🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (4836)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم العلمیہ سے تلاش کل احادیث (4750)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

66. بَابُ التَّيَمُّمِ
باب۔ تیمم کا بیان
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 667 ترقیم الرسالہ : -- 679
حَدَّثَنَا بَدْرُ بْنُ الْهَيْثَمِ ، نا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، ثنا عَبْدَةُ بْنُ سَلْمَانَ، عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" رُخِّصَ لِلْمَرِيضِ التَّيَمُّمُ بِالصَّعِيدِ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: بیمار شخص کو مٹی کے ذریعے تیمم کرنے کی اجازت ہے۔ [سنن الدارقطني/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 679]
ترقیم العلمیہ: 667
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 145، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 272، والضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 314، 365، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 590، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 1082، 1083، 1084، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 678، 679، 680، والبزار فى ((مسنده)) برقم: 5058، 5077، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 869، 874، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 1076»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 668 ترقیم الرسالہ : -- 680
حَدَّثَنَا الْمَحَامِلِيُّ، قَالَ: كَتَبَ إِلَيْنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ، نَحْوَهُ. رَوَاهُ عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ، عَنْ عَطَاءٍ، وَرَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَوَقَفَهُ وَرْقَاءُ، وَأَبُو عَوَانَةَ وَغَيْرُهُمَا. وَهُوَ الصَّوَابُ.
عطاء نے یہ روایت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک، مرفوع، حدیث کے طور پر نقل کی ہے، جبکہ دیگر روایوں نے اسے موقوف روایت کے طور پر نقل کیا ہے۔ [سنن الدارقطني/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 680]
ترقیم العلمیہ: 668
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 145، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 272، والضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 314، 365، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 590، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 1082، 1083، 1084، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 678، 679، 680، والبزار فى ((مسنده)) برقم: 5058، 5077، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 869، 874، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 1076»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 669 ترقیم الرسالہ : -- 681
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي دَاوُدَ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ . ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمَالِكِيُّ ، بِالْبَصْرَةِ، ثنا أَبُو مُوسَى ، ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ أَخُو كَرْخَوَيْهِ. ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نا أَبُو الأَزْهَرِ ، قَالُوا: نا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، نا أَبِي ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ أَيُّوبَ ، يُحَدِّثُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ: احْتَلَمْتُ فِي لَيْلَةٍ بَارِدَةٍ وَأَنَا فِي غَزْوَةِ ذَاتِ السَّلاسِلِ، فَأَشْفَقْتُ إِنِ اغْتَسَلْتُ أَنْ أَهْلَكَ، فَتَيَمَّمْتُ ثُمَّ صَلَّيْتُ بِأَصْحَابِي الصُّبْحَ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ" يَا عَمْرُو، صَلَّيْتَ بِأَصْحَابِكَ وَأَنْتَ جُنُبٌ؟"، فَأَخْبَرْتُهُ بِالَّذِي مَنَعَنِي مِنَ الاغْتِسَالِ، فَقُلْتُ: إِنِّي سَمِعْتُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، يَقُولُ: وَلا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا سورة النساء آية 29، فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يَقُلْ لِي شَيْئًا . وَالْمَعْنَى مُتَقَارِبٌ.
سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ مجھے سردیوں کی رات میں احتلام ہوا۔ یہ غزوہ ذات السلاسل کی بات ہے۔ مجھے اندیشہ ہوا کہ اگر میں نے غسل کیا تو ہلاک ہو جاؤں گا، اس لیے میں نے تیمم کر کے اپنے ساتھیوں کو صبح کی نماز پڑھائی۔ بعد میں اس بات کا تذکرہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا گیا تو آپ نے دریافت کیا: اے عمرو! تم نے جنابت کی حالت میں اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھائی؟ میں نے آپ کو وہ وجہ بتائی جس نے مجھے غسل سے روکا تھا۔ میں نے عرض کیا: میں نے اللہ تعالیٰ کو یہ فرماتے سنا ہے: تم اپنے آپ کو قتل نہ کرو، بیشک اللہ تمہارے بارے میں بڑا رحم فرمانے والا ہے۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور کچھ نہ فرمایا۔ [سنن الدارقطني/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 681]
ترقیم العلمیہ: 669
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1315، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 633، 634، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 334، بدون ترقيم، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 1087، 1088، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 681، 682، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 18091، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 878، والطحاوي فى ((شرح مشكل الآثار)) برقم: 2457»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 670 ترقیم الرسالہ : -- 682
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ ، ثنا عَمِّي ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ ، كَانَ عَلَى سَرِيَّةٍ، وَأَنَّهُمْ أَصَابَهُمْ بَرْدٌ شَدِيدٌ، لَمْ يَرَوْا مِثْلَهُ، فَخَرَجَ لِصَلاةِ الصُّبْحِ، فَقَالَ: وَاللَّهِ لَقَدِ احْتَلَمْتُ الْبَارِحَةَ، وَلَكِنْ وَاللَّهِ مَا رَأَيْتُ بَرْدًا مثل هَذَا مَرَّ عَلَى وُجُوهِكُمْ مِثْلُهُ، فَغَسَلَ مَغَابِنَهُ وَتَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلاةِ، ثُمَّ صَلَّى بِهِمْ فَلَمَّا، قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، سَأَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصْحَابَهُ:" كَيْفَ وَجَدْتُمْ عَمْرًا وَصَحَابَتِهِ لَكُمْ؟"، فَأَثْنَوْا عَلَيْهِ خَيْرًا، وَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، صَلَّى بِنَا وَهُوَ جُنُبٌ، فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عَمْرٍو، فَأَخْبَرَهُ بِذَلِكَ وَبِالَّذِي لَقِيَ مِنَ الْبَرْدِ، وَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ اللَّهَ قَالَ: وَلا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ سورة النساء آية 29، فَلَوِ اغْتَسَلْتُ مِتُّ، فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عَمْرٍو .
ابوقیس، جو سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے غلام ہیں، بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ ایک سریہ میں گئے ہوئے تھے۔ اس دوران انہیں شدید سردی کا سامنا کرنا پڑا، جو اس سے پہلے کبھی نہ دیکھی تھی۔ جب وہ صبح کی نماز کے لیے تشریف لے جانے لگے تو انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! مجھے کل رات احتلام ہوا تھا۔ ایسی سردی، اللہ کی قسم! میں نے کبھی نہیں دیکھی۔ پھر انہوں نے اپنے زانوں کو (جہاں احتلام کا نشان تھا) دھویا، نماز کا سا وضو کیا، اور اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھائی۔ جب وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے ان کے ساتھیوں سے پوچھا: تم نے عمرو کو کیسا پایا، اس کا ساتھ کیسا رہا؟ انہوں نے سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ کی بہت تعریف کی اور بتایا: یا رسول اللہ! ایک مرتبہ انہوں نے جنابت کی حالت میں ہمیں نماز پڑھائی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمرو کو بلایا۔ انہوں نے آپ کو صورت حال بتائی اور عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’تم اپنے آپ کو قتل نہ کرو۔‘ اگر میں اس وقت غسل کر لیتا تو مر جاتا۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے۔ [سنن الدارقطني/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 682]
ترقیم العلمیہ: 670
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1315، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 633، 634، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 334، بدون ترقيم، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 1087، 1088، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 681، 682، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 18091، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 878، والطحاوي فى ((شرح مشكل الآثار)) برقم: 2457»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 671 ترقیم الرسالہ : -- 683
وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ بْنِ دَبُوقَا ، نا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ . ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْمَحَامِلِيُّ ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ عَلِيٍّ ، قَالا: نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَرْبِيُّ ، نا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ . ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا أَبُو عَلِيٍّ بِشْرُ بْنُ مُوسَى ، نا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالا: نا الرَّبِيعُ بْنُ بَدْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنِ الأَسْلَعِ ، قَالَ: أَرَانِي كَيْفَ عَلَّمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التَّيَمُّمَ" فَضَرَبَ بِكَفَّيْهِ الأَرْضَ ثُمَّ نَفَضَهُمَا، ثُمَّ مَسَحَ بِهِمَا وَجْهَهُ، ثُمَّ أَمَّرَ عَلَى لِحْيَتِهِ، ثُمَّ أَعَادَهُمَا إِلَى الأَرْضِ فَمَسَحَ بِهِمَا الأَرْضَ، ثُمَّ دَلَكَ إِحْدَاهُمَا بِالأُخْرَى ثُمَّ مَسَحَ ذِرَاعَيْهِ ظَاهِرَهُمَا وَبَاطِنَهُمَا" . هَذَا لَفْظُ إِبْرَاهِيمَ الْحَرْبِيِّ، وَقَالَ يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ فِي حَدِيثِهِ: فَأَرَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ أَمْسَحُ فَمَسَحْتُ، قَالَ: فَضَرَبَ بِكَفَّيْهِ الأَرْضَ ثُمَّ رَفَعَهُمَا لِوَجْهِهِ، ثُمَّ ضَرَبَ ضَرْبَةً أُخْرَى فَمَسَحَ ذِرَاعَيْهِ بَاطِنَهُمَا وَظَاهِرَهُمَا حَتَّى مَسَّ بِيَدَيْهِ الْمِرْفَقَيْنِ.
ربیع بن بدر اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: سیدنا اسلع نے کہا: آپ مجھے دکھائیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو کس طرح تیمم کرنے کا طریقہ سکھایا تھا۔ تو انہوں نے اپنی دونوں ہتھیلیاں زمین پر ملیں، پھر ان پر پھونک ماری، پھر ان دونوں کے ذریعے اپنا چہرہ مبارک کا مسح کیا، یہاں تک کہ اپنی داڑھی کا بھی مسح کیا، پھر دونوں ہاتھوں کو زمین پر لگایا، ان کے ذریعے زمین کا مسح کیا، ان میں سے ایک کو دوسرے پر مل لیا۔ انہوں نے اپنی ہتھیلی کے باہر والے حصے اور اندرونی حصے کا مسح کیا۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سکھایا کہ میں کس طرح مسح کروں؟ راوی بیان کرتے ہیں: پھر انہوں نے اپنی دونوں ہتھیلیاں زمین پر رکھیں، پھر انہیں اپنا چہرہ مبارک کی طرف بلند کیا، پھر دوسری ضرب لگائی، پھر دونوں ہاتھوں کے ظاہری اور اندرونی حصے کا مسح کیا، یہاں تک کہ اپنے ہاتھوں کے ذریعے کہنیوں کا مسح کیا۔ [سنن الدارقطني/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 683]
ترقیم العلمیہ: 671
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 1017، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 683، والطحاوي فى ((شرح معاني الآثار)) برقم: 677، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 875، 876»
«قال ابن حجر: وفيه الربيع بن بدر وهو ضعيف، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (1 / 267)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 672 ترقیم الرسالہ : -- 684
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ . ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، قَالا: نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، نا الأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ وَأَبِي مُوسَى ، فَقَالَ أَبُو مُوسَى: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ رَجُلا أَجْنَبَ فَلَمْ يَجِدِ الْمَاءَ شَهْرًا أَكَانَ يَتَيَمَّمُ؟ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: لا يَتَيَمَّمُ، وَإِنْ لَمْ يَجِدِ الْمَاءَ شَهْرًا، فَقَالَ لَهُ أَبُو مُوسَى: فَكَيْفَ تَصْنَعُونَ بِهَذِهِ الآيَةِ فِي سُورَةِ الْمَائِدَةِ: فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا سورة المائدة آية 6، فَقَالَ لَهُ: لَوْ رُخِّصَ لَهُمْ فِي هَذَا لأَوْشَكُوا إِذَا بَرُدَ عَلَيْهِمُ الْمَاءُ أَنْ يَتَيَمَّمُوا بِالصَّعِيدِ، قَالَ: فَقَالَ لَهُ أَبُو مُوسَى: فَإِنَّمَا كَرِهْتُمْ هَذَا لِهَذَا؟ قَالَ: نَعَمْ، فَقَالَ لَهُ أَبُو مُوسَى: أَلَمْ تَسْمَعْ قَوْلَ عَمَّارٍ لِعُمَرَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ فَأَجْنَبْتُ فَلَمْ أَجِدِ الْمَاءَ فَتَمَرَّغْتُ فِي الصَّعِيدِ كَمَا تَمَرَّغُ الدَّابَّةُ، ثُمَّ جِئْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ أَنْ تَضْرِبَ بِيَدَيْكَ عَلَى الأَرْضِ ثُمَّ تَمْسَحَ إِحْدَاهُمَا عَلَى الأُخْرَى ثُمَّ تَمْسَحَ بِهِمَا وَجْهَكَ". فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: أَلَمْ تَرَ عُمَرُ لَمْ يَقْنَعْ بِقَوْلِ عَمَّارٍ، وَقَالَ يُوسُفُ:" أَنْ تَضْربَ بِكَفَّيْكَ عَلَى الأَرْضِ ثُمَّ تَمْسَحَهُمَا ثُمَّ تَمْسَحَ بِهِمَا وَجْهَكَ وَكَفَّيْكَ"، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَلَمْ تَرَ عُمَرَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، لَمْ يَقْنَعْ بِقَوْلِ عَمَّارٍ.
شقیق رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ میں سیدنا عبداللہ بن مسعود اور سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہما کے ساتھ بیٹھا تھا۔ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے ابوعبدالرحمن! آپ کا کیا خیال ہے اگر کوئی شخص جنبی ہو جائے اور اسے ایک ماہ تک پانی نہ ملے، کیا وہ تیمم کرتا رہے گا؟ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: وہ تیمم نہیں کرے گا، اگرچہ اسے ایک ماہ تک پانی نہ ملے۔ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر آپ سورۃ مائدہ کی اس آیت کے بارے میں کیا کہیں گے: ’اگر تم پانی نہ پاؤ تو پاک مٹی سے تیمم کر لو‘؟ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر لوگوں کو اس کی اجازت دے دی گئی تو عنقریب وہ پانی ٹھنڈا لگنے پر بھی تیمم کرنے لگیں گے۔ راوی بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوموسیٰ نے پوچھا: آپ اس وجہ سے اسے ناپسند کرتے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: ہاں۔ سیدنا ابوموسیٰ نے کہا: کیا آپ نے وہ بات نہیں سنی جو سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہی تھی؟ انہوں نے بیان کیا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک کام کے سلسلے میں بھیجا۔ میں جنبی ہو گیا اور پانی نہ ملا۔ میں مٹی میں لوٹ پوٹ ہو گیا جیسے کوئی جانور ہوتا ہے۔ پھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس کا تذکرہ کیا۔ آپ نے فرمایا: تمہارے لیے اتنا کافی تھا کہ تم اپنے دونوں ہاتھ زمین پر مار کر ایک سے دوسرے پر مسح کر لیتے، پھر ان سے اپنے چہرے کا مسح کر لیتے۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کے بیان پر قناعت نہیں کی؟ یوسف رحمہ اللہ کے الفاظ ہیں: تم اپنے دونوں ہاتھ زمین پر مار کر ان کا مسح کرو، پھر ان سے اپنے چہرے اور دونوں بازوؤں کا مسح کر لو۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کے بیان پر اکتفا نہیں کیا؟ [سنن الدارقطني/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 684]
ترقیم العلمیہ: 672
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 345، 346، 347، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 368، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 270، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1304، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 684، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 18618»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 673 ترقیم الرسالہ : -- 685
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِيُّ ، نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ جَابِرٍ ، نا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ مُطَرِّفٍ ، ثنا عَلِيُّ بْنُ ظَبْيَانَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" التَّيَمُّمُ ضَرْبَتَانِ ضَرْبَةً لِلْوَجْهِ، وَضَرْبَةً لِلْيَدَيْنِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ" . كَذَا رَوَاهُ عَلِيُّ بْنُ ظَبْيَانَ مَرْفُوعًا، وَوَقَفَهُ يَحْيَى بْنُ الْقَطَّانِ، وَهُشَيْمٌ وَغَيْرُهُمَا. وَهُوَ الصَّوَابُ.
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: تیمم میں دو ضربیں ہوتی ہیں۔ ایک ضرب چہرہ مبارک کے لیے ہوتی ہے اور ایک دونوں بازوؤں کے لیے کہنیوں تک (مسح) کرنے کے لیے ہوتی ہے۔ علی بن ظبیان نامی راوی نے اس کو مرفوع روایت کے طور پر نقل کیا ہے، جسے دیگر آدمیوں نے موقوف کے طور پر نقل کیا ہے اور یہی درست ہے۔ [سنن الدارقطني/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 685]
ترقیم العلمیہ: 673
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 370، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 176، 177، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 73، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1316، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 639، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم:، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 16، 330، 331، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 90، 2720، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 353، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 676، 677، 685، 686، 687، 688، 689، 690»
«قال ابن حجر: إسناده ضعيف، فتح الباري شرح صحيح البخاري: (1 / 525)»

الحكم على الحديث: [إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 674 ترقیم الرسالہ : -- 686
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا حَفْصُ بْنُ عَمْرٍو، نا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، نا عُبَيْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ. ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ، نا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، نا هُشَيْمٌ، نا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، وَيُونُسُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ:" التَّيَمُّمُ ضَرْبَتَانِ ضَرْبَةً لِلْوَجْهِ وَضَرْبَةً لِلْكَفَّيْنِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما یہ فرماتے ہیں: تیمم میں دو ضربیں ہوتی ہیں۔ ایک ضرب چہرہ مبارک کے لیے اور ایک ضرب دونوں بازوؤں پر کہنیوں تک (مسح کرنے کے لیے) ہوتی ہے۔ [سنن الدارقطني/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 686]
ترقیم العلمیہ: 674
تخریج الحدیث: «موقوف صحيح، وأخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 370، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 176، 177، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 73، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1316، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 639، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم:، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 16، 330، 331، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 90، 2720، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 353، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 676، 677، 685، 686، 687، 688، 689، 690»
«قال ابن حجر: صحح الأئمة وقفه، تحفة الأحوذي شرح سنن الترمذي: (1 / 132)»

الحكم على الحديث: موقوف صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 675 ترقیم الرسالہ : -- 687
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ ،" كَانَ يَتَيَمَّمُ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ" .
نافع بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہنیوں تک تیمم کیا کرتے تھے۔ [سنن الدارقطني/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 687]
ترقیم العلمیہ: 675
تخریج الحدیث: «موقوف صحيح، وأخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 370، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 176، 177، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 73، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1316، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 639، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم:، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 16، 330، 331، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 90، 2720، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 353، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 676، 677، 685، 686، 687، 688، 689، 690»
«قال ابن حجر: صحح الأئمة وقفه، تحفة الأحوذي شرح سنن الترمذي: (1 / 132)»

الحكم على الحديث: موقوف صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 676 ترقیم الرسالہ : -- 688
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الأُبُلِّيُّ ، ثنا الْهَيْثَمُ بْنُ خَالِدٍ ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ ، نا سُلَيْمَانُ بْنُ أَرْقَمَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ:" تَيَمَّمْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَرَبْنَا بِأَيْدِينَا عَلَى الصَّعِيدِ الطِّيبِ، ثُمَّ نَفَضْنَا أَيْدِيَنَا فَمَسَحْنَا بِهَا وُجُوهَنَا، ثُمَّ ضَرَبْنَا ضَرْبَةً أُخْرَى الصَّعِيدَ الطِّيبَ، ثُمَّ نَفَضْنَا أَيْدِيَنَا فَمَسَحْنَا بِأَيْدِينَا مِنَ الْمَرَافِقِ إِلَى الأَكُفِّ عَلَى مَنَابِتِ الشَّعْرِ مِنْ ظَاهِرٍ وَبَاطِنٍ" .
سالم اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ آپ کے زمانہ اقدس میں تیمم کیا۔ ہم اپنے ہاتھ صاف مٹی پر مارتے تھے اور پھر اپنے ہاتھوں کو جھاڑتے تھے اور پھر اس کے ذریعے اپنا چہرہ مبارک کا مسح کرتے تھے، پھر ہم دوبارہ صاف ہاتھ مٹی پر مارتے تھے اور پھر ان کو جھاڑتے تھے اور اپنے بازوؤں کا کہنیوں سے لے کر ہتھیلیوں تک بالوں کی جڑوں تک اندرونی اور بیرونی حصے کا مسح کیا کرتے تھے۔ [سنن الدارقطني/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 688]
ترقیم العلمیہ: 676
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 370، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 176، 177، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 73، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1316، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 639، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم:، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 16، 330، 331، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 90، 2720، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 353، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 676، 677، 685، 686، 687، 688، 689، 690»
«قال ابن حجر: فيه سليمان بن أرقم وهو متروك، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (1 / 267)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں