مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
3. ما ذكر في عثمان ﵁
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے تذکرہ کے بیان میں
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 40488
٤٠٤٨٨ - قال: وفي حديث ابي سعيد: فدخل عليه رجل فقال: بيني وبينك كتاب الله، فخرج وتركه، ودخل عليه رجل يقال له: الموت الاسود، فخنقه وخنقه ثم خرج، قال: والله ما رايت شيئا قط هو الين من (حلقه) (١) ، والله لقد خنقته حتى رايت نفسه مثل نفس الجان تردد في جسده. ثم دخل عليه آخر، فقال: بيني وبينك كتاب الله والمصحف بين يديه، فاهوى إليه بالسيف (فاتقاه) (٢) بيده فقطعها فلا ادري ابانها، او قطعها فلم يبنها، ⦗٤٢٩⦘ فقال: اما والله إنها لاول كف (٣) (خطت) (٤) الفصل.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (خلقه).
(٢) في [أ، ب]: (فاتقا).
(٣) في [أ، ب]: زيادة (قطع).
(٤) في [أ، ب]: (خطبت).
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40488، ترقيم محمد عوامة ---)
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 40489
٤٠٤٨٩ - (وحدثت) (١) في غير حديث ابي سعيد: فدخل عليه (التجيبي) (٢) (فاشعره) (٣) بمشقص، (فانتضح) (٤) الدم على هذه الآية ﴿فسيكفيكهم الله وهو (السميع) (٥) العليم﴾ [البقرة: ١٣٧] وإنها في المصحف (ما حكت) (٦) (٧) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، س، ع]: (حديث).
(٢) في [أ، ب، جـ، س، ع]: (التجوبي).
(٣) في [ع]: (فأسعره)، وفي [ب]: (فأشعر).
(٤) في [س]: (فانتضج)، وفي [أ]: (فانتضخ).
(٥) في [ب]: (سميع).
(٦) في [س]: (فلكت)، وفي [ب]: (حلب).
(٧) مجهول؛ لإبهام الراوي.
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40489، ترقيم محمد عوامة ---)
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 40490
٤٠٤٩٠ - ١٧. واخذت بنت (القرافصة) (١) في حديث ابي سعيد - (حليها) (٢) فوضعته في (حجرها) (٣) ، وذلك قبل ان يقتل، فلما اشعر او قتل تجافت -او تفاجت- عليه، فقال بعضهم: قاتلها الله، ما اعظم (عجيزتها) (٤) فعرفت ان اعداء الله لم يريدوا إلا (الدنيا) (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب، س، ع]: (الفرافصة)، وفي [أ]: (فراصة).
(٢) في [ب، س، جـ]: (عليها).
(٣) في [س]: (حجره يا).
(٤) في [أ، ب]: (عجزتها).
(٥) في [س]: (الدين).
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40490، ترقيم محمد عوامة ---)
ترقیم عوامۃ: 38846 ترقیم الشثری: -- 40491
٤٠٤٩١ - قال: وحدثنا ابو بكر قال: حدثنا عفان قال: حدثنا ابو (محصن) (١) اخو حماد بن نمير رجل من اهل واسط، قال: حدثنا حصين بن عبد الرحمن قال: حدثني (جهم) (٢) من بني فهر، قال: (انا) (٣) شاهد هذا الامر، قال: جاء سعد وعمار فارسلوا إلى عثمان ان (ائتنا) (٤) ، فإنا نريد ان نذكر لك اشياء احدثتها او اشياء فعلتها، قال: فارسل إليهم ان انصرفوا اليوم، فإني مشتغل وميعادكم يوم كذا وكذا حتى (اشزن) (٥) ، قال ابو (محصن) (٦) : (اشزن) (٧) استعد لخصومتكم. قال: فانصرف سعد وابى عمار ان ينصرف -قالها ابو محصن مرتين- قال: فتناوله رسول عثمان فضربه. قال: فلما اجتمعوا للميعاد، ومن معهم قال لهم عثمان: (ما) (٨) تنقمون مني؟ قالوا: (ننقم) (٩) عليك ضربك عمارا، قال: قال عثمان: جاء سعد وعمار فارسلت إليهما، فانصرف سعد وابى عمار ان ينصرف، فتناوله (رسولي) (١٠) من غير امري، فوالله ما امرت ولا رضيت، (فهذه) (١١) يدي لعمار (فليصطبر) (١٢) ⦗٤٣١⦘ قال: ابو (محصن) (١٣) : يعني (يقتص؟) (١٤) . قالوا: ننقم عليك انك جعلت الحروف حرفا واحدا، قال: جاءني حذيفة فقال: ما كنت (صانعا) (١٥) إذا قيل: قراءة فلان وقراءة فلان (وقراءة فلان) (١٦) ، كما اختلف اهل (الكتاب) (١٧) فإن يك صوابا فمن الله، وإن يك خطا فمن حذيفة. قالوا: (ننقم) (١٨) عليك انك حميت الحمى، قال: جاءتني قريش فقالت: إنه ليس من العرب قوم إلا لهم حمى يرعون فيه (غيرنا) (١٩) ، ( (ففعلت) (٢٠) ذلك) (٢١) لهم؛ فإن رضيتم فاقروا، وإن كرهتم فغيروا، او قال: لا تقروا -شك ابو (محصن) (٢٢) . قالوا: و (ننقم) (٢٣) عليك انك استعملت السفهاء اقاربك، (قال) (٢٤) : فليقم اهل كل مصر (يسالوني) (٢٥) صاحبهم الذي يحبونه فاستعمله عليهم واعزل عنهم الذي يكرهون، قال: فقال اهل البصرة: رضينا بعبد الله بن عامر، فاقره علينا، ⦗٤٣٢⦘ وقال اهل الكوفة: اعزل (سعيدا) (٢٦) ، وقال الوليد: شك ابو (محصن) (٢٧) : واستعمل علينا ابا موسى ففعل، قال: وقال اهل الشام: قد رضينا بمعاوية فاقره علينا، وقال اهل مصر: اعزل عنا ابن ابي سرح واستعمل علينا عمرو بن العاص، ففعل، (قال) (٢٨) : فما جاءوا بشيء إلا خرج منه. قال: فانصرفوا راضين، فبينما بعضهم في بعض الطريق إذ مر بهم راكب فاتهموه ففتشوه، فاصابوا معه كتابا في (إدواة) (٢٩) إلى عاملهم ان (خذ) (٣٠) فلانا وفلانا فاضرب اعناقهم، قال: فرجعوا فبدءوا بعلي (٣١) (فجاء) (٣٢) معهم إلى عثمان، فقالوا: هذا كتابك وهذا خاتمك، فقال عثمان: والله ما كتبت، ولا علمت، ولا امرت، قال: (فمن) (٣٣) تظن؟ -قال: ابو (محصن) (٣٤) (تتهم) (٣٥) - قال: اظن كاتبي غدر واظنك (به) (٣٦) يا علي، قال: فقال له علي: ولم تظنني بذاك؟ قال: لانك مطاع عند (القوم) (٣٧) ، قال: ثم لم تردهم عني. ⦗٤٣٣⦘ قال: (فابى) (٣٨) القوم والحوا عليه حتى حصروه، قال: فاشرف عليهم وقال: بم تستحلون دمي؟ فوالله ما حل دم امرئ مسلم إلا بإحدى ثلاث: مرتد عن الإسلام او ثيب زان او قاتل نفس، فوالله ما (عملت) (٣٩) شيئا منهن منذ اسلمت، قال: فالح القوم عليه. قال: وناشد عثمان الناس ان لا تراق فيه (محجمة) (٤٠) من دم، فلقد رايت ابن الزبير يخرج عليهم في كتيبة حتى يهزمهم، لو شاءوا ان يقتلوا منهم لقتلوا، قال: ورايت سعيد بن الاسود (بن) (٤١) البختري وإنه ليضرب رجلا بعرض السيف لو شاء ان (يقتله) (٤٢) لقتله، ولكن عثمان عزم على الناس فامسكوا. قال: فدخل عليه ابو عمرو بن بديل الخزاعي (٤٣) (و) (٤٤) التجيبي، قال. فطعنه احدهما بمشقص في اوداجه وعلاه الآخر بالسيف فقتلوه، ثم انطلقوا (هرابا) (٤٥) يسيرون بالليل ويكمنون بالنهار حتى اتوا بلدا بين مصر والشام، قال: (فكمنوا) (٤٦) في غار. قال: فجاء نبطي من تلك البلاد معه حمار، قال: فدخل (ذباب) (٤٧) في منخر الحمار، قال: فنفر حتى دخل عليهم الغار، وطلبه صاحبه فرآهم: ⦗٤٣٤⦘ فانطلق إلى عامل معاوية، (قال) (٤٨) : فاخبره بهم، قال: فاخذهم معاوية فضرب اعناقهم (٤٩) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (محض).
(٢) في [س]: (جهيم)، وانظر: الجرح والتعديل ٢/ ٥٤٠، وتاريخ الإسلام ٥/ ٣٤٨.
(٣) في [ص]: (أخبرنا).
(٤) في [أ، ب]: (اتنا)، وفي [هـ]: (أتينا).
(٥) في [س]: (أشرف)، وفي [ع]: (أشرب)، وفي [هـ]: (أشرن).
(٦) في [س]: (محض).
(٧) في [س]: (انشرن)، وفي [ع]: (أشرب).
(٨) في [أ، ب]: (هل).
(٩) في [س]: (ننتقم).
(١٠) في [أ، ب، ط، هـ]: (رسول).
(١١) في [أ، ب]: (فهذا).
(١٢) في [أ، هـ]: (فيصطبر)، وفي [ع]: (فليضطر)، وفي [س]: (فليضطبر).
(١٣) في [س]: (محض).
(١٤) في [أ، ب، س]: (يقتض].
(١٥) في [أ]: (ضايعًا).
(١٦) سقط من: [س].
(١٧) في [س]: (الاختلاف).
(١٨) في [س]: (انتقم).
(١٩) في [ط، هـ]: (غيرها).
(٢٠) في [هـ]: (فقلت).
(٢١) في [أ، ب، جـ، س، ع]: (ففعلت لهم ذلك).
(٢٢) في [س]: (محض).
(٢٣) في [أ، ب، ط]: (وتنقم).
(٢٤) سقط من: [هـ].
(٢٥) في [س]: (سألوني).
(٢٦) في [س]: (سعدًا).
(٢٧) في [س]: (محض).
(٢٨) سقط من: [س].
(٢٩) في [أ، ب، س]: (أداوة).
(٣٠) في [جـ]: (خذو).
(٣١) في [ع]: زيادة (فأتوه).
(٣٢) في [ب]: (في).
(٣٣) في [هـ]: (فما).
(٣٤) في [س]: (محض).
(٣٥) في [أ، ب، س]: (يهتم).
(٣٦) سقط من: [س].
(٣٧) في [أ، ب]: (القول).
(٣٨) في [أ، ب]: (فأتى).
(٣٩) في [أ، ب، جـ]: (عملت).
(٤٠) في [س]: (فحجمة).
(٤١) سقط من: [أ، ط، هـ].
(٤٢) في [ب، ط، هـ]: (تقتله).
(٤٣) كذا في هذه الرواية.
(٤٤) سقط من: [هـ].
(٤٥) في [س]: (هرابًا)، وفي [ب]: (هربًا).
(٤٦) في [س]: (فمكثوا).
(٤٧) في [س]: (ذبان).
(٤٨) سقط من: [ع].
(٤٩) مجهول؛ لجهالة جهم الفهري، وأخرجه البخاري في التاريخ الصغير ١/ ٨٤ والأوسط ١/ ١٨٣، وابن شبه (١٩١٦، ١٩٤١، ٢٠٠٧، ٢٣٦٧)، وابن عساكر ٣٩/ ٣٩٨، وابن قتيبة في غريب الحديث ٢/ ٦٤، والأصفهاني في الأغاني ١٢/ ١٦٩.
جہم فہری سے منقول ہے کہتے ہیں کہ میں نے اس معاملہ کو ازخود مشاہدہ کیا کہ سعد اور عمارہ نے حضرت عثمان کو پیغام بھیجا کہ آپ ہمارے پاس آئیں ہم آپ کو ایسی چیزوں کے بارے میں بتانا چاہتے ہیں جو آپ نے نئی نکالی ہیں۔ حضرت عثمان نے پیغام بھیجا کہ آپ آج چلے جائیں آج میں مصروف ہوں فلاں دن تم سے ملاقات کے لیے مقرر ہے تا کہ میں خصومت کے لیے تیار ہوجاؤں ابو محصن کہتے ہیں کہ اشزن کا معنی ہے میں تمہارے ساتھ خصومت کے لیے تیار ہوجاؤں۔ سعد تو واپس چلے گئے عمار نے واپس جانے سے انکار کردیا ابو محصن نے یہ دودفعہ فرمایا۔ تو حضرت عثمان کے قاصد نے ان کو پکڑ کر مارا۔ پس مقررہ دن جب وہ سب جمع ہوئے تو حضرت عثمان نے ان سے کہا تم کس چیز پر مجھ سے ناراض ہو؟ تو انہوں نے کہا کہ آپ نے جو عمارکو مارا ہے اس پر ہم ناراض ہیں حضرت عثمان نے فرمایا کہ سعد اور عمار آئے تھے میں نے ان کو پیغام بھیجا کہ وہ چلے جائیں سعد تو چلے گئے مگر عمار نے انکار کیا تو میرے قاصد نے میرے حکم کے بغیر اس کو مارا اللہ کی قسم نہ تو میں نے اس کا حکم دیا تھا اور نہ ہی میں اس پر راضی تھا۔ پھر بھی میں حاضر ہوں! عمار اپنا بدلہ لے لیں ابو محصن لیصطبر کا مطلب قصاص لینا بتلاتے ہیں۔ پھر وہ کہنے لگے ہم آپ سے ناراض ہیں کہ آپ نے مختلف حروف کو (قراء توں) ایک ہی حرف بنادیا حضرت عثمان نے فرمایا میرے پاس حذیفہ رضی اللہ عنہائے تھے پس انہوں نے کہا کہ آپ اس وقت کیا کرسکیں گے جب کہا جائے گا فلاں کی قراءت، فلاں کی قراءت اور فلاں کی قراءت جیسے اہل کتاب نے اپنی کتابوں میں اختلاف کیا؟ پس اگر یہ عمل (ایک قراءت پر عربوں کو جمع کرنا) درست ہے تو یہ اللہ کی طرف سے ہے اور اگر غلط ہے تو حذیفہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے ہے۔ پھر انہوں نے کہا کہ ہم آپ سے اس بات پر بھی ناراض ہیں کہ آپ نے چراگاہیں مقرر کردیں ہیں۔ حضرت عثمان نے فرمایا میرے پاس قریش آئے تھے اور کہا تھا کہ عرب کی ہر قوم کے پاس چراگاہ موجود ہے سوائے ہمارے تو میں نے ان کے لیے چراگاہ مقرر کردی اگر تم راضی ہو تو اسے برقرار رکھو اور اگر تمہیں ناگواری ہوتی ہے تو اسے بدل دو یا یہ فرمایا کہ تم مقرر نہ کرو ابو محصن کو اس میں شک ہوا ہے۔ پھر کہنے لگے کہ ہم آپ سے اس وجہ سے ناراض ہیں کہ آپ نے ہمارے اوپر اپنے اقرباء ناسمجھ لوگوں کو مسلط کردیا ہے۔ حضرت عثمان نے فرمایا ہر شہر والے کھڑے ہوں اور مجھے بتائیں جسے وہ پسند کرتے ہیں میں اس کو گورنر بنا دونگا اور جس کو ناپسند کرتے ہیں اس کو معزول کر دونگا۔ پس اہل بصرہ نے کہا ہم عبداللہ بن عامر سے راضی ہیں انہی کو برقرار رکھیے۔ پھر کوفہ والوں نے کہا سعید کو معزول کردیا جائے (ولید کہتے ہیں کہ ابو محصن کو شک ہوا ہے) اور ابو موسیٰ کو ہم پر گورنر بنایا جائے۔ پس حضرت عثمان نے ایسا ہی کیا۔ اہل شام نے کہا ہم حضرت معاویہ سے راضی ہیں ہم پر انہیں ہی برقرار رکھیے۔ اور اہل مصر نے کہا ابن ابو سرح کو معزول کرکے عمرو بن عاص کو گورنر بنایا جائے۔ حضرت عثمان نے ایسا کردیا۔ انہوں نے جس جس شئے کا تقاضہ کیا اسے انہوں نے حاصل کرلیا اور بخوشی واپس لوٹ گئے۔ ابھی وہ راستے میں تھے کہ ان کے پاس سے ایک سوار گزرا پس ان کو اس پر شک ہواتو انہوں نے اس سے تحقیق کی تو اس کے پاس سے چمڑے کے برتن سے ایک خط برآمد ہوا جو ان کے عامل کے نام تھا۔ اس کا مضمون تھا کہ تم فلاں فلاں کی گردن ماردو۔ پس وہ لوٹے اور علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں گئے پھر ان کے ساتھ علی رضی اللہ عنہ حضرت عثمان کے پاس گئے پھر انہوں نے حضرت عثمان سے کہا یہ رہا آپ کا خط اور یہ رہی آپ کی مہر۔ حضرت عثمان نے فرمایا اللہ کی قسم نہ میں نے خط لکھا اور نہ میں اس کے بارے کچھ جانتا ہوں اور نہ ہی میں نے اس کا حکم دیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا پھر آپ کے خیال میں کون ہوسکتا ہے لکھنے والا ابو محصن کہتے ہیں یا کہا پھر آپ کس پر تہمت لگائیں گے؟ حضرت عثمان نے فرمایا میرا خیال ہے میرے کاتب نے دھوکہ دہی سے کام لیا ہے، اور مجھے اے علی رضی اللہ عنہاپ پر بھی شک ہے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ لوگ آپ کی اطاعت کرنے والے ہیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا پھر آپ نے ان کو مجھ سے پھیر کیوں نہیں دیا۔ ان لوگوں نے آپ کا اعتبار نہ کیا اور اپنی ضد پر اڑے رہے یہاں تک کہ حضرت عثمان کا محاصرہ کرلیا۔ پھر حضرت عثمان ان کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا تم میرے خون کو حلال سمجھتے ہو؟ اللہ کی قسم مسلمان کا خون حلال نہیں مگر تین وجہ سے ایک یہ کہ وہ مرتد ہوجائے، دوسرا شادی شدہ زانی اور تیسرا کسی کو قتل کرنے والا۔ اللہ کی قسم میں نہیں سمجھتا کہ جب سے میں اسلام لایا ہوں ان میں سے کسی کا ارتکاب کیا ہو۔ راوی کہتے ہیں کہ وہ لوگ اپنی ضد پر ڈٹے رہے۔ پھر حضرت عثمان نے لوگوں سے مطالبہ کیا کہ وہ خونریزی نہ کریں۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے ابن زبیر کو دیکھا کہ وہ ایک لشکر میں نکلے تا کہ ان باغیوں کو مغلوب کریں اگر وہ چاہتے کہ باغیوں کو قت [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40491]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40491، ترقيم محمد عوامة 38846)
ترقیم عوامۃ: 38847 ترقیم الشثری: -- 40492
٤٠٤٩٢ - حدثنا عبد الله بن بكر قال: حدثنا حاتم بن ابي (صغيرة) (١) عن عمرو ابن دينار قال: لما ذكروا من شان عثمان الذي ذكروا اقبل عبد الرحمن بن عوف في نفر من اصحابه حتى دخلوا على عبد الله بن عمر (فقالوا) (٢) : يا ابا عبد الرحمن الا ترى ما قد احدث هذا الرجل؟ فقال: بخ، بخ، فما تامروني؟ تريدون ان تكونوا مثل الروم و (فارس) (٣) إذا غضبوا على ملك قتلوه، قد ولاه الله الذي ولاه فهو اعلم لست بقائل في شانه شيئا (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، س]: (مغيرة).
(٢) في [أ، ب]: (فقال).
(٣) في [س]: (الفارس).
(٤) منقطع؛ عمرو بن دينار لم يدرك زمن عثمان.
عمرو بن دینار سے منقول ہے کہتے ہیں جب حضرت عثمان کے بارے میں تذکرہ ہوا جس طرح تذکرے لوگ کرتے ہیں تو عبدالرحمن اپنے کچھ ساتھیوں کے ساتھ تشریف لائے اور حضرت عبداللہ بن عمر کے پاس آئے۔ پس لوگوں نے کہا اے عبدالرحمن کیا آپ نہیں دیکھتے کہ اس آدمی (حضرت عثمان) نے کتنی چیزیں پیدا کردیں؟ حضرت عبدالرحمن نے فرمایا واہ بھئی واہ تم مجھے کس بات کا حکم دے رہے ہو؟ کیا تم چاہتے ہو تم روم اور فارس والوں کی طرح ہوجاؤ کہ جب وہ اپنے بادشاہ سے ناراض ہوتے تو اسے قتل کردیتے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ امارت سونپی ہے کہ وہی زیادہ بہتر جاننے والا ہے میں ان کی شان میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40492]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40492، ترقيم محمد عوامة 38847)
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 40493
٤٠٤٩٣ - حدثنا اسود بن عامر قال: حدثنا حماد بن سلمة عن علي بن زيد عن بشر بن (شغاف) (١) قال: سالني عبد الله بن سلام عن الخوارج فقلت: (هم) (٢) اطول الناس صلاة (واكثرهم صوما) (٣) غير انهم إذا خلفوا (الجسر) (٤) اهراقوا ⦗٤٣٥⦘ الدماء واخذوا الاموال، قال: لا (تسال) (٥) عنهم (إلا ذا) (٦) ، (اما) (٧) إني قد قلت لهم: لا تقتلوا عثمان، دعوه، فوالله لئن تركتموه إحدى عشرة ليموتن على (فراشه موتا) (٨) فلم يفعلوا، وإنه لم يقتل نبي إلا قتل به سبعون الفا (من الناس) (٩) ولم يقتل خليفة إلا قتل به خمسة وثلاثون الفا (١٠) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (شغًا).
(٢) في [هـ]: (لهم).
(٣) في [أ، ب]: (وأكثر صوامًا)، وفي [س، جـ]: (أكثر صومًا).
(٤) في [س]: (الجسد).
(٥) في [س]: (يسأل).
(٦) في [أ، ب]: (إلا إذا).
(٧) في [ع]: (إيما).
(٨) سقط من: [أ، ب، ع].
(٩) سقط من: [س].
(١٠) ضعيف؛ لضعف علي بن زيد بن جدعان.
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40493، ترقيم محمد عوامة ---)
ترقیم عوامۃ: 38849 ترقیم الشثری: -- 40494
٤٠٤٩٤ - حدثنا علي بن حفص قال: حدثنا محمد بن طلحة عن عاصم بن كليب الجرمي عن ابي قلابة قال: جاء الحسن بن علي إلى عثمان (فقال) (١) : اخترط سيفي، (قال) (٢) : (لا، ابرا إلى الله) (٣) إذن من دمك، ولكن (شم) (٤) سيفك وارجع إلى ابيك (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (قال).
(٢) في [س]: (فقال).
(٣) في [جـ]: (لا أبرأ إلى اللَّه)، وفي [س]: (لا أبرأ واللَّه)، وفي [ع]: (لا أبروا إلى اللَّه).
(٤) أي: أغمده، وفي [أ، هـ]: (ثم).
(٥) منقطع؛ أبو قلابة لا يروي عن عثمان.
ابو قلابہ سے منقول ہے کہ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ حضرت عثمان کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ میں اپنی تلوار سونت لوں؟ (میں باغیوں سے لڑائی کے لیے تیار ہوں) حضرت عثمان نے فرمایا، تب میں اللہ کے سامنے تمہارے خون سے بری ہوں۔ تم اپنی تلوار وہیں (نیام میں) رکھو اور اپنے گھر چلے جاؤ۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40494]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40494، ترقيم محمد عوامة 38849)
ترقیم عوامۃ: 38850 ترقیم الشثری: -- 40495
٤٠٤٩٥ - حدثنا عبد الله بن نمير عن الاعمش قال: دخلنا على (ابن) (١) ابي (الهذيل) (٢) فقال: قتلوا عثمان ثم اتوني، (٣) فقلنا له: اتريبك نفسك.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ب].
(٢) في [هـ]: (هذيل).
(٣) في [ع]: زيادة (قال).
اعمش سے منقول ہے کہ ہم ابن ابو ہذیل کے پاس آئے تو انہوں نے کہا کہ انہوں نے کہا کہ انہوں نے حضرت عثمان کو شہید کردیاوہ پھر میرے پس آئے ہم نے کہا تم کو شک تو نہیں ہوا کہیں؟ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40495]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40495، ترقيم محمد عوامة 38850)
ترقیم عوامۃ: 38851 ترقیم الشثری: -- 40496
٤٠٤٩٦ - حدثنا غندر وابو اسامة (قالا) (١) : (اخبرنا) (٢) شعبة عن سعد بن إبراهيم عن ابيه قال: سمعته (٣) يقول: هاتان رجلاي، فإن كان في كتاب الله ان تجعلوهما في القيود فاجعلوهما في القيود (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س، ع]: (قال).
(٢) في [ع]: (أخبرني).
(٣) أي: عثمان كما في مصادر التخريج.
(٤) صحيح؛ أخرجه أحمد في فضائل الصحابة (٧٩٧)، وابنه عبد اللَّه في زوائد المسند ١/ ٧٢ (٥٢٤)، والخلال في السنة (٤٢٤)، وابن سعد ٣/ ٦٩، وابن شبه (٢٠٨٢)، وأبو نعيم في الإمامة (١٢٤)، وابن عساكر ٣٩/ ٣٤٧.
سور بن ابراہیم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے ان کو فرماتے ہوئے سنا کہ یہ میرے دو پاؤں ہیں اگر کلام اللہ اس بات کی اجازت دیتا کہ ان کو قید میں ڈال دو تو میرے دونوں پاؤں میں بیڑیاں ڈال دو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40496]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40496، ترقيم محمد عوامة 38851)
ترقیم عوامۃ: 38852 ترقیم الشثری: -- 40497
٤٠٤٩٧ - حدثنا ابو اسامة عن هشام عن محمد قال: قال حذيفة حين قتل عثمان: اللهم إن كانت العرب اصابت بقتلها عثمان خيرا او رشدا او رضوانا فإني بريء منه، وليس لي فيه نصيب، وإن كانت العرب اخطات بقتلها عثمان فقد علمت براءتي، قال: اعتبروا قولي (ما) (١) اقول لكم، والله إن كانت العرب اصابت بقتلها عثمان (لتحتلبن) (٢) به (لبنا) (٣) ، [ولئن كانت العرب اخطات بقتلها عثمان (لتحتلبن) (٤) به دما] (٥) (٦) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (بما).
(٢) في [س]: (لتجتلبن)، وفي [ع]: (لتحلبن).
(٣) في [ع]: (دمًا).
(٤) في [س]: (لتجتلبن).
(٥) سقط ما بين المعكوفين من: [ع].
(٦) صحيح؛ أخرجه أحمد في فضائل الصحابة (٨٠١)، وابن سعد ٣/ ٨٣.
محمد سے منقول ہے کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے حضرت عثمان کے قتل کے وقت فرمایا کہ اے اللہ اگر اہل عرب نے حضرت عثمان کو شہید کر کے اچھا کیا یعنی خیرو ہدایت اور تیری رضا کی خاطر، تو میں اس سے بری ہوں اور میرا اس میں کچھ حصہ نہیں اور اگر اہل عرب نے ان کو شہید کرکے غلطی کی تو میری براءت کے بارے میں تو جانتا ہی ہے۔ پھر فرمایا میری اس بات سے عبرت حاصل کرو جو میں تم سے کہہ رہا ہوں اللہ کی قسم اگر اہل عرب نے ان کے قتل میں بھلائی کی تو عنقریب وہ اس کا نفع دیکھ لیں گے اور اگر انہوں نے اس میں غلطی کی تو اس کا خونی نقصان بھی دیکھ لیں گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40497]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40497، ترقيم محمد عوامة 38852)