🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1049. حَدِيثُ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23382
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ عَبدِ الْمَلِكِ بنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ رِبعِيِّ بنِ حِرَاشٍ ، عَنْ الطُّفَيْلِ أَخِي عَائِشَةَ لِأُمِّهَا: أَنَّ يَهُودِيًّا رَأَى فِي مَنَامِهِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23382]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23383
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ عَبدِ الْمَلِكِ بنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ رِبعِيِّ بنِ حِرَاشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، عَنِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي الدَّجَّالِ: " إِنَّ مَعَهُ مَاءً وَنَارًا، فَنَارُهُ مَاءٌ بارِدٌ، وَمَاؤُهُ نَارٌ، فَلَا تَهْلِكُوا" ، قَالَ أَبو مَسْعُودٍ : وَأَنَا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دجال جس وقت خروج کرے گا اس کے ساتھ پانی اور آگ ہوگی جو چیز لوگوں کو آگ نظر آئے گی وہ ٹھنڈا پانی ہوگی اور جو چیز پانی نظر آئے گی وہ جلا دینے والی آگ ہوگی، لہٰذا تم ہلاک نہ ہوجانا یہ حدیث سن کر حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ میں نے یہ حدیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23383]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 3450، م: 2935
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23384
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ عَبدِ الْمَلِكِ بنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ رِبعِيِّ بنِ حِرَاشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، عَنِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنَّ رَجُلًا مَاتَ فَدَخَلَ الْجَنَّةَ، فَقِيلَ لَهُ: مَا كُنْتَ تَعْمَلُ؟ قَالَ: فَإِمَّا ذَكَرَ وَإِمَّا ذُكِّرَ، فَقَالَ: إِنِّي كُنْتُ أُبايِعُ النَّاسَ، فَكُنْتُ أُنْظِرُ الْمُعْسِرَ، وَأَتَجَوَّزُ فِي السِّكَّةِ، أَوْ فِي النَّقْدِ، فَغُفِرَ لَهُ" . فَقَالَ أَبو مَسْعُودٍ : وَأَنَا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ پہلے زمانے میں ایک آدمی کے پاس ملک الموت روح قبض کرنے کے لئے آئے تو اس سے پوچھا کہ تو نے کبھی کوئی نیکی بھی کی ہے؟ اس نے کہا مجھے معلوم نہیں اس نے کہا غور کرلو اس نے کہا کہ اور تو مجھے کوئی نیکی معلوم نہیں البتہ میں لوگوں کے ساتھ تجارت کرتا تھا اس میں تنگدست کو مہلت دے دیتا تھا اور اس سے درگذر کرلیتا تھا اللہ تعالیٰ نے اسے بخش دیا حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہ نے اس پر بھی ان کی تائید کی۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23384]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2391، م: 1560
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23385
حَدَّثَنَا عَبدُ اللَّهِ بنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ ، حَدَّثَنِي بكْرُ بنُ عَمْرٍو ، أَنَّ أَبا عَبدِ الْمَلِكِ عَلِيَّ بنَ يَزِيدَ الدِّمَشْقِيَّ حَدَّثَهُ أَنَّهُ بلَغَهُ , عَنْ حُذَيْفَةَ ، عَنِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " إِنَّ فَضْلَ الدَّارِ الْقَرِيبةِ يَعْنِي مِنَ الْمَسْجِدِ عَلَى الدَّارِ الْبعِيدَةِ، كَفَضْلِ الْغَازِي عَلَى الْقَاعِدِ" .
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا دور والے گھر پر مسجد کے قریب والے گھر کی فضیلت ایسے ہے جیسے نمازی کی فضیلت جہاد کے انتظار میں بیٹھنے والے پر ہوتی ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23385]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف جدا من أجل على بن يزيد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23386
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ عُبيْدٍ ، حَدَّثَنَا سَالِمٌ الْمُرَادِيُّ ، عَنْ عَمْرِو بنِ هَرِمٍ الْأَزْدِيِّ ، عَنْ أَبي عَبدِ اللَّهِ ، ورِبعِيِّ بنِ حِرَاشٍ , عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: بيْنَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنِّي لَسْتُ أَدْرِي مَا قَدْرُ بقَائِي فِيكُمْ، فَاقْتَدُوا باللَّذَيْنِ مِنْ بعْدِي يُشِيرُ إِلَى أَبي بكْرٍ، وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، وَاهْدُوا هَدْيَ عَمَّارٍ وَعَهْدَ ابنِ أُمِّ عَبدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا" .
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نہیں جانتا کہ میں تمہارے درمیان کتنا عرصہ رہوں گا اس لئے ان دو آدمیوں کی پیروی کرنا جو میرے بعد ہوں گے اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ و عمر رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ فرمایا اور عمار کے طریقے کو مضبوطی سے تھامو اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ تم سے جو بات بیان کریں اس کی تصدیق کیا کرو۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23386]

الحكم على الحديث:
حديث حسن بطرقه وشواهده، وهذا إسناد لين من أجل سالم المرادي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23387
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بنُ خَالِدٍ ، عَنْ مَهْدِيٍّ ، عَنْ وَاصِلٍ الْأَحْدَب ، عَنْ أَبي وَائِلٍ ، قَالَ: قِيلَ لِحُذَيْفَةَ: إِنَّ رَجُلًا يَنُمُّ الْحَدِيثَ، قَالَ حُذَيْفَةُ : سَمِعْتُ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ نَمَّامٌ" .
حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چغل خور جنت میں داخل نہ ہوگا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23387]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 6056، م: 105
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23388
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ عَدِيٍّ ، عَنْ ابنِ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: قَالَ جُنْدُب : لَمَّا كَانَ يَوْمُ الْجَرَعَةِ، وَثَمَّ رَجُلٌ قَالَ: فَقَلتَُ: وَاللَّهِ لَيُهْرَاقَنَّ الْيَوْمَ دِمَاءٌ، قَالَ: فَقَالَ الرَّجُلُ: كَلَّا وَاللَّهِ، قَالَ: قُلْتَ: بلَى وَاللَّهِ، قَالَ: كَلَّا وَاللَّهِ، قَالَ: قُلتُ: بلَى والله، قَالَ: كَلاَّ والله، إِنَّهُ لَحَدِيثُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنِيهِ، قَالَ: قُلْتُ: وَاللَّهِ إِنِّي لَأُرَاكَ جَلِيسَ سَوْءٍ مُنْذُ الْيَوْمِ تَسْمَعُنِي أَحْلِفُ وَقَدْ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَا يَنْهَانِي؟ قَالَ: ثُمَّ قُلْتُ: مَالِي وَلِلْغَضَب، قَالَ: فَتَرَكْتُ الْغَضَب، وَأَقْبلْتُ أَسْأَلُهُ، قَالَ: وَإِذَا الرَّجُلُ حُذَيْفَةُ .
جندب کہتے ہیں کہ " یوم الجرعہ " کے موقع پر ایک آدمی موجود تھا وہ کہنے لگا کہ واللہ آج خون ریزی ہوگی دوسرے آدمی نے قسم کھا کر کہا ہرگز نہیں پہلے نے کہا کہ تم نے یہ کیوں نہ کہا " ضرور ''؟ اس نے کا ایسا ہرگز نہیں ہوگا کیونکہ یہ ایک حدیث ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے بیان فرمائی ہے پہلے آدمی کا کہنا ہے کہ میں نے اس سے کہا واللہ میں تمہیں برا ہم نشین سمجھتا ہوں تم مجھے قسم کھاتے ہوئے سن رہے ہو اور پھر بھی مجھے منع نہیں کر رہے حالانکہ تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حوالے سے کچھ فرماتے ہوئے سنا ہے؟ پھر میں نے سوچا کہ غصہ کرنے کا کیا فائدہ؟ سو میں نے غصہ تھوک دیا اور اس کے پاس آکر سوالات پوچھنے لگا بعد میں پتہ چلا کہ وہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ تھے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23388]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 2893
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23389
حَدَّثَنَا عَبدُ الرَّحْمَنِ بنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ الْأَشْعَثِ ، عَنِ الْأَسْوَدِ بنِ هِلَالٍ ، عَنْ ثَعْلَبةَ بنِ زَهْدَمٍ الْيَرْبوعِيِّ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ سَعِيدِ بنِ الْعَاصِ بطَبرِسْتَانَ، فَقَالَ: أَيُّكُمْ يَحْفَظُ صَلَاةَ الْخَوْفِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ حُذَيْفَةُ : " أَمَّنَا، فَقُمْنَا صَفًّا خَلْفَهُ، وَصَفًّا مُوَازِيَ الْعَدُوِّ، فَصَلَّى بالَّذِينَ يَلُونَهُ رَكْعَةً، ثُمَّ ذَهَبوا إِلَى مَصَافِّ أُولَئِكَ، وَجَاءَ أُولَئِكَ فَصَلَّى بهِمْ رَكْعَةً، ثُمَّ سَلَّمَ عَلَيْهِمْ" .
ثعلبہ بن زہدم کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ طبرستان میں حضرت سعید بن عاص رضی اللہ عنہ کے ہمراہ تھے انہوں نے لوگوں سے پوچھا کہ تم میں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صلوۃ الخوف کس نے پڑھی ہے؟ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں نے اور وہ اس طرح کہ لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے دو صفیں بنالیں ایک صف دشمن کے سامنے کھڑی رہی اور ایک صف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز کے لئے کھڑی ہوگئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو ایک رکعت پڑھائی پھر یہ لوگ دشمن کے سامنے ڈٹے ہوئے لوگوں کی جگہ الٹے پاؤں چلے گئے اور وہ لوگ ان کی جگہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے آکر کھڑے ہوگئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دوسری رکعت پڑھائی اور سلام پھیر دیا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23389]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23390
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَطَاءِ بنِ السَّائِب ، عَنْ أَبي الْبخْتَرِيِّ ، قَالَ: قَالَ حُذَيْفَةُ : كَانَ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُونَهُ عَنِ الْخَيْرِ، وَكُنْتُ أَسْأَلُهُ عَنِ الشَّرِّ، قِيلَ: لِمَ فَعَلْتَ ذَلِكَ؟ قَالَ: " مَنْ اتَّقَى الشَّرَّ، وَقَعَ فِي الْخَيْرِ" .
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہ ان سے خیر کے متعلق سوال کرتے تھے اور میں ان سے شر کے متعلق پوچھتا تھا کسی نے اس کی وجہ پوچھی تو فرمایا جو شخص شر سے بچ جاتا ہے وہ خیر ہی کے کام کرتا ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23390]

الحكم على الحديث:
صحيح، وهذا إسناد منقطع، رواية أبى البختري عن حذيفة مرسلة، لكنه توبع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23391
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بنُ حَيَّانَ ، أَخْبرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبدِ الْمَلِكِ بنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ رِبعِيِّ بنِ حِرَاشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَخَذَ مَضْجَعَهُ، قَالَ: " اللَّهُمَّ باسْمِكَ أَحْيَا وَأَمُوتُ"، وَإِذَا قَامَ، قَالَ:" الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَانَا بعْدَمَا أَمَاتَنَا، وَإِلَيْهِ النُّشُورُ" .
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت جب اپنے بستر پر آتے تو یوں کہتے اے اللہ! ہم تیرے ہی نام سے جیتے مرتے ہیں اور جب بیدار ہوتے تو یوں فرماتے " اس اللہ کا شکر جس نے ہمیں مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیا اور اسی کے یہاں جمع ہونا ہے۔ " [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23391]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، خ: 6312، وهذا إسناد قد اختلف فيه على سليمان بن حيان، وهو صدوق، لكن فى حفظه شيء
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں