سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
17. باب فِي الْقَدَرِ
باب: تقدیر (قضاء و قدر) کا بیان۔
حدیث نمبر: 4701
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ. ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ الْمَعْنَى، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، سَمِعَ طَاوُسًا، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يُخْبِرُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" احْتَجَّ آدَمُ، وَمُوسَى، فَقَالَ مُوسَى: يَا آدَمُ أَنْتَ أَبُونَا خَيَّبْتَنَا وَأَخْرَجْتَنَا مِنَ الْجَنَّةِ، فَقَالَ آدَمُ: أَنْتَ مُوسَى اصْطَفَاكَ اللَّهُ بِكَلَامِهِ، وَخَطَّ لَكَ التَّوْرَاةَ بِيَدِهِ تَلُومُنِي عَلَى أَمْرٍ قَدَّرَهُ عَلَيَّ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَنِي بِأَرْبَعِينَ سَنَةً، فَحَجَّ آدَمُ، مُوسَى"، قَالَ أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ: عَنْ عَمْرٍو، عَنْ طَاوُسٍ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدم اور موسیٰ نے بحث کی تو موسیٰ نے کہا: اے آدم! آپ ہمارے باپ ہیں، آپ ہی نے ہمیں محرومی سے دو چار کیا، اور ہمیں جنت سے نکلوایا، آدم نے کہا: تم موسیٰ ہو تمہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی گفتگو کے لیے چن لیا، اور تمہارے لیے تورات کو اپنے ہاتھ سے لکھا، تم مجھے ایسی بات پر ملامت کرتے ہو جسے اس نے میرے لیے مجھے پیدا کرنے سے چالیس سال پہلے ہی لکھ دیا تھا، پس آدم موسیٰ پر غالب آ گئے“ ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4701]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا: ”(آپ) نے ہمیں بہت گھاٹا دیا اور جنت سے نکال دیا۔ آدم علیہ السلام نے کہا: ”تم موسیٰ ہو، اللہ نے تمہیں اپنے ساتھ ہم کلام ہونے کا شرف بخشا اور تمہارے لیے اپنے ہاتھ سے تورات لکھی۔ تم مجھے ایک ایسی بات (تقدیر) پر ملامت کر رہے ہو جو اس نے میرے پیدا ہونے سے چالیس سال پہلے ہی میرے لیے مقدر کر دی تھی۔“ چنانچہ آدم علیہ السلام موسیٰ علیہ السلام پر غالب آ گئے۔“ احمد بن صالح نے سند یوں بیان کی: «عَنْ عَمْرٍو عَنْ طَاوُسٍ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ» ”عمر سے، انہوں نے طاؤس سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4701]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/أحادیث الأنبیاء 31 (3409)، القدر 11 (6614)، صحیح مسلم/القدر 2 (2652)، سنن ابن ماجہ/المقدمة 10(80)، (تحفة الأشراف: 13529)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/القدر 2 (2134)، موطا امام مالک/القدر 1 (1)، مسند احمد (2/248، 268) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ بحث و تکرار اللہ کے سامنے ہوئی جیسا کہ مسلم کی روایت میں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (4614) صحيح مسلم (2652)
حدیث نمبر: 4702
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ مُوسَى قَالَ: يَا رَبِّ أَرِنَا آدَمَ الَّذِي أَخْرَجَنَا وَنَفْسَهُ مِنَ الْجَنَّةِ، فَأَرَاهُ اللَّهُ آدَمَ، فَقَالَ: أَنْتَ أَبُونَا آدَمُ، فَقَالَ لَهُ آدَمُ: نَعَمْ، قَالَ: أَنْتَ الَّذِي نَفَخَ اللَّهُ فِيكَ مِنْ رُوحِهِ وَعَلَّمَكَ الْأَسْمَاءَ كُلَّهَا، وَأَمَرَ الْمَلَائِكَةَ فَسَجَدُوا لَكَ، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَمَا حَمَلَكَ عَلَى أَنْ أَخْرَجْتَنَا وَنَفْسَكَ مِنَ الْجَنَّةِ؟ فَقَالَ لَهُ آدَمُ: وَمَنْ أَنْتَ؟ قَالَ: أَنَا مُوسَى، قَالَ: أَنْتَ نَبِيُّ بَنِي إِسْرَائِيلَ الَّذِي كَلَّمَكَ اللَّهُ مِنْ وَرَاءِ الْحِجَابِ، لَمْ يَجْعَلْ بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ رَسُولًا مِنْ خَلْقِهِ، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: أَفَمَا وَجَدْتَ أَنَّ ذَلِكَ كَانَ فِي كِتَابِ اللَّهِ قَبْلَ أَنْ أُخْلَقَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فِيمَ تَلُومُنِي فِي شَيْءٍ سَبَقَ مِنَ اللَّهِ تَعَالَى فِيهِ الْقَضَاءُ قَبْلِي؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عِنْدَ ذَلِكَ فَحَجَّ آدَمُ، مُوسَى، فَحَجَّ آدَمُ، مُوسَى".
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا: اے میرے رب! ہمیں آدم علیہ السلام کو دکھا جنہوں نے ہمیں اور خود کو جنت سے نکلوایا، تو اللہ نے انہیں آدم علیہ السلام کو دکھایا، موسیٰ علیہ السلام نے کہا: آپ ہمارے باپ آدم ہیں؟ تو آدم علیہ السلام نے ان سے کہا: ہاں، انہوں نے کہا: آپ ہی ہیں جس میں اللہ نے اپنی روح پھونکی، جسے تمام نام سکھائے اور فرشتوں کو حکم دیا تو انہوں نے آپ کو سجدہ کیا؟ انہوں نے کہا: ہاں، انہوں نے کہا: تو پھر کس چیز نے آپ کو اس پر آمادہ کیا کہ آپ نے ہمیں اور خود کو جنت سے نکلوا دیا؟ تو آدم نے ان سے کہا: اور تم کون ہو؟ وہ بولے: میں موسیٰ ہوں، انہوں نے کہا: تم بنی اسرائیل کے وہی نبی ہو جس سے اللہ نے پردے کے پیچھے سے گفتگو کی اور تمہارے اور اپنے درمیان اپنی مخلوق میں سے کوئی قاصد مقرر نہیں کیا؟ کہا: ہاں، آدم علیہ السلام نے کہا: تو کیا تمہیں یہ بات معلوم نہیں کہ وہ (جنت سے نکالا جانا) میرے پیدا کئے جانے سے پہلے ہی کتاب میں لکھا ہوا تھا؟ کہا: ہاں معلوم ہے، انہوں نے کہا: پھر ایک چیز کے بارے میں جس کے متعلق اللہ تعالیٰ کا فیصلہ میرے پیدا کئے جانے سے پہلے ہی مقدر ہو چکا تھا کیوں مجھے ملامت کرتے ہو؟“ یہاں پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو آدم، موسیٰ پر غالب آ گئے، تو آدم موسیٰ پر غالب آ گئے“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4702]
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”کسی کو واسطہ نہیں بنایا تھا؟“ کہا: ”ہاں۔“ آدم علیہ السلام نے کہا: ”کیا تم نے نہیں پایا کہ یہ سب کچھ میرے پیدا کیے جانے سے پہلے ہی کتاب اللہ میں (ایسے ہی) تھا؟“ موسیٰ علیہ السلام نے کہا: ”ہاں۔“ آدم علیہ السلام نے کہا: ”تو پھر تم مجھے کس چیز پر ملامت کرتے ہو، حالانکہ وہ مجھ سے پہلے ہی اللہ کے فیصلے میں تھی؟“ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدم علیہ السلام موسیٰ علیہ السلام پر دلیل میں غالب آ گئے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4702]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 10397) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
حدیث نمبر: 4703
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أُنَيْسَةَ، أَنَّ عَبْدَ الْحَمِيدِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ أَخْبَرَهُ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ يَسَارٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ سُئِلَ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ سورة الأعراف آية 172 قَالَ: قَرَأَ الْقَعْنَبِيُّ الْآيَةَ فَقَالَ عُمَرُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ خَلَقَ آدَمَ، ثُمَّ مَسَحَ ظَهْرَهُ بِيَمِينِهِ، فَاسْتَخْرَجَ مِنْهُ ذُرِّيَّةً، فَقَالَ: خَلَقْتُ هَؤُلَاءِ لِلْجَنَّةِ وَبِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ يَعْمَلُونَ، ثُمَّ مَسَحَ ظَهْرَهُ فَاسْتَخْرَجَ مِنْهُ ذُرِّيَّةً، فَقَالَ خَلَقْتُ هَؤُلَاءِ لِلنَّارِ، وَبِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ يَعْمَلُونَ، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ فَفِيمَ الْعَمَلُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا خَلَقَ الْعَبْدَ لِلْجَنَّةِ اسْتَعْمَلَهُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ حَتَّى يَمُوتَ عَلَى عَمَلٍ مِنْ أَعْمَالِ أَهْلِ الْجَنَّةِ، فَيُدْخِلَهُ بِهِ الْجَنَّةَ، وَإِذَا خَلَقَ الْعَبْدَ لِلنَّارِ اسْتَعْمَلَهُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ حَتَّى يَمُوتَ عَلَى عَمَلٍ مِنْ أَعْمَالِ أَهْلِ النَّارِ، فَيُدْخِلَهُ بِهِ النَّارَ".
مسلم بن یسار جہنی سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے اس آیت «وإذ أخذ ربك من بني آدم من ظهورهم» کے متعلق پوچھا گیا ۱؎۔ (حدیث بیان کرتے وقت) قعنبی نے آیت پڑھی تو آپ نے کہا: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت کے بارے میں سوال کیا گیا تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”اللہ تعالیٰ نے آدم کو پیدا کیا، پھر ان کی پیٹھ پر اپنا داہنا ہاتھ پھیرا، اس سے اولاد نکالی اور کہا: میں نے انہیں جنت کے لیے پیدا کیا ہے، اور یہ جنتیوں کے کام کریں گے، پھر ان کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرا تو اس سے بھی اولاد نکالی اور کہا: میں نے انہیں جہنمیوں کے لیے پیدا کیا ہے اور یہ اہل جہنم کے کام کریں گے“ تو ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! پھر عمل سے کیا فائدہ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ جب بندے کو جنت کے لیے پیدا کرتا ہے تو اس سے جنتیوں کے کام کراتا ہے، یہاں تک کہ وہ جنتیوں کے اعمال میں سے کسی عمل پر مر جاتا ہے، تو اس کی وجہ سے اسے جنت میں داخل کر دیتا ہے، اور جب کسی بندے کو جہنم کے لیے پیدا کرتا ہے تو اس سے جہنمیوں کے کام کراتا ہے یہاں تک کہ وہ جہنمیوں کے اعمال میں سے کسی عمل پر مر جاتا ہے تو اس کی وجہ سے اسے جہنم میں داخل کر دیتا ہے“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4703]
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ﴿وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَأَشْهَدَهُمْ عَلَى أَنْفُسِهِمْ أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلَى شَهِدْنَا﴾ [سورة الأعراف: 172] ”اور جب تیرے رب نے بنو آدم کی پیٹھوں سے ان کی اولاد نکالی اور انہیں خود انہی پر گواہ ٹھہرایا، کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ انہوں نے کہا: ہاں، ہم اقرار کرتے ہیں۔“ کی تفسیر پوچھی گئی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ سے اس کے بارے میں پوچھا گیا تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ عزوجل نے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا، پھر اپنا داہنا ہاتھ اس کی پشت پر پھیرا اور اس سے اس کی اولاد نکالی اور فرمایا: ان کو میں نے جنت کے لیے پیدا کیا ہے اور یہ جنتیوں والے عمل کریں گے۔ پھر اس کی پشت پر ہاتھ پھیرا اور اس سے اس کی اولاد نکالی اور فرمایا: ان کو میں نے دوزخ کے لیے پیدا کیا ہے اور یہ دوزخیوں والے عمل کریں گے۔“ ایک آدمی نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! تو پھر عمل کیونکر ہیں؟“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ اللہ عزوجل نے جب بندے کو جنت کے لیے پیدا کیا ہے تو اس سے اہل جنت والے عمل کرواتا ہے حتیٰ کہ وہ اہل جنت کے عمل کرتا ہوا مر جائے گا تو اللہ انہی اعمال کی وجہ سے اسے جنت میں داخل فرما دے گا اور جب کسی بندے کو آگ کے لیے پیدا کیا ہے تو اس سے دوزخیوں والے عمل کرواتا ہے حتیٰ کہ وہ دوزخیوں والے عمل کرتا ہوا مر جائے تو اللہ اسی کے سبب سے اسے آگ میں ڈال دے گا۔““ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4703]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/تفسیر سورة الأعراف (3077)، (تحفة الأشراف: 10654)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/القدر 1 (2)، مسند احمد (1/45) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اور یاد کرو اس وقت کو جب تمہارے رب نے آدم کی اولاد کو اُن کی پشتوں سے نکالا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح إلا مسح الظهر
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (3075)
مسلم بن يسار سمعه من نعيم بن ربيعة (وھو رجل مجهول،وثقه ابن حبان وحده) عن عمر رضي اللّٰه عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 165
إسناده ضعيف
ترمذي (3075)
مسلم بن يسار سمعه من نعيم بن ربيعة (وھو رجل مجهول،وثقه ابن حبان وحده) عن عمر رضي اللّٰه عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 165
حدیث نمبر: 4704
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ جُعْثُمٍ الْقُرَشِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ رَبِيعَةَ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ بِهَذَا الْحَدِيثِ وَحَدِيثُ مَالِكٍ أَتَمُّ.
نعیم بن ربیعہ کہتے ہیں کہ میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس تھا، پھر انہوں نے یہی حدیث روایت کی، مالک کی روایت زیادہ کامل ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4704]
جناب نعیم بن ربیعہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ”میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس تھا،“ اور حدیث روایت کی۔ اور (مذکورہ بالا) حدیثِ مالک زیادہ مکمل ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4704]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 10654) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (3075)
مسلم بن يسار سمعه من نعيم بن ربيعة (وھو رجل مجهول،وثقه ابن حبان وحده) عن عمر رضي اللّٰه عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 165
إسناده ضعيف
ترمذي (3075)
مسلم بن يسار سمعه من نعيم بن ربيعة (وھو رجل مجهول،وثقه ابن حبان وحده) عن عمر رضي اللّٰه عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 165
حدیث نمبر: 4705
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَقَبَةَ بْنِ مَصْقَلَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْغُلَامُ الَّذِي قَتَلَهُ الْخَضِرُ طُبِعَ كَافِرًا، وَلَوْ عَاشَ لَأَرْهَقَ أَبَوَيْهِ طُغْيَانًا وَكُفْرًا".
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ لڑکا جسے خضر (علیہ السلام) نے قتل کر دیا تھا طبعی طور پر کافر تھا اگر وہ زندہ رہتا تو اپنے ماں باپ کو سرکشی اور کفر میں مبتلا کر دیتا“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4705]
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ لڑکا جسے خضر نے قتل کیا تھا وہ کافر پیدا کیا گیا تھا۔ اگر زندہ رہتا تو اپنے ماں باپ کو سرکشی اور کفر پر مجبور کر دیتا۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4705]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/القدر 6 (2661)، سنن الترمذی/التفسیر 19 (3149)، (تحفة الأشراف: 40)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/العلم 44 (122)، مسند احمد (5/121) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (2661)
حدیث نمبر: 4706
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا الْفِرْيَابِيُّ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" فِي قَوْلِهِ وَأَمَّا الْغُلامُ فَكَانَ أَبَوَاهُ مُؤْمِنَيْنِ سورة الكهف آية 80 وَكَانَ طُبِعَ يَوْمَ طُبِعَ كَافِرًا".
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کے فرمان «وأما الغلام فكان أبواه مؤمنين» ”اور رہا لڑکا تو اس کے ماں باپ مومن تھے“ (سورۃ الکہف: ۸۰) کے بارے میں فرماتے سنا کہ وہ پیدائش کے دن ہی کافر پیدا ہوا تھا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4706]
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا، آپ اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿وَأَمَّا الْغُلَامُ فَكَانَ أَبَوَاهُ مُؤْمِنَيْنِ﴾ [سورة الكهف: 80] ”اور اس لڑکے کے ماں باپ مومن تھے۔“ کی تفسیر میں فرما رہے تھے: ”وہ لڑکا جس دن پیدا کیا گیا، کافر پیدا کیا گیا تھا۔““ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4706]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 40) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
انظر الحديث السابق (4705)
انظر الحديث السابق (4705)
حدیث نمبر: 4707
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ، حَدَّثَنِي أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" أَبْصَرَ الْخَضِرُ غُلَامًا يَلْعَبُ مَعَ الصِّبْيَانِ فَتَنَاوَلَ رَأْسَهُ فَقَلَعَهُ، فَقَالَ مُوسَى: أَقَتَلْتَ نَفْسًا زَكِيَّةً سورة الكهف آية 74".
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خضر (علیہ السلام) نے ایک لڑکے کو بچوں کے ساتھ کھیلتے دیکھا تو اس کا سر پکڑا، اور اسے اکھاڑ لیا، تو موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا: کیا تم نے بےگناہ نفس کو مار ڈالا؟“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4707]
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سیدنا خضر علیہ السلام نے لڑکے کو دیکھا جو دوسرے بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا، تو انہوں نے اس کا سر پکڑ کر مروڑ دیا، تو موسیٰ علیہ السلام بولے: ﴿أَقَتَلْتَ نَفْسًا زَكِيَّةً﴾ [سورة الكهف: 74] ”آپ نے ایک پاک جان کو قتل کر ڈالا ہے۔““ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4707]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، انظر حدیث رقم: (4705)، (تحفة الأشراف: 45) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (122) صحيح مسلم (2380)
حدیث نمبر: 4708
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ النَّمَرِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ. ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ الْمَعْنَى وَاحِدٌ وَالْإِخْبَارُ فِي حَدِيثِ سُفْيَانَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ الصَّادِقُ الْمَصْدُوقُ" إِنَّ خَلْقَ أَحَدِكُمْ يُجْمَعُ فِي بَطْنِ أُمِّهِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا، ثُمَّ يَكُونُ عَلَقَةً مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ يَكُونُ مُضْغَةً مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ يُبْعَثُ إِلَيْهِ مَلَكٌ فَيُؤْمَرُ بِأَرْبَعِ كَلِمَاتٍ فَيُكْتَبُ رِزْقُهُ، وَأَجَلُهُ، وَعَمَلُهُ، ثُمَّ يُكْتَبُ شَقِيٌّ أَوْ سَعِيدٌ، ثُمَّ يُنْفَخُ فِيهِ الرُّوحُ، فَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ حَتَّى مَا يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا إِلَّا ذِرَاعٌ أَوْ قِيدُ ذِرَاعٍ فَيَسْبِقُ عَلَيْهِ الْكِتَابُ، فَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ فَيَدْخُلُهَا وَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ حَتَّى مَا يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا إِلَّا ذِرَاعٌ أَوْ قِيدُ ذِرَاعٍ فَيَسْبِقُ عَلَيْهِ الْكِتَابُ، فَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَيَدْخُلُهَا".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (آپ صادق اور آپ کی صداقت مسلم ہے) بیان فرمایا: ”تم میں سے ہر شخص کا تخلیقی نطفہ چالیس دن تک اس کی ماں کے پیٹ میں جمع رکھا جاتا ہے، پھر اتنے ہی دن وہ خون کا جما ہوا ٹکڑا رہتا ہے، پھر وہ اتنے ہی دن گوشت کا لوتھڑا رہتا ہے، پھر اس کے پاس ایک فرشتہ بھیجا جاتا ہے اور اسے چار باتوں کا حکم دیا جاتا ہے: تو وہ اس کا رزق، اس کی عمر، اس کا عمل لکھتا ہے، پھر لکھتا ہے: آیا وہ بدبخت ہے یا نیک بخت، پھر وہ اس میں روح پھونکتا ہے، اب اگر تم میں سے کوئی جنتیوں کے عمل کرتا ہے، یہاں تک کہ اس (شخص) کے اور اس (جنت) کے درمیان صرف ایک ہاتھ یا ایک ہاتھ کے برابر فاصلہ رہ جاتا ہے کہ کتاب (تقدیر) اس پر سبقت کر جاتی ہے اور وہ جہنمیوں کے کام کر بیٹھتا ہے تو وہ داخل جہنم ہو جاتا ہے، اور تم میں سے کوئی شخص جہنمیوں کے کام کرتا ہے یہاں تک کہ اس (شخص) کے اور اس (جہنم) کے درمیان صرف ایک ہاتھ یا ایک ہاتھ کے برابر کا فاصلہ رہ جاتا ہے کہ کتاب (تقدیر) اس پر سبقت کر جاتی ہے، اب وہ جنتیوں کے کام کرنے لگتا ہے تو داخل جنت ہو جاتا ہے“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4708]
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے بیان فرمایا، اور آپ ”صادق اور مصدوق“ ہیں۔ (اللہ تعالیٰ کی طرف سے اور اس کے ملائکہ، انبیاء و رسل اور مومنین کی جانب سے آپ کی تصدیق کی گئی ہے) ”تمہاری پیدائش کے مراحل میں نطفہ ماں کے پیٹ میں چالیس دن تک مجتمع رہتا ہے، پھر اتنے ہی دن جما ہوا خون (لوتھڑا) بن جاتا ہے۔ پھر اتنے ہی دنوں کے لیے گوشت کی بوٹی بن جاتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ اس کی طرف ایک فرشتہ بھیجتا ہے اور اسے چار باتیں لکھنے کا حکم ہوتا ہے۔ وہ اس کا رزق، اجل (عمر یا موت)، عمل اور یہ کہ وہ خوش بخت ہو گا یا بدبخت، یہ سب لکھ دیتا ہے۔ پھر اس میں روح پھونک دی جاتی ہے۔ چنانچہ یقیناً تم میں سے کوئی اہل جنت والے عمل کرتا ہے حتیٰ کہ اس کے اور اس (جنت) کے درمیان صرف ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے، مگر اس سے پہلے جس طرح لکھا ہوا ہے اس کے مطابق دوزخیوں والے عمل شروع کر دیتا ہے اور دوزخ میں جا پڑتا ہے۔ اور بیشک تم میں سے کوئی دوزخیوں والے عمل کرتا رہتا ہے حتیٰ کہ اس کے اور دوزخ کے درمیان صرف ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے، لیکن اس سے پہلے جو لکھا ہے اس کے مطابق وہ جنتیوں والا عمل کر لیتا ہے اور جنت میں چلا جاتا ہے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4708]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/بدء الخلق 6 (3208)، الأنبیاء 1 (3393)، القدر 1 (6594)، صحیح مسلم/القدر 1(2643)، سنن الترمذی/القدر 4 (2137)، سنن ابن ماجہ/المقدمة 10 (76)، (تحفة الأشراف: 9228)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/382، 414، 430) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (6594) صحيح مسلم (2643)
مشكوة المصابيح (82)
مشكوة المصابيح (82)
حدیث نمبر: 4709
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ يَزِيدَ الرِّشْكِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُطَرِّفٌ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: قِيلَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا رَسُولَ اللَّهِ أَعُلِمَ أَهْلُ الْجَنَّةِ مِنْ أَهْلِ النَّارِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَفِيمَ يَعْمَلُ الْعَامِلُونَ؟ قَالَ: كُلٌّ مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ".
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! کیا جنتی اور جہنمی پہلے ہی معلوم ہو چکے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“ اس نے کہا: پھر عمل کرنے والے کس بنا پر عمل کریں؟ آپ نے فرمایا: ”ہر ایک کو توفیق اسی بات کی دی جاتی ہے جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4709]
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: ”اے اللہ کے رسول! کیا دوزخیوں کے مقابلے میں جنتیوں کو جانا جا چکا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ کہا گیا: ”تو پھر عمل کرنے والے کیونکر عمل کرتے ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر ایک کو اسی کی توفیق ملتی ہے جس کے لیے اسے پیدا کیا گیا ہے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4709]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/القدر 2 (6596)، والتوحید 53 (7551)، صحیح مسلم/القدر 1 (2649)، (تحفة الأشراف: 10859)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/427، 431) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (6556) صحيح مسلم (2649)
حدیث نمبر: 4710
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِيُّ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ دِينَارٍ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ شَرِيكٍ الْهُذَلِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ مَيْمُونٍ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ رَبِيعَةَ الْجُرَشِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا تُجَالِسُوا أَهْلَ الْقَدَرِ وَلَا تُفَاتِحُوهُمْ".
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم منکرین تقدیر کے پاس نہ بیٹھو اور نہ ہی ان سے سلام و کلام کی ابتداء کرو“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4710]
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”منکرینِ تقدیر کے ساتھ مت بیٹھا کرو اور نہ ان سے بات چیت (یا مناظرے) کی ابتدا کیا کرو۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4710]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، مسند احمد (1/30)، (تحفة الأشراف: 10669) (ضعیف)» (اس کے راوی حکیم بن شریک ھذلی مجہول ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
حكيم بن شريك الھذلي : مجهول وثقه ابن حبان وحده
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 165
إسناده ضعيف
حكيم بن شريك الھذلي : مجهول وثقه ابن حبان وحده
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 165