن شريك عن ابي (مهل) (١) قال: قلت لابي جعفر: إن السلطان يولى العمل، قال: لا تلين لهم شيئا، وإن وليت فاتق الله واد الامانة.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [س]، وفي [ع]: (منهل).
ابو مہل سے منقول ہے کہتے ہیں کہ میں نے ابو جعفر سے کہا بادشاہ کو کام کا والی بنایا جاتا ہے؟ تو انہوں نے فرمایا! ان کے لیے کسی شئے کے والی نہ بننا اگر تم کو والی بنایا جائے تو تم اللہ سے ڈرو اور امانت ادا کرو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40529]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40529، ترقيم محمد عوامة 38883)
ترقیم عوامۃ: 38884 ترقیم الشثری: -- 40530
٤٠٥٣٠ - حدثنا وكيع عن خالد بن طهمان عن ابي جعفر قال: لا (تعد) (١) ⦗٤٥٣⦘ لهم (سفرا) (٢) ولا (تخط) (٣) لهم بقلم.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب]: (بعد)، وفي [ع]: (يقر).
(٢) في [س]: (شرًا)، وفي [جـ]: (ـــــــص).
(٣) وفي [جـ]: خط.
ابو جعفر سے منقول ہے کہتے ہیں کہ تم لوگوں کے لیے کتاب تیار نہ کرو اور نہ ہی ان کے لیے قلم سے کچھ لکھو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40530]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40530، ترقيم محمد عوامة 38884)
ترقیم عوامۃ: 38885 ترقیم الشثری: -- 40531
٤٠٥٣١ - حدثنا ابو اسامة عن الاعمش عن ابي وائل قال: دخلت على عبيد الله بن زياد بالبصرة وقد اتى بجزية اصبهان ثلاثة آلاف الف، فهي موضوعة بين يديه، فقال: يا ابا وائل: ما تقول فيمن مات وترك مثل هذه؟ قال: فقلت: اعرض به: (كيف) (١) إن كانت من غلول؟ قال: ذاك شر على شر، ثم قال: يا ابا وائل! إذا انا قدمت الكوفة فاتني لعلي اصيبك بخير، قال: فقدم الكوفة، قال: فاتيت علقمة فاخبرته فقال: اما إنك لو (اتيته) (٢) قبل ان تستشيرني، لم اقل لك شيئا، فاما (إذا) (٣) استشرتني فإنه (يحق) (٤) علي ان (انصحك) (٥) ، فقال: ما احب ان لي الفين من (الفيء) (٦) وإني اعز الجند عليه، وذلك اني لا (اصيب) (٧) من دنياهم شيئا إلا اصابوا من ديني اكثر منه.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (فكيف).
(٢) في [ب]: (أتيتم).
(٣) في [س، ع]: (إذ).
(٤) في [ع]: (لحق).
(٥) في [ب]: (نصحه).
(٦) في [هـ]: (ألفين).
(٧) سقط من: [أ، ب]، وفي [ع]: (لو أصبنا)، وفي [جـ]: (أصابوا).
ابو وائل سے منقول ہے کہتے ہیں کہ میں عبید اللہ بن زیاد کے پاس بصرہ گیا جب کہ اس کے سامنے اصبہان کا تین لاکھ جزیہ پڑا تھا۔ ابن زیاد نے کہا اے ابو وائل اس شخص کے بارے میں کیا خیال ہے جو اتنا ترکہ چھوڑ کر مرا ہو۔ میں نے تعریض کرتے ہوئے کہا کیا حال ہو اگر یہ خیانت کا مال ہو۔ ابن زیاد نے کہا یہ تو شرپر شر ہوا، پھر کہا اے ابو وائل جب میں کوفہ آؤں تو میرے پاس آنا ممکن ہے کہ میں تمہیں خیر پہنچاؤں، ابو وائل کہتے ہیں: اگر آپ مجھ سے مشورہ کرنے سے پہلے اسکے پاس چلے جاتے تو میں کچھ نہ کہتا، اور اب اگر مجھ سے مشورہ کر ہی بیٹھے ہو تو مجھ پر یہ حق ہے آپ کا کہ آپ کو نصیحت کروں، پس علقمہ نے فرمایا: میں پسند نہیں کرتا کہ میرے لیے دولاکھ درہم ہوں اور مجھے ایک لشکر پر عزت دی جائے۔ اور یہ اس وجہ سے کہ میں ان کی دنیا تک اتنا نہیں پہنچ سکتا جتنا وہ میرے دین کو نقصان پہنچائیں گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40531]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40531، ترقيم محمد عوامة 38885)
ترقیم عوامۃ: 38886 ترقیم الشثری: -- 40532
٤٠٥٣٢ - حدثنا ابن فضيل عن (الصلت) (١) بن مطر العجلي عن عيسى ⦗٤٥٤⦘ المرادي عن معاذ قال: يكون في آخر هذا الزمان قراء فسقة، (ووزراء) (٢) فجرة، وامناء خونة، وعرفاء ظلمة، وامراء كذبة (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) كذا في النسخ، وهو الموافق لما في الزهد لأحمد ص ١٦٩، والجرح والتعديل ٤/ ٤٣٩، وتاريخ ابن معين ٣/ ٣٧٢، والثقات ٧/ ٣٣٩، وحلية الأولياء ١/ ٧، ودلائل النبوة ٦/ ٥٣، والبداية والنهاية ٦/ ١٥٥، وورد في اسمه (الصلب) بالباء كما في التاريخ الكبير ٤/ ٣٣٠، والإكمال ٥/ ١٩٦، والدعاء لابن فضيل (٧٨)، والثقات ٨/ ٣٢٣، وتوضيح المشتبه ٣/ ٤٤٣ و ٥/ ٤٣٦.
(٢) في [ع]: (وأرزا).
(٣) مجهول؛ لجهالة الصلت وعيسى المرادي، أخرجه البخاري في التاريخ الكبير ٤/ ٣٣٠، وعبد اللَّه في زوائد الزهد ص ٢١٢، وورد مرفوعًا عند البزار (٢٦٣٠).
معاذ سے منقول ہے فرماتے ہیں کہ آخر زمانے میں فاسق قاری، فاجر وزرائ، خیانت کرنے والے امانت رکھنے والے، ظالم نگران ہونگے اور جھوٹے امراء ہوں گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40532]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40532، ترقيم محمد عوامة 38886)
ترقیم عوامۃ: 38887 ترقیم الشثری: -- 40533
٤٠٥٣٣ - حدثنا يعلى بن عبيد عن موسى الجهني عن قيس بن يزيد قال: حدثتني مولاتي سدرة ان (جدك) (١) سلمة (٢) بن قيس حدثني قال: لقيت ابا ذر فقال: يا سلمة بن قيس: ثلاث قد حفظتها لا تجمع بين الضرائر، فإنك لن تعدل ولو حرصت، ولا تعمل على الصدقة فإن صاحب الصدقة زائد وناقص، ولا تغش ذا سلطان فإنك لا تصيب من دنياهم شيئا إلا اصابوا من دينك افضل منه (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [س]، وفي [أ، ط، هـ]: (جدي)، وفي [ع]: بعدها زيادة (أبا).
(٢) في [أ، ب]: مكررة.
(٣) مجهول؛ لجهالة قيس وسدرة، وأخرجه البيهقي في الشعب (٩٤١١).
سلمہ بن قیس سے منقول ہے کہتے ہیں کہ میں ابو ذر سے ملا انہوں نے فرمایا: اے سلمہ بن قیس! تین چیزوں کو تم محفوظ کرلو دوسوکنوں کو جمع نہ کرنا تم عدل نہیں کرپاؤ گے اگر چہ تم کتنے ہی حریص ہو، دوسرا صدقات پر محصل نہ بننا کیونکہ یا تو وہ کمی کرنے والا ہوتا ہے یا زیادتی کرنے والا، بادشاہ کے قریب زیادہ نہ جانا کیونکہ جتنا تم ان کی دنیا تک پہنچو گے اس سے زیادہ یہ تمہارے دین کو لے اڑیں گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40533]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40533، ترقيم محمد عوامة 38887)
ترقیم عوامۃ: 38888 ترقیم الشثری: -- 40534
٤٠٥٣٤ - حدثنا الفضل بن (دكين) (١) عن (فطر) (٢) عن ابي إسحاق عن عمارة ابن (عبد) (٣) ، قال: قال حذيفة: اتقوا ابواب الامراء فإنها (مواقف) (٤) الفتن إلا ان الفتنة (تشتبه) (٥) مقبلة و (تبين) (٦) مدبرة (٧) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [س].
(٢) في [ع]: (قطر).
(٣) في [س]: (عبيد)، وفي [ع]: (عبد اللَّه).
(٤) في [أ، ب]: (موادة).
(٥) في [ع]: (شبهة)، وفي [أ، هـ]: (شبيهة)، وفي [س]: (تشبه).
(٦) في [أ، ب]: (ويدي)، وفي [س]: (تلبس).
(٧) مجهول؛ لجهالة عمارة بن عبد، وأخرجه الحاكم ٤/ ٤٩٥، وعبد الرزاق (٢٠٦٤٣)، ونعيم في الفتن (٣٤٣)، وأبو نعيم في الحلية ١/ ٢٧٧، والبيهقي في الشعب (٩٤١٣)، وابن عبد البر في جامع بيان العلم ص ١٦٧، وابن الجوزي في القصاص ص ٧٥.
عمارہ بن عبد سے منقول ہے کہتے ہیں کہ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا امراء کے دروازوں سے بچو کیونکہ یہ فتنے کی جگہیں ہیں، مگر یہ کہ فتنہ مشتبہ ہو کر آتا ہے اور ظاہر ہو کرجاتا ہے (یعنی جب فتنہ برپا ہوتا ہے تو حق و صواب ظاہر اور واضح نہیں ہوتا جب چلا جاتا ہے تو انسان کو پتا چلتا ہے کہ اس کا عمل خطا تھا) [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40534]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40534، ترقيم محمد عوامة 38888)
ترقیم عوامۃ: 38889 ترقیم الشثری: -- 40535
٤٠٥٣٥ - حدثنا ابو بكر قال: (حدثنا) (١) مالك بن إسماعيل قال: حدثنا عبد الرحمن بن حميد الرؤاسي قال: (حدثنا) (٢) عمرو بن قيس عن المنهال بن عمرو قال عبد الرحمن: اظنه عن قيس بن (السكن) (٣) ، قال: قال علي على منبره: إني انا فقات عين الفتنة، ولو لم اكن فيكم ما قوتل فلان وفلان (وفلان) (٤) واهل النهر، وايم الله لولا ان تتكلوا فتدعوا العمل لحدثتكم (بما سبق لكم) (٥) على لسان نبيكم (٦) ، لمن قاتلهم مبصرا لضلالاتهم عارفا بالذي نحن عليه. قال: ثم قال: سلوني، (فقال: الا تسالوني) (٧) فإنكم لا تسالوني عن شيء فيما بينكم وبين الساعة ولا عن فئة تهدي مائة و (٨) تضل مائة (إلا) (٩) حدثتكم (بسائقها) (١٠) . قال: فقام رجل فقال: يا امير المؤمنين حدثنا عن البلاء، فقال امير المؤمنين: إذا سال سائل فليعقل، وإذا سئل مسؤول (فليتثبت) (١١) ، إن من ورائكم (امورا) (١٢) ⦗٤٥٦⦘ (١٣) جللا (وبلاء) (١٤) (مبلحا) (١٥) مكلحا، والذي (فلق الحبة) (١٦) وبرا النسمة! لو قد فقدتموني ونزلت (جراهنة) (١٧) الامور وحقائق البلاء (لفشل) (١٨) كثير من السائلين، ولاطرق كثير من المسؤولين، وذلك (إذا فصلت) (١٩) (حربكم) (٢٠) وكشفت عن ساق لها وصارت الدنيا بلاء على اهلها حتى يفتح الله (لبقية) (٢١) الابرار. قال: (فقام) (٢٢) رجل فقال: يا امير المؤمنين حدثنا عن الفتنة، فقال: إن الفتنة إذا اقبلت شبهت وإذا ادبرت (اسفرت) (٢٣) ، وإنما (الفتن) (٢٤) (تحوم) (٢٥) (كحوم) (٢٦) الرياح، (يصبن) (٢٧) بلدا ويخطئن آخر، (فانصروا) (٢٨) اقواما كانوا اصحاب رايات يوم بدر، ويوم حنين، تنصروا (وتؤجروا) (٢٩) . ⦗٤٥٧⦘ الا إن اخوف الفتنة عندي عليكم فتنة عمياء مظلمة خصت فتنتها، وعمت (بليتها) (٣٠) ، اصاب البلاء من ابصر فيها، واخطا البلاء من عمي (عنها) (٣١) ، يظهر اهل باطلها على اهل حقها حتى تملا الارض عدوانا وظلما. وإن اول من يكسر (غمدها) (٣٢) ويضع جبروتها وينزع اوتادها الله رب العالمين، الا وإنكم ستجدون ارباب سوء لكم من بعدي كالناب (الضروس) (٣٣) تعض (بفيها) (٣٤) ، وتركض برجلها، وتخبط بيدها، وتمنع درها، الا إنه لا يزال بلاؤهم بكم حتى لا يبقى في مصر لكم إلا نافع لهم او غير ضار، وحتى لا يكون نصرة احدكم منهم إلا كنصرة العبد من سيده، وايم الله لو فرقوكم تحت كل كوكب لجمعكم الله (لسر) (٣٥) يوم لهم. قال: فقام رجل فقال: هل بعد ذلكم جماعة (يا امير المؤمنين؟) (٣٦) قال: (لا، إنها) (٣٧) جماعة شتى غير ان (اعطياتكم) (٣٨) وحجكم واسفاركم واحد والقلوب مختلفة هكذا -ثم شبك بين اصابعه- قال: مم ذاك يا امير المؤمنين؟ قال: يقتل هذا هذا، فتنة (فظيعة) (٣٩) جاهلية، ليس فيها إمام (هدى) (٤٠) (ولا ⦗٤٥٨⦘ علم) (٤١) (يرى) (٤٢) ، نحن اهل البيت منها نجاة ولسنا بدعاة، قال: وما بعد ذلك يا امير المؤمنين؟ قال: يفرج الله البلاء برجل (منا) (٤٣) اهل البيت تفريج الاديم (٤٤) ، ياتي ابن خبره إلا ما يسومهم الخسف، ويسقيهم بكاس (مضرة) (٤٥) ، (ودت) (٤٦) قريش بالدنيا وما فيها لو يقدرون على مقام (جزر جزور) (٤٧) (لاقبل) (٤٨) منهم بعض الذي اعرض عليهم اليوم؛ فيردونه (ويابى) (٤٩) إلا قتلا (٥٠) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (أخبرنا).
(٢) في [أ، ب]: (حدثني).
(٣) في [جـ، س، ع]: (سكن)، وفي [أ]: (سكلر)، وفي [ب]: (سكر).
(٤) سقط من: [جـ، ع].
(٥) سقط من: [أ، ب].
(٦) في [جـ]: زيادة ﷺ.
(٧) سقط من: [هـ].
(٨) في [جـ، ع]: زيادة (لا).
(٩) سقط من: [أ، ب].
(١٠) في [أ، ب]: (ولا سابعها)، وفي [س]: (وسايقها)، وفي [هـ]: (ولا شايعها).
(١١) في [أ، ب]: (فليثبت).
(١٢) في [أ، ب، ع]: (أمورٌ).
(١٣) في [أ، ب]: زيادة (أنتم)، وفي [س]: (تتم)، وفي [ب، ع]: (تم)، وفي ضعفاء العقيلي ٤/ ١٣ وميزان الاعتدال والمجالسة ١/ ١٥٦: (متماحلة)، أي: متطاولة.
(١٤) في [أ، ب]: (بللًا).
(١٥) في [أ، ب، ع]: (ملحا)، والمبلح: المعيب، والمكلح: الشديد.
(١٦) في [أ]: (خلق الجنة).
(١٧) في [أ، جـ]: (حراهية)، وفي [ب]: (حراسة)، وفي [ع]: (جراهية)، وفي [س]: (هراهنة).
(١٨) في [س]: (نقش).
(١٩) في [جـ، س]: (إذا اتصلت).
(٢٠) في [أ، ب]: (حرورتكم).
(٢١) في [ع]: (لقيه).
(٢٢) في [ب]: (فقال).
(٢٣) في [أ، ب]: (سفرت).
(٢٤) في [ع]: (لقين)، وفي [جـ]: (فتنة).
(٢٥) في [هـ]: (نحوم)، وفي [س]: (تخوم)، وفي [جـ]: (حوم)، والمراد أنها تدور كالرياح.
(٢٦) في [هـ]: (كنحوم)، وفي [ب]: (كنجوم).
(٢٧) في [س]: (وليصيبن)، وفى [أ]: (يصيبن).
(٢٨) في [ب]: (ما نصروا).
(٢٩) في [س]: (توجدو)، وفى [أ]: (تومرو).
(٣٠) في [س]: (يلتها)، وفي [ب]: (بيتها).
(٣١) في [ع]: (فيها).
(٣٢) في [أ، ط، هـ]: (عمدها).
(٣٣) أي: الناقة سيئة الخلق، وفي [ب]: (المطروس).
(٣٤) في [أ]: (بنيبها).
(٣٥) في [ط، هـ]: (أيسر).
(٣٦) سقط من: [ع].
(٣٧) في [هـ]: (لأنها)، وفي [أ]: (لا، بها).
(٣٨) في [ع]: (أعطياكم).
(٣٩) في [ع]: (قطيعًا)، وسقط من: [ب، جـ، س].
(٤٠) في [أ، ب]: (هذا).
(٤١) في [ط، هـ]: (إلا علم).
(٤٢) في [أ، ط، هـ]: (نرى).
(٤٣) في [أ، ط، هـ]: (من).
(٤٤) أي: سلخ الجلد.
(٤٥) في [أ، هـ]: (مصيرة)، وفي [ع]: (مصبرة).
(٤٦) في [ب]: (ورثت).
(٤٧) أي: ذبح ناقة، وفي [أ، ب]: (حر محدود)، وفي [هـ]: (جزر وجزور).
(٤٨) كذا في النسخ، ولعلها: (ليقبل).
(٤٩) في [أ، ب]: (يأتي)، وفي [ع]: (يأبا).
(٥٠) صحيح؛ أخرجه النسائي (٨٥٧٤) وفي الخصائص (١٨٩)، ونعيم (٥٢٩)، وأبو نعيم في الحلية ١/ ٦٨ و ٤/ ١٨٦، وعبد اللَّه بن أحمد في السنة (١٤٩٤) من حديث المنهال عن زر بن حبيش عن علي.
عبدالرحمن سے منقول ہے کہتے ہیں کہ میرا گمان ہے کہ قیس بن سکن سے مروی ہے کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے منبر پر فرمایا کہ میں نے فتنے پر غلبہ پالیا اگر میں تم میں نہ ہوتا تو فلاں، فلاں قتل نہ کیے جاتے اور اللہ کی قسم اگر تم بھروسا کر کے عمل کو نہ چھوڑ بیٹھتے تو میں تمہیں بتاتا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تمہارے بارے میں کیا کیا خوشخبریاں دی ہیں بوجہ ان لوگوں کے ساتھ قتال کرنے کے جو اپنی گمراہی کو دیکھتے ہوئے یہ بھی جانتے تھے ہم ہدایت پر ہیں پھر فرمایا کہ مجھ سے سوال کرو پھر فرمایا کہ خبردار مجھ سے سوال کرو کیونکہ مجھ سے جو بھی سوال کرو گے قیامت اور جو تمہارے درمیان اس سے متعلق ہو یا اس لشکر کے متعلق جس کے سو آدمی ہدایت پا گئے اور سو آدمی گمراہ ہوگئے میں تم کو اس تفصیلات سے آگاہ کروں گا۔ پس ایک شخص کھڑا ہوا اور کہنے لگا اے امیر المومنین ہمیں آزمائش کے بارے میں بتائیے۔ امیر المومنین نے فرمایا جب سائل سوال کرے تو اسے چاہیے سمجھ سے کرے اور جب مسؤل سے سوال کیا جائے تو اسے ثابت قدم رہنا چاہیے۔ تمہارے بعد بڑے بڑے امور پیش آنے والے ہیں اور ایسے ایسے فتنے برپا ہونے والے ہیں جو انسان کو عیب دار بنادیں گے اور انسان کا رنگ پھکاش کر ڈالیں گے۔ قسم ہے اس ذات کی جس نے بیج کو پھاڑا اور ہواؤں کو چلایا! اگر تم مجھے گم کردیتے اور پھر ناپسندیدہ امور اترتے اور بڑی آزمائش اترتی تو بہت سارے سوال کرنے والے پھسل جاتے اور بہت سے مسؤل گردن جھکائے کھڑے ہوتے۔ یہ اس وقت ہوتا جب تمہاری جنگ برپا ہوگئی اور لڑائی خوب بھڑک اٹھی۔ اور دنیا والوں پر آزمائش بن گئی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے باقی ماندہ نیک بندوں کے لیے اسے فتح کردیا۔ پھر ایک آدمی کھڑا ہوا اور کہنے لگا اے امیر المومنین ہمیں فتنے کے بارے میں کچھ خبریں بتلائیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا جب فتنہ آتا ہے تو مشتبہ ہو کر آتا ہے اور جب جاتا ہے تو واضح و بیّن ہو کر لوٹتا ہے بیشک فتنے ہواؤں کی طرح گردش میں ہیں ایک شہر کو گھیرتے ہں ت تو دوسرے کو چھوڑدیتے ہیں۔ پس تم ایسے لوگوں کی مدد کرو جو بدرو حنین کے دن جھنڈے تھامنے والے تھے تا کہ تمہاری مدد کی جائے اور تم کو اجر دیا جائے۔ خبردار غور سے سنو! بیشک سب سے زیادہ خوفناک فتنہ میرے نزدیک وہ فتنہ ہے جو اندھا اور تاریک ہوگا۔ اس کا ہنگامہ خاص ہوگا مگر اس کی آزمائش مصیبت عام ہوگی۔ وہ فتنہ اس تک پہنچے گا جو اس کو دیکھے گا اور اس سے چوک جائے گا جو اس سے آنکھیں بند کرے گا اس فتنے میں جو باطل پر ہیں وہ اہل حق پر غالب آجائیں گے یہاں تک کہ زمین ظلم وستم سے بھر جائے گی اور پھر سب سے پہلے اس فتنے کی میان توڑنے والا، اور اس فتنے کی طاقت کو فرو کرنے والا اور اس فتنے کی میخیں اکھاڑنے والا اللہ ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے۔ سنو عنقریب تمہارا واسطہ میرے بعد برے لوگوں سے ہوگا جو بپھری ہوئی اونٹنی کی مانند ہوں گے جو اپنے منہ سے کاٹتی ہے اپنے پاؤں سے ٹھوکر مارتی ہے اور آگے والے پاؤں سے بھی مارتی ہے اور اپنا دودھ نکالنے نہیں دیتی، سنو یہ فتنہ تم پر جاری رہے گا یہاں تک کہ تمہارے شہر میں تمہارے لیے کوئی حامی نہ ہوگا سوائے اہل باطل کو نفع پہنچانے والے یا ان کے لیے بےضرر۔ یہاں تک کہ تم میں سے کسی کی مدد ان کی طرف سے نہ کی جائے گی مگر جتنی مدد آقا اپنے غلام کی کرتا ہے (یعنی بہت تھوڑی مدد) اللہ کی قسم اگر وہ تمہیں ہر ستارے کے نیچے جمع کردیں تو اللہ تمہیں ایک ایسے دن میں جمع کرے گا جس میں ان کے لیے کچھ حصہ نہیں۔ پھر ایک شخص کھڑا ہو کر کہنے لگا اے امیر المومنین! کیا اس کے بعد بھی کوئی جماعت ہوگی؟ آپ نے فرمایا نہیں پھر مختلف جماعتیں ہوں گی مگر تمہارے عطیات تمہارے حج اور تمہارے سفر ایک ہوں گے اور قول مختلف ہوں گے اس طرح، یہ کہہ کر آپ نے اپنی انگلیوں کو ملایا ایک آدمی نے سوال کیا یہ کس طرح ہوگا اے امیر المومنین؟ آپ نے فرمایا لوگ ایک دوسرے کو قتل کریں گے یہ بڑا ہولناک اور جہالت والا فتنہ ہوگا اس فتنے میں کوئی امام ہدیٰ نہیں ہوگا اور نہ ہی کوئی جھنڈا ہوگا جس کو دیکھا جاسکے ہم اہل بیت اس سے نجات دہندہ ہوں گے اور ہم اس کے محرک نہیں ہوں گے، پھر اس نے کہا اے امیر المومنین اس کے بعد کیا ہوگا؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ؟ نے فرمایا اللہ تعالیٰ اہل بیت میں سے ایک آدمی کے ذریعے اس فتنے کو ایسے الگ کریں گے جیسے گوشت سے کھال علیٰحدہ کی جاتی ہے پھر وہ انہیں اذیت کا جام چکھائے گا۔ اس وقت قریش دنیا کی محبت کا شکار ہوجائیں گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40535]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40535، ترقيم محمد عوامة 38889)
ترقیم عوامۃ: 38890 ترقیم الشثری: -- 40536
٤٠٥٣٦ - حدثنا وكيع عن عمران بن (حدير) (١) (٢) عن كعب قال: لكل زمان ملوك، فإذا اراد الله بقوم خيرا بعث فيهم (مصلحيهم) (٣) ، وإذا اراد بقوم شرا بعث فيهم مترفيهم.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ، س، ع]: (جدير).
(٢) في [هـ]: زيادة (عن السمط) أخذًا مما تقدم ١١/ ١٤٣ برقم [٣٢٧٣١].
(٣) في [أ، هـ]: (مصلحهم).
حضرت کعب نے فرمایا کہ ہر زمانہ کے لیے بادشاہ مقرر ہیں جب اللہ تعالیٰ کسی قوم کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتے ہیں تو ان میں ان کی اصلاح کرنے والا بھیج دیتے ہیں اور جب کسی قوم کے ساتھ برائی کا ارادہ کرتے ہیں تو ان میں عیاش لوگوں کو بادشاہ بنا دیتے ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40536]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40536، ترقيم محمد عوامة 38890)
ترقیم عوامۃ: 38891 ترقیم الشثری: -- 40537
٤٠٥٣٧ - حدثنا يزيد بن هارون قال: اخبرنا شريك عن ابي اليقظان عن زاذان عن (عليم) (١) قال: كنا معه على سطح ومعه رجل من اصحاب النبي ﷺ في ⦗٤٥٩⦘ ايام الطاعون، فجعلت (الجنائز) (٢) تمر، فقال: يا طاعون خذني، قال: فقال (عليم) (٣) : الم يقل رسول الله ﷺ:"لا (يتمنين) (٤) احدكم الموت، فإنه عند انقطاع عمله، ولا يرد فيستعتبه"، فقال: سمعت رسول الله ﷺ يقول:"بادروا بالموت ستا: امرة السفهاء، وكثرة الشرط، وبيع الحكم، و (استخفافا) (٥) بالدم، (ونشوءا) (٦) يتخذون القرآن مزامير، يقدمونه ليغنيهم (وإن) (٧) كان اقلهم فقها" (٨) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (عالم)، وفي [س]: (عليم).
(٢) في [هـ]: (الخنازير).
(٣) في [س]: (غليم).
(٤) في [ع]: (يتمنى).
(٥) في [أ، ب]: (استحقاق)، وفي [س، ع]: (استحقاف).
(٦) في [أ، ب، ع]: (وسوء).
(٧) في [ب]: (وإلا).
(٨) ضعيف؛ لضعف عثمان بن عمير أبي اليقظان، أما عليم الكندي فقد ذكره ابن حبان في الثقات وروى عنه جمع، والحديث أخرجه أحمد ٣/ ٤٩٤ (١٦٠٨٣)، والبخاري في التاريخ ٧/ ١٨٠، وأبو عبيد في فضائل القرآن ص ٨٠، وابن أبي عاصم في الآحاد (١٠٢٤) والديات ص ١٤، والحارث (٦١٣/ بغية)، والطبراني ١٨/ (٥٧)، وابن قانع ٢/ ٣١٠، والبيهقي في الشعب (٢٦٥٤)، والطحاوي في شرح المشكل ٤/ ٥، والداني (٤٣٦)، وابن عبد البر في التمهيد ١٨/ ١٤٧، وابن الجوزي في العلل (١٤٨٢)، وابن الأثير في أسد الغابة ٣/ ٥٣٨.
زاذان علیم سے روایت کرتے ہیں کہ ہم ان کے ساتھ چھت پر تھے اور ان کے ساتھ ایک صحابی بھی تھے۔ طاعون کے دنوں میں پس ہمارے پاس سے جنازے گزرنے شروع ہوئے تو اس نے کہا کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا کہ تم میں سے کوئی موت کی تمنا نہ کرے کیونکہ موت اعمال کے منقطع ہونے کا باعث ہے اور انسان کو لوٹا یا نہیں جاتا کہ وہ اللہ کو راضی کرے۔ پس انہوں نے فرمایا میں نے رسو ل اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ تم چھ چیزوں کی وجہ سے موت کو جلدی طلب کرو، بیوقوفوں کی امارت کی وجہ سے، بادشاہوں کے خاص سپاہیوں کے زیادہ ہوجانے کی وجہ سے، فیصلوں کے بکنے کی وجہ سے اور خون ارزاں ہونے کی وجہ سے اور قرآن کو بانسریاں بنانے والے نو عمر لڑکوں کی وجہ سے جنھیں لوگ نماز میں اس لیے آگے کریں گے تاکہ وہ انہیں قرآن کو گانے کے انداز میں سنائے حالانکہ وہ اپنی فہم میں سب سے کم تر ہوگا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40537]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40537، ترقيم محمد عوامة 38891)