مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1049. حَدِيثُ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حدیث نمبر: 23362
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبا إِسْحَاقَ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْوَلِيدَ أَبا الْمُغِيرَةِ ، أَوْ الْمُغِيرَةَ أَبا الْوَلِيدِ، يُحَدِّثُ أَنَّ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي ذَرِب اللِّسَانِ، وَإِنَّ عَامَّةَ ذَلِكَ عَلَى أَهْلِي، فَقَالَ:" أَيْنَ أَنْتَ مِنَ الِاسْتِغْفَارِ؟" , فَقَالَ: " إِنِّي لَأَسْتَغْفِرُ فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ، أَوْ فِي الْيَوْمِ مِائَةَ مَرَّةٍ" .
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اپنے اہل خانہ سے بات کرتے وقت مجھے اپنی زبان پر قابو نہیں رہتا تھا البتہ دوسروں کے ساتھ ایسا نہیں ہوتا تھا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس چیز کا تذکرہ کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حذیفہ! تم استغفار سے غفلت میں کیوں ہو؟ میں تو روزانہ اللہ سے سو مرتبہ توبہ و استغفار کرتا ہوں۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23362]
الحكم على الحديث:
قوله: اني لاستغفر الله ...... صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبى المغيرة
حدیث نمبر: 23363
حَدَّثَنَا بهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا عَبدُ الْمَلِكِ بنُ عُمَيْرٍ ، حَدَّثَنِي ابنُ عَمٍّ لِحُذَيْفَةَ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: قُمْتُ إِلَى جَنْب رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَقَرَأَ السَّبعَ الطِّوَلَ فِي سَبعِ رَكَعَاتٍ، قَالَ: فَكَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، قَالَ: " سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ"، ثُمَّ قَالَ:" الْحَمْدُ لِلَّهِ ذِي الْمَلَكُوتِ وَالْجَبرُوتِ، وَالْكِبرِيَاءِ وَالْعَظَمَةِ"، وَكَانَ رُكُوعُهُ نَحْوًا مِنْ قِيَامِهِ، وَسُجُودُهُ نَحْوًا مِنْ رُكُوعِهِ، فَقَضَى صَلَاتَهُ، وَقَدْ كَادَتْ رِجْلَايَ تَنْكَسِرَانِ .
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رات کو قیام کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سات رکعتوں میں سات طویل سورتیں پڑھ لیں اور رکوع سے سر اٹھا کر سمع اللہ لمن حمدہ کہتے، پھر فرماتے الحمدللہ ذی الملکوت والجبروت والکبریاء والعظمۃ " اور ان کارکوع قیام کے برابر تھا اور سجدہ رکوع کے برابر ہے نماز سے جب فراغت ہوئی تو میری ٹانگیں ٹوٹنے کے قریب ہوگئی تھیں۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23363]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لجهالة أبن عم حذيفة
حدیث نمبر: 23364
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ أَبي عَدِيٍّ ، عَنِ ابنِ عَوْنٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابنِ أَبي لَيْلَى , قَالَ معاذ : حَدَّثَنَا ابنُ عَوْنٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ أَبي لَيْلَى ، قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ حُذَيْفَةَ إِلَى بعْضِ هَذَا السَّوَادِ، فَاسْتَسْقَى، فَأَتَاهُ دِهْقَانٌ بإِنَاءٍ مِنْ فِضَّةٍ، قَالَ: فَرَمَاهُ بهِ فِي وَجْهِهِ، قَالَ: قُلْنَا: اسْكُتُوا اسْكُتُوا، وَإِنَّا إِنْ سَأَلْنَاهُ لَمْ يُحَدِّثْنَا، قَالَ: فَسَكَتْنَا، قَالَ: فَلَمَّا كَانَ بعْدَ ذَلِكَ، قَالَ: أَتَدْرُونَ لِمَ رَمَيْتُ بهِ فِي وَجْهِهِ؟ قَالَ: قُلْنَا: لَا، قَالَ: إِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُهُ، قَالَ: فَذَكَرَ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تَشْرَبوا فِي آنِيَةِ الذَّهَب، قَالَ مُعَاذٌ: لَا تَشْرَبوا فِي الذَّهَب، وَلَا فِي الْفِضَّةِ، وَلَا تَلْبسُوا الْحَرِيرَ وَلَا الدِّيباجَ، فَإِنَّهُمَا لَهُمْ فِي الدُّنْيَا، وَلَكُمْ فِي الْآخِرَةِ" .
عبدالرحمن بن ابی لیلی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایک دیہات کی طرف نکلا انہوں نے پانی منگوایا تو ایک کسان چاندی کے برتن میں پانی لے کر آیا حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے وہ برتن اس کے منہ پردے مارا ہم نے ایک دوسرے کو خاموش رہنے کا اشارہ کیا کیونکہ اگر ہم ان سے پوچھتے تو وہ کبھی اس کے متعلق ہم سے بیان نہ کرتے چناچہ ہم خاموش رہے کچھ دیر بعد انہوں نے خود ہی فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ میں نے یہ برتن اس کے چہرے پر کیوں مارا؟ ہم نے عرض کیا نہیں۔ فرمایا کہ میں نے اسے پہلے بھی منع کیا تھا (لیکن یہ باز نہیں آیا) پھر انہوں نے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سونے چاندی کے برتن میں کچھ نہ پیا کرو ریشم و دیبا مت پہنا کرو کیونکہ یہ چیزیں دنیا میں کافروں کے لئے ہیں اور آخرت میں تمہارے لئے ہیں۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23364]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 5633، م: 2067
حدیث نمبر: 23365
حَدَّثَنَا أَبو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الدَّجَّالُ أَعْوَرُ الْعَيْنِ الْيُسْرَى، جُفَالُ الشَّعَرِ، مَعَهُ جَنَّةٌ وَنَارٌ، فَنَارُهُ جَنَّةٌ وَجَنَّتُهُ نَارٌ" .
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دجال کی بائیں آنکھ کانی ہوگی اس کے بال اون کی مانند ہوں گے اس کے ساتھ جنت اور جہنم بھی ہوگی لیکن اس کی جہنم درحقیقت جنت ہوگی اور جنت درحقیقت جہنم ہوگی۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23365]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 3450، م: 2934
حدیث نمبر: 23366
حَدَّثَنَا أَبو مُعَاوِيَةَ ، وَابنُ نُمَيْرٍ , حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ يَشُوصُ فَاهُ" ، قَالَ ابنُ نُمَيْرٍ: قُلْتُ لِلْأَعْمَشِ: بالسِّوَاكِ؟ قَالَ: نَعَمْ.
حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کو جب بیدار ہوتے تو سب سے پہلے مسواک فرماتے تھے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23366]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 245، م: 255
حدیث نمبر: 23367
حَدَّثَنَا ابنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ سَعْدِ بنِ عُبيْدَةَ ، عَنْ الْمُسْتَوْرِدِ بنِ الْأَحْنَفِ ، عَنْ صِلَةَ بنِ زُفَرَ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً فَافْتَتَحَ، فَقُلْتُ: يَرْكَعُ عِنْدَ الْمِائَةِ، قَالَ: ثُمَّ مَضَى، فَقُلْتُ: يُصَلِّي بهَا فِي رَكْعَةٍ، فَمَضَى، فَقُلْتُ: يَرْكَعُ بهَا، ثُمَّ افْتَتَحَ، ثُمَّ افْتَتَحَ عِمْرَانَ، يَقْرَأُ مُسْتَرْسِلًا، إِذَا مَرَّ بآيَةٍ فِيهَا تَسْبيحٌ، سَبحَ، وَإِذَا مَرَّ بسُؤَالٍ، سَأَلَ، وَإِذَا مَرَّ بتَعَوُّذٍ، تَعَوَّذَ، ثُمَّ رَكَعَ فَجَعَلَ يَقُولُ: " سُبحَانَ رَبيَ الْعَظِيمِ"، فَكَانَ رُكُوعُهُ نَحْوًا مِنْ قِيَامِهِ، ثُمَّ قَالَ:" سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ"، ثُمَّ قَامَ طَوِيلًا قَرِيبا مِمَّا رَكَعَ، ثُمَّ سَجَدَ، فَقَالَ:" سُبحَانَ رَبيَ الْأَعْلَى"، فَكَانَ سُجُودُهُ قَرِيبا مِنْ قِيَامِهِ .
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورت بقرہ شروع کردی جب سو آیات پر پہنچے تو میں نے سوچا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اب رکوع کریں گے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پڑھتے رہے حتی کہ دو سو آیات تک پہنچ گئے میں نے سوچا کہ شاید اب رکوع کریں گے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پڑھتے رہے حتی کہ اسے ختم کرلیا لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورت نساء شروع کرلی اور اسے پڑھ کر رکوع کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رکوع میں " سبحان ربی العظیم " اور سجدہ میں " سبحان ربی الاعلی " کہتے رہے اور رحمت کی جس آیت پر گذرتے وہاں رک کر دعا مانگتے اور عذاب کی جس آیت پر گذرتے تو وہاں رک کر اس سے پناہ مانگتے تھے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23367]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 7729
حدیث نمبر: 23368
حَدَّثَنَا عَبدُ الرَّحْمَنِ ، وَأَبو نُعَيْمٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبرَاهِيمَ ، عَنْ هَمَّامِ بنِ الْحَارِثِ ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ حُذَيْفَةَ فَقِيلَ لَهُ: إِنَّ فُلَانًا يَرْفَعُ إِلَى عُثْمَانَ الْأَحَادِيثَ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَتَّاتٌ" .
حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ چغلخور جنت میں داخل نہ ہوگا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23368]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 6056، م: 105
حدیث نمبر: 23369
حَدَّثَنَا عَبدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبدِ الْمَلِكِ بنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ رِبعِيِّ بنِ حِرَاشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: كَانَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ، قَالَ: " اللَّهُمَّ باسْمِكَ أَمُوتُ، وَباسْمِكَ أَحْيَا"، وَإِذَا اسْتَيْقَظَ، قَالَ:" الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَانَا بعْدَمَا أَمَاتَنَا، وَإِلَيْهِ النُّشُورُ" .
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت جب اپنے بستر پر آتے تو یوں کہتے اے اللہ! ہم تیرے ہی نام سے جیتے مرتے ہیں اور جب بیدار ہوتے تو یوں فرماتے " اس اللہ کا شکر جس نے ہمیں مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیا اور اسی کے یہاں جمع ہونا ہے۔ " [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23369]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 6312
حدیث نمبر: 23370
حَدَّثَنَا عَبدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبي مَالِكٍ . وَابنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ أَبي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ ، عَنْ رِبعِيٍّ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ ابنُ جَعْفَرٍ: عَنِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قَالَ نَبيُّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلُّ مَعْرُوفٍ صَدَقَةٌ" .
حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر نیکی صدقہ ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23370]
الحكم على الحديث:
إسناداه صحيحان، م: 1005
حدیث نمبر: 23371
حَدَّثَنَا عَبدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبي إِسْحَاقَ ، عَنْ عُبيْدِ بنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: كُنْتُ رَجُلًا ذَرِب اللِّسَانِ عَلَى أَهْلِي، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ خَشِيتُ أَنْ يُدْخِلَنِي لِسَانِي النَّارَ، قَالَ: " فَأَيْنَ أَنْتَ مِنَ الِاسْتِغْفَارِ؟ إِنِّي لَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ فِي الْيَوْمِ مِائَةً مرة" ، قَالَ أَبو إِسْحَاقَ: فذَكَرْتُهُ لِأَبي برْدَةَ ، فَقَالَ: وَأَتُوب إِلَيْهِ.
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اپنے اہل خانہ سے بات کرتے وقت مجھے اپنی زبان پر قابو نہیں رہتا تھا البتہ دوسروں کے ساتھ ایسا نہیں ہوتا تھا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس چیز کا تذکرہ کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حذیفہ! تم استغفار سے غفلت میں کیوں ہو؟ میں تو روزانہ اللہ سے سو مرتبہ توبہ و استغفار کرتا ہوں۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23371]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره دون قصة ذرابة اللسان، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عبيد أبى المغيرة