مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1049. حَدِيثُ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حدیث نمبر: 23442
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبرَنَا شَرِيكُ بنُ عَبدِ اللَّهِ ، عَنْ عَاصِمِ بنِ أَبي النَّجُودِ ، عَنْ زِرِّ بنِ حُبيْشٍ ، قَالَ: قُلْتُ يَعْنِي لِحُذَيْفَةَ : يَا أَبا عَبدِ اللَّهِ، تَسَحَّرْتَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قُلْتُ: أَكَانَ الرَّجُلُ يُبصِرُ مَوَاقِعَ نَبلِهِ؟ قَالَ: " نَعَمْ، هُوَ النَّهَارُ إِلَّا أَنَّ الشَّمْسَ لَمْ تَطْلُعْ" .
زر بن حبیش کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ کس وقت سحری کھائی ہے؟ انہوں نے فرمایا ہاں! میں نے ان سے پوچھا کیا اس وقت آدمی اپنا تیر گرنے کی جگہ دیکھ سکتا تھا؟ انہوں نے فرمایا ہاں! اس وقت تو دن ہوتا تھا البتہ سورج طلوع نہیں ہوتا تھا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23442]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لضعف شريك، وقد توبع، وعاصم بن أبى النجود خولف
حدیث نمبر: 23443
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، وَعَفَّانُ , قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَاصِمِ بنِ بهْدَلَةَ ، عَنْ زِرِّ بنِ حُبيْشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي سِكَّةٍ مِنْ سِكَكِ الْمَدِينَةِ: " أَنَا مُحَمَّدٌ، وَأَنَا أَحْمَدُ، وَالْحَاشِرُ، وَالْمُقَفَّى، وَنَبيُّ الرَّحْمَةِ" .
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ منورہ کی ایک گلی میں یہ فرماتے ہوئے سنا کہ میں محمد ہوں ' احمد ہوں ' حاشر ' مقفی اور نبی الرحمۃ ہوں۔ صلی اللہ علیہ وسلم [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23443]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 23444
حَدَّثَنَا عَمْرُو بنُ عَاصِمٍ ، عَنْ حَمَّادِ بنِ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بنِ زَيْدٍ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ جُنْدُب ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، عَنِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَنْبغِي لِمُسْلِمٍ أَنْ يُذِلَّ نَفْسَهُ"، قِيلَ: وَكَيْفَ يُذِلُّ نَفْسَهُ؟ قَالَ:" يَتَعَرَّضُ مِنَ الْبلَاءِ لِمَا لَا يُطِيقُ" .
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی مسلمان کے لئے اپنے آپ کو ذلیل کرنا جائز نہیں ہے کسی نے پوچھا کہ اپنے آپ کو ذلیل سے کیا مراد ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے آپ کو ایسی آزمائشوں کے لئے پیش کرے جن کی وہ طاقت نہیں رکھتا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23444]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف من أجل على بن زيد، وقد خولف، والحسن البصري مدلس وقد عنعن
حدیث نمبر: 23445
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا أَبو بكْرٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبي وَائِلٍ ، قَالَ: قَالَ حُذَيْفَةُ : بيْنَمَا أَنَا أَمْشِي فِي طَرِيقِ الْمَدِينَةِ، قَالَ: إِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: " أَنَا مُحَمَّدٌ، وَأَنَا أَحْمَدُ، وَنَبيُّ الرَّحْمَةِ، وَنَبيُّ التَّوْبةِ، وَالْحَاشِرُ، وَالْمُقَفَّى، وَنَبيُّ الْمَلَاحِمِ" .
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ منورہ کی ایک گلی میں یہ فرماتے ہوئے سنا کہ میں محمد ہوں، احمد ہوں، حاشر، مقفی اور نبی الرحمۃ ہوں۔ صلی اللہ علیہ وسلم [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23445]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا الإسناد قد اختلف فيه على أبى بكر بن عياش
حدیث نمبر: 23446
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بنُ عَامِرٍ ، أَخْبرَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنِ الْحَكَمِ بنِ عُتَيْبةَ ، حَدَّثَنِي الْمُغِيرَةُ بنُ حَذْفٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَشْرَكَ بيْنَ الْمُسْلِمِينَ الْبقَرَةَ عَنْ سَبعَةٍ" .
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سات مسلمانوں کو ایک گائے میں شریک کردیا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23446]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد محتمل للتحسين
حدیث نمبر: 23447
حَدَّثَنَا عَبدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَاصِمٍ , عَنْ زِرٍّ ، عَنْ حُذَيْفَةَ , أَنَّ جِبرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام لَقِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ حِجَارَةِ الْمِرَاءِ، فَقَالَ:" يَا جِبرِيلُ، إِنِّي أُرْسِلْتُ إِلَى أُمَّةٍ أُمِّيَّةٍ: إِلَى الشَّيْخِ، وَالْعَجُوزِ، وَالْغُلَامِ، وَالْجَارِيَةِ، وَالشَّيْخِ الَّذِي لَمْ يَقْرَأْ كِتَابا قَطُّ، فَقَالَ: إِنَّ الْقُرْآنَ أُنْزِلَ عَلَى سَبعَةِ أَحْرُفٍ" .
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ " احجارالمراء " نامی جگہ پر میری جبرائیل علیہ السلام سے ملاقات ہوگئی تو میں نے ان سے کہا کہ اے جبرائیل! مجھے ایک امی امت کی طرف بھیجا گیا ہے جس میں مرد و عورت لڑکے اور لڑکیاں اور نہایت بوڑھے لوگ بھی شامل ہیں جو کچھ بھی پڑھنا نہیں جانتے تو انہوں نے کہا کہ قرآن کریم سات حروف پر نازل ہوا ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23447]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 23448
حَدَّثَنَا عَبدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا عَبدُ الْعَزِيزِ بنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بنُ عَبدِ اللَّهِ الْجَابرُ ، قَالَ: صَلَّيْتُ خَلْفَ عِيسَى مَوْلًى لِحُذَيْفَةَ بالْمَدَائِنِ عَلَى جَنَازَةٍ فَكَبرَ خَمْسًا، ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَيْنَا، فَقَالَ: مَا وَهِمْتُ وَلَا نَسِيتُ، وَلَكِنْ كَبرْتُ كَمَا كَبرَ مَوْلَايَ وَوَلِيُّ نِعْمَتِي حُذَيْفَةُ بنُ الْيَمَانِ ، صَلَّى عَلَى جَنَازَةٍ وَكَبرَ خَمْسًا، ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَيْنَا فَقَالَ: مَا نَسِيتُ وَلَا وَهِمْتُ، وَلَكِنْ كَبرْتُ كَمَا" كَبرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , صَلَّى عَلَى جَنَازَةٍ فَكَبرَ خَمْسًا" .
یحییٰ بن عبداللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے شہر مدائن میں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام عیسیٰ کے پیچھے نماز جنازہ پڑھی انہوں نے نماز جنازہ میں پانچ تکبیریں کہیں پھر ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا میں بھولا ہوں اور نہ ہی مجھے وہم ہوا ہے میں نے اسی طرح تکبیریں کہی ہیں جیسے میرے آقا اور ولی نعمت حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نے کہی تھی۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23448]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، يحيي بن عبدالله مختلف فيه، ولم يتابع على حديثه هذا، وعيسي موئي حذيفة ضعيف
حدیث نمبر: 23449
حَدَّثَنَا عَبدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بنُ زَيْدٍ ، عَنْ الْيَشْكُرِيِّ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ بعْدَ هَذَا الْخَيْرِ شَرٌّ كَمَا كَانَ قَبلَهُ شَرٌّ؟ قَالَ:" يَا حُذَيْفَةُ، اقْرَأْ كِتَاب اللَّهِ وَاعْمَلْ بمَا فِيهِ"، فَأَعْرَضَ عَنِّي، فَأَعَدْتُ عَلَيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، وَعَلِمْتُ أَنَّهُ إِنْ كَانَ خَيْرًا اتَّبعْتُهُ، وَإِنْ كَانَ شَرًّا اجْتَنَبتُهُ، فَقُلْتُ: هَلْ بعْدَ هَذَا الْخَيْرِ مِنْ شَرٍّ؟ قَالَ:" نَعَمْ، فِتْنَةٌ عَمْيَاءُ عَمَّاءُ صَمَّاءُ، وَدُعَاةُ ضَلَالَةٍ عَلَى أَبوَاب جَهَنَّمَ، مَنْ أَجَابهُمْ قَذَفُوهُ فِيهَا" .
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! کیا اس خیر کے بعد شر ہوگا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حذیفہ! کتاب اللہ کو سیکھو اور اس کے احکام کی پیروی کرو (تین مرتبہ فرمایا میں نے پھر اپنا سوال دہرایا نبی کریم، صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فتنہ اور شر ہوگا میں نے پوچھا یا رسول اللہ! کیا اس خیر کے بعد شر ہوگا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا حذیفہ رضی اللہ عنہ! کتاب اللہ کو سیکھو اور اس کے احکام کی پر وی کرو میں نے پوچھا یا رسول اللہ! کیا اس خیر کے بعد شر ہوگا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دھوئیں پر صلح قائم ہوگی اور گندگی پر اتفاق ہوگا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! دھوئیں پر صلح قائم ہونے سے کیا مراد ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگ اس صلح پر دل سے راضی نہیں ہوں گے۔ پھر میرے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان وہی سوال جواب ہوئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک ایسا فتنہ آئے گا جو اندھا بہرا کر دے گا اس پر جہنم کے دروازوں کی طرف بلانے والے لوگ مقرر ہوں گے جو شخص ان کی دعوت کو قبول کرلے گا وہ اسے جہنم میں گرا دیں گے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23449]
الحكم على الحديث:
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف من أجل على بن زيد، وقد توبع
حدیث نمبر: 23450
حَدَّثَنَا عَبدُ الصَّمَدِ ، عَنْ مَهْدِيٍّ ، عَنْ وَاصِلٍ ، عَنْ أَبي وَائِلٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ أَنَّهُ بلَغَهُ أَنَّ رَجُلًا يَنُمُّ الْحَدِيثَ، فَقَالَ حُذَيْفَةُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ نَمَّامٌ" .
حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چغلخور جنت میں داخل نہ ہوگا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23450]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 6056، م: 105
حدیث نمبر: 23451
حَدَّثَنَا وَهْب بنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبي ، قَالَ: سَمِعْتُ عَاصِمًا ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: " إِنَّ حَوْضَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شَرَابهُ أَشَدُّ بيَاضًا مِنَ اللَّبنِ، وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ، وَأَبرَدُ مِنَ الثَّلْجِ، وَأَطْيَب رِيحًا مِنَ الْمِسْكِ، وَإِنَّ آنِيَتَهُ عَدَدُ نُجُومِ السَّمَاءِ" .
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے حوض کے برتن آسمانوں کے ستاروں سے بھی زیادہ ہوں گے اس کا پانی شہد سے زیادہ شیریں دودھ سے زیادہ سفید برف سے زیادہ ٹھنڈا اور مشک سے زیادہ مہک والا ہوگا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23451]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن