🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1049. حَدِيثُ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23342
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِيقٍ ، قَالَ: كُنْتُ قَاعِدًا مَعَ حُذَيْفَةَ فَأَقْبلَ عَبدُ اللَّهِ بنُ مَسْعُودٍ، فَقَالَ حُذَيْفَةُ :" إِنَّ أَشْبهَ النَّاسِ هَدْيًا وَدَلًّا برَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ حِينِ يَخْرُجُ مِنْ بيْتِهِ حَتَّى يَرْجِعَ، فَلَا أَدْرِي مَا يَصْنَعُ فِي أَهْلِهِ كَعَبدِ اللَّهِ بنِ مَسْعُودٍ، وَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمَ الْمَحْفُوظُونَ مِنْ أَصْحَاب مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ عَبدَ اللَّهِ مِنْ أَقْرَبهِمْ عِنْدَ اللَّهِ وَسِيلَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ" .
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے طور طریقوں اور سیرت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے زیادہ مشابہہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ تھے گھر سے نکلنے سے لے کر واپس آنے تک میں نہیں جانتا کہ وہ گھر میں کیا کرتے تھے۔ شقیق کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور ان سے کہا کہ ہمیں کسی ایسے آدمی کا پتہ بتائیے جو طور طریقوں اور سیرت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے زیادہ قریب ہوتا کہ ہم ان سے یہ طریقے اخذ کرسکیں اور ان کی باتیں سن سکیں انہوں نے فرمایا کہ طور طریقوں اور سیرت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے زیادہ قریب حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ تھے یہاں تک کہ وہ مجھ سے چھپ کر اپنے گھر میں بیٹھ گئے حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے محفوظ صحابہ جانتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ان سب سے زیادہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب تھے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23342]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2097
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23343
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بنُ سَلَمَةَ ، أَخْبرَنَا عَاصِمُ بنُ بهْدَلَةَ ، عَنْ زِرِّ بنِ حُبيْشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ , " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بالْبرَاقِ، وَهُوَ دَابةٌ أَبيَضُ طَوِيلٌ يَضَعُ حَافِرَهُ عِنْدَ مُنْتَهَى طَرْفِهِ، قَالَ: فَلَمْ يُزَايِلْ ظَهْرَهُ هُوَ وَجِبرِيلُ، حَتَّى أَتَيَا بيْتَ الْمَقْدِسِ، وَفُتِحَتْ لَهُمَا أَبوَاب السَّمَاءِ، وَرَأَيَا الْجَنَّةَ وَالنَّارَ، قَالَ: وَقَالَ حُذَيْفَةُ: وَلَمْ يُصَلِّ فِي بيْتِ الْمَقْدِسِ، قَالَ زِرٌّ: فَقُلْتُ: بلَى، قَدْ صَلَّى، قَالَ حُذَيْفَةُ: مَا اسْمُكَ يَا أَصْلَعُ؟ فَإِنِّي أَعْرِفُ وَجْهَكَ، وَلَا أَدْرِي مَا اسْمُكَ، قَالَ: قُلْتُ: أَنَا زِرُّ بنُ حُبيْشٍ، قَالَ: وَمَا يُدْرِيكَ؟ وَهَلْ تَجِدُهُ صَلَّى؟ قَالَ: قُلْتُ: لِقَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِهِ سورة الإسراء آية 1 قَالَ: وَهَلْ تَجِدُهُ صَلَّى؟ لَوْ صَلَّى فِيهِ صَلَّيْنَا فِيهِ كَمَا نُصَلِّي فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ، وَقِيلَ لِحُذَيْفَةَ: رَبطَ الدَّابةَ بالْحَلَقَةِ الَّتِي رَبطَ بهَا الْأَنْبيَاءُ، فَقَالَ حُذَيْفَةُ: أَوَ كَانَ يَخَافُ أَنْ تَذْهَب وَقَدْ آتَاهُ اللَّهُ بهَا؟! .
زر بن حبیش کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا وہ شب معراج کا واقعہ بیان کرتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد ذکر کرنے لگے کہ پھر ہم وہاں سے چل کر بیت المقدس پہنچے لیکن بیت المقدس میں داخل نہیں ہوئے " میں نے کہا کہ اس رات تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیت المقدس میں داخل بھی ہوئے تھے اور وہاں پر نماز پھی پڑھی تھی یہ سن کر حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے گنجے! تمہارا کیا نام ہے؟ میں تمہیں چہرے سے پہچانتا ہوں لیکن نام یاد نہیں ہے میں نے عرض کیا کہ میرا نام زر بن حبیش ہے انہوں نے فرمایا کہ تمہیں کیسے معلوم ہوا کہ اس رات کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت المقدس میں نماز پڑھی تھی؟ میں نے کہا کہ قرآن بتاتا ہے انہوں نے فرمایا کہ قرآن سے بات کرنے والا کامیاب ہوتا ہے تم وہ آیت پڑھ کر سناؤ اب جو میں نے " سبحان الذی اسری بعبدہ " پڑھی تو اس میں یہ کہیں نہ ملا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رات بیت المقدس میں نماز بھی پڑھی تھی، حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے ارے گنجے! کیا تمہیں اس میں نماز پڑھنے کا ذکر ملتا ہے؟ میں نے کہا نہیں انہوں نے فرمایا بخدا! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رات بیت المقدس میں نماز نہیں پڑھی تھی اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیت المقدس میں نماز پڑھ لیتے تو تم پر بھی وہاں نماز پڑھنا فرض ہوجاتا جیسے بیت اللہ میں ہوا بخدا! وہ دونوں براق سے جدا نہیں ہوئے تاآنکہ ان کے لئے آسمان کے دروازے کھول دیئے گئے۔ پھر ان دونوں نے جنت اور جہنم کو دیکھا اور آخرت کے سارے وعدہ دیکھے پھر وہ دونوں اسی طرح واپس آگئے جیسے گئے تھے پھر وہ ہنسنے لگے یہاں تک کہ ان کے دندان مبارک میں نے دیکھے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے مزید فرمایا لوگ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے براق کو باندھ دیا تھا تاکہ وہ بھاگ نہ جائے حالانکہ اللہ تعالیٰ نے تو سارا عالم غیب وشہود ان کے تابع کردیا تھا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23343]

الحكم على الحديث:
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23344
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، قَالَ: سَأَلْتُ سُلَيْمَانَ فَحَدَّثَنِي , عَنْ سَعْدِ بنِ عُبيْدَةَ ، عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ ، عَنْ صِلَةَ بنِ زُفَرَ ، عَنْ حُذَيْفَةَ , أَنَّهُ صَلَّى مَعَ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَانَ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ: " سُبحَانَ رَبيَ الْعَظِيمِ"، وَفِي سُجُودِهِ:" سُبحَانَ رَبيَ الْأَعْلَى"، وَمَا مَرَّ بآيَةِ رَحْمَةٍ إِلَّا وَقَفَ فَسَأَلَ، وَلَا بآيَةِ عَذَاب إِلَّا تَعَوَّذَ .
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رکوع میں " سبحان ربی العظیم اور سجدہ میں " سبحان ربی الاعلیٰ کہتے رہے اور رحمت کی جس آیت پر گذرتے وہاں رک کر دعا مانگتے اور عذاب کی جس آیت پر گذرتے تو وہاں رک کر اس سے پناہ مانگتے تھے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23344]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 772
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23345
حَدَّثَنَا أَبو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ يَعْنِي ابنَ أَبي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبي إِسْحَاقَ ، عَنْ نَهِيكٍ السَّلُولِيِّ ، حَدَّثَنَا حُذَيْفَةُ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَتَى سُباطَةَ قَوْمٍ فَبالَ قَائِمًا" .
حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ وہ لوگوں کے کوڑا کرکٹ پھینکنے کی جگہ تشریف لائے اور کھڑے ہو کر پیشاب کیا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23345]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة نهيك بن عبدالله، لكنه توبع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23346
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ حُذَيْفَةَ أَنَّهُ قَالَ: " مَا بيْنَ طَرَفَيْ حَوْضِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا بيْنَ أَيْلَةَ وَمُضَرَ، آنِيَتُهُ أَكْثَرُ، أَوْ مِثْلُ عَدَدِ نُجُومِ السَّمَاءِ، مَاؤُهُ أَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ، وَأَشَدُّ بيَاضًا مِنَ اللَّبنِ، وَأَبرَدُ مِنَ الثَّلْجِ، وَأَطْيَب رِيحًا مِنَ الْمِسْكِ، مَنْ شَرِب مِنْهُ لَمْ يَظْمَأْ بعْدَهُ أَبدًا" .
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے حوض کی مسافت اتنی ہے جتنی ایلہ اور مضر کے درمیان ہے اس کے برتن آسمانوں کے ستاروں سے بھی زیادہ ہوں گے اس کا پانی شہد سے زیادہ شیریں دودھ سے زیادہ سفید برف سے زیادہ ٹھنڈا اور مشک سے زیادہ مہک والا ہوگا جو شخص ایک مرتبہ اس کا پانی پی لے گا وہ اس کے بعد کبھی پیاسا نہ ہوگا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23346]

الحكم على الحديث:
صحيح، وهذا إسناد حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23347
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ يَسَارٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، عَنِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تَقُولُوا: مَا شَاءَ اللَّهُ وَشَاءَ فُلَانٌ، وَلَكِنْ قُولُوا: مَا شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ شَاءَ فُلَانٌ" .
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ مت کہا کرو " جو اللہ نے چاہا اور جو فلاں نے چاہا " بلکہ یوں کہا کرو " جو اللہ نے چاہا اس کے بعد فلاں نے چاہا " [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23347]

الحكم على الحديث:
.......
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23348
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ عَمْرِو بنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبي الْبخْتَرِيِّ الطَّائِيِّ ، عَنْ أَبي ثَوْرٍ ، قَالَ: بعَثَ عُثْمَانُ يَوْمَ الْجَرَعَةِ بسَعِيدِ بنِ الْعَاصِ، قَالَ: فَخَرَجُوا إِلَيْهِ فَرَدُّوهُ، قَالَ: فَكُنْتُ قَاعِدًا مَعَ أَبي مَسْعُودٍ، وَحُذَيْفَةَ، فَقَالَ أَبو مَسْعُودٍ: مَا كُنْتُ أَرَى أَنْ يَرْجِعَ ولَمْ يُهْرِقْ فِيهِ دَمًا، قَالَ: فَقَالَ حُذَيْفَةُ : وَلَكِنْ قَدْ عَلِمْتُ لَتَرْجِعَنَّ عَلَى عُقَيْبهَا لَمْ يُهْرِقْ فِيهَا مَحْجَمَةَ دَمٍ، وَمَا عَلِمْتُ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا إِلَّا شَيْئًَا عَلِمْتُهُ وَمُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيٌّ: " حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ لَيُصْبحُ مُؤْمِنًا، ثُمَّ يُمْسِي مَا مَعَهُ مِنْهُ شَيْءٌ، وَيُمْسِي مُؤْمِنًا، وَيُصْبحُ مَا مَعَهُ مِنْهُ شَيْءٌ، يُقَاتِلُ فِئَتَهُ الْيَوْمَ وَيَقْتُلُهُ اللَّهُ غَدًا، يَنْكُسُ قَلْبهُ، تَعْلُوهُ اسْتُهُ" ، قَالَ: فَقُلْتُ: أَسْفَلُهُ؟ قَالَ: اسْتُهُ.
ابو ثور کہتے ہیں کہ ایک ہموار ریتلے علاقے کی طرف حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے حضرت سعید بن عاص رضی اللہ عنہ کو بھیجا، اس علاقے کے لوگ باہر نکلے اور انہوں نے حضرت سعید رضی اللہ عنہ کو واپس بھیج دیا وہ کہتے ہیں کہ میں حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ اور حذیفہ رضی اللہ عنہ کے ہمراہ بیٹھا ہوا تھا کہ حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ کہنے لگے میرا خیال نہیں ہے کہ یہ آدمی اس طرح واپس آئے گا کہ اس میں خون ریزی نہ کرلے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا لیکن میں جانتا ہوں کہ جب آپ واپس پہنچیں گے تو وہاں ایک سینگی کے برابر بھی خون نہیں بہا ہوگا مجھے یہ بات اسی وقت معلوم ہوگئی تھی جب کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ابھی حیات تھے البتہ ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ انسان صبح کو مومن ہوگا اور شام تک اس کے پاس کچھ بھی ایمان نہ ہوگا یا شام کو مومن ہوگا اور صبح تک اس کے پاس کچھ بھی نہ ہوگا آج اس کی جماعت قتال کرے گی اور کل اللہ تعالیٰ اسے قتل کروا دے گا اس کا دل الٹا ہوجائے گا اس کے سرین اوپر ہوجائیں گے راوی نے پوچھا کہ یہ لفظ نچلا حصہ ہے تو انہوں نے فرمایا یہ لفظ " سرین " ہی ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23348]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، عبدالله بن يسار لم يلق حذيفة، وقد اختلف فيه عليه أيضا
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23349
حَدَّثَنَا ابنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ ثَرْوَانَ ، عَنْ عَمْرِو بنِ حَنْظَلَةَ ، قَالَ: قَالَ حُذَيْفَةُ : " وَاللَّهِ لَا تَدَعُ مُضَرُ عَبدًا لِلَّهِ مُؤْمِنًا إِلَّا فَتَنُوهُ، أَوْ قَتَلُوهُ، أَوْ يَضْرِبهُمْ اللَّهُ وَالْمَلَائِكَةُ وَالْمُؤْمِنُونَ، حَتَّى لَا يَمْنَعُوا ذَنَب تَلْعَةٍ"، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: أَتَقُولُ هَذَا يَا عَبدَ اللَّهِ وَأَنْتَ رَجُلٌ مِنْ مُضَرَ؟ قَالَ: لَا أَقُولُ إِلَّا مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ قبیلہ مضر زمین پر اللہ کا کوئی نیک بندہ ایسا نہیں چھوڑے گا جسے وہ فتنے میں نہ ڈال دے اور اسے ہلاک نہ کر دے حتی کہ اللہ اس پر اپنا ایک لشکر مسلط کر دے گا جو اسے ذلیل کر دے گا اور اسے کسی ٹیلے کا دامن بھی نہ بچا سکے گا، ایک آدمی نے ان سے کہا بندہ خدا! آپ یہ بات کہہ رہے ہیں حالانکہ آپ تو خود قبیلہ مضر سے تعلق رکھتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ میں تو وہی بات کہہ رہا ہوں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23349]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عبدالرحمن بن ثروان، لكنه توبع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23350
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، قَالَ: أَبو إِسْحَاقَ أَخْبرَنِي , عَنْ عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ يَزِيدَ ، قَالَ: قُلْنَا لِحُذَيْفَةَ : أَخْبرْنَا برَجُلٍ قَرِيب السَّمْتِ وَالْهَدْيِ برَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى نَأْخُذَ عَنْهُ، قَالَ: " مَا أَعْلَمُ أَحَدًا أَقْرَب سَمْتًا وَهَدْيًا وَدَلًّا برَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى يُوَارِيَهُ جِدَارُ بيْتِهِ مِنَ ابنِ أُمِّ عَبدٍ، وَلَمْ نَسْمَعْ هَذَا مِنْ عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ يَزِيدَ: لَقَدْ عَلِمَ الْمَحْفُوظُونَ مِنْ أَصْحَاب مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ ابنَ أُمِّ عَبدٍ مِنْ أَقْرَبهِمْ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَسِيلَةً" ..
عبدالرحمن بن یزید کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور ان سے کہا کہ ہمیں کسی ایسے آدمی کا پتہ بتائیے جو طور طریقوں اور سیرت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے زیادہ قریب ہوتا کہ ہم ان سے یہ طریقے اخذ کرسکیں اور ان کی باتیں سن سکیں انہوں نے فرمایا کہ طور طریقوں اور سیرت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے زیادہ قریب حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ تھے یہاں تک کہ وہ مجھ سے چھپ کر اپنے گھر میں بیٹھ گئے حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے محفوظ صحابہ جانتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ان سب سے زیادہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب تھے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23350]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 3762
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23351
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ وَلِيدِ بنِ الْعَيْزَارِ ، عَنْ أَبي عَمْرٍو الشَّيْبانِيِّ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، بهَذَا كُلِّهِ.
گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23351]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 3762
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں