المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
211. وَصِيَّةُ أَبِي جَابِرٍ قَبْلَ الشَّهَادَةِ فِي حَقِّ الْبَنَاتِ
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن حرام رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان — شہادت سے قبل ابو جابر کی بیٹیوں کے بارے میں وصیت
حدیث نمبر: 4973
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حَدَّثَنَا أحمد بن علي الخَزّاز، حَدَّثَنَا فَيض بن وَثِيق، حَدَّثَنَا أبو عُبادة (1) الأنصاري، أخبرني ابن شهاب، عن عُروة، عن عائشة، قالت: قال رسول الله ﷺ لجابرٍ:"يا جابرُ، ألا أُبشّرُك؟" قال: بلى، بَشِّرني، بشّرك اللهُ بالخير، قال:"شعرْتَ أنَّ الله ﷿ أحيا أباك، فأقعدَه بين يديه؟ فقال: تمنَّ عليَّ عَبْدي ما شئتَ أُعطِيكَه، فقال: يا ربِّ، ما عبدتُك حَقَّ عبادتِك، أتمنّى أن تَرُدَّني إلى الدنيا، فأُقتَلَ مع النَّبِيّ مرةً أخرى، فقال: سَبَقَ مني أنك إليها لا تَرجِع" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4911 - فيض بن وثيق كذاب
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4911 - فيض بن وثيق كذاب
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اے جابر! میں تمہیں ایک خوشخبری نہ دوں؟ انہوں نے جواباً کہا: کیوں نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ مجھے خوشخبری دیجئے اللہ تعالیٰ آپ کو اس سے بھی اچھی خوشخبری عطا فرمائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے یہ بات القاء کی گئی ہے کہ تیرے والد کو اللہ تعالیٰ نے زندہ کر کے اپنے سامنے بٹھایا اور فرمایا: اے میرے بندے آج تو مجھ سے جو بھی خواہش کرے گا میں وہ تجھے عطا کروں گا۔ انہوں نے عرض کی: اے میرے پروردگار! میں تیری عبادت کا حق ادا نہیں کر سکا، میری یہی تمنا ہے کہ تو مجھے واپس دنیا میں بھیج دے اور میں تیرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ جہاد کروں اور پھر شہید ہو جاؤں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میرا یہ فیصلہ ہو چکا ہے کہ (کسی کو دنیا میں واپس نہیں بھیجوں گا) اس لئے تجھے بھی واپس نہیں بھیجوں گا۔ ٭٭ تبصرہ: یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4973]
حدیث نمبر: 4974
أخبرني أبو عبد الله محمد بن عَمْرَويه الصفّار، حَدَّثَنَا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حَدَّثَنَا حسن بن موسى الأشْيَب، حَدَّثَنَا أبو هِلال، حَدَّثَنَا سعيدٌ يُكنى أبا مَسلَمة (3) ، عن أبي نَضْرة، عن جابر، قال: قال لي أبي: يا بُنيَّ، لا أدري لَعلِّي أن أكونَ في أول من يُصابُ غدًا - وذاك يوم أُحدٍ - فأُوصيكَ ببُنيّاتِ عبد الله خيرًا، فالتقَوا فأُصِيبَ ذلك اليومَ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4912 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4912 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میرے والد نے مجھ سے کہا: میرے بیٹے! ہو سکتا ہے کہ کل سب سے پہلے میری شہادت واقع ہو جائے (یہ غزوہ احد کی بات ہے) اس لئے میں تجھے عبداللہ کی بیٹیوں کے بارے میں بھلائی کی وصیت کرتا ہوں (کہ ان کے ساتھ بہت اچھا سلوک کرنا، ان کا خیال کرنا) اگلے دن جنگ ہوئی تو اسی دن آپ جام شہادت نوش کر گئے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4974]
حدیث نمبر: 4975
أخبرنا أبو بكر أحمد بن إسحاق، حَدَّثَنَا أبو المُثنَّى، حَدَّثَنَا مُسدَّد، حَدَّثَنَا بشر بن المُفضَّل، حَدَّثَنَا أبو مَسْلمة، حَدَّثَنَا أبو نَضْرة، عن جابر بن عبد الله، قال: لما حَضَرَ قتالُ أُحُدٍ دعاني أبي من اللَّيل، فقال: إني لا أُراني إِلَّا مقتولًا في أول مَن يُقتَل من أصحابِ رسول الله ﷺ، وإني والله ما أدَعُ أحدًا - يعني - أعزَّ عليَّ منكَ بعد نَفْسٍ رسولِ الله ﷺ، وإنَّ عليَّ دَينًا فاقضِ عني دَيني، واستَوصِ بأخَواتك خيرًا، قال: فأصبحنا، فكان أولَ قَتيلٍ، فدفنتُه مع آخَرَ في قبرٍ، ثم لم تَطِبْ نفسي أن أترُكَه مع آخرَ في قبرٍ، فاستخرجتُه بعد ستةِ أشهرٍ، فإذا هو كيومَ وَضَعتُه غيرَ أُذُنِه (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم. وبيانُه:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4913 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
هذا حديث صحيح على شرط مسلم. وبيانُه:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4913 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جب غزوہ کا وقت بالکل قریب آ گیا تو رات کے وقت میرے والد نے مجھے اپنے پاس بلایا اور کہنے لگے: میں دیکھ رہا ہوں کہ اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں سب سے پہلے میں شہید ہوں گا، اور خدا کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد میری نگاہ میں تم سے زیادہ عزیز کوئی نہیں ہے، میرے ذمہ (بہت سارا قرضہ) ہے، تم یہ ادا کر دینا اور اپنی بہنوں کا بہت خیال رکھنا۔ آپ فرماتے ہیں: اگلے دن واقعی میرے والد صاحب ہی سب سے پہلے شہید ہوئے، میں نے ان کو ایک اور شہید کے ہمراہ ایک قبر میں دفن کر دیا، پھر اس کے بعد مجھے اس بات پر تسلی نہ ہوئی کہ میں نے ان کو ایک اور آدمی کے ہمراہ ایک قبر میں دفن کیا ہے، چنانچہ چھ ماہ کے بعد میں نے ان کی قبر کشائی کی، تو اس وقت بھی ان کا جسم اسی طرح تروتازہ تھا جیسا کہ تدفین کے وقت تھا سوائے ان کے کان کے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4975]
حدیث نمبر: 4976
ما أخبرَنيهِ عبد الله بن محمد بن زياد، حَدَّثَنَا محمد بن إسحاق الإمام، أخبرنا يحيى بن حبيب الحارِثي وعَبْدة بن عبد الله الخُزاعي، قالا: حَدَّثَنَا موسى بن إبراهيم بن كثير، قال: سمعت طلحة بن خِراشٍ يحدِّث عن جابر بن عبد الله، قال: قال لي رسول الله ﷺ:"إِنَّ الله تعالى لا يُكلِّم أحدًا إلَّا من وراء حِجَابٍ، وإنه كلَّم أباكَ كِفاحًا، فقال: تَمنَّ علَيَّ" وذكر الحديثَ (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4914 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4914 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ کسی سے کلام نہیں فرماتا مگر پردے کے پیچھے سے، اور اس نے تیرے والد کے ساتھ بلا حجاب کلام کرتے ہوئے فرمایا: (اے عبداللہ!) تم مجھ سے جو چاہو تمنا کرو۔ پھر اس کے بعد پوری حدیث بیان کی۔ ٭٭ تبصرہ: یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4976]