🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

3. ما ذكر في عثمان ﵁
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے تذکرہ کے بیان میں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38862 ترقیم الشثری: -- 40508
٤٠٥٠٨ - حدثنا زيد بن (الحباب) (١) (قال: (حدثني) (٢) العلاء بن المنهال) (٣) قال: حدثني محمد بن سوقة قال: (حدثني) (٤) منذر الثوري قال: كنا عند محمد بن ⦗٤٤١⦘ الحنفية، قال: (فنال) (٥) بعض القوم من عثمان فقال: مه، (فقلنا) (٦) له: كان ابوك يسب عثمان، (قال) (٧) : ما (سبه) (٨) ، ولو سبه يوما (لسبه) (٩) يوم جئته وجاءه (السعاة) (١٠) ، فقال: (خذ) (١١) كتاب (١٢) (السعاة) (١٣) فاذهب به إلى عثمان، فاخذته فذهبت به إليه، فقال: لا حاجة لنا (فيه) (١٤) ، فجئت إليه فاخبرته فقال: ضعه موضعه، فلو سبه يوما لسبه ذلك اليوم (١٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (الخباب).
(٢) في [جـ]: (حدثنا).
(٣) سقط من: [هـ].
(٤) في [س]: (حدثنا).
(٥) في [ب]: (قال).
(٦) في [ع]: (فقلت).
(٧) في [أ، ب]: (فقال).
(٨) في [ب]: (لسبه).
(٩) في [جـ]: (لسببه).
(١٠) في [س]: (السماة).
(١١) في [أ، ط، هـ]: (خير).
(١٢) في [ط، هـ]: زيادة (اللَّه في).
(١٣) في [س]: (السماة).
(١٤) في [ع]: (به).
(١٥) صحيح؛ أخرجه بنحوه البخاري (٣١١١)، وأحمد ١/ ١٤١ (١١٩٥).

منذر ثوری فرماتے ہیں کہ ہم محمد ابن حنفیہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ کسی نے حضرت عثمان کو برا بھلا کہا تو محمد بن حنفیہ نے فرمایا ٹھہر جاؤ، تو ہم نے کہا آپ کے والد ماجد (حضرت علی رضی اللہ عنہ) تو ان کو برا بھلا کہا کرتے تھے تو انہوں نے فرمایا کہ انہوں نے کبھی حضرت عثمان کو برا بھلا نہیں کہا۔ اگر وہ برا بھلا کہتے تو اس دن کہتے جس دن میں ان کے پاس آیا اس حال میں کہ ان کے پاس صدقات وصول کرنے والے آئے ہوئے تھے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا سب سے بہتر کتاب اللہ ہے اس کو لے جاؤ اور حضرت عثمان کو دے دو۔ پس اسے لیکر حضرت عثمان کی خدمت میں حاضر ہوا مگر انہوں نے کہا کہ مجھے اس کی ضرورت نہیں پس میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں واپس ہوا اور ان کو حضرت عثمان کے قول کے بارے میں بتایا پس حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اس کو اس کی جگہ پر رکھ دو۔ اگر حضرت علی رضی اللہ عنہان کو طعن وتشنیع کرتے تو اس دن کرتے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40508]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40508، ترقيم محمد عوامة 38862)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38863 ترقیم الشثری: -- 40509
٤٠٥٠٩ - حدثنا زيد بن (الحباب) (١) قال: (حدثني) (٢) العلاء بن المنهال قال: حدثني فلان قال: سمعت الزهري بالرصافة يقول: (والله) (٣) لقد (نصح) (٤) علي و (صحح) (٥) في عثمان، لولا انهم اصابوا الكتاب (لرجعوا) (٦) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (الخباب).
(٢) في [جـ]: (أخبرنا).
(٣) في [هـ]: (اللهم).
(٤) في [أ، ب]: (نصحت).
(٥) سقط من: [س].
(٦) في [أ، ب، جـ، ط]: (فرجعوا).

زہری نے رصافہ مقام میں فرمایا اللہ کی قسم حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت عثمان کے بارے خیر خواہی کی اور اطاعت اختیار کی۔ اگر ان کو (باغیوں کو) خط کا علم نہ ہوتا تو وہ مدینہ کی طرف واپس نہ لوٹتے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40509]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40509، ترقيم محمد عوامة 38863)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38864 ترقیم الشثری: -- 40510
٤٠٥١٠ - حدثنا يحيى بن آدم قال: (حدثنا) (١) ابو بكر بن عياش عن مغيرة عن إبراهيم عن علقمة قال: قلت للاشتر: لقد كنت كارها ليوم الدار (فكيف رجعت عن رايك؟ فقال: اجل، والله إن كنت لكارها ليوم الدار) (٢) ، ولكن جئت بام حبيبة بنت ابي سفيان لادخلها الدار، واردت ان اخرج عثمان في هودج، فابوا ان يدعوني وقالوا: ما لنا ولك يا اشتر، (ولكني) (٣) رايت طلحة والزبير والقوم بايعوا عليا طائعين غير مكرهين، ثم نكثوا عليه، قلت: (فابن) (٤) الزبير (القائل) (٥) : اقتلوني ومالكا؟ قال: لا، والله، ولا رفعت السيف عن (ابن) (٦) الزبير وانا ارى ان (فيه) (٧) شيئا من الروح، لاني كنت عليه (بحنق) (٨) ؛ لانه استخف ام المؤمنين حتى اخرجها، فلما لقيته ما رضيت له بقوة ساعدي حتى قمت في الركابين قائما فضربته على راسه، فرايت اني (قد) (٩) قتلته، ولكن القائل اقتلوني ومالكا: عبد الرحمن بن عتاب بن اسيد لما لقيته (اعتنقته) (١٠) فوقعت انا وهو عن فرسينا، فجعل (ينادي) (١١) : اقتلوني ومالكا، والناس يمرون لا يدرون من يعني، و (لو) (١٢) يقل: ⦗٤٤٣⦘ الاشتر (١٣) ، (لقتلت) (١٤) (١٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط، هـ]: (حدثني).
(٢) سقط من: [أ، ب].
(٣) في [ع]: (ولكن).
(٤) في [أ، ب، جـ، ع]: (فأين).
(٥) في [جـ]: تكرر.
(٦) سقط من: [أ، ب].
(٧) في [ع]: (فيها).
(٨) في [أ، ب]: (بحتف).
(٩) سقط من: [أ، ب].
(١٠) في [س]: (اعتقنه).
(١١) في [ع]: (يقول).
(١٢) في [أ، ط، هـ]: (لم).
(١٣) في [هـ]: زيادة (إلا).
(١٤) في (س): (نقلت).
(١٥) صحيح؛ أخرجه ابن شبه (٢٣٨٧).

علقمہ سے منقول ہے کہتے ہیں میں نے مشتہر سے کہا آپ تو یوم دار (حضرت کے گھر کے محاصرے کا دن) کو ناپسند کرتے تھے پھر آپ نے کیسے اپنی رائے سے رجوع کیا؟ تو اس نے کہا اللہ کی قسم میں یوم دار کو ناپسند کرتا تھا اور میں ام حبیبہ بنت ابو سفیان کو لایا تا کہ میں ان کو حضرت عثمان کے گھر لے جاؤں اور حضرت عثمان کو ھودج میں نکال لوں۔ مگر انہوں نے مجھے اندر جانے سے روک دیا اور کہا کہ ہمارا اشتر سے کیا واسطہ۔ لیکن میں نے طلحہ زبیر اور کچھ لوگوں کو دیکھا کہ انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بغیر کسی اکراہ کے بیعت کی اور پھر اس بیعت کو توڑ ڈالا۔ علقمہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ ابن زبیر یہ کہنے والے تھے کہ ”مجھے اور مالک کو قتل کردو“ تو اس نے جواب دیا نہیں اللہ کی قسم میں نے ابن زبیر سے تلوار نہیں ہٹائی تھی اس حال میں کہ اندر روح کو دیکھ رہا تھا (یعنی زندگی کی رمق دیکھتا رہا) کیونکہ مجھے ان پر غصہ تھا اس بات پر کہ انہوں نے ام المومنین کو وقعت نہ دی تھی یہاں تک کہ میں ام المومنین کو واپس لے گیا۔ پس جب میرا ان سے لڑائی میں سامنا ہوا تو میں نے اپنے بازؤں کی قوت پر اکتفاء نہیں کیا بلکہ میں نے دونوں رکابوں میں کھڑے ہو کر قوت کے ساتھ ان کے سر میں تلوار ماری پس میں نے اس کو قتل ہوتے ہوئے دیکھ لیا۔ لیکن (مجھے اور مالک کو قتل کردو) کہنے والے، عبدالرحمن بن عتاب سے جب ملاقات ہوئی تو میں نے اس پر تلوار زنی کی حتی کہ میں اور وہ اپنے گھوڑوں سے گرگئے پس اس نے پکارنا شروع کیا کہ مجھے اور مالک کو قتل کردو اور لوگ گزر رہے تھے مگر وہ نہیں جانتے تھے کہ مالک سے اس کی مراد کیا ہے کیونکہ اس نے اشتر نہیں کہا تھا اگر وہ اشتر کہتا تو قتل کردیا جاتا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40510]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40510، ترقيم محمد عوامة 38864)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38865 ترقیم الشثری: -- 40511
٤٠٥١١ - حدثنا ابو اسامة عن ابن ابي عروبة عن قتادة قال: اخذ علي بيد الاشتر ثم انطلق (به) (١) حتى اتى طلحة، فقال: (يا طلحة) (٢) إن هؤلاء -يعني اهل مصر- يسمعون منك ويطيعونك، فانههم عن قتل عثمان، فقال: (ما استطيع) (٣) دفع دم اراد الله إهراقه؛ فاخذ علي بيد الاشتر، ثم انصرف وهو يقول: (بئس) (٤) ما ظن ابن الحضرمية ان يقتل ابن عمي ويغلبني على ملكي، (بئس) (٥) ما (راى) (٦) (٧) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [جـ].
(٢) سقط من: [هـ].
(٣) في [ع]: (لا أستطع).
(٤) في [ع]: (لبئس).
(٥) في [ع]: (ليس)، وفي [أ]: (بئيس).
(٦) في [أ، ب، ط، هـ]: (أرى).
(٧) منقطع؛ قتادة لم يدرك عليًا.

قتادہ سے روایت ہے کہ علی رضی اللہ عنہ نے اشتر کا ہاتھ تھاما اور چل دیے یہاں تک کہ طلحہ کے پاس آئے پھر فرمایا یہ لوگ یعنی اہل مصر آپ کی بات سنتے ہیں اور آپ کی اطاعت کرتے ہیں پس ان کو حضرت عثمان کے قتل سے منع کریں انہوں نے جواب دیا جس خون کو اللہ نے بہانے کا ارادہ کرلیا ہے میں اسے نہیں روک سکتا۔ پس حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اشتر کا ہاتھ پکڑا اور واپس آگئے یہ کہتے ہوئے کہ ابن حضر میہ کا یہ گمان کتنا بڑا ہے کہ میرے چچا کے بیٹے کو قتل کیا جائے اس حال میں کہ وہ میرے ملک میں مجھ پر غالب آ رہا ہے جو میں دیکھ رہا ہوں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40511]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40511، ترقيم محمد عوامة 38865)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38866 ترقیم الشثری: -- 40512
٤٠٥١٢ - حدثنا اسور بن عامر قال: حدثنا جرير بن حازم عن ابن سيرين قال: ما علمت ان عليا اتهم في قتل عثمان حتى بويع (فلما بويع) (١) اتهمه الناس.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [هـ].
ابن سیرین سے منقول ہے کہتے ہیں کہ میں نہیں جانتا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ پر حضرت عثمان کے قتل کا بہتان لگایا گیا ہو یہاں تک کہ ان سے بیعت کی گئی پھر لوگوں نے ان پر قتل کی تہمت لگائی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40512]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40512، ترقيم محمد عوامة 38866)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38867 ترقیم الشثری: -- 40513
٤٠٥١٣ - حدثنا ابو المورع قال: (اخبرنا) (١) العلاء بن عبد الكريم عن ⦗٤٤٤⦘ (عميرة) (٢) بن سعد قال: لما قدم طلحة والزبيرومن معهم قال: قام رجل في مجمع من الناس فقال: (انا) (٣) فلان بن فلان، احد بني (جشم) (٤) ، فقال: إن هؤلاء الذين قدموا عليكم، إن كان إنما بهم الخوف فجاؤوا من حيث يامن الطير، وإن كان إنما بهم قتل عثمان فهم قتلوه، وإن الراي فيهم ان (تنخس) (٥) بهم دوابهم حتى يخرجوا (٦) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (أنا).
(٢) في [س]: (عمرة).
(٣) في [ع]: (يا).
(٤) في [س]: (حيشم).
(٥) في [أ، ب، ط، هـ]: (تنخسف).
(٦) ضعيف؛ لضعف عميرة بن سعد.

عمیرہ بن سعد سے منقول ہے کہ جب طلحہ زبیر اور ان کے ساتھی آئے تو ایک شخص مجمع کے درمیان سے اٹھا اور کہا میں فلاں بن فلاں قبیلہ بنی جشم سے ہوں۔ پھر کہا یہ لوگ (طلحہ زبیر اور ان کے ساتھی) تمہارے پاس آئے ہیں۔ اگر یہ کسی خوف کی وجہ سے آئے ہیں تو پھر ایسی جگہ سے آئے ہیں جہاں پرندے کو بھی امن حاصل ہے (یعنی مکہ میں) اور اگر حضرت عثمان کے قتل کی وجہ سے آئے ہیں تو ان کے پاس ہی ان کو قتل کیا گیا ہے ان کے بارے میں رائے یہ ہے کہ ان کے جانوروں کو آنکڑے ماریں جائیں تا کہ یہ یہاں سے نکل جائیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40513]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40513، ترقيم محمد عوامة 38867)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38868 ترقیم الشثری: -- 40514
٤٠٥١٤ - حدثنا عفان قال: (حدثنا) (١) معتمر بن سليمان قال: سمعت ابي يقول: حدثنا ابو عثمان ان عثمان قتل في اوسط ايام التشريق (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (نا).
(٢) صحيح؛ أخرجه أحمد ١/ ٧٤ (٥٤٦)، وابن أبي عاصم في الآحاد (١٢٧)، والطبراني (١٠٠)، وابن سعد ٣/ ٧٩، وابن عساكر ٣٩/ ٥١٣، وخليفة بن خياط في التاريخ ١/ ١٧٦.

ابو عثمان سے منقول ہے کہ حضرت عثمان کو ایام تشریق کے وسط میں شہید کیا گیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40514]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40514، ترقيم محمد عوامة 38868)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38869 ترقیم الشثری: -- 40515
٤٠٥١٥ - حدثنا الفضل بن دكين قال: (حدثنا) (١) سعيد بن عبد الرحمن قال: (حدثنا) (٢) محمد بن سيرين قال: لما قتل عثمان قال عدي بن حاتم: لا (تنتطح) (٣) فيها (عنزان) (٤) فلما كان يوم صفين فقئت عينه فقيل: لا (تنتطح) (٥) في قتل عثمان ⦗٤٤٥⦘ (عنزان) (٦) ، قال: بلى، وتفقا فيه عيون كثيرة (٧) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (نا).
(٢) في [ع]: (نا).
(٣) في [أ]: (ينتكح)، وفي [س]: (ينتطيج).
(٤) في [س]: (غنزان).
(٥) في [أ، ب]: (ينطح)، وفي [س]: (يننطيح).
(٦) في [س]: (غنزان).
(٧) صحيح؛ سعيد بن عبد الرحمن هو أخو أبي حرة ثقة، أخرجه الطبراني ١٧/ (١٣٩)، ويعقوب في المعرفة ٢/ ٤٢٩، وابن عساكر ٤٠/ ٩٢، وانظر: البداية والنهاية ٧/ ٢٧٦.

ابن سیرین سے منقول ہے کہتے ہیں جب حضرت عثمان کو شہید کہا گیا تو عدی بن حاتم نے فرمایا کہ اس معاملے میں دورائے نہیں۔ پس جب جنگ صفین کے دن ان کی آنکھ ضائع ہوئی تو کہا گیا حضرت عثمان کے قتل میں دورائے نہیں تھی۔ حضرت عدی بن حاتم نے فرمایا کیوں نہیں اس میں بھی بہت سی آنکھیں ضائع ہوئی تھیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40515]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40515، ترقيم محمد عوامة 38869)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38870 ترقیم الشثری: -- 40516
٤٠٥١٦ - حدثنا ابو اسامة قال: (حدثنا) (١) عبد الله بن الوليد عن موسى بن عبد الله بن يزيد عن ابي (ظبيان) (٢) الازدي قال: قال عمر: مالك يا ابا (ظبيان) (٣) قال: قلت: انا في الفين وخمسمائة، قال: فاتخذ (شاء) (٤) فإنه يوشك ان (تجيء) (٥) اغيلمة من قريش يمنعون هذا العطاء (٦) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (نا).
(٢) في [س]: (ظيبان).
(٣) في [س]: (ظيبان).
(٤) في [أ، جـ، س]: (ساسا)، وفي [ع]: (ساها)، وفي [ب]: غير واضحة.
(٥) في [ب]: (يجيء).
(٦) مجهول؛ أخرجه البخاري في الأدب (٥٧٦)، ويعقوب في المعرفة ٣/ ٢١٤، وابن عبد البر في جامع بيان العلم ٢/ ١٤، وأبو عبيد في غريب الحديث ١/ ٣٠٠.

ابو ظبیان ازدی سے منقول ہے کہتے ہیں کہ حضرت عمر نے فرمایا اے ابو ظبیان تمہارا کتنا مال ہے؟ تو میں نے کہا پچیس سو درہم حضرت عمر نے فرمایا اس کثرت مال کو پکڑ لو کیونکہ عنقریب قریش کے لڑکے آئیں گے اور ان عطا یا سے منع کریں گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40516]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40516، ترقيم محمد عوامة 38870)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38871 ترقیم الشثری: -- 40517
٤٠٥١٧ - حدثنا ابو اسامة قال: (حدثنا) (١) عبد الله بن الوليد قال: سمعت محمد بن عبد الرحمن بن ابي (ذئب) (٢) يقول: قال ابو هريرة: والله لو تعلمون ما اعلم (لضحكتم كثيرا ولبكيتم قليلا) (٣) ، ولو تعلمون ما اعلم لضحكتم (قليلا) (٤) (ولبكيتم كثيرا) (٥) ، والله ليقعن (القتل والموت) (٦) في هذا الحي من ⦗٤٤٦⦘ قريش حتى ياتي (الرجل) (٧) (الكبا) (٨) -قال ابو اسامة: يعني الكناسة- فيجد بها النعل (فيقولا) (٩) : (كانها) (١٠) (نعل) (١١) قرشي (١٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (نا).
(٢) في [ع]: (ذويب).
(٣) في [ع]: تقديم وتأخير.
(٤) في [ع]: (كثيرًا)، وفي [س]: (لضحكتم كثيرا ولبكيتم قليلًا).
(٥) في [ع]: (ولبكيتم كثيرًا قليلًا).
(٦) في [أ، ب]: تقديم وتأخير.
(٧) في [ط، هـ]: (الرحل).
(٨) في [أ، ب، ط، هـ]: (الكنا)، وانظر: مجمع الزوائد ٨/ ٢١٥، وتحفة الأحوذي ١٠/ ٥٤، وطبقات ابن سعد ٣/ ٣٩٧، وغريب الحديث لابن الجوزي ٢/ ٢٨٠، وتهذيب اللغة ١٠/ ٢١٧.
(٩) في [جـ]: (فيقولون).
(١٠) سقط من: [أ، س، ط، هـ].
(١١) في [س]: (بغل).
(١٢) منقطع؛ محمد بن عبد الرحمن بن أبي ذئب لم يدرك أبا هريرة، وأخرجه مرفوعًا ابن حبان (٦٨٥٣)، وأحمد ٢/ ٣٣٦ (٨٤١٨)، وأبو يعلى (٦٢٠٥)، وإسحاق (٤٢٢).

حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ اللہ کی قسم جو میں جانتا ہوں اگر تم جان لیتے تو ہنستے زیادہ روتے کم اور اگر تم وہ سب جان لیتے جو میں جانتا ہوں تو تم ہنستے کم روتے زیادہ۔ اللہ کی قسم قریش کے اس قبیلے میں ایک قتل واقع ہوگا پھر ایک آدمی گندگی کے ڈھیر پر آئے گا اسے وہاں سے ایک جو تاملے گا لوگ کہیں گے یہ قریشی کا جوتا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40517]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40517، ترقيم محمد عوامة 38871)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں