سنن سعید بن منصور سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شرکۃ الحروف
ترقيم دار السلفیہ
عربی
اردو
125. بَابُ الرَّجُلِ يُطَلِّقُ امْرَأَتَهُ ثُمَّ يَقْذِفُهَا فِي عِدَّتِهَا
باب: اس شخص کا بیان جو اپنی بیوی کو طلاق دے، پھر عدت کے دوران اس پر زنا کا الزام لگا دے۔
ترقیم دار السلفیہ: 1568 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 2746
نا نا هُشَيْمٌ، أنا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ حَيَّانَ الأَزْدِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ قَالَ فِي رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثُمَّ قَذَفَهَا فِي الْعِدَّةِ , قَالَ:" إِنْ كَانَ طَلَقَّهَا ثَلاثًا جُلِدَ، وَأُلْحِقَ بِهِ الْوَلَدُ، وَلَمْ يُلاعِنْ , وَإِنْ طَلَّقَهَا وَاحِدَةً لاعَنَهَا" . َقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : " إِنْ طَلَّقَهَا ثَلاثًا ثُمَّ قَذَفَهَا فِي الْعِدَّةِ لاعَنَهَا" , وَقَالَ جَابِرُ بْنُ زَيْدٍ: قَوْلُ ابْنِ عُمَرَ أَحَبُّ إِلَيْنَا مِمَّا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اگر کسی نے اپنی بیوی کو طلاق دی پھر عدت میں اس پر تہمت لگائی تو اگر تین طلاقیں دے چکا ہو تو حد لگائی جائے گی اور بچہ اس کا ہو گا، اور اگر ایک طلاق دی ہو تو لعان کیا جائے گا، جابر بن زید نے فرمایا: ابن عمر کا قول ابن عباس سے زیادہ پسندیدہ ہے۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 2746]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 1568، 1569»
الحكم على الحديث: إسناده حسن
ترقیم دار السلفیہ: 1569 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 2747
و حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أنا هَارُونُ السُّلَمِيُّ، عَنْ عُمَرَ بْنِ هُرْمُزَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ مِثْلَ ذَلِكَ.
سیدنا ابن عمر اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اسی طرح روایت ہے۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 2747]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 1568، 1569»
الحكم على الحديث: إسناده حسن
ترقیم دار السلفیہ: 1570 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 2748
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أنا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: " يُلاعِنُهَا إِذَا طَلَّقَهَا ثَلاثًا، ثُمَّ قَذَفَهَا فِي الْعِدَّةِ" .
حضرت حسن رحمہ اللہ نے فرمایا: اگر کسی نے تین طلاقیں دے کر عدت میں بیوی پر تہمت لگائی تو لعان کرے گا۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 2748]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 1570، 1574»
ترقیم دار السلفیہ: 1571 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 2749
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنِ الْحَسَنِ، فِي رَجُلٍ يَقْذِفَ امْرَأَتَهُ ثُمَّ طَلَّقَهَا ثَلاثًا , قَالَ:" لا يُلاعِنُ" .
حضرت حسن رحمہ اللہ نے فرمایا: اگر کسی نے پہلے بیوی پر تہمت لگائی پھر تین طلاقیں دیں تو لعان نہیں ہو گا۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 2749]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 1571، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 12392»
ترقیم دار السلفیہ: 1572 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 2750
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أنا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: " إِذَا طَلَّقَهَا طَلاقًا بَائِنًا ثُمَّ قَذَفَهَا فِي الْعِدَّةِ لاعَنَهَا" .
حضرت ابراہیم رحمہ اللہ نے فرمایا: اگر طلاق بائن کے بعد عدت میں بیوی پر تہمت لگائی جائے تو لعان ہو گا۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 2750]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح مقطوع، و «انفرد به المصنف من هذا الطريق» »
الحكم على الحديث: إسناده صحيح مقطوع
ترقیم دار السلفیہ: 1573 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 2751
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ، طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلاثًا، ثُمَّ قَذَفَهَا فِي الْعِدَّةِ , قَالَ:" يُلاعِنُهَا مَا كَانَتْ فِي الْعِدَّةِ , فَإِذَا انْقَضَتِ الْعِدَّةُ جُلِدَ وَلَمْ يُلاعِنْ" .
حضرت شعبی رحمہ اللہ نے فرمایا: اگر کسی نے بیوی کو تین طلاقیں دے کر عدت میں تہمت لگائی تو عدت کے دوران لعان کرے گا، اگر عدت ختم ہو گئی تو حد جاری ہو گی اور لعان نہیں ہو گا۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 2751]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 1573، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 29453»
ترقیم دار السلفیہ: 1574 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 2752
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أنا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: " إِذَا قَذَفَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ فَطَلَّقَهَا ثَلاثًا لاعَنَ حَامِلا كَانَتْ أَوْ غَيْرَ حَامِلٍ، وَإِذَا طَلَّقَهَا ثَلاثًا ثُمَّ قَذَفَهَا فِي الْعِدَّةِ , فَإِنْ كَانَتْ حَامِلا لاعَنَهَا، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ حَمْلا جُلِدَ" .
حضرت حسن رحمہ اللہ نے فرمایا: اگر کسی نے بیوی کو طلاق دی اور پھر تہمت لگائی تو حاملہ ہو یا نہ ہو، لعان کرے گا، اور اگر تین طلاقوں کے بعد عدت میں تہمت لگائی تو حاملہ ہو تو لعان کرے گا اور نہ ہو تو حد لگائی جائے گی۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 2752]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 1570، 1574»
ترقیم دار السلفیہ: 1575 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 2753
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أنا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: " لا مُلاعَنَةَ لِمَنْ لا يَمْلِكُ الرَّجْعَةَ" .
حضرت ابراہیم رحمہ اللہ نے فرمایا: جس شخص کو رجوع کا حق حاصل نہ ہو اس کے لیے لعان نہیں ہے۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 2753]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 1575، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 12387، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 29458»
ترقیم دار السلفیہ: 1576 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 2754
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أنا مُغِيرَةُ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ، طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلاثًا فَجَاءَتْ بِحَمْلٍ فَانْتَفَى مِنْهُ , قَالَ:" يُلاعِنُهَا، فَقَالَ لَهُ الْحَارِثُ الْعُكْلِيُّ: يَا أَبَا عُمَرَ , وَإِنَّ اللَّهَ يَقُولُ فِي كِتَابِهِ: وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ سورة النور آية 6 , أَفَتَرَاهَا لَهُ زَوْجَةً وَقَدْ طَلَّقَهَا ثَلاثًا؟، فَقَالَ الشَّعْبِيُّ: لأَسْتَحْيِي إِذَا رَأَيْتُ الْحَقَّ أَنْ أَرْجِعَ إِلَيْهِ" .
حضرت شعبی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ جب مرد نے عورت کو تین طلاقیں دے دیں اور وہ حمل لے کر آئی تو اس سے لعان کرے، حارث عکلی نے کہا: اے ابو عمر، کیا اللہ تعالیٰ اپنی کتاب میں نہیں فرماتے: «وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ»، تو کیا طلاق کے بعد وہ بیوی رہتی ہے؟ شعبی نے کہا: میں حق دیکھ کر اس سے باز آنے میں حیا کرتا ہوں۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 2754]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 1576، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 29454»
ترقیم دار السلفیہ: 1577 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 2755
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ، قَذَفَ امْرَأَتَهُ ثُمَّ اخْتَلَعَتْ مِنْهُ , قَالَ:" إِنْ أَخَذَتْهُ بِالَقَذْفِ فِيمَا كَذَّبَ نَفْسَهُ جُلِدَ، وَكَانَ لَهُ مَا أَخَذَ مِنْهَا، وَإِنْ لاعَنَهَا رَدَّ عَلَيْهَا مَا أَخَذَ مِنْهَا" .
حضرت شعبی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ جس شخص نے اپنی بیوی پر قذف کیا پھر اس نے خلع لیا، فرمایا: اگر قذف کی بنا پر مال لیا تو حد لگے گی اور مال واپس نہ کرے گا، اگر لعان کیا تو مال واپس دے گا۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 2755]
تخریج الحدیث: «مقطوع، «انفرد به المصنف من هذا الطريق» »
الحكم على الحديث: مقطوع