سنن سعید بن منصور سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شرکۃ الحروف
ترقيم دار السلفیہ
عربی
اردو
128. بَابُ الرَّجُلِ يَجْعَلُ أَمْرَ امْرَأَتِهِ بِيَدِهَا
باب: شوہر کا بیوی کو اپنے معاملے میں خود مختار بنانے کا بیان
ترقیم دار السلفیہ: 1633 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 2811
نا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ بَيَانٍ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، وَمُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، وَعَامِرٍ، قَالا فِي رَجُلٍ قَالَ لامْرَأَتِهِ: اخْتَارِي، اخْتَارِي، اخْتَارِي، فَاخْتَارَتْ مَرَّةً وَاحِدَةً , قَالا:" وَهِيَ ثَلاثٌ , وَإِنْ قَالَ لَهَا: اخْتَارِي فَاخْتَارَتْ ثَلاثًا , فَهِيَ وَاحِدَةٌ" .
حضرت عامر شعبی رحمہ اللہ اور حضرت ابراہیم رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جب مرد بیوی سے تین مرتبہ کہے: اختیار کر، اختیار کر، اختیار کر، اور بیوی ایک مرتبہ اختیار کرے تو تین طلاقیں ہو جائیں گی، اور اگر ایک مرتبہ کہے اور بیوی تین مرتبہ طلاق دے تو ایک طلاق ہو گی۔“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 2811]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 1631، 1632، 1633، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 11990، 11995، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 18432، 18433، 18434»
ترقیم دار السلفیہ: 1634 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 2812
نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: " إِذَا جَعَلَ الرَّجُلُ أَمْرَ امْرَأَتِهِ بِيَدِ غَيْرِهَا فَطَلَّقَهَا ثَلاثًا، فَهِيَ وَاحِدَةٌ، وَهُوَ أَحَقُّ بِهَا" .
حضرت ابراہیم رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جب مرد اپنی بیوی کا معاملہ کسی اور کے سپرد کرے اور وہ اسے تین طلاق دے تو یہ ایک طلاق ہو گی اور شوہر رجوع کا زیادہ حق دار ہو گا۔“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 2812]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 1634، 1654، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 11914، 11921، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 18373، 18394، 18413، والطبراني فى «الكبير» برقم: 9648»
ترقیم دار السلفیہ: 1635 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 2813
نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مَنْصُورٌ، وَيُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: " إِذَا جَعَلَ الرَّجُلُ أَمْرَ امْرَأَتِهِ بِيَدِ غَيْرِهَا فَالْقَضَاءُ مَا قَضَى، فَإِنْ رَدَّهَا فَوَاحِدَةٌ، وَهُوَ أَحَقُّ بِهَا" .
حضرت حسن رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جب مرد اپنی بیوی کا معاملہ کسی اور کے سپرد کرے تو فیصلہ وہی ہے جو وہ کرے، اگر وہ بیوی کو لوٹا دے تو ایک طلاق ہو گی اور شوہر زیادہ حق دار ہو گا۔“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 2813]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 1635، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 18374»
ترقیم دار السلفیہ: 1636 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 2814
نا نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْحَجَّاجِ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ : " إِذَا جَعَلَ الرَّجُلُ أَمْرَ امْرَأَتِهِ بِيَدِ رَجُلٍ فَقَامَ الرَّجُلُ قَبْلَ أَنْ يَقْضِيَ فِي ذَلِكَ شَيْئًا، فَلا أَمْرَ لَهُ" .
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جب مرد اپنی بیوی کا معاملہ کسی مرد کے سپرد کرے اور وہ مرد فیصلہ کرنے سے پہلے اٹھ جائے تو اب اس کا کوئی اختیار نہیں۔“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 2814]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف ومنقطع، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 1636، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 18417»
سند میں دو مدلس راوی ہیں: الحجاج اور ابن أبي نجيح، دونوں نے عن کے ساتھ روایت کی ہے، سماع کی تصریح نہیں، اس لیے یہ سند ضعیف ہے انقطاع (تدلیس) کی وجہ سے۔ مجاہد کا سیدنا عبداللہ بن مسعود سے سماع ثابت نہیں ہے جیسا کہ قال البيهقي: فيه انقطاع بين مجاهد وابن مسعود، نصب الراية لأحاديث الهداية: (3 / 229)
سند میں دو مدلس راوی ہیں: الحجاج اور ابن أبي نجيح، دونوں نے عن کے ساتھ روایت کی ہے، سماع کی تصریح نہیں، اس لیے یہ سند ضعیف ہے انقطاع (تدلیس) کی وجہ سے۔ مجاہد کا سیدنا عبداللہ بن مسعود سے سماع ثابت نہیں ہے جیسا کہ قال البيهقي: فيه انقطاع بين مجاهد وابن مسعود، نصب الراية لأحاديث الهداية: (3 / 229)
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف ومنقطع
ترقیم دار السلفیہ: 1637 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 2815
نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مَنْصُورٌ، عَنِ الْحَسَنِ، فِي رَجُلٍ جَعَلَ أَمْرَ امْرَأَتِهِ بِيَدِ رَجُلَيْنِ فَطَلَّقَ أَحَدُهُمَا , قَالَ:" لا، حَتَّى يَجْتَمِعَا جَمِيعًا".
حضرت حسن رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جب مرد اپنی بیوی کا معاملہ دو مردوں کے سپرد کرے اور ان میں سے ایک طلاق دے تو یہ نہیں ہو گا جب تک دونوں مل کر فیصلہ نہ کریں۔“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 2815]
تخریج الحدیث: «انفرد به المصنف من هذا الطريق»
ترقیم دار السلفیہ: 1638 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 2816
نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا عُبَيْدَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، مِثْلَ ذَلِكَ.
حضرت ابراہیم رحمہ اللہ نے بھی یہی فرمایا۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 2816]
تخریج الحدیث: «انفرد به المصنف من هذا الطريق»
ترقیم دار السلفیہ: 1639 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 2817
نا نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّ امْرَأَةً، قَالَتْ لِزَوْجِهَا: لَوْ أَنَّ الَّذِيَ بِيَدِكَ مِنْ أَمْرِي بِيَدِي لَفَارَقْتُكَ , قَالَ لَهَا: فَأَمْرُكِ بِيَدِكِ , قَالَتْ: أَنْتَ طَالِقٌ ثَلاثًا، فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَغَضِبَ مِنْ ذَلِكَ، وَقَالَ:" تَعْمِدُونَ إِلَى أَمْرٍ جَعَلَهُ اللَّهُ بِأَيْدِيكُمْ فُتَجْعَلُونَهُ بِأَيْدِيهِنَّ"، ثُمَّ قَالَ:" وَاحِدَةٌ وَأَنْتَ أَحَقُّ بِرَجْعَتِهَا" .
روایت ہے کہ ایک عورت نے اپنے شوہر سے کہا: اگر تیرا معاملہ میرے ہاتھ میں ہوتا تو میں تجھ سے جدا ہو جاتی۔ شوہر نے کہا: تیرا معاملہ تیرے ہاتھ میں ہے۔ عورت نے کہا: توں تین طلاق۔ یہ معاملہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچا، آپ نے غصہ فرمایا اور کہا: ”تم لوگ اللہ کے دیے ہوئے اختیار کو عورتوں کے ہاتھوں میں دے دیتے ہو۔“ پھر فرمایا: ”ایک طلاق اور شوہر کو رجوع کا حق ہے۔“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 2817]
تخریج الحدیث: «مرسل، أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 1613، 1614، 1639، 1640، 1649، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 15131، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 11914، 11915، 11916، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 18379، 18391، 18397»
الحكم على الحديث: مرسل
ترقیم دار السلفیہ: 1640 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 2818
نا نا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ الْعَمِّيُّ، قَالَ: نا مَنْصُورٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، أَنَّ امْرَأَةً، قَالَتْ لِزَوْجِهَا: لَوْ أَنَّ الَّذِيَ بِيَدِكَ بِيَدِي لَعَلِمْتُ مَا أَصْنَعُ , قَالَ: فَإِنَّ مَا بِيَدِي مِنْ أَمْرِكِ بِيَدِكِ , فَقَالَتْ: قَدْ طَلَّقْتُكَ، فَأَتَوَا ابْنَ مَسْعُودٍ فَسَأَلُوهُ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ:" فَعَلَ اللَّهُ بِالرِّجَالِ عَمَدُوا إِلَى شَيْءٍ جَعَلَهُ فِي أَيْدِيهِمْ فَوَلَّوْهُ غَيْرَهُمْ، فَهِيَ وَاحِدَةٌ , وَسَأَسْأَلُ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: فِي فِيهَا التُّرَابُ، ثَلاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ قَالَ لابْنِ مَسْعُودٍ: مَا قُلْتَ فِيهَا؟ ," قَالَ: قُلْتُ: وَاحِدَةٌ , قَالَ: ذَاكَ رَأْيُكَ؟ , قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: كَذَلِكَ رَأْيِي، وَلَوْ رَأَيْتَ غَيْرَ ذَلِكَ لَمْ تُصِبْ" .
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس بھی اسی طرح کا واقعہ آیا۔ آپ نے فرمایا: ”افسوس مردوں پر کہ اللہ نے ان کے ہاتھ میں اختیار دیا تھا، انہوں نے دوسروں کو دے دیا۔ یہ ایک طلاق ہے۔“ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بھی یہی رائے دی۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 2818]
تخریج الحدیث: «موقوف صحيح الاسناد، أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 1613، 1614، 1639، 1640، 1649، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 15131، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 11914، 11915، 11916، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 18379، 18391، 18397»
الحكم على الحديث: موقوف صحيح الاسناد
ترقیم دار السلفیہ: 1641 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 2819
نا نا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : " خَطَّأَ اللَّهُ نَوْءَهَا" .
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”اللہ عورت کی نیت کو خطا دے۔“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 2819]
تخریج الحدیث: «موقوف صحيح الاسناد أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 1641، 1642، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 15154، 15155، 15156، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 11918، 11919، 11920، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 18393، 18395، 18396، والطبراني فى «الكبير» برقم: 9648»
الحكم على الحديث: موقوف صحيح الاسناد أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:
ترقیم دار السلفیہ: 1642 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 2820
نا نا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ جَعَلَ أَمْرَ امْرَأَتِهِ بِيَدِهَا , فَقَالَتْ: أَنْتَ الطَّلاقُ , أَنْتَ الطَّلاقُ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:" خَطَّأَ اللَّهُ نَوْءَهَا" .
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے: جب عورت نے شوہر کے اختیار کو حاصل کر کے کہا: ”تو طلاق، تو طلاق۔“ تو فرمایا: ”اللہ اس کی نیت کو خطا دے۔“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 2820]
تخریج الحدیث: «موقوف صحيح الاسناد أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 1641، 1642، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 15154، 15155، 15156، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 11918، 11919، 11920، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 18393، 18395، 18396، والطبراني فى «الكبير» برقم: 9648»
الحكم على الحديث: موقوف صحيح الاسناد أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم: