مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1049. حَدِيثُ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حدیث نمبر: 23432
حَدَّثَنَا عَبدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا بكَّارٌ ، حَدَّثَنِي خَلَّادُ بنُ عَبدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبا الطُّفَيْلِ يُحَدِّثُ , أَنَّهُ سَمِعَ حُذَيْفَةَ بنَ الْيَمَانٍِ ، يَقُولُ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، أَلَا تَسْأَلُونِي؟ فَإِنَّ النَّاسَ كَانُوا يَسْأَلُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْخَيْرِ، وَكُنْتُ أَسْأَلُهُ عَنِ الشَّرِّ، إِنَّ اللَّهَ بعَثَ نَبيَّهُ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ، فَدَعَا النَّاسَ مِنَ الْكُفْرِ إِلَى الْإِيمَانِ، وَمِنْ الضَّلَالَةِ إِلَى الْهُدَى، فَاسْتَجَاب لَه مَنْ اسْتَجَاب، فَحَيَّ مِنَ الْحَقِّ مَا كَانَ مَيْتًا، وَمَاتَ مِنَ الْباطِلِ مَا كَانَ حَيًّا، ثُمَّ ذَهَبتْ النُّبوَّةُ، فَكَانَتْ الْخِلَافَةُ عَلَى مِنْهَاجِ النُّبوَّةِ" .
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے مروی ہے کہ ایک دن انہوں نے فرمایا اے لوگو! تم مجھ سے پوچھتے کیوں نہیں ہو؟ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے خیر کے متعلق پوچھتے تھے اور میں شر کے متعلق پوچھتا تھا بیشک اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا انہوں نے لوگوں کو کفر سے ایمان کی دعوت دی گمراہی سے ہدایت کی طرف بلایا جس نے ان کی بات ماننی تھی سو اس نے یہ دعوت قبول کرلی اور حق کی برکت سے مردہ چیزیں زندہ ہوگئیں اور باطل کی نحوست سے زندہ چیزیں بھی مردہ ہوگئیں پھر نبوت کا دور ختم ہوا تو خلافت علی منہاج النبوۃ قائم ہوئی۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23432]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23433
حَدَّثَنَا عَبدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَبي إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي مَنْ كَانَ مَعَ سَعِيدِ بنِ الْعَاصِ فِي غَزْوَةٍ يُقَالُ لَهَا: غَزْوَةُ الْخَشَب، وَمَعَهُ حُذَيْفَةُ بنُ الْيَمَانِ، فَقَالَ سَعِيدٌ: أَيُّكُمْ شَهِدَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْخَوْفِ؟ فَقَالَ حُذَيْفَةُ : أَنَا، قَالَ: فَأَمَرَهُمْ حُذَيْفَةُ فَلَبسُوا السِّلَاحَ، ثُمَّ قَالَ: إِنْ هَاجَكُمْ هَيْجٌ فَقَدْ حَلَّ لَكُمْ الْقِتَالُ، قَالَ: " فَصَلَّى بإِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ رَكْعَةً، وَالطَّائِفَةُ الْأُخْرَى مُوَاجِهَةَ الْعَدُوِّ، ثُمَّ انْصَرَفَ هَؤُلَاءِ، فَقَامُوا مَقَامَ أُولَئِكَ، وَجَاءَ أُولَئِكَ فَصَلَّى بهِمْ رَكْعَةً أُخْرَى، ثُمَّ سَلَّمَ عَلَيْهِمْ" .
ثعلبہ بن زہدم کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ طبرستان میں حضرت سعید بن عاص رضی اللہ عنہ کے ہمراہ تھے انہوں نے لوگوں سے پوچھا کہ تم میں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صلوۃ الخوف کس نے پڑھی ہے؟ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں نے پھر انہوں نے لوگوں کو حکم دیا چناچہ انہوں نے اسلحہ پہن لیا پھر حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اگر دشمن اچانک تم پر حملہ کر دے تو تمہارے لئے لڑنا جائز ہے پھر انہوں نے ایک گروہ کو ایک رکعت پڑھائی۔ ایک صف دشمن کے سامنے کھڑی رہی پھر یہ لوگ دشمن کے سامنے ڈٹے ہوئے لوگوں کی جگہ الٹے پاؤں چلے گئے اور وہ لوگ ان کی جگہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے آکر کھڑے ہوگئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دوسری رکعت پڑھائی پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیر دیا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23433]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف للرجل المبهم، لكن له طريق صحيحة
حدیث نمبر: 23434
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبرَاهِيمَ ، عَنْ هَمَّامِ بنِ الْحَارِثِ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ حُذَيْفَةَ فَمَرَّ رَجُلٌ، فَقَالُوا: إِنَّ هَذَا يُبلِّغُ الْأُمَرَاءَ الْأَحَادِيثَ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَتَّاتٌ" .
حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ چغلخور جنت میں داخل نہ ہوگا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23434]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 6056، م: 105
حدیث نمبر: 23435
حَدَّثَنَا أَبو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا عَبدُ الْجَبارِ بنُ الْعَباسِ الشَّامِيُّ ، عَنْ أَبي قَيْسٍ ، قَالَ عَبدُ الْجَبارِ: أُرَاهُ عَنْ هُزَيْلٍ، قَالَ: قَامَ حُذَيْفَةُ خَطِيبا فِي دَارِ عَامِرِ بنِ حَنْظَلَةَ، فِيهَا التَّمِيمِيُّ، وَالْمُضَرِيُّ، فَقَالَ: " لَيَأْتِيَنَّ عَلَى مُضَرَ يَوْمٌ لَا يَدَعُونَ لِلَّهِ عَبدًا يَعْبدُهُ إِلَّا قَتَلُوهُ، أَوْ لَيُضْرَبنَّ ضَرْبا لَا يَمْنَعُونَ ذَنَب تَلْعَةٍ"، أَوْ" أَسْفَلَ تَلْعَةٍ"، فَقِيلَ: يَا أَبا عَبدِ اللَّهِ، تَقُولُ هَذَا لِقَوْمِكَ، أَوْ لِقَوْمٍ أَنْتَ يَعْنِي مِنْهُمْ؟! قَالَ: لَا أَقُولُ يَعْنِي إِلَّا مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ .
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ قبیلہ مضر زمین پر اللہ کا کوئی نیک بندہ ایسا نہیں چھوڑے گا جسے وہ فتنے میں نہ ڈال دے اور اسے ہلاک نہ کر دے حتی کہ اللہ اس پر اپنا ایک لشکر مسلط کر دے گا جو اسے ذلیل کر دے گا اور اسے کسی ٹیلے کا دامن بھی نہ بچا سکے گا، ایک آدمی نے ان سے کہا بندہ خدا! آپ یہ بات کہہ رہے ہیں حالانکہ آپ تو خود قبیلہ مضر سے تعلق رکھتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ میں تو وہی بات کہہ رہا ہوں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23435]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 23436
حَدَّثَنَا زَيْدُ بنُ الْحُباب ، أَخْبرَنَا إِسْرَائِيلُ ، أَخْبرَنِي مَيْسَرَةُ بنُ حَبيب ، عَنْ الْمِنْهَالِ ، عَنْ زِرِّ بنِ حُبيْشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ قَالَتْ لِي أُمِّي: مَتَى عَهْدُكَ بالنَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: فَقُلْتُ: مَا لِي بهِ عَهْدٌ مُنْذُ كَذَا وَكَذَا، قَالَ: فَهَمَّتْ بي، فَقُلْتُ: يَا أُمَّهْ، دَعِينِي حَتَّى أَذْهَب إِلَى النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَا أَدَعُهُ حَتَّى يَسْتَغْفِرَ لِي وَيَسْتَغْفِرَ لَكِ، قَالَ: فَجِئْتُهُ فَصَلَّيْتُ مَعَهُ الْمَغْرِب،" فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ قَامَ يُصَلِّي، فَلَمْ يَزَلْ يُصَلِّي حَتَّى صَلَّى الْعِشَاءَ، ثُمَّ خَرَجَ" .
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مجھ سے میری والدہ نے پوچھا کہ تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کب سے وابستہ ہو؟ میں نے انہیں اس کا اندازہ بتادیا وہ مجھے سخت سست اور برا بھلا کہنے لگیں میں نے ان سے کہا کہ پیچھے ہٹیں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا رہا ہوں مغرب کی نماز ان کے ساتھ پڑھوں گا اور اس وقت تک انہیں چھوڑوں گا نہیں جب تک وہ میرے اور آپ کے لئے استغفار نہ کریں۔ چنانچہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھی اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز پڑھائی اور واپس چلے گئے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23436]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23437
حَدَّثَنَا عَبدُ الْعَزِيزِ بنُ عَبدِ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ أَبي لَيْلَى ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَشْرَب فِي آنِيَةِ الذَّهَب وَالْفِضَّةِ، وَأَنْ نَأْكُلَ فِيهَا، وَأَنْ نَلْبسَ الْحَرِيرَ وَالدِّيباجَ، وَقَالَ: " هِيَ لَهُمْ فِي الدُّنْيَا، وَلَكُمْ فِي الْآخِرَةِ" .
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشم و دیبا پہننے سے اور سونے چاندی کے برتن استعمال کرنے سے منع کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ یہ چیزیں دنیا میں کافروں کے لئے ہیں اور آخرت میں ہمارے لئے ہیں۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23437]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 5632، م: 2067
حدیث نمبر: 23438
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبرَنَا حَجَّاجٌ ، عَنْ عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ عَابسٍ ، عَنْ أَبيهٍِ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ شَرَطَ لِأَخِيهِ شَرْطًا لَا يُرِيدُ أَنْ يَفِيَ لَهُ بهِ، فَهُوَ كَالْمُدْلِي جَارَهُ إِلَى غَيْرِ مَنَعَةٍ" .
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جو شخص اپنے بھائی سے کوئی وعدہ کرے جسے پورا نہ کرنے کا اس کا کوئی ارادہ نہ ہو تو یہ ایسے ہے جیسے کوئی شخص اپنے پڑوسی کو ایک ایسے شخص کے حوالے کر دے جس کی کوئی اہمیت نہ ہو۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23438]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لضعف حجاج و عنعنته، وتفرده بهذا الحديث
حدیث نمبر: 23439
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بنُ هَارُونَ ، حَدَّثَنَا أَبو مَالِكٍ سَعِيدُ بنُ طَارِقٍ الْأَشْجَعِيُّ ، حَدَّثَنِي رِبعِيُّ بنُ حِرَاشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ بنِ الْيَمَانِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَأَنَا أَعْلَمُ بمَا مَعَ الدَّجَّالِ مِنَ الدَّجَّالِ، مَعَهُ نَهَرَانِ يَجْرِيَانِ: أَحَدُهُمَا رَأْيَ الْعَيْنِ مَاءٌ أَبيَضُ، وَالْآخَرُ رَأْيَ الْعَيْنِ نَارٌ تَأَجَّجُ، فَإِمَّا أَدْرَكَنَّ أَحَدًا مِنْكُمْ، فَلْيَأْتِ النَّهَرَ الَّذِي يَرَاهُ نَارًا، وَلْيُغْمِضْ ثُمَّ لِيُطَأْطِئْ رَأْسَهُ فَلْيَشْرَب، فَإِنَّهُ مَاءٌ بارِدٌ، وَإِنَّ الدَّجَّالَ مَمْسُوحُ الْعَيْنِ الْيُسْرَى، عَلَيْهَا ظَفَرَةٌ غَلِيظَةٌ، وَفِيهِ مَكْتُوب بيْنَ عَيْنَيْهِ: كَافِرٌ، يَقْرَؤُهُ كُلُّ مُؤْمِنٍ كَاتِب وَغَيْرُ كَاتِب" .
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں یہ بات دجال سے بھی زیادہ جانتا ہوں کہ اس کے ساتھ کیا ہوگا اس کے ساتھ بہتی ہوئی دو نہریں ہوں گی جن میں سے ایک دیکھنے میں سفید پانی کی ہوگی اور دوسری دیکھنے میں بھڑکتی ہوگی اگر تم میں سے کوئی شخص اس دور کو پائے تو اس نہر میں داخل ہوجائے جو اسے آگ نظر آرہی ہو اس میں غوطہ زنی کرے پھر سر جھکا کر اس کا پانی پی لے کیونکہ وہ ٹھنڈا پانی ہوگا اور دجال کی بائیں آنکھ کسی نے پونچھ دی ہوگی اس پر ایک موٹا ناخنہ ہوگا اور اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان " کافر " لکھا ہوگا جسے ہر کاتب وغیر کاتب مسلمان پڑھ لے گا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23439]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 3450، م: 2934
حدیث نمبر: 23440
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبرَنَا أَبو مَالِكٍ ، عَنْ رِبعِيِّ بنِ حِرَاشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ , أَنَّهُ قَدِمَ مِنْ عِنْدِ عُمَرَ، قَالَ: لَمَّا جَلَسْنَا إِلَيْهِ يَسْأَلُ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّكُمْ سَمِعَ قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْفِتَنِ؟ قَالُوا: نَحْنُ سَمِعْنَاهُ، قَالَ: لَعَلَّكُمْ تَعْنُونَ فِتْنَةَ الرَّجُلِ فِي أَهْلِهِ وَمَالِهِ؟ قَالُوا: أَجَلْ، قَالَ: لَسْتُ عَنْ تِلْكَ أَسْأَلُ، تِلْكَ تُكَفِّرُهَا الصَّلَاةُ وَالصَّوْمُ وَالصَّدَقَةُ، وَلَكِنْ أَيُّكُمْ سَمِعَ قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْفِتَنِ الَّتِي تَمُوجُ مَوْجَ الْبحْرِ؟ قَالَ: فَأَسْكَتَ الْقَوْمُ، فَظَنَنْتُ أَنَّهُ إِيَّايَ يُرِيدُ، قَالَ: قُلْتُ: أَنَا ذَاكَ، قَالَ: أَنْتَ لِلَّهِ أَبوكَ! قَالَ: قُلْتُ: " تُعْرَضُ الْفِتَنُ عَلَى الْقُلُوب عَرْضَ الْحَصِيرِ، فَأَيُّ قَلْب أَنْكَرَهَا نُكِتَتْ فِيهِ نُكْتَةٌ بيْضَاءُ، وَأَيُّ قَلْب أَبشَرَ بهَا نُكِتَتْ فِيهِ نُكْتَةٌ سَوْدَاءُ، حَتَّى تَصِيرَ الْقُلُوب عَلَى قَلْبيْنِ أَبيَضُ مِثْلُ الصَّفَا، لَا يَضُرُّهُ فِتْنَةٌ مَا دَامَتْ السَّمَوَاتُ وَالْأَرْضُ، وَالْآخَرُ أَسْوَدُ مُرْبدٌّ كَالْكُوزِ مُجَخِّيًا وَأَمَالَ كَفَّهُ لَا يَعْرِفُ مَعْرُوفًا، وَلَا يُنْكِرُ مُنْكَرًا إِلَّا مَا أُشْرِب مِنْ هَوَاهُ"، وَحَدَّثْتُهُ أَنَّ بيْنَهُ وَبيْنَهَا بابا مُغْلَقًا، يُوشِكُ أَنْ يُكْسَرَ كَسْرًا، قَالَ عُمَرُ: كَسْرًا لَا أَبا لَكَ! قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: فَلَوْ أَنَّهُ فُتِحَ كَانَ لَعَلَّهُ أَنْ يُعَادَ فَيُغْلَقَ، قَالَ: قُلْتُ: لَا بلْ كَسْرًا، قَالَ: وَحَدَّثْتُهُ أَنَّ ذَلِكَ الْباب رَجُلٌ يُقْتَلُ أَوْ يَمُوتُ، حَدِيثًا لَيْسَ بالْأَغَالِيطِ .
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس سے آئے ان کا کہنا ہے کل گذشتہ جب ہم ان کے پاس بیٹھے تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے انہوں نے پوچھا کہ آپ لوگوں میں سے کس نے فتنوں کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد سنا ہے؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کہنے لگے کہ ہم سب ہی نے سنا ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا شاید تم وہ فتنہ سمجھ رہے ہو جو آدمی کے اہل خانہ اور مال سے متعلق ہوتا ہے؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا جی ہاں! حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں تم سے اس کے متعلق نہیں پوچھ رہا اس کا کفارہ تو نماز روزہ اور صدقہ بن جاتے ہیں ان فتنوں کے بارے تم میں سے کسی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد سنا ہے جو سمندر کی موجوں کی طرح پھیل جائیں گے؟ اس پر لوگ خاموش ہوگئے اور میں سمجھ گیا کہ اس کا جواب وہ مجھ سے معلوم کرنا چاہتے ہیں چناچہ میں نے عرض کیا کہ میں نے وہ ارشاد سنا ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا یقینا تم نے ہی سنا ہوگا میں نے عرض کیا کہ دلوں کے سامنے فتنوں کو اس طرح پیش کیا جائے گا جیسے چٹائی کو پیش کیا جائے جو دل ان سے نامانوس ہوگا اس پر ایک سفید نقطہ پڑجائے گا اور جو دل اس کی طرف مائل ہوجائے گا اس پر ایک کالا دھبہ پڑجائے گا حتیٰ کہ دلوں کی دو صورتیں ہوجائیں گی ایک تو ایسا سفید جیسے چاندی اسے کوئی فتنہ " جب تک آسمان و زمین رہیں گے " نقصان نہ پہنچا سکے گا اور دوسرا ایسا کالا سیاہ جیسے کوئی شخص کٹورے کو اوندھا دے اور ہتھیلی پھیلا دے ایسا شخص کسی نیکی کو نیکی اور کسی گناہ کو گناہ نہیں سمجھے گا سوائے اسی چیز کے جس کی طرف اس کی خواہش کا میلان ہو۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23440]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1435، م: 144
حدیث نمبر: 23441
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بنُ هَارُونَ ، أَخْبرَنَا أَبو مَالِكٍ ، حَدَّثَنِي رِبعِيُّ بنُ حِرَاشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمَعْرُوفُ كُلُّهُ صَدَقَةٌ، وَإِنَّ آخِرَ مَا تَعَلَّقَ بهِ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ مِنْ كَلَامِ النُّبوَّةِ: إِذَا لَمْ تَسْتَحْيِ فَافْعَلْ مَا شِئْتَ" .
حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر نیکی صدقہ ہے۔ اور لوگوں کو پہلے امر نبوت میں سے جو کچھ حاصل ہوا ہے اس میں یہ بات بھی شامل ہے کہ جب تم حیاء نہ کرو تو جو چاہے کرو۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23441]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1005