🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

130. باب فِي الْغُسْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ
باب: جمعہ کے دن غسل کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 340
حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، أَخْبَرَنَا مُعَاوِيَةُ، عَنْ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ بَيْنَا هُوَ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، إِذْ دَخَلَ رَجُلٌ، فَقَالَ عُمَرُ: أَتَحْتَبِسُونِ عَنِ الصَّلَاةِ؟ فَقَالَ الرَّجُلُ: مَا هُوَ إِلَّا أَنْ سَمِعْتُ النِّدَاءَ فَتَوَضَّأْتُ، فَقَالَ عُمَرُ: وَالْوُضُوءُ أَيْضًا، أَوَ لَمْ تَسْمَعُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِذَا أَتَى أَحَدُكُمُ الْجُمُعَةَ فَلْيَغْتَسِلْ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ جمعہ کا خطبہ دے رہے تھے کہ اسی دوران ایک آدمی ۱؎ داخل ہوا تو آپ نے کہا: کیا تم لوگ نماز (میں اول وقت آنے) سے رکے رہتے ہو؟ اس شخص نے کہا: جوں ہی میں نے اذان سنی ہے وضو کر کے آ گیا ہوں، اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اچھا صرف وضو ہی؟ کیا تم لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے نہیں سنا ہے: جب تم میں سے کوئی جمعہ کے لیے آئے تو چاہیئے کہ غسل کرے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 340]
جناب ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن کا بیان ہے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ان کو خبر دی کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ایک موقع پر خطبہ جمعہ ارشاد فرما رہے تھے کہ ایک آدمی آیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا تم لوگ نماز سے رکے رہتے ہو؟ (اور تاخیر سے آتے ہو؟) اس آدمی نے جواب دیا: اس کے سوا کچھ نہیں ہوا کہ میں نے اذان سنی، فوراً وضو کیا (اور حاضر ہو گیا) تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اور صرف وضو؟ کیا تم لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد نہیں سنا جب تم میں سے کوئی جمعہ کے لیے آئے تو غسل کرے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 340]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الجمعة 2 (878)، 5 (882)، صحیح مسلم/الجمعة 1 (845)، موطا امام مالک/النداء للصلاة 1(3)، (تحفة الأشراف: 10667)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الجمعة 3 (494)، سنن الدارمی/الصلاة 190 (1580) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اس سے مراد عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (882) صحيح مسلم (845)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 341
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" غُسْلُ يَوْمِ الْجُمُعَةِ وَاجِبٌ عَلَى كُلِّ مُحْتَلِمٍ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جمعہ کے دن کا غسل ہر بالغ (مسلمان) پر واجب ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 341]
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جمعہ کے روز غسل کرنا ہر بالغ پر واجب ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 341]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الأذان 161 (858)، والجمعة 2 (879)، 12 (895)، والشہادات 18 (2665)، صحیح مسلم/الجمعة 1 (846)، سنن النسائی/الجمعة 8 (1378)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 80 (1089)، (تحفة الأشراف: 4161)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الجمعة 1(4)، مسند احمد (3/6)، سنن الدارمی/الصلاة 190 (1578) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: عورتیں بھی اس کی پابند ہیں۔ کسی بھی مسلمان بالغ مرد عورت کو بغیر معقول عذر کے اس بارے میں غفلت نہیں کرنی چاہیے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (895) صحيح مسلم (846)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 342
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدٍ الرَّمْلِيُّ، أَخْبَرَنَا الْمُفَضَّلُ يَعْنِي ابْنَ فَضَالَةَ، عَنْ عَيَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ بُكَيْرٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ حَفْصَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" عَلَى كُلِّ مُحْتَلِمٍ رَوَاحُ الْجُمُعَةِ، وَعَلَى كُلِّ مَنْ رَاحَ إِلَى الْجُمُعَةِ الْغُسْلُ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: إِذَا اغْتَسَلَ الرَّجُلُ بَعْدَ طُلُوعِ الْفَجْرِ أَجْزَأَهُ مِنْ غُسْلِ الْجُمُعَةِ، وَإِنْ أَجْنَبَ.
ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر بالغ پر جمعہ کی حاضری اور جمعہ کے لیے ہر آنے والے پر غسل ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: جب آدمی طلوع فجر کے بعد غسل کر لے تو یہ غسل جمعہ کے لیے کافی ہے اگرچہ وہ جنبی رہا ہو۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 342]
ام المؤمنین سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر بالغ پر جمعہ کے لیے جانا (لازم) ہے۔ اور ہر وہ شخص جس پر جمعہ کے لیے جانا (لازم) ہے، اس پر غسل ہے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: اگر کسی نے طلوع فجر کے بعد غسل کر لیا، خواہ جنابت ہی سے ہو تو یہ اس کے لیے غسل جمعہ سے کافی ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 342]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/الجمعة 2 (1372)، (تحفة الأشراف: 15806) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 343
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ الرَّمْلِيُّ الْهَمْدَانِيُّ. ح حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى الْحَرَّانِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ. ح حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، وَهَذَا حَدِيثُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: قَالَ يَزِيدُ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ، في حديثهما عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَأَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنِ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَلَبِسَ مِنْ أَحْسَنِ ثِيَابِهِ وَمَسَّ مِنْ طِيبٍ إِنْ كَانَ عِنْدَهُ، ثُمَّ أَتَى الْجُمُعَةَ فَلَمْ يَتَخَطَّ أَعْنَاقَ النَّاسِ، ثُمَّ صَلَّى مَا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ، ثُمَّ أَنْصَتَ إِذَا خَرَجَ إِمَامُهُ حَتَّى يَفْرُغَ مِنْ صَلَاتِهِ، كَانَتْ كَفَّارَةً لِمَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ جُمُعَتِهِ الَّتِي قَبْلَهَا"، قَالَ: وَيَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةِ: وَزِيَادَةٌ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ، وَيَقُولُ: إِنَّ الْحَسَنَةَ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَحَدِيثُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَةَ أَتَمُّ، وَلَمْ يَذْكُرْ حَمَّادٌ كَلَامَ أَبِي هُرَيْرَةَ.
ابو سعید خدری اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص جمعہ کے دن غسل کرے، اپنے کپڑوں میں سے اچھے کپڑے پہنے، اور اگر اس کے پاس ہو تو خوشبو لگائے، پھر جمعہ کے لیے آئے اور لوگوں کی گردنیں نہ پھاندے، پھر اللہ نے جو نماز اس کے لیے مقدر کر رکھی ہے پڑھے، پھر امام کے (خطبہ کے لیے) نکلنے سے لے کر نماز سے فارغ ہونے تک خاموش رہے، تو یہ ساری چیزیں اس کے ان گناہوں کا کفارہ ہوں گی جو اس جمعہ اور اس کے پہلے والے جمعہ کے درمیان اس سے سرزد ہوئے ہیں، راوی کہتے ہیں: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اور مزید تین دن کے گناہوں کا بھی، اس لیے کہ ایک نیکی کا ثواب دس گنا ہوتا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: محمد بن سلمہ کی حدیث زیادہ کامل ہے اور حماد نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا کلام ذکر نہیں کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 343]
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے جمعہ کے روز غسل کیا اور بہترین کپڑے زیب تن کیے اور خوشبو بھی لگائی اگر میسر ہو تو، پھر جمعہ کے لیے آیا اور لوگوں کی گردنیں نہ پھلانگیں، پھر (نفلی) نماز پڑھی جو اس کے لیے مقدر کی گئی، پھر خاموش رہا جب امام (خطبے کے لیے) نکلا حتیٰ کہ اپنی نماز سے فارغ ہوا، تو یہ اس کے لیے اس جمعے اور سابقہ جمعے کے مابین (صادر ہونے والے گناہوں) کا کفارہ ہے۔ (ابوسلمہ نے) کہا: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے تھے کہ بلکہ مزید تین دن اور بھی۔ (یعنی صرف جمعہ سے جمعہ تک، آٹھ دنوں کا کفارہ ہی نہیں، بلکہ تین دن مزید بھی، یوں گیارہ دن ہوئے اور کسر چھوڑ دیں تو 10 دن، کیونکہ) وہ کہا کرتے تھے کہ ہر نیکی دس گنا اجر کی حامل ہوتی ہے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: ابوسلمہ کی روایت زیادہ کامل ہے اور حماد نے اپنی روایت میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا کلام نقل نہیں کیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 343]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏وقد تفرد بہ أبو داود (تحفة الأشراف: 4430)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الجمعة 8 (858) من حديث أبي هريرة مختصرًا ومن غير هذا السند، وأدرج قوله: ’’وثلاثة أيام‘‘ في قوله صلی اللہ علیہ وسلم (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (1387)
ابن إسحاق صرح بالسماع عند أحمد (3/81)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 344
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ أَبِي هِلَالٍ، وَبُكَيْرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ حَدَّثَاهُ،عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الْغُسْلُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ عَلَى كُلِّ مُحْتَلِمٍ، وَالسِّوَاكُ، وَيَمَسُّ مِنَ الطِّيبِ مَا قُدِّرَ لَهُ"، إِلَّا أَنَّ بُكَيْرًا لَمْ يَذْكُرْ عَبْدَ الرَّحْمَنِ، وَقَالَ فِي الطِّيبِ: وَلَوْ مِنْ طِيبِ الْمَرْأَةِ.
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر بالغ پر جمعہ کے دن غسل کرنا، مسواک کرنا اور خوشبو لگانا جو اسے نصیب ہو لازم ہے، مگر بکیر نے (عمرو بن سلیم اور ابو سعید خدری کے درمیان) عبدالرحمٰن بن ابی سعید کے واسطہ کا ذکر نہیں کیا ہے، اور خوشبو کے بارے میں انہوں نے کہا: اگرچہ عورت ہی کی خوشبو ہو۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 344]
عبدالرحمن بن ابوسعید خدری اپنے والد (سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جمعہ کے روز غسل ہر بالغ پر (لازم) ہے اور مسواک اور خوشبو (بھی) جو اسے میسر ہو۔ بکیر نے عبدالرحمن کا ذکر نہیں کیا اور خوشبو کے بارے میں کہا: خواہ بیوی ہی کی ہو۔ (یعنی ضرور استعمال کرے)۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 344]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الجمعة 3 (880) (نحوہ)، صحیح مسلم/الجمعة 2 (846)، سنن النسائی/الجمعة 6 (1376)، (تحفة الأشراف: 4116، 4267)، وقد أخرجہ: (3/30، 65، 66، 69) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (846)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 345
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ الْجَرْجَرَائِيُّ حِبِّي، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، حَدَّثَنِي حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ، حَدَّثَنِي أَبُو الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيُّ،حَدَّثَنِي أَوْسُ بْنُ أَوْسٍ الثَّقَفِيُّ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَنْ غَسَّلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَاغْتَسَلَ ثُمَّ بَكَّرَ وَابْتَكَرَ وَمَشَى وَلَمْ يَرْكَبْ وَدَنَا مِنَ الْإِمَامِ فَاسْتَمَعَ وَلَمْ يَلْغُ، كَانَ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ عَمَلُ سَنَةٍ أَجْرُ صِيَامِهَا وَقِيَامِهَا".
اوس بن اوس ثقفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جو شخص جمعہ کے دن نہلائے اور خود بھی نہائے ۱؎ پھر صبح سویرے اول وقت میں (مسجد) جائے، شروع سے خطبہ میں رہے، پیدل جائے، سوار نہ ہو اور امام سے قریب ہو کر غور سے خطبہ سنے، اور لغو بات نہ کہے تو اس کو ہر قدم پر ایک سال کے روزے اور شب بیداری کا ثواب ملے گا۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 345]
سیدنا اوس بن اوس ثقفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جس نے جمعہ کے روز غسل کیا اور خوب اچھی طرح کیا اور جلدی آیا اور (خطبہ میں) اول وقت پہنچا، پیدل چل کر آیا اور سوار نہ ہوا، امام سے قریب ہو کر بیٹھا اور غور سے سنا اور لغو سے بچا، تو اس کے لیے ہر قدم پر ایک سال کے روزوں اور قیام کے عمل کا ثواب ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 345]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الصلاة 239 (496)، سنن النسائی/الجمعة 10 (1382)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 80 (1087)، (تحفة الأشراف: 1735) وقد أخرجہ: مسند احمد (4/8، 9، 10)، سنن الدارمی/الصلاة 194 (1588) (صحیح) تفصیل کے لیے دیکھیں فتح المغيث للسخاوی 3/ 189۔ اور تحفة الأحوذي 5/3» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی اپنی بیوی سے صحبت کی اور اس پر بھی غسل لازم کر دیا ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (1388)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 346
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ، عَنْ أَوْسٍ الثَّقَفِيِّ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: مَنْ غَسَلَ رَأْسَهُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَاغْتَسَلَ، ثُمَّ سَاقَ نَحْوَهُ.
اس سند سے بھی اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے جمعہ کے دن اپنا سر دھویا اور غسل کیا، پھر راوی نے اسی طرح کی حدیث بیان کی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 346]
سیدنا اوس ثقفی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے جمعہ کے روز اپنا سر دھویا اور غسل کیا۔ اور مثل سابق روایت بیان کی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 346]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبله، (تحفة الأشراف: 1735) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
انظر الحديث السابق

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 347
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَقِيلٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمِصْرِيَّانِ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ ابْنُ أَبِي عَقِيلٍ: أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" مَنِ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَمَسَّ مِنْ طِيبِ امْرَأَتِهِ إِنْ كَانَ لَهَا وَلَبِسَ مِنْ صَالِحِ ثِيَابِهِ ثُمَّ لَمْ يَتَخَطَّ رِقَابَ النَّاسِ وَلَمْ يَلْغُ عِنْدَ الْمَوْعِظَةِ، كَانَتْ كَفَّارَةً لِمَا بَيْنَهُمَا، وَمَنْ لَغَا وَتَخَطَّى رِقَابَ النَّاسِ، كَانَتْ لَهُ ظُهْرًا".
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص جمعہ کے دن غسل کرے، اپنی عورت کی خوشبو میں سے اگر اس کے پاس ہو لگائے، اپنے اچھے کپڑے زیب تن کرے، پھر لوگوں کی گردنیں نہ پھاندے اور خطبہ کے وقت بیکار کام نہ کرے، تو یہ اس جمعہ سے اس (یعنی پچھلے) جمعہ تک کے گناہوں کا کفارہ ہو گا، اور جو بلا ضرورت (بیہودہ) باتیں بکے، اور لوگوں کی گردنیں پھاندے، تو وہ جمعہ اس کے لیے ظہر ہو گا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 347]
جناب عمرو بن شعیب اپنے والد سے، وہ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے جمعہ کے روز غسل کیا اور اپنی اہلیہ کی خوشبو استعمال کی، اگر اس کے پاس ہو، اور اپنے عمدہ کپڑے پہنے، پھر لوگوں کی گردنیں نہ پھلانگیں اور اثنائے وعظ میں (خطبے کے دوران میں) کوئی لغو عمل نہ کیا، تو یہ (نماز) ان دونوں (جمعوں) کے مابین کے لیے کفارہ ہو گی، اور جس نے کوئی لغو کام کیا اور لوگوں کی گردنیں پھلانگیں تو اس کے لیے یہ ظہر ہی ہو گی (یعنی ظہر کی نماز کا ثواب ہو گا نہ کہ جمعے کا)۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 347]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف: 8659) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 348
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا، حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ شَيْبَةَ، عَنْ طَلْقِ بْنِ حَبِيبٍ الْعَنَزِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا حَدَّثَتْهُ،" أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَغْتَسِلُ مِنْ أَرْبَعٍ: مِنَ الْجَنَابَةِ، وَيَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَمِنَ الْحِجَامَةِ، وَمِنْ غُسْلِ الْمَيِّتِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چار چیزوں کی وجہ سے غسل کرتے تھے: (ا) جنابت کی وجہ سے، (۲) جمعہ کے دن (۳) پچھنے لگانے سے، (۴) اور میت کو نہلانے سے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 348]
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چار کاموں (کی وجہ) سے غسل کیا کرتے تھے، جنابت سے، جمعہ کے دن، سینگی لگوانے سے اور میت کو غسل دینے سے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 348]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف: 16193)، ویأتی عند المؤلف فی الجنازة برقم (3160) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی ”مصعب بن شیبہ“ ضعیف ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (542)
صححه ابن خزيمه (256 وسنده حسن) مصعب بن شيبه: حسن الحديث وثقه الجمھور

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 349
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ الدِّمَشْقِيُّ، أَخْبَرَنَا مَرْوَانُ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَوْشَبٍ، قَالَ: سَأَلْتُ مَكْحُولًا عَنْ هَذَا الْقَوْلِ: غَسَّلَ وَاغْتَسَلَ، فَقَالَ:" غَسَّلَ رَأْسَهُ وَغَسَلَ جَسَدَهُ".
علی بن حوشب کہتے ہیں کہ میں نے مکحول سے اس قول «غسل واغتسل» کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: اس کا مطلب ہے کہ وہ اپنا سر اور بدن دھوئے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 349]
علی بن حوشب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے مکحول رحمہ اللہ (شامی تابعی) سے حدیث «غَسَلَ وَاغْتَسَلَ» کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: اس سے مراد یہ ہے کہ جس نے اپنا سر دھویا اور پھر غسل کیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 349]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف: 19471) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں