🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1049. حَدِيثُ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23392
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: " كَانَ بلَالٌ يَأْتِي النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَتَسَحَّرُ، وَإِنِّي لَأُبصِرُ مَوَاقِعَ نَبلِي، قُلْتُ: أَبعْدَ الصُّبحِ؟ قَالَ: بعْدَ الصُّبحِ، إِلَّا أَنَّهَا لَمْ تَطْلُعْ الشَّمْسُ" .
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ صبح کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سحری کھا رہے ہوتے تھے اور میں اس وقت اپنا تیر گرنے کی جگہ دیکھ سکتا تھا میں نے پوچھا کہ صبح صادق کے بعد؟ انہوں نے فرمایا ہاں! صبح ہوچکی تھی لیکن سورج طلوع نہیں ہوتا تھا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23392]

الحكم على الحديث:
رجاله ثقات، لكن قد خولف عاصم بن ابي النجود
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23393
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا عَبدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابنَ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا حُصَيْنٌ ، عَنْ أَبي وَائِلٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَيَرِدَنَّ عَلَيَّ الْحَوْضَ أَقْوَامٌ، فَإِذَا رَأَيْتُهُمْ اخْتُلِجُوا دُونِي، فَأَقُولُ: أَيْ رَب، أَصْحَابي أَصْحَابي، فَيُقَالُ: إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بعْدَكَ" .
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میرے پاس حوض کوثر پر کچھ آدمی ایسے بھی آئیں گے کہ میں دیکھوں گا جب وہ میرے سامنے پیش ہوں گے انہیں میرے سامنے سے اچک لیا جائے گا میں عرض کروں گا پروردگار! میرے ساتھی ارشاد ہوگا کہ آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا چیزیں ایجاد کرلی تھیں۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23393]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح لكن من حديث ابن مسعود، وهذا إسناد ضعيف من أجل مؤمل
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23394
حَدَّثَنَا أَبو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ أَبي بكْرِ بنِ عَمْرِو بنِ عُتْبةَ ، عَنْ ابنِ حُذَيْفَةَ ، قَالَ مِسْعَرٌ: وَقَدْ ذَكَرَهُ مَرَّةً عَنْ حُذَيْفَةَ : " أَنَّ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَتُدْرِكُ الرَّجُلَ وَوَلَدَهُ وَوَلَدَ وَلَدِهِ" .
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی شخص کے لئے دعا فرماتے تھے تو اس دعاء کے اثرات اسے اس کی اولاد کو اور اس کے پوتوں تک کو پہنچتے تھے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23394]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لجهالة حال أبى بكر بن عمرو
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23395
حَدَّثَنَا أَبو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ يَعْنِي ابنَ جُمَيْعٍ ، حَدَّثَنَا أَبو الطُّفَيْلِ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ غَزْوَةِ تَبوكَ، قَالَ: فَبلَغَهُ أَنَّ فِي الْمَاءِ قِلَّةً الَّذِي يَرِدُهُ، فَأَمَرَ مُنَادِيًا فَنَادَى فِي النَّاسِ: " أَنْ لَا يَسْبقَنِي إِلَى الْمَاءِ أَحَدٌ"، فَأَتَى الْمَاءَ، وَقَدْ سَبقَهُ قَوْمٌ، فَلَعَنَهُمْ .
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ تبوک کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہوئے انہیں پانی کی قلت کا پتہ چلا تو منادی کو یہ اعلان کرنے کا حکم دیا کہ پانی بہت تھوڑا ہے لہٰذا اس مقام پر مجھ سے پہلے کوئی نہ پہنچے لیکن جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں پہنچے تو دیکھا کہ کچھ لوگ ان سے پہلے وہاں پہنچ چکے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں لعنت ملامت کی۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23395]

الحكم على الحديث:
إسناده قوي، م: 2779
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23396
حَدَّثَنَا أَبو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنْ الْوَلِيدِ بنِ الْعَيْزَارِ ، قَالَ: قَالَ حُذَيْفَةُ :" بتُّ بآلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَعَلَيْهِ طَرَفُ اللِّحَافِ، وَعَلَى عَائِشَةَ طَرَفُهُ، وَهِيَ حَائِضٌ لَا تُصَلِّي" .
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں رات گذارنے کا اتفاق ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوئے لحاف کا ایک کونا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر تھا اور دوسرا کونا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر تھا وہ اس وقت " ایام " سے تھیں یعنی نماز نہیں پڑھ سکتی تھیں۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23396]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لاضطرابه، فقد اضطرب فيه يونس
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23397
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، قَالَ: أَبو إِسْحَاقَ أَخْبرَنَا، قَالَ: سَمِعْتُ صِلَةَ بنَ زُفَرَ ، عَنْ حُذَيْفَةَ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَهْلِ نَجْرَانَ: " لَأَبعَثَنَّ إِلَيْكُمْ رَجُلًا أَمِينًا حَقَّ أَمِينٍ"، قَالَهَا أَكْثَرَ مِنْ مَرَّتَيْنِ، فَاسْتَشْرَفَ لَهَا النَّاسُ، فَبعَثَ أَبا عُبيْدَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ .
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اہل نجران سے دو سے زائد مرتبہ فرمایا میں تمہارے ساتھ ایسے امانت دار آدمی کو بھیجوں گا جو واقعی امین کہلانے کا حق دار ہوگا یہ سن کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سر اٹھا اٹھا کر دیکھنے لگے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو ان کے ساتھ بھیج دیا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23397]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 4381، م: 2420
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23398
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابنَ سَلَمَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَقِيتُ جِبرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام عِنْدَ أَحْجَارِ الْمِرَاءِ، فَقَالَ: يَا جِبرِيلُ، إِنِّي أُرْسِلْتُ إِلَى أُمَّةٍ أُمِّيَّةٍ: الرَّجُلُ وَالْمَرْأَةُ وَالْغُلَامُ وَالْجَارِيَةُ وَالشَّيْخُ الْفَانِي الَّذِي لَمْ يَقْرَأُ كِتَابا قَط، قَالَ: إِنَّ الْقُرْآنَ نَزَلَ عَلَى سَبعَةِ أَحْرُفٍ" .
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ " احجارالمراء " نامی جگہ پر میری جبرائیل علیہ السلام سے ملاقات ہوگئی تو میں نے ان سے کہا کہ اے جبرائیل! مجھے ایک امی امت کی طرف بھیجا گیا ہے جس میں مرد و عورت لڑکے اور لڑکیاں اور نہایت بوڑھے لوگ بھی شامل ہیں جو کچھ بھی پڑھنا نہیں جانتے تو انہوں نے کہا کہ قرآن کریم سات حروف پر نازل ہوا ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23398]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23399
حَدَّثَنَا خَلَفُ بنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بنُ زَكَرِيَّا ، حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بنُ الْمُسَيَّب ، عَنْ عَمْرِو بنِ مُرَّةَ ، عَنْ طَلْحَةَ بنِ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي لَيْلَةٍ مِنْ رَمَضَانَ، فَقَامَ يُصَلِّي، فَلَمَّا كَبرَ قَالَ: " اللَّهُ أَكْبرُ، ذُو الْمَلَكُوتِ وَالْجَبرُوتِ، وَالْكِبرِيَاءِ وَالْعَظَمَةِ"، ثُمَّ قَرَأَ، ثُمَّ، ثُمَّ عِمْرَانَ، لَا يَمُرُّ بآيَةِ تَخْوِيفٍ إِلَّا وَقَفَ عِنْدَهَا، ثُمَّ رَكَعَ يَقُولُ:" سُبحَانَ رَبيَ الْعَظِيمِ"، مِثْلَ مَا كَانَ قَائِمًا، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَالَ:" سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، رَبنَا لَكَ الْحَمْدُ"، مِثْلَ مَا كَانَ قَائِمًا، ثُمَّ سَجَدَ، يَقُولُ:" سُبحَانَ رَبيَ الْأَعْلَى"، مِثْلَ مَا كَانَ قَائِمًا، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ:" رَب اغْفِرْ لِي"، مِثْلَ مَا كَانَ قَائِمًا، ثُمَّ سَجَدَ يَقُولُ:" سُبحَانَ رَبيَ الْأَعْلَى"، مِثْلَ مَا كَانَ قَائِمًا، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَامَ فَمَا صَلَّى إِلَّا رَكْعَتَيْنِ حَتَّى جَاءَ بلَالٌ فَآذَنَهُ بالصَّلَاةِ .
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورت بقرہ شروع کردی جب سو آیات پر پہنچے تو میں نے سوچا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اب رکوع کریں گے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پڑھتے رہے حتی کہ دو سو آیات تک پہنچ گئے میں نے سوچا کہ شاید اب رکوع کریں گے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پڑھتے رہے حتی کہ اسے ختم کرلیا لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورت نساء شروع کرلی اور اسے پڑھ کر رکوع کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رکوع میں سبحان ربی العظیم اور سجدہ میں سبحان ربی الاعلی کہتے رہے اور رحمت کی جس آیت پر گذرتے وہاں رک کر دعا مانگتے اور عذاب کی جس آیت پر گذرتے تو وہاں رک کر اس سے پناہ مانگتے تھے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23399]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة طلحة بن يزيد، ولم يسمع هذا الحديث من حذيفة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23400
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَاصِمِ ، عَنْ زِرِّ بنِ حُبيْشٍ ، قَالَ: قُلْتُ لِحُذَيْفَةَ : أَيُّ سَاعَةٍ تَسَحَّرْتُمْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ:" هُوَ النَّهَارُ إِلَّا أَنَّ الشَّمْسَ لَمْ تَطْلُعْ" .
زر بن حبیش کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کس وقت سحری کھائی ہے؟ انہوں نے فرمایا صبح ہوچکی تھی لیکن سورج طلوع نہیں ہوا تھا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23400]

الحكم على الحديث:
رجالة ثقات لكنه قد خولف عاصم ابن بهدلة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23401
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ أَبي لَيْلَى ، قَالَ: اسْتَسْقَى حُذَيْفَةُ مِنْ دِهْقَانٍ أَوْ عِلْجٍ، فَأَتَاهُ بإِنَاءٍ فِضَّةٍ، فَحَذَفَهُ بهِ، ثُمَّ أَقْبلَ عَلَى الْقَوْمِ اعْتَذَرَ اعْتِذَارًا، وَقَالَ: إِنِّي إِنَّمَا فَعَلْتُ ذَلِكَ بهِ عَمْدًا، لِأَنِّي كُنْتُ نَهَيْتُهُ قَبلَ هَذِهِ الْمَرَّةِ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَانَا عَنْ لُبسِ الدِّيباجِ وَالْحَرِيرِ، وَآنِيَةِ الذَّهَب وَالْفِضَّةِ، وَقَالَ: " هُوَ لَهُمْ فِي الدُّنْيَا، وَهُوَ لَنَا فِي الْآخِرَةِ" .
عبدالرحمن بن ابی لیلی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایک دیہات کی طرف نکلا انہوں نے پانی منگوایا تو ایک کسان چاندی کے برتن میں پانی لے کر آیا حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے وہ برتن اس کے منہ پردے مارا ہم نے ایک دوسرے کو خاموش رہنے کا اشارہ کیا کیونکہ اگر ہم ان سے پوچھتے تو وہ کبھی اس کے متعلق ہم سے بیان نہ کرتے چناچہ ہم خاموش رہے کچھ دیر بعد انہوں نے خود ہی فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ میں نے یہ برتن اس کے چہرے پر کیوں مارا؟ ہم نے عرض کیا نہیں فرمایا کہ میں نے اسے پہلے بھی منع کیا تھا (لیکن یہ باز نہیں آیا) پھر انہوں نے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سونے چاندی کے برتن میں کچھ نہ پیا کرو ریشم و دیبا مت پہنا کرو کیونکہ یہ چیزیں دنیا میں کافروں کے لئے ہیں اور آخرت میں تمہارے لئے ہیں۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23401]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 5633، م: 2067
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں