🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1049. حَدِيثُ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23352
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبدُ الْوَاحِدِ بنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا أَبو رَوْقٍ عَطِيَّةُ بنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا مُخْمِلُ بنُ دِمَاثٍ ، قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ سَعِيدِ بنِ الْعَاصِ، قَالَ: فَسَأَلَ النَّاسَ: مَنْ شَهِدَ مِنْكُمْ صَلَاةَ الْخَوْفِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَقَالَ حُذَيْفَةُ : أَنَا، " صَلَّى بطَائِفَةٍ مِنَ الْقَوْمِ رَكْعَةً، وَطَائِفَةٌ مُوَاجِهَةَ الْعَدُوِّ، ثُمَّ ذَهَب هَؤُلَاءِ فَقَامُوا مَقَامَ أَصْحَابهِمْ مُوَاجِهُو الْعَدُوِّ، وَجَاءَتْ الطَّائِفَةُ الْأُخْرَى، فَصَلَّى بهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَةً ثُمَّ سَلَّمَ، فَكَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَانِ وَلِكُلِّ طَائِفَةٍ رَكْعَةٌ" .
ثعلبہ بن زہدم کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ طبرستان میں حضرت سعید بن عاص رضی اللہ عنہ کے ہمراہ تھے انہوں نے لوگوں سے پوچھا کہ تم میں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صلوۃ الخوف کس نے پڑھی ہے؟ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں نے اور وہ اس طرح کہ لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے دو صفیں بنالیں ایک صف دشمن کے سامنے کھڑی رہی اور ایک صف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز کے لئے کھڑی ہوگئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو ایک رکعت پڑھائی پھر یہ لوگ دشمن کے سامنے ڈٹے ہوئے لوگوں کی جگہ الٹے پاؤں چلے گئے اور وہ لوگ ان کی جگہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے آکر کر کھڑے ہوگئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دوسری رکعت پڑھائی پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیر دیا اس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دو رکعتیں ہوگئیں اور ان کے پیچھے ہر گروہ کی ایک ایک رکعت ہوئی۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23352]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة مخمل بن دماث
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23353
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا عَبدُ الْمَلِكِ بنُ عُمَيْرٍ ، عَنْ رِبعِيٍّ ، قَالَ: قَالَ عُقْبةُ بنُ عَمْرٍو لِحُذَيْفَةَ : أَلَا تُحَدِّثُنَا مَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ؟ قَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ: " إِنَّ مَعَ الدَّجَّالِ إِذَا خَرَجَ مَاءً وَنَارًا، الَّذِي يَرَى النَّاسُ أَنَّهَا نَارٌ فَمَاءٌ بارِدٌ، وَأَمَّا الَّذِي يَرَى النَّاسُ أَنَّهُ مَاءٌ فَنَارٌ تُحْرِقُ، فَمَنْ أَدْرَكَ ذَلِكَ مِنْكُمْ، فَلْيَقَعْ فِي الَّذِي يَرَى أَنَّهَا نَارٌ، فَإِنَّهَا مَاءٌ عَذْب بارِدٌ" . قَالَ حُذَيْفَةُ : وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: " إِنَّ رَجُلًا مِمَّنْ كَانَ قَبلَكُمْ أَتَاهُ مَلَكٌ لِيَقْبضَ نَفْسَهُ، فَقَالَ لَهُ: هَلْ عَمِلْتَ مِنْ خَيْرٍ؟ فَقَالَ: مَا أَعْلَمُ، قِيلَ لَهُ: انْظُرْ، قَالَ: مَا أَعْلَمُ شَيْئًا غَيْرَ أَنِّي كُنْتُ أُبايِعُ النَّاسَ وَأُجَازِفُهُمْ، فَأُنْظِرُ الْمُوسِرِ، وَأَتَجَاوَزُ عَنِ الْمُعسرِ، فَأَدْخَلَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْجَنَّةَ" . قَالَ: وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: " إِنَّ رَجُلًا حَضَرَهُ الْمَوْتُ، فَلَمَّا أَيِسَ مِنَ الْحَيَاةِ أَوْصَى أَهْلَهُ: إِذَا أَنَا مُتُّ فَاجْمَعُوا لِي حَطَبا كَثِيرًا جَزْلًا، ثُمَّ أَوْقِدُوا فِيهِ نَارًا، حَتَّى إِذَا أَكَلَتْ لَحْمِي وَخَلَصَ إِلَى عَظْمِي فَامْتَحَشَتْ، فَخُذُوهَا فَاذْرُوهَا فِي الْيَمِّ، فَفَعَلُوا، فَجَمَعَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْهِ، وَقَالَ لَهُ: لِمَ فَعَلْتَ ذَلِكَ؟ قَالَ: مِنْ خَشْيَتِكَ! قَالَ: فَغَفَرَ اللَّهُ لَهُ" ، قَالَ عُقْبةُ بنُ عَمْرٍو : أَنَا سَمِعْتُهُ يَقُولُ ذَلِكَ، وَكَانَ نَباشًا.
ربعی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ عقبہ بن عمرو نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی کوئی حدیث کیوں نہیں سناتے؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ دجال جس وقت خروج کرے گا اس کے ساتھ پانی اور آگ ہوگی جو چیز لوگوں کو آگ نظر آئے گی وہ ٹھنڈا پانی ہوگی اور جو چیز پانی نظر آئے گا وہ جلا دینے والی آگ ہوگی تم میں سے جو شخص اسے پائے اسے چاہئے کہ آگ دینے والی چیز میں غوطہ لگائے کیونکہ وہ میٹھا اور ٹھنڈا پانی ہوگا۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ پہلے زمانے میں ایک آدمی کے پاس ملک الموت روح قبض کرنے کے لئے آئے تو اس سے پوچھا کہ تو نے کبھی کوئی نیکی بھی کی ہے؟ اس نے کہا مجھے معلوم نہیں اس نے کہا غور کرلو اس نے کہا کہ اور تو مجھے کوئی نیکی معلوم نہیں البتہ میں لوگوں کے ساتھ تجارت کرتا تھا اس میں تنگدست کو مہلت دے دیتا تھا اور اس سے درگذر کرلیتا تھا اللہ تعالیٰ نے اسے جنت میں داخل کر دیا۔ اور میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ آیک آدمی کی موت کا وقت قریب آیا تو اس نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ جب میں مرجاؤں تو مجھے آگ میں جلا دینا پھر میری راکھ کو پیس لینا پھر جس دن تیز آندھی چل رہی ہو اس دن میری راکھ کو ہوا میں بکھیر دیناجب وہ مرگیا تو اس کے اہل خانہ نے اسی طرح کیا اللہ نے اسے اپنے قبضہ قدرت میں جمع کرلیا اور اس سے پوچھا کہ تجھے یہ کام کرنے پر کس نے مجبور کیا؟ اس نے کہا تیرے خوف نے اللہ نے فرمایا میں نے تجھے معاف کردیا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23353]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 3450، م: 2934
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23354
حَدَّثَنَا عَبدُ اللَّهِ بنُ مُحَمَّدٍ وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ محمد بن أَبي شَيْبةَ، حَدَّثَنَا أَبو أُسَامَةَ ، عَنِ الْوَلِيدِ بنِ جُمَيعٍ ، حَدَّثَنَا أَبو الطُّفَيْلِ، حَدَّثَنَا حُذَيْفَةُ بنُ الْيَمَانِ ، قَالَ: مَا مَنَعَنِي أَنْ أَشْهَدَ بدْرًا إِلَّا أَنِّي خَرَجْتُ أَنَا وَأَبي حُسِيْلٍ، فَأَخَذَنَا كُفَّارُ قُرَيْشٍ، فَقَالُوا: إِنَّكُمْ تُرِيدُونَ مُحَمَّدًا؟ قُلْنَا: مَا نُرِيدُ إِلَّا الْمَدِينَةَ، فَأَخَذُوا مِنَّا عَهْدَ اللَّهِ وَمِيثَاقَهُ لَنَنْصَرِفَنَّ إِلَى الْمَدِينَةِ، وَلَا نُقَاتِلُ مَعَهُ، فَأَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبرْنَاهُ الْخَبرَ، فَقَالَ: " انْصَرِفَا، نَفِي بعَهْدِهِمْ، وَنَسْتَعِينُ اللَّهَ عَلَيْهِمْ" .
حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ بدر میں شرکت سے مجھے کوئی چیز مانع نہیں تھی بلکہ میں اپنے والد حسیل کے ساتھ نکلا تھا لیکن راستے میں ہمیں کفار قریش نے پکڑ لیا اور کہنے لگے کہ تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا رہے ہو؟ ہم نے کہا کہ ہمارا ارادہ تو صرف مدینہ منورہ جانے کا ہے انہوں نے ہم سے یہ وعدہ اور مضبوط عہد لیا کہ ہم مدینہ جا کر لڑائی میں ان کا ساتھ نہیں دیں گے ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچے اور ساری بات بتادی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم دونوں واپس چلے جاؤ ہم ان کا وعدہ وفا کریں گے اور ان کے خلاف اللہ سے مدد مانگیں گے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23354]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23355
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بنُ فَرَافِصَةَ ، حَدَّثَنِي رَجُلٌ ، عَنْ حُذَيْفَةَ بنِ الْيَمَانٍِ أَنَّهُ أَتَى النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: بيْنَمَا أَنَا أُصَلِّي إِذْ سَمِعْتُ مُتَكَلِّمًا يَقُولُ: اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ كُلُّهُ، وَلَكَ الْمُلْكُ كُلُّهُ، بيَدِكَ الْخَيْرُ كُلُّهُ، إِلَيْكَ يُرْجَعُ الْأَمْرُ كُلُّهُ، عَلَانِيَتُهُ وَسِرُّهُ، فَأَهْلٌ أَنْ تُحْمَدَ، إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي جَمِيعَ مَا مَضَى مِنْ ذَنْبي، وَاعْصِمْنِي فِيمَا بقِيَ مِنْ عُمْرِي، وَارْزُقْنِي عَمَلًا زَاكِيًا تَرْضَى بهِ عَنِّي، فَقَالَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ذَاكَ مَلَكٌ أَتَاكَ يُعَلِّمُكَ تَحْمِيدَ رَبكَ" .
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ میں نماز پڑھ رہا تھا اچانک میں نے ایک آدمی کو یہ کہتے ہوئے سنا اے اللہ! تمام تعریفیں تیرے لئے ہیں تمام حکومتیں تیرے لئے ہیں ہر طرح کی خیر تیرے ہاتھ میں ہے سارے معاملات تیری ہی طرف لوٹتے ہیں خواہ وہ ظاہر ہوں یا پوشیدہ تو ہی اس قابل ہے کہ تیری تعریف کی جائے بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے اے اللہ! مجھ سے جتنے گناہ بھی سرزد ہوئے ہیں سب کو معاف فرما دے اور زندگی کا جتناحصہ باقی بچا ہے اس میں گناہوں سے بچا لے اور ایسے نیک اعمال کی توفیق عطا فرما دے جس سے تو راضی ہوجائے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ ایک فرشتہ تھا جو تمہیں تمہارے رب کی حمد سکھانے کے لئے آیا تھا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23355]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لابهام الراوي عن حذيفة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23356
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ أَبي إِسْحَاقَ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُسْلِمَ بنَ نُذَيْرٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بعَضَلَةِ سَاقِي، أَوْ بعَضَلَةِ سَاقِهِ، قَالَ: فَقَالَ: " الْإِزَارُ هَاهُنَا فَإِنْ أَبيْتَ فَهَهُنَا، فَإِنْ أَبيْتَ فَلَا حَقَّ لِلْإِزَارِ فِي الْكَعْبيْنِ" ، أَوْ" لَا حَقَّ لِلْكَعْبيْنِ فِي الْإِزَارِ".
حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ میری یا اپنی پنڈلی کی مچھلی پکڑ کر فرمایا تہبند باندھنے کی جگہ یہاں تک ہے اگر تم نہ مانو تو اس سے کچھ نیچے لٹکالو اگر یہ بھی نہ مانو تو ٹخنوں سے نیچے تہبند کا کوئی حق نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23356]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23357
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابنَ أَبي لَيْلَى ، أَنَّ حُذَيْفَةَ كَانَ بالْمَدَائِنِ فَجَاءَهُ دِهْقَانُ بقَدَحٍ مِنْ فِضَّةٍ، فَأَخَذَهُ فَرَمَاهُ بهِ، وَقَالَ: إِنِّي لَمْ أَفْعَلْ هَذَا إِلَّا أَنِّي قَدْ نَهَيْتُهُ فَلَمْ يَنْتَهِ، وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي نَهَانِي عَنِ الشُّرْب فِي آنِيَةِ الذَّهَب وَالْفِضَّةِ، وَالْحَرِيرِ وَالدِّيباجِ، وَقَالَ: " هِيَ لَهُمْ فِي الدُّنْيَا، وَلَكُمْ فِي الْآخِرَةِ" .
عبدالرحمن بن ابی لیلی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایک دیہات کی طرف نکلا انہوں نے پانی منگوایا تو ایک کسان چاندی کے برتن میں پانی لے کر آیا حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے وہ برتن اس کے منہ پردے مارا ہم نے ایک دوسرے کو خاموش رہنے کا اشارہ کیا کیونکہ اگر ہم ان سے پوچھتے تو وہ کبھی اس کے متعلق ہم سے بیان نہ کرتے چناچہ ہم خاموش رہے کچھ دیر بعد انہوں نے خود ہی فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ میں نے یہ برتن اس کے چہرے پر کیوں مارا؟ ہم نے عرض کیا نہیں۔ فرمایا کہ میں نے اسے پہلے بھی منع کیا تھا (لیکن یہ باز نہیں آیا) پھر انہوں نے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سونے چاندی کے برتن میں کچھ نہ پیا کرو ریشم و دیبا مت پہنا کرو کیونکہ یہ چیزیں دنیا میں کافروں کے لئے ہیں اور آخرت میں تمہارے لئے ہیں۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23357]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 5632، م: 2067
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23358
حَدَّثَنَا عَلَيُّ بنُ عَبدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا مُعَاذٌ يَعْنِي ابنَ هِشَامٍ ، قَالَ: وَجَدْتُ فِي كِتَاب أَبي بخَطِّ يَدِهِ وَلَمْ أَسْمَعْهُ مِنْهُ , عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبي مَعْشَرٍ ، عَنْ إِبرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ ، عَنْ هَمَّامٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ , أَنَّ نَبيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " فِي أُمَّتِي كَذَّابونَ وَدَجَّالُونَ سَبعَةٌ وَعِشْرُونَ، مِنْهُمْ أَرْبعُ نِسْوَةٍ، وَإِنِّي خَاتَمُ النَّبيِّينَ، لَا نَبيَّ بعْدِي" .
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری امت میں ستائیس کذاب اور دجال آئیں گے جن میں چار عورتیں بھی شامل ہوں گی حالانکہ میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23358]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23359
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ ، حَدَّثَنَا وَاصِلٌ الْأَحْدَب ، عَنْ أَبي وَائِلٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ أَنَّهُ بلَغَهُ عَنْ رَجُلٍ يَنُمُّ الْحَدِيثَ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ نَمَّامٌ" .
حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ چغلخور جنت میں داخل نہ ہوگا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23359]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 6056، م: 105
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23360
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ ، حَدَّثَنَا وَاصِلٌ الْأَحْدَب ، عَنْ أَبي وَائِلٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ , أَنَّهُ رَأَى رَجُلًا لَا يُتِمُّ رُكُوعًا وَلَا سُجُودًا، فَلَمَّا انْصَرَفَ مِنْ صَلَاتِهِ دَعَاهُ حُذَيْفَةُ، فَقَالَ لَهُ: مُنْذُ كَمْ صَلَّيْتَ هَذِهِ الصَّلَاةَ؟ قَالَ: قَدْ صَلَّيْتُهَا مُنْذُ كَذَا وَكَذَا، فَقَالَ حُذَيْفَةُ: مَا صَلَّيْتَ، أَوْ قَالَ: مَا صَلَّيْتَ لِلَّهِ صَلَاةً، شَكَّ مَهْدِيٌّ وَأَحْسِبهُ قَالَ: وَلَوْ مُتَّ مُتَّ عَلَى غَيْرِ سُنَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" .
زید بن وہب کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ مسجد میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ ابواب کندہ کے قریب ایک آدمی نماز پڑھ رہا ہے وہ رکوع و سجود کامل نہیں کر رہا تھا جب نماز سے فارغ ہوگیا تو حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے اس سے پوچھا کہ تم کب سے اس طرح نماز پڑھ رہے ہو؟ اس نے کہا چالیس سال سے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم نے چالیس سال سے ایک نماز نہیں پڑھی اور اگر تم اسی نماز پر دنیا سے رخصت ہوجاتے تو تم اس فطرت پر نہ مرتے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو عطاء فرمائی گئی تھی۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23360]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 389
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23361
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بنُ سَلَمَةَ ، أَخْبرَنَا عَاصِمُ بنُ بهْدَلَةَ ، عَنْ زِرِّ بنِ حُبيْشٍ ، قَالَ: تَسَحَّرْتُ ثُمَّ انْطَلَقْتُ إِلَى الْمَسْجِدِ، فَمَرَرْتُ بمَنْزِلِ حُذَيْفَةَ بنِ الْيَمَانِ فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ، فَأَمَرَ بلَقْحَةٍ فَحُلِبتْ، وَبقِدْرٍ فَسُخِّنَتْ، ثُمَّ قَالَ: ادْنُ فَكُلْ، فَقُلْتُ: إِنِّي أُرِيدُ الصَّوْمَ، فَقَالَ: وَأَنَا أُرِيدُ الصَّوْمَ، فَأَكَلْنَا وَشَرِبنَا، ثُمَّ أَتَيْنَا الْمَسْجِدَ، فَأُقِيمَتْ الصَّلَاةُ، ثُمَّ قَالَ حُذَيْفَةُ : هَكَذَا فَعَلَ بي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْتُ: أَبعْدَ الصُّبحِ؟ قَالَ: نَعَمْ، هُوَ الصُّبحُ غَيْرَ أَنْ لَمْ تَطْلُعْ الشَّمْسُ ، قَالَ: وَبيْنَ بيْتِ حُذَيْفَةَ وَبيْنَ الْمَسْجِدِ كَمَا بيْنَ مَسْجِدِ ثَابتٍ وَبسْتَانِ حَوْطٍ، وَقَدْ قَالَ حَمَّادٌ أَيْضًا: وَقَالَ حُذَيْفَةُ: هَكَذَا صَنَعْتُ مَعَ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَصَنَعَ بيَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
زر بن حبیش کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سحری کھا کر مسجد کی طرف روانہ ہوا راستے میں حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کا گھر آیا تو وہاں چلا گیا انہوں نے حکم دیا تو ایک بکری کا دودھ دوہا گیا اور ہانڈی کو جوش دیا گیا پھر وہ فرمانے لگے کہ قریب ہو کر کھانا شروع کرو میں نے کہا کہ میں تو روزے کی نیت کرچکا ہوں انہوں نے فرمایا میں بھی روزے کا ارادہ رکھتا ہوں چناچہ ہم نے کھایا پیا اور مسجد پہنچے تو نماز کھڑی ہوگئی پھر حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ساتھ بھی اسی طرح کیا تھا میں نے پوچھا صبح صادق کے بعد؟ انہوں نے فرمایا ہاں! صبح ہوچکی تھی لیکن سورج طلوع نہیں ہوا تھا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23361]

الحكم على الحديث:
رجاله ثقات غير عاصم بن بهدلة، فهو حسن الحديث، لكنه قد خولف فى رفع الحديث، فقد رواه من هو اوثق منه فوقفه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں