🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

3. ما ذكر في عثمان ﵁
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے تذکرہ کے بیان میں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38872 ترقیم الشثری: -- 40518
٤٠٥١٨ - حدثنا ابو بكر قال: (١) (حدثنا) (٢) محمد بن بشر قال: (حدثنا) (٣) إسماعيل بن ابي خالد عن (مجالد) (٤) عن (٥) الشعبي عن عامر بن شهر قال: سمعت من النبي ﷺ كلمة، ومن النجاشي كلمة، سمعت النبي ﷺ يقول:"انظروا قريشا فاسمعوا من قولهم وذروا (٦) فعلهم"، قال: وكنت عند النجاشي إذ جاء ابن له من الكتاب فقرا آية من الإنجيل (ففهمها) (٧) فضحكت، فقال: مم تضحك؟ (٨) من كتاب الله؟ اما والله (إنها لفي كتاب) (٩) الله الذي انزل على عيسى ان اللعنة ⦗٤٤٧⦘ تكون في الارض إذا كان امراؤ (ها) (١٠) الصبيان (١١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: زيادة (و).
(٢) في [ع]: (نا).
(٣) في [ع]: (نا).
(٤) في [س]: (مجاهد).
(٥) في [جـ]: زيادة (عامر).
(٦) في [أ، ب]: زيادة (من).
(٧) في [أ، ب، جـ، س، ع]: (ففهمتها).
(٨) في [أ، ب، جـ، س]: زيادة (أتضحك)، وفي [ع]: زيادة (تضحك).
(٩) في [أ، ب، ع]: (إن في كتاب).
(١٠) سقط من: [س].
(١١) ضعيف؛ لضعف مجالد، أخرجه أحمد (١٥٥٣٦)، وابن حبان (٤٥٨٥)، وابن سعد ٦/ ١٧، وأبو داود (٤٧٣٦)، وأبو يعلى (٦٨٦٤)، والطحاوي في شرح المشكل (٣١٣١)، وابن أبي عاصم في السنة (١٥٤٣)، وأبو نعيم في أخبار أصبهان ١/ ١٤٠، وابن الأثير في أسد الغابة ٣/ ١٢٦، وابن عدي ٣/ ١٠٣٨.

عامر بن شہر سے منقول ہے کہتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک بات سنی اور نجاشی سے بھی ایک بات سنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اہل قریش کو دیکھو اور ان کی باتوں کو سنو اور ان کے افعال کو چھوڑو۔ کہتے ہیں کہ میں نجاشی کے پاس تھا کہ اس کا ایک بیٹا کتاب لے کر آیا اور اس نے انجیل کی ایک آیت پڑھی پھر اس کو سمجھایا میں ہنسا۔ نجاشی نے کہاتم کتاب اللہ کی وجہ سے ہنستے ہو؟ سنو اللہ کی قسم بیشک اس کتاب میں جو اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ پر اتاری ہے لکھا ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی لعنت اس زمین پر اس وقت ہوگی جب اس پر امراء بچے ہونگے (نو عمر لڑکے ہونگے) [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40518]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40518، ترقيم محمد عوامة 38872)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38873 ترقیم الشثری: -- 40519
٤٠٥١٩ - حدثنا الفضل بن دكين قال: (حدثنا) (١) سفيان عن حبيب بن ابي ثابت (٢) عن القاسم بن الحارث عن عبد الله بن عتبة عن ابن مسعود (قال) (٣) : قال النبي ﷺ لقريش:"إن هذا الامر فيكم، (و) (٤) انتم ولاته ما لم تحدثوا عملا ينزعه الله منكم، فإذا فعلتم ذلك سلط الله عليكم شرار خلقه فالتحوكم (٥) كما يلتحى القضيب" (٦) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (نا).
(٢) في [أ، ب]: زيادة (عن أنس).
(٣) سقط من: [س].
(٤) سقط من: [س].
(٥) أي: نزعوا ما لديكم من نعم ظاهرة.
(٦) مجهول؛ لجهالة القاسم بن الحارث، أخرجه أحمد (٢٢٣٥٥)، والحاكم ٤/ ٥٠٢، والطيالسي (٦١٩)، وابن أبي حاتم في السنة (١١١٩)، والطبراني ١٧/ (٧٢٠)، وابن طهمان في مشيخته (١٨٩)، والداني في الفتن (١٩٤).

ابو مسعود سے منقول ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قریش سے فرمایا یہ امر خلافت تمہارے اندر ہے اور تم اس کے والی ہو اس وقت تک جب تک تم کوئی ایسا کام نہیں کرتے جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس کو تم سے چھین لے جب تم نے ایسا کیا تو اللہ تعالیٰ تم پر مخلوق کے سب سے شریر لوگوں کو مسلط کرے گا۔ اور وہ تم کو ایسے چھیل ڈالیں گے جیسے شاخ کو چھیل دیا جاتا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40519]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40519، ترقيم محمد عوامة 38873)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38874 ترقیم الشثری: -- 40520
٤٠٥٢٠ - حدثنا ابو اسامة عن عوف عن زياد بن مخراق عن ابي كنانة عن ابي موسى قال: قام النبي ﷺ على باب (١) فيه نفر من قريش، (فقال) (٢) :"إن هذا الامر في قريش ما داموا إذا استرحموا رحموا، وإذا ما حكموا عدلوا، وإذا ما قسموا ⦗٤٤٨⦘ اقسطوا، فمق لم يفعل ذلك منهم فعليه لعنة الله والملائكة والناس (اجمعين) (٣) ، لا يقبل منه صرف ولا عدل" (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: زيادة (بيت).
(٢) سقط من: [س].
(٣) سقط من: [س].
(٤) مجهول؛ أبو كنانة روى عنه جمع، ولم يجرحه أحد وحسن له الذهبي، وأخرج له أبو داود والحديث أخرجه أحمد (١٩٥٤١)، والثعلبي في التفسير ٨/ ٣٣٧، وابن أبي عاصم في السنة (١١٢١)، والبزار (٣٠٦٩)، وابن بشكوال ٢/ ٨٤٩، والمزي ٣٤/ ٢٢٨.

ابو موسیٰ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک گھر میں دروازے پر کھڑے تھے جس کے اندر قریش کے کچھ لوگ تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ یہ امر خلافت قریش کے اندر رہے گا جب تک قریش والے رحم کے طلب گار پر رحم کرتے رہیں گے اور انصاف کے لیے آنے والوں کے ساتھ انصاف کریں گے، اور تقسیم میں عدل سے کام لیں گے۔ ان میں سے جو ایسا نہیں کرے گا اس پر اللہ، فرشتوں اور سارے لوگوں کی لعنت ہوگی۔ اور اس سے نوافل و فرائض قبول نہیں کیے جائیں گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40520]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40520، ترقيم محمد عوامة 38874)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38875 ترقیم الشثری: -- 40521
٤٠٥٢١ - حدثنا محمد بن فضيل عن يزيد بن ابي زياد عن سليمان بن عمرو بن الاحوص قال: اخبرني رب (هذه) (١) الدار: ابو هلال انه سمع ابا برزة الاسلمي يحدث انهم كانوا مع رسول الله ﷺ (٢) فسمعوا (غناء) (٣) (فاستشرفوا له) (٤) ، فقام رجل فاستمع؛ وذلك قبل ان (تحرم) (٥) الخمر، فاتاهم ثم رجع، فقال: هذا فلان وفلان، وهما (يتغنيان) (٦) ويجيب احدهما الآخر وهو يقول: (لا يزال) (٧) حواري تلوح عظامه … (زوى) (٨) الحرب (عنه) (٩) ان يجن فرفع رسول الله ﷺ يديه فقال:" (اللهم) (١٠) اركسهما في الفتنة ركسا، اللهم دعهما إلى النار دعا" (١١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب، ط، هـ]: (هذا).
(٢) في [هـ]: زيادة (في سفر).
(٣) سقط من: [أ، ب].
(٤) في [س]: (فاسترقوا)، وفي [ع]: (فسرقوا).
(٥) في [ب]: (يحرم).
(٦) في [س]: (ينفيان).
(٧) سقط من: [ب، س]، وفي [أ، ب]: زيادة (يعني).
(٨) في [س]: (ذو)، وفي [أ، ب]: (ذوا).
(٩) سقط من: [أ، ب].
(١٠) سقط من: [ع].
(١١) مجهول؛ لجهالة سليمان بن عمرو وأبي هلال، أخرجه أحمد (١٩٧٨٠)، وأبو يعلى (٧٤٣٧)، والبزار (٣٨٩٩)، وابن حبان في المجروحين ٣/ ١٠١، وابن الجوزي في الموضوعات ٢/ ٢٨.

ابو برزہ اسلمی روایت کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھی ایک سفر مں م آپ کے ساتھ تھے۔ پس انہوں نے گائے کی آواز سنی اور وہ اس آواز کی طرف متوجہ ہوگئے پس ایک شخص اٹھا اور آواز کی ٹوہ میں لگ گیا یہ حرمت شراب سے پہلے کی بات ہے۔ پس وہ ان کے پاس پہنچا اور واپس لوٹا اور بتایا کہ یہ فلاں اور فلاں ہیں دونوں گانا گا رہے ہیں اور ایک دوسرے کا جواب دے رہا ہے اور کہہ رہا ہے کہ انصاری کی ہڈیاں پڑی چمکتی رہیں گی اور شدید جنگ اس کو دفن کرنے سے مانع ہوگی کہ اس کی قبر بنائی جاسکے گی۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھ اٹھائے اور دعا کی اے اللہ! ان دونوں کو کسی فتنے میں مبتلا کردے، اے اللہ! ان کو آگ میں دھکیل دے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40521]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40521، ترقيم محمد عوامة 38875)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38876 ترقیم الشثری: -- 40522
٤٠٥٢٢ - (حدثنا) (١) خالد بن مخلد عن سليمان بن بلال قال: حدثني شريك ابن عبد الله بن ابي نمر عن الاعشى بن عبد الرحمن (بن) (٢) مكمل عن ازهر بن عبد الله قال: اقبل عبادة بن الصامت حاجا من الشام فقدم المدينة، فاتى عثمان بن عفان فقال: يا عثمان الا اخبرك شيئا سمعته من رسول الله ﷺ؟ قال: بلى، (قلت) (٣) : فإني سمعت رسول الله ﷺ يقول:" (ستكون) (٤) عليكم امراء (يامرونكم) (٥) بما تعرفون ويعملون ما تنكرون فليس لاولئك عليكم طاعة" (٦) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (ثنا).
(٢) في [أ، ب، هـ، ع]: (عن).
(٣) سقط من: [ع].
(٤) في [ع]: (سيكون).
(٥) في [أ، ب، ع]: (يؤمرون)، وفي [س]: (يومرونكم).
(٦) منقطع فيه جهالة؛ الأعشى مجهول، وأزهر لا يروي عن عبادة، أخرجه الحاكم ٣/ ٣٥٧، وبنحوه أخرجه أحمد (٢٢٧٦٩)، وابنه (٢٢٧٨٦)، والبزار (٢٧٣١)، والشاشي (١٢٥٨)، والطبراني في الأوسط (٢٩١٥)، وأبو يعلى كما في إتحاف الخيرة (٥٧٩٠).

ازہر بن عبداللہ سے منقول ہے کہ عبادہ بن صامت شام سے حج کرنے کے لیے تشریف لائے پھر مدینہ حاضر ہوئے اور حضرت عثمان کی خدمت میں آئے اور فرمایا اے عثمان! کیا میں آپ کو ایسی بات کی خبر نہ دوں جو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہو تو حضرت عثمان نے فرمایا کیوں نہیں حضر ت عبادہ بن صامت نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے عنقریب تمہارے اوپر ایسے امراء آئیں گے جو تم کو ایسی باتوں کا حکم دیں گے جن کو تم جانتے ہو اور گورنر ایسے بنائیں گے جن کو تم نہیں جانتے (یعنی جیں ج تم نہیں سمجھتے ہو) ہوگے۔ پس ایسے امراء کی اطاعت تم پر واجب نہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40522]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40522، ترقيم محمد عوامة 38876)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38877 ترقیم الشثری: -- 40523
٤٠٥٢٣ - [حدثنا عبد الله بن نمير قال: (حدثنا) (١) إسماعيل بن ابي خالد عن إسماعيل الاودي قال: اخبرتني بنت معقل بن يسار ان اباها (ثقل) (٢) ، فبلغ ذلك (ابن) (٣) (زياد) (٤) فجاء يعوده فجلس فعرف فيه الموت فقال له: يا معقل الا تحدثنا، فقد كان الله ينفعنا باشياء (نسمعها) (٥) منك، فقال: إني سمعت رسول الله ﷺ يقول:"ليس من وال يلي (امة) (٦) ، قلت: او كثرت لم يعدل فيهم إلا ⦗٤٥٠⦘ (كبه) (٧) الله (لوجهه) (٨) في النار"، فاطرق الآخر ساعة فقال: شيء سمعته من رسول الله ﷺ (٩) او من وراء وراء؟ قال: لا، بل شيء سمعته من رسول الله ﷺ (١٠) ، (سمعت رسول الله ﷺ) (١١) يقول:"من استرعى رعية فلم يحطهم بنصيحة لم يجد ريح الجنة، وريحها يوجد من مسيرة مائة عام"، (فقال) (١٢) ابن زياد: الا كنت حدثتني بهذا قبل الآن؟ قال: والآن لولا ما انا عليه لم احدثك به] (١٣) (١٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (أخبرنا).
(٢) في [أ، ب]: (مقتل).
(٣) سقط من: [جـ، س، ع].
(٤) في [أ، ب، س، ط، ع]: (زيادًا).
(٥) في [ع]: (ينفعنا).
(٦) في [س]: (أمته).
(٧) في [ع]: (أكبه).
(٨) في [أ، ب، س]: (بوجه).
(٩) سقط من: [ع].
(١٠) سقط من: [ع].
(١١) سقط من: [س].
(١٢) في [ط، هـ]: (قال).
(١٣) سقط الحديث من: [ب].
(١٤) مجهول؛ لجهالة إسماعيل الأودي، سماه ابن حبان في الثقات ٦/ ٢٩: (إسماعيل بن إبراهيم)، وسماه ابن معين كما في رواية الدوري ٣/ ٣٤٨: (ابن عبد الرحمن)، أخرجه أحمد (٢٠٢٩٠)، والبخاري في التاريخ ١/ ٣٣٩، والطبراني ٢٠/ (٥١٤)، وابن عساكر ١٩/ ٢٠١.

بنت معقل بن یسار سے روایت ہے کہ ان کے والد محتر م کی طبیعت بہت زیادہ خراب ہوئی تو یہ خبر ابن زیاد کو پہنچی پس ابن زیاد عیادت کے لیے حاضر خدمت ہوا پس ان کے قریب بیٹھا اور ان کے چہرے پر موت کے اثرات دیکھے پھر کہنے لگا اے معقل! کیا آپ حدیث بیان نہیں کریں گے تحقیق کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں ان احادیث سے جو آپ سے سنی ہیں بہت نفع پہنچایا ہے۔ پس حضرت معقل بن یسار نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ”کہ کوئی والی حکومت نہیں جس کی رعیت میں میری کم یا زیادہ امت ہو اور وہ اس کے ساتھ انصاف نہ کرے مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ اس کو منہ کے بل آگ میں پھینکے گا۔ وہ ایک گھڑی کے لیے مبہوت ہوگئے۔ پھر ابن زیاد بولا یہ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے یا ان کے بعد آنے والوں سے سنا ہے معقل نے فرمایا نہیں بلکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے۔ پھر فرمایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ بھی سنا ہے ”کہ جس شخص کو رعایا کی باگ دوڑ دی جائے اور اس کے ساتھ بھلائی نہ کرے تو جنت کی خوشبو بھی نہیں پائے گا جبکہ جنت کی خوشبو سو سال کے فاصلے سے آتی ہے۔ ابن زیاد نے کہا آپ نے یہ حدیث اس سے پہلے نہیں سنائی؟ حضرت معقل نے فرمایا اگر میں مرض الوفات میں نہ ہوتا تو آپ کو اب بھی یہ حدیث نہ سناتا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40523]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40523، ترقيم محمد عوامة 38877)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38878 ترقیم الشثری: -- 40524
٤٠٥٢٤ - حدثنا وكيع عن إسماعيل عن قيس ان رجلا كان يمشي مع حذيفة نحو الفرات فقال: كيف انتم إذا (اخرجتم) (١) لا (تذوقون) (٢) منه قطرة؟ (قال) (٣) : قلنا: (اتظن) (٤) (ذلك؟) (٥) قال: ما اظنه ولكن استيقنه (٦) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط، هـ]: (خرجتم).
(٢) في [هـ]: (تذوق).
(٣) سقط من: [أ، ب].
(٤) سقط من: [ع].
(٥) في [ع]: (ذاك).
(٦) صحيح؛ أخرجه الحاكم ٤/ ٥٤٦.

قیس سے منقول ہے کہ ایک شخص حذیفہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ فرات کی طرف جا رہا تھا حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا حال ہوگا؟ جب تم نکلو گے اور تم اس دریا سے ایک قطرہ نہ چکھ سکو گے قیس کہتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا! کیا یہ آپ کا گمان ہے؟ حضرت عثمان نے فرمایا میرا گمان نہیں بلکہ مجھے اس کا یقین ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40524]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40524، ترقيم محمد عوامة 38878)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38879 ترقیم الشثری: -- 40525
٤٠٥٢٥ - حدثنا عبد الاعلى عن الجريري عن ابي العلاء قال: قالوا (لمطرف) (١) : هذا عبد الرحمن بن الاشعث قد اقبل، فقال مطرف: والله لئن (٢) يرى بين امرين: لئن ظهر لا يقوم لله دين، ولئن ظهر عليه لا يزالون اذلة إلى يوم القيامة.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (الطرف).
(٢) في [جـ، س، ع]: زيادة (لم).

ابو العلاء سے منقول ہے لوگوں نے مطرف سے کہا یہ عبدالرحمن بن الاشعث آئے ہیں انہوں نے دو کاموں میں قدم رکھا ہے اگر یہ غالب آگئے تو اللہ کا دین قائم نہ ہوگا اور اگر یہ مغلوب ہوگئے تو تم قیامت تک ذلیل ہوتے رہو گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40525]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40525، ترقيم محمد عوامة 38879)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38880 ترقیم الشثری: -- 40526
٤٠٥٢٦ - [حدثنا وكيع (١) قال: (حدثنا) (٢) الاعمش عن سالم عن ابي الدرداء قال: لو ان رجلا همه الإسلام وعرفه، ثم تفقده لم يعرف منه شيئا] (٣) (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: زيادة (عن إسماعيل).
(٢) في [ع]: (أخبرنا).
(٣) سقط الخبر من: [ب].
(٤) منقطع؛ سالم لا يروي عن أبي الدرداء.

ابو درداء سے منقول ہے اگر کسی شخص کو اسلام نے متفکر کیا پھر اس نے بھی اسلام کو پہچان لیا اور اسلام کا دامن چھوڑ دیا تو گویا کہ اس نے اسلام کے بارے میں کچھ نہ جانا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40526]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40526، ترقيم محمد عوامة 38880)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38881 ترقیم الشثری: -- 40527
٤٠٥٢٧ - حدثنا وكيع قال: (حدثنا) (١) الاعمش عن شيخ قال: قال عمر: من اراد الحق فلينزل بالبراز -يعني يظهر امره (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (أخبرنا).
(٢) مجهول؛ لإبهام شيخ الأعمش.

اعمش اپنے شیخ سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت عمر نے فرمایا جو حق چاہتا ہے تو اسے چاہیے کہ وہ کھلے میدان میں اترے یعنی اپنے معاملے کا اظہار کرے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40527]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40527، ترقيم محمد عوامة 38881)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں