مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1049. حَدِيثُ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حدیث نمبر: 23422
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبا وَائِلٍ يُحَدِّثُ , أَنَّ أَبا مُوسَى كَانَ يُشَدِّدُ فِي الْبوْلِ، قَالَ: كَانَ بنُو إِسْرَائِيلَ إِذَا أَصَاب أَحَدَهُمْ الْبوْلُ يُتْبعُهُ بالْمِقْرَاضَيْنِ، قَالَ حُذَيْفَةُ : وَدِدْتُ أَنَّهُ لَا يُشَدِّدُ، لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَتَى، أَوْ قَالَ: مَشَى إِلَى سُباطَةِ قَوْمٍ، فَبالَ وَهُوَ قَائِمٌ" .
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کو یہ بات معلوم ہوئی کہ حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ ایک شیشی میں پیشاب کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ بنی اسرائیل کے جسم پر اگر پیشاب لگ جاتا تو وہ اس جگہ کو قینچی سے کاٹ دیا کرتے تھے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میری آرزو ہے کہ تمہارے ساتھی اتنی سختی نہ کریں مجھے یاد ہے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ چل رہے تھے چلتے چلتے کوڑا کر کٹ پھینکنے کی جگہ پر پہنچنے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر پیشاب کیا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23422]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 226، م: 273
حدیث نمبر: 23423
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، وَحَجَّاجٌ , قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ رِبعِيٍّ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ شُعْبةُ: رَفَعَهُ مَرَّةً إِلَى النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يُخْرِجُ اللَّهُ قَوْمًا مُنْتِنِينَ قَدْ مَحَشَتْهُمْ النَّارُ بشَفَاعَةِ الشَّافِعِينَ، فَيُدْخِلُهُمْ الْجَنَّةَ، فَيُسَمَّوْنَ الْجَهَنَّمِيُّونَ" ..
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جہنم سے ایک قوم اس وقت نکلے گی جب آگ انہیں جھلسا چکی ہوگی انہیں " جہنمی " کہا جائے گا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23423]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 23424
قَالَ حَجَّاجٌ: الْجَهَنَّمِيِّينَ. حَدَّثَنَا أَبو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ حَمَّادٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رِبعِيَّ بنَ حِرَاشٍ يُحَدِّثُ , عَنِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَهُ.
گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23424]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا الإسناد وإن كان مرسلا جاء موصولا
حدیث نمبر: 23425
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ أَبي التَّيَّاحِ ، قَالَ: سَمِعْتُ صَخْرًا يُحَدِّثُ , عَنْ سُبيْعٍ ، قَالَ: أَرْسَلُونِي مِنْ مَاءٍ إِلَى الْكُوفَةِ أَشْتَرِي الدَّوَاب، فَأَتَيْنَا الْكُنَاسَةَ، فَإِذَا رَجُلٌ عَلَيْهِ جَمْعٌ، قَالَ: فَأَمَّا صَاحِبي، فَانْطَلَقَ إِلَى الدَّوَاب، وَأَمَّا أَنَا فَأَتَيْتُهُ، فَإِذَا هُوَ حُذَيْفَةُ ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: كَانَ أَصْحَاب رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُونَهُ عَنِ الْخَيْرِ وَأَسْأَلُهُ عَنِ الشَّرِّ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ بعْدَ هَذَا الْخَيْرِ شَرٌّ كَمَا كَانَ قَبلَهُ شَرٌّ؟ قَالَ:" نَعَمْ"، قُلْتُ: فَمَا الْعِصْمَةُ مِنْهُ؟ قَالَ: " السَّيْفُ"، أَحْسَب أَبو التَّيَّاحِ، يَقُولُ: السَّيْفُ أَحْسَب قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ:" ثُمَّ تَكُونُ هُدْنَةٌ عَلَى دَخَنٍ"، قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ:" ثُمَّ تَكُونُ دُعَاةُ الضَّلَالَةِ، فَإِنْ رَأَيْتَ يَوْمَئِذٍ خَلِيفَةَ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ فَالْزَمْهُ، وَإِنْ نَهَكَ جِسْمَكَ وَأَخَذَ مَالَكَ، فَإِنْ لَمْ تَرَهُ فَاهْرَب فِي الْأَرْضِ، وَلَوْ أَنْ تَمُوتَ وَأَنْتَ عَاضٌّ بجِذْلِ شَجَرَةٍ"، قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ:" ثُمَّ يَخْرُجُ الدَّجَّالُ"، قَالَ: قُلْتُ: فِبمَ يَجِيءُ بهِ مَعَهُ؟ قَالَ:" بنَهَرٍ، أَوْ قَالَ: مَاءٍ وَنَارٍ، فَمَنْ دَخَلَ نَهْرَهُ حُطَّ أَجْرُهُ وَوَجَب وِزْرُهُ، وَمَنْ دَخَلَ نَارَهُ وَجَب أَجْرُهُ وَحُطَّ وِزْرُهُ"، قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ:" لَوْ أَنْتَجْتَ فَرَسًا لَمْ تَرْكَب فَلُوَّهَا حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ" ..
سبیع کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ لوگوں نے مجھے جانور خریدنے کے لئے بھیج دیا ہم ایک حلقے میں پہنچے جہاں بہت سے لوگ ایک شخص کے پاس جمع تھے میرا ساتھی تو جانوروں کی طرف چلا گیا جبکہ میں اس آدمی کی طرف، وہاں پہنچ کر معلوم ہوا کہ وہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ ہیں میں ان کے قریب گیا تو انہیں یہ کہتے ہوئے سنا کہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے خیر کے متعلق سوال کرتے تھے اور میں شر کے متعلق کیونکہ میں جانتا تھا کہ خیر مجھے چھوڑ کر آگے نہیں جاسکتی ایک دن میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! کیا اس خیر کے بعد شر ہوگا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حذیفہ! کتاب اللہ کو سیکھو اور اس کے احکام کی پیروی کرو (تین مرتبہ فرمایا میں نے پھر اپنا سوال دہرایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فتنہ اور شر ہوگا میں نے پوچھا یا رسول اللہ! کیا اس خیر کے بعد شر ہوگا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا حذیفہ رضی اللہ عنہ! کتاب اللہ کو سیکھو اور اس کے احکام کی پر وی کرو میں نے پوچھا یا رسول اللہ! کیا اس خیر کے بعد شر ہوگا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دھوئیں پر صلح قائم ہوگی اور گندگی پر اتفاق ہوگا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! دھوئیں پر صلح قائم ہونے سے کیا مراد ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگ اس صلح پر دل سے راضی نہیں ہوں گے۔ پھر میرے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان وہی سوال جواب ہوئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک ایسا فتنہ آئے گا جو اندھا بہرا کر دے گا اس پر جہنم کے دروازوں کی طرف بلانے والے لوگ مقرر ہوں گے اے حذیفہ! اگر تم اس حال میں مرو کہ تم نے کسی درخت کے تنے کو اپنے دانتوں تلے دبا رکھا ہو یہ اس سے بہتر ہوگا کہ تم ان میں سے کسی کی پیروی کرو۔ میں نے پوچھا پھر کیا ہوگا؟ فرمایا پھر دجال کا خروج ہوگا میں نے پوچھا اس کے ساتھ کیا چیز ہوگی؟ فرمایا اس کے ساتھ نہر یا پانی اور آگ ہوگی جو شخص اس کی نہر میں داخل ہوجائے گا اس کا اجر ضائع اور وبال پختہ ہوجائے گا اور جو شخص اس کی آگ میں داخل ہوگا اس کا اجر پختہ اور گناہ معاف ہوجائیں گے میں نے پوچھا پھر کیا ہوگا؟ فرمایا اگر تمہارے گھوڑے نے بچہ دیا تو اس کے بچے پر سوار ہونے کی نوبت نہیں آئے گی کہ قیامت قائم ہوجائے گی۔ پھر میرے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان وہی سوال جواب ہوئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک ایسا فتنہ آئے گا جو اندھا بہرا کر دے گا اس پر جہنم کے دروازوں کی طرف بلانے والے لوگ مقرر ہوں گے اے حذیفہ! اگر تم اس حال میں مرو کہ تم نے کسی درخت کے تنے کو اپنے دانتوں تلے دبا رکھا ہو یہ اس سے بہتر ہوگا کہ تم ان میں سے کسی کی پیروی کرو۔ میں نے پوچھا پھر کیا ہوگا؟ فرمایا پھر دجال کا خروج ہوگا میں نے پوچھا اس کے ساتھ کیا چیز ہوگی؟ فرمایا اس کے ساتھ نہر یا پانی اور آگ ہوگی جو شخص اس کی نہر میں داخل ہوجائے گا اس کا اجر ضائع اور وبال پختہ ہوجائے گا اور جو شخص اس کی آگ میں داخل ہوگا اس کا اجر پختہ اور گناہ معاف ہوجائیں گے میں نے پوچھا پھر کیا ہوگا؟ فرمایا اگر تمہارے گھوڑے نے بچہ دیا تو اس کے بچے پر سوار ہونے کی نوبت نہیں آئے گی کہ قیامت قائم ہوجائے گی۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23425]
الحكم على الحديث:
حديث حسن دون قوله: لو أنتجت فرسا لم تركب فلوها حتى تقوم الساعة، وهذا إسناد ضعيف لجهالة صخر ، وقد توبع
حدیث نمبر: 23426
قَالَ شُعْبةُ : وَحَدَّثَنِي أَبو بشْرٍ فِي إِسْنَادٍ لَهُ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، عَنِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا هُدْنَةٌ عَلَى دَخَنٍ؟ قَالَ:" قُلُوب لَا تَعُودُ عَلَى مَا كَانَتْ"..
گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23426]
الحكم على الحديث:
لم يبين شعبة اسناده
حدیث نمبر: 23427
حَدَّثَنَا عَبدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنِي أَبي، حَدَّثَنِي أَبو التَّيَّاحِ ، حَدَّثَنِي صَخْرُ بنُ بدْرٍ الْعِجْلِيُّ ، عَنْ سُبيْعِ بنِ خَالِدٍ الضُّبعِيِّ ، فَذَكَرَ مِثْلَ مَعْنَاهُ، وَقَالَ:" وَحُطَّ أَجْرُهُ وَحُطَّ وِزْرُهُ"، قَالَ:" وَإِنْ نَهَكَ ظَهْرَكَ وَأَخَذَ مَالَكَ"..
الحكم على الحديث:
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لجهالة صخر
حدیث نمبر: 23428
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَبي التَّيَّاحِ ، عَنْ صَخْرٍ ، عَنْ سُبيْعِ بنِ خَالِدٍ الضُّبعِيِّ ، فَذَكَرَهُ، وَقَالَ:" وَإِنْ نَهَكَ ظَهْرَكَ وَأَكَلَ مَالَكَ"، وَقَالَ:" وَحُطَّ أَجْرُهُ وَحُطَّ وِزْرُهُ".
الحكم على الحديث:
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف الجهالة صخر
حدیث نمبر: 23429
حَدَّثَنَا عَبدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ نَصْرِ بنِ عَاصِمٍ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ خَالِدِ بنِ خَالِدٍ الْيَشْكُرِيِّ ، قَالَ: خَرَجْتُ زَمَانَ فُتِحَتْ تُسْتَرُ حَتَّى قَدِمْتُ الْكُوفَةَ، فَدَخَلْتُ الْمَسْجِدَ، فَإِذَا أَنَا بحَلْقَةٍ فِيهَا رَجُلٌ صَدَعٌ مِنَ الرِّجَالِ، حَسَنُ الثَّغْرِ، يُعْرَفُ فِيهِ أَنَّهُ مِنْ رِجَالِ أَهْلِ الْحِجَازِ، قَالَ: فَقُلْتُ: مَنْ الرَّجُلُ؟ فَقَالَ الْقَوْمُ: أَوَ مَا تَعْرِفُهُ؟ فَقُلْتُ: لَا، فَقَالُوا: هَذَا حُذَيْفَةُ بنُ الْيَمَانِ صَاحِب رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَقَعَدْتُ وَحَدَّثَ الْقَوْمَ، فَقَالَ: إِنَّ النَّاسَ كَانُوا يَسْأَلُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْخَيْرِ، وَكُنْتُ أَسْأَلُهُ عَنِ الشَّرِّ، فَأَنْكَرَ ذَلِكَ الْقَوْمُ عَلَيْهِ، فَقَالَ لَهُمْ: إِنِّي سَأُخْبرُكُمْ بمَا أَنْكَرْتُمْ مِنْ ذَلِكَ، جَاءَ الْإِسْلَامُ حِينَ جَاءَ، فَجَاءَ أَمْرٌ لَيْسَ كَأَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ، وَكُنْتُ قَدْ أُعْطِيتُ فِي الْقُرْآنِ فَهْمًا، فَكَانَ رِجَالٌ يَجِيئُونَ فَيَسْأَلُونَ عَنِ الْخَيْرِ، فَكُنْتُ أَسْأَلُهُ عَنِ الشَّرِّ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيَكُونُ بعْدَ هَذَا الْخَيْرِ شَرٌّ كَمَا كَانَ قَبلَهُ شَرٌّ؟ فَقَالَ:" نَعَمْ"، قَالَ: قُلْتُ: فَمَا الْعِصْمَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: " السَّيْفُ"، قَالَ: قُلْتُ: وَهَلْ بعْدَ هَذَا السَّيْفِ بقِيَّةٌ؟ قَالَ:" نَعَمْ، تَكُونَ إِمَارَةٌ عَلَى أَقْذَاءٍ، وَهُدْنَةٌ عَلَى دَخَنٍ"، قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ:" ثُمَّ تَنْشَأُ دُعَاةُ الضَّلَالَةِ، فَإِنْ كَانَ لِلَّهِ يَوْمَئِذٍ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةٌ جَلَدَ ظَهْرَكَ، وَأَخَذَ مَالَكَ، فَالْزَمْهُ، وَإِلَّا فَمُتْ وَأَنْتَ عَاضٌّ عَلَى جِذْلِ شَجَرَةٍ"، قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ:" ثِمَ يَخْرُجُ الدَّجَّالُ بعْدَ ذَلِكَ مَعَهُ نَهَرٌ وَنَارٌ، مَنْ وَقَعَ فِي نَارِهِ وَجَب أَجْرُهُ وَحُطَّ وِزْرُهُ، وَمَنْ وَقَعَ فِي نَهَرِهِ وَجَب وِزْرُهُ وَحُطَّ أَجْرُهُ"، قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ:" ثُمَّ يُنْتَجُ الْمُهْرُ فَلَا يُرْكَب حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ" ، الصَّدْعُ مِنَ الرِّجَالِ: الضَّرْب، وَقَوْلُهُ:" فَمَا الْعِصْمَةُ مِنْهُ؟" قَالَ: السَّيْفُ، كَانَ قَتَادَةُ يَضَعُهُ عَلَى الرِّدَّةِ الَّتِي كَانَتْ فِي زَمَنِ أَبي بكْرٍ، وَقَوْلُهُ:" إِمَارَةٌ عَلَى أَقْذَاءٍ" يقول: علي قذى ," وَهُدْنَةٌ" يَقُولُ: صُلْحٌ، وَقَوْلُهُ:" عَلَى دَخَنٍ" يَقُولُ: عَلَى ضَغَائِنَ، قِيلَ لِعَبدِ الرَّزَّاقِ: مِمَّنْ التَّفْسِيرُ؟ قَالَ: منْ قَتَادَةَ , زعَمَ..
خالد بن خالد یشکری کہتے ہیں کہ تستر جس زمانے میں فتح ہوا میں وہاں سے نکل کر کوفہ پہنچا میں مسجد میں داخل ہوا تو وہاں ایک حلقہ لگا ہوا تھا یوں محسوس ہوتا تھا کہ ان کے سر کاٹ دیئے گئے ہیں وہ ایک آدمی کی حدیث کو بڑی توجہ سے سن رہے تھے میں ان کے پاس جا کر کھڑا ہوگیا اسی دوران ایک اور آدمی آیا اور میرے پہلو میں کھڑا ہوگیا میں نے اس سے پوچھا کہ یہ صاحب کون ہیں؟ اس نے مجھ سے پوچھا کیا آپ بصرہ کے رہنے والے ہیں میں نے کہا جی ہاں! اس نے کہا کہ میں پہلے ہی سمجھ گیا تھا کہ اگر آپ کوفی ہوتے تو ان صاحب کے متعلق سوال نہ کرتے یہ حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ ہیں۔ میں ان کے قریب گیا تو انہیں یہ کہتے ہوئے سنا کہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے خیر کے متعلق سوال کرتے تھے اور میں شر کے متعلق کیونکہ میں جانتا تھا کہ خیر مجھے چھوڑ کر آگے نہیں جاسکتی ایک دن میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! کیا اس خیر کے بعد شر ہوگا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حذیفہ! کتاب اللہ کو سیکھو اور اس کے احکام کی پیروی کرو (تین مرتبہ فرمایا میں نے پھر اپنا سوال دہرایا نبی کریم، صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فتنہ اور شر ہوگا میں نے پوچھا یا رسول اللہ! کیا اس خیر کے بعد شر ہوگا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا حذیفہ رضی اللہ عنہ! کتاب اللہ کو سیکھو اور اس کے احکام کی پیروی کرو میں نے پوچھا یا رسول اللہ! کیا اس خیر کے بعد شر ہوگا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دھوئیں پر صلح قائم ہوگی اور گندگی پر اتفاق ہوگا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! دھوئیں پر صلح قائم ہونے سے کیا مراد ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگ اس صلح پر دل سے راضی نہیں ہوں گے۔ پھر میرے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان وہی سوال جواب ہوئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک ایسا فتنہ آئے گا جو اندھا بہرا کر دے گا اس پر جہنم کے دروازوں کی طرف بلانے والے لوگ مقرر ہوں گے اے حذیفہ! اگر تم اس حال میں مرو کہ تم نے کسی درخت کے تنے کو اپنے دانتوں تلے دبا رکھا ہو یہ اس سے بہتر ہوگا کہ تم ان میں سے کسی کی پیروی کرو۔ میں نے پوچھا پھر کیا ہوگا؟ فرمایا پھر دجال کا خروج ہوگا میں نے پوچھا اس کے ساتھ کیا چیز ہوگی؟ فرمایا اس کے ساتھ نہر یا پانی اور آگ ہوگی جو شخص اس کی نہر میں داخل ہوجائے گا اس کا اجر ضائع اور وبال پختہ ہوجائے گا اور جو شخص اس کی آگ میں داخل ہوگا اس کا اجر پختہ اور گناہ معاف ہوجائیں گے میں نے پوچھا پھر کیا ہوگا؟ فرمایا اگر تمہارے گھوڑے نے بچہ دیا تو اس کے بچے پر سوار ہونے کی نوبت نہیں آئے گی کہ قیامت قائم ہوجائے گی۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23429]
الحكم على الحديث:
حديث حسن دون قوله: ثم ينتج المهر فلا يركب حتى تقوم الساعة ، وهذا مخالف لحديث أبى هريرة وعائشة: من أن السيد المسيح يمكث فى الأرض أربعين سنة بعد قتله للمسيح الدجال
حدیث نمبر: 23430
حَدَّثَنَا بهْزٌ ، حَدَثَنَا أَبو عَوَانَة ، حَدَثَنَا قَتَادَة ، عَنْ نَصر بن عَاصم ، عَن سُبيع بنَ خَالد ، قَالَ: قَدَمتُ الْكُوفَةَ زَمَنَ فُتِحتْ تُسَتَرُ، فَذكَرَ مثل مَعْنَى حَدِيثِ مَعْمَرٍ، وقَالَ:" حُطَّ وِزْرُهُ"..
گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23430]
الحكم على الحديث:
حديث حسن، سبيع بن خالد توبع
حدیث نمبر: 23431
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ , حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ زَيْدَ بنَ وَهْب يُحَدِّثُ , عَنْ حُذَيْفَةَ ، حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّه صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بحَدِيثَيْنِ قَدْ رَأَيْتُ أَحَدَهُمَا، وَأَنَا أَنْتَظِرُ الْآخَرَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23431]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 143