المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
4. يُؤَدِّي الْمُكَاتَبُ بِقَدْرِ مَا عُتِقَ مِنْهُ بِحِسَابِ الْحُرِّ، وَمَا رَقَّ فَبِحِسَابِ الْعَبْدِ
مکاتب جتنا آزاد ہو چکا ہو اس کے حساب سے آزاد کی طرح ادا کرے گا اور جتنا غلام باقی ہو اس کے حساب سے غلام کی طرح
حدیث نمبر: 2901
أخبرنا أبو النضر محمد بن محمد بن يوسف الفقيه، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي وعلي بن عبد العزيز، قالا: حدثنا مُسلِم بن إبراهيم، حدثنا أبان بن يزيد، حدثنا يحيى بن أبي كَثير، عن عِكرمة، عن ابن عباس، قال: قال رسول الله ﷺ:"يُودَى المكاتَبُ بقَدْر ما عَتَقَ منه بحِسابِ الحُرِّ، وما رَقَّ فبِحسابِ العَبدِ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
سیدنا (عبداللہ) ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مکاتب اپنا جس قدر بدل کتابت ادا کر کے آزادی حاصل کر چکا ہو، اس کی مقدار میں آزاد کے حساب سے (دیت کی) ادائیگی کرے گا اور جس قدر غلام ہے اس کی مقدار میں غلام کے حساب کے مطابق (دیت کی) ادائیگی کرے گا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْمُكَاتَبِ/حدیث: 2901]
حدیث نمبر: 2902
أخبرنا إبراهيم بن عِصْمة، حدثنا السَّرِيّ بن خُزيمة. وأخبرني عبد الله بن محمد الصَّيدلاني، حدثنا محمد بن أيوب؛ قالا: حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا حماد بن سَلَمة، عن أيوب، عن عِكْرمة، عن ابن عباس، أنَّ النبي ﷺ قال:"إذا أصاب المُكاتَبُ حَدًّا، أو وَرِثَ ميراثًا، فإنه يَرِثُ بقَدْر ما عَتَقَ، ويُقامُ عليه بقَدْر ما عَتَقَ منه" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2866 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2866 - صحيح
سیدنا (عبداللہ) ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب کوئی مکاتب کسی حد شرعی کا مستحق قرار پائے یا کوئی میراث پائے تو اپنی آزادی کی شرح کے مطابق وراثت پائے گا اور اس کی آزادی کی مطابقت سے ہی اس پر حد نافذ کی جائے گی۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْمُكَاتَبِ/حدیث: 2902]
حدیث نمبر: 2903
حدثنا أبو عبد الله محمد بن علي الصنعاني بمكة، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، حدثنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر، عن الزُّهْري، قال: حدثني نَبْهان مُكَاتَبُ أم سَلَمة، قال: إني لأقودُ بها بالبَيداء - أو بالأبْواء - قالت: مَن هذا؟ فقلت: أنا نَبْهان، فقالت: إني قد تركتُ بقيّة مُكاتَبتِك لابن أخي محمد بن عبد الله بن أبي أُميّة، أُعِينُه به في نكاحه، قال: فقلت: لا والله، لا أؤدّيه أبدًا، قالت: إن كان إنما بك أن تَدخُل عليَّ أو تَراني، فوالله لا تَراني أبدًا، إني سمعت رسول الله ﷺ يقول:"إذا كان عند المُكاتَب ما يُؤدِّي، فاحتجِبي منه" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2867 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2867 - صحيح
ام المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے مکاتب نبھان فرماتے ہیں: میں ان کی سواری ایک بیابان سے لے کر گزر رہا تھا، تو انہوں نے مجھ سے پوچھا: یہ کون ہے؟ میں نے جواباً کہا: میں نبھان ہوں۔ انہوں نے کہا: میں اپنے بھائی محمد بن عبداللہ بن ابی امیہ کے نکاح کے سلسلہ میں اس کی مدد کرنا چاہتی ہوں، اس لیے میں تمہارا بقیہ بدل کتابت اس کے حق میں چھوڑتی ہوں۔ نبھان فرماتے ہیں: میں نے کہا: نہیں خدا کی قسم! میں اس کو ہرگز ادائیگی نہیں کروں گا۔ انہوں نے فرمایا: اگر تم میرے پاس آنا چاہتے ہو اور مجھے دیکھنا چاہتے ہو تو خدا کی قسم تم کبھی بھی مجھے نہیں دیکھ سکتے کیونکہ میں نے رسول اللہ کا یہ اراشد سن رکھا ہے کہ ” جب مکاتب کے پاس بدل کتابت ہو تو اس سے پردہ کرو “۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْمُكَاتَبِ/حدیث: 2903]
حدیث نمبر: 2904
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا أبو بكر الحَنَفي، حدثنا يونس بن أبي إسحاق، عن أبيه، عن عبد الله بن وهب، عن تَميم الداري، أنه قال: يا رسول الله، الرجلُ من المشركين يُسلِم على يَدَي الرجلِ المُسلمِ، قال:"هو أَولى به في حياتِه ومَماتِه" (1)
هذا حديث صحيح على شرط مسلم ولم يُخرجاه، وعبد الله بن وهب بن زَمْعة (1) مشهور. وشاهدُه عن تَميم الداري حديث قَبيصة بن ذُؤيب:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2868 - هذا ما خرج له إلا ابن ماجة فقط ثم هو وهم من الحاكم ثان فإن ابن زمعة لم يرو عن تميم الدارمي وصوابه عبد الله بن موهب
هذا حديث صحيح على شرط مسلم ولم يُخرجاه، وعبد الله بن وهب بن زَمْعة (1) مشهور. وشاهدُه عن تَميم الداري حديث قَبيصة بن ذُؤيب:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2868 - هذا ما خرج له إلا ابن ماجة فقط ثم هو وهم من الحاكم ثان فإن ابن زمعة لم يرو عن تميم الدارمي وصوابه عبد الله بن موهب
سیدنا تمیم الداری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ایک مشرک آدمی کسی مسلمان کے ہاتھ پر اسلام لاتا ہے (تو ان کی ولایت کے بارے میں کیا حکم ہے؟) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس (نومسلم) کی زندگی میں اور بعد از وفات وہی (مسلمان کرنے والا) زیادہ مستحق ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے نقل نہیں کیا۔ اور عبداللہ بن وہب بن زمعہ ” مشہور “ (راوی) ہیں۔ قبیصہ بن ذویب کی روایت کردہ حدیث تمیم داری کی شاہد حدیث ہے۔ (جیسا کہ درج ذیل ہے) [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْمُكَاتَبِ/حدیث: 2904]
حدیث نمبر: 2905
حدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا أبو مُسهِر عبد الأعلى بن مُسهِر الغسّاني، حدثني يحيى بن حمزة الحَضْرمي، حدثنا عبد العزيز بن عمر بن عبد العزيز، حدثنا عبد الله بن وهب القُرشي، عن قَبيصة بن ذُؤيب، عن تَميم الداري، قال: سألت رسول الله ﷺ عن الرجلِ يُسلِمُ على يَدَي الرجل، فقال:"هو أَولى الناس بمَحْياهُ ومَماتِه" (2) .
سیدنا قبیصہ بن ذویب روایت کرتے ہیں کہ تمیم دارمی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شخص (کی ولاء) کے متعلق مسئلہ پوچھا جس نے ایک مسلمان کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہی شخص اس (نومسلم) کی زندگی میں اور بعد از وفات زیادہ مستحق ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْمُكَاتَبِ/حدیث: 2905]
حدیث نمبر: 2906
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيباني، حدثنا يحيى بن محمد ابن يحيى الشهيد، حدثنا مُسدَّد، حدثنا إسماعيل ابن عُلَيَّة، عن عبد الرحمن بن إسحاق، عن الزُّهْري، عن محمد بن جُبير، عن أبيه، عن عبد الرحمن بن عَوْف، قال: قال رسول الله ﷺ:"شَهِدتُ غلامًا مع عُمومتي حِلفَ المُطيَّبين، فما يَسُرُّني أنَّ لي حُمْرَ النَّعَمِ وإني أَنكُثُه" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2870 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2870 - صحيح
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں نے بچپن میں اپنے چچا کے ہمراہ ” حلف المطیبین “ میں شرکت کی تھی تو مجھے یہ بات ہرگز پسند نہ تھی کہ میں وہ وعدہ توڑ کر سرخ اونٹ حاصل کروں۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْمُكَاتَبِ/حدیث: 2906]
حدیث نمبر: 2907
أخبرنا علي بن عبد الرحمن السَّبِيعي بالكوفة، حدثنا أحمد بن حازم بن أبي غَرَزة، حدثنا عُبيد الله بن موسى، حدثنا زكريا بن أبي زائدة، عن سعد بن إبراهيم، عن نافع بن جُبير بن مُطعِم، عن أبيه، قال: قال رسول الله ﷺ:"لا حِلفَ في الإسلام، وأيُّما حِلْفٍ كان في الجاهلية لم يَزِدْه الإسلامُ إلّا شِدّةً" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه! ﷽ [كتاب التفسير] قد بَدَأْنا في هذا الكتاب بنزول القرآن، وما رُوِيَ في المسند من القراءات، وذِكْر الصحابة الذين جَمَعَوا القرآن وحَفِظُوه، هذا قبلَ تفسير السُّوَر.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2871 - على شرط البخاري ومسلم_x000D_ كِتَابُ التَّفْسِيرِ «بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ قَدْ بَدَأْنَا فِي هَذَا الْكِتَابِ بِنُزُولِ الْقُرْآنِ، فِي مَا رُوِيَ فِي الْمُسْنَدِ مِنَ الْقِرَاءَاتِ، وَذِكْرِ الصَّحَابَةِ الَّذِينَ جَمَعُوا الْقُرْآنَ وَحَفِظُوهُ، هَذَا قَبْلَ تَفْسِيرِ. السُّوَرِ»
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه! ﷽ [كتاب التفسير] قد بَدَأْنا في هذا الكتاب بنزول القرآن، وما رُوِيَ في المسند من القراءات، وذِكْر الصحابة الذين جَمَعَوا القرآن وحَفِظُوه، هذا قبلَ تفسير السُّوَر.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2871 - على شرط البخاري ومسلم_x000D_ كِتَابُ التَّفْسِيرِ «بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ قَدْ بَدَأْنَا فِي هَذَا الْكِتَابِ بِنُزُولِ الْقُرْآنِ، فِي مَا رُوِيَ فِي الْمُسْنَدِ مِنَ الْقِرَاءَاتِ، وَذِكْرِ الصَّحَابَةِ الَّذِينَ جَمَعُوا الْقُرْآنَ وَحَفِظُوهُ، هَذَا قَبْلَ تَفْسِيرِ. السُّوَرِ»
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اسلام میں کوئی حلف نہیں ہے اور دور جاہلیت کے جتنے بھی حلف تھے، اسلام نے ان پر مزید شدت اختیار کی ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْمُكَاتَبِ/حدیث: 2907]