🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1209. حَدِيثُ أُمِّ رُومَانَ أُمِّ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهَا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27070
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ يَعْنِي الرَّازِيَّ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ أُمِّ رُومَانَ وَهِيَ أُمُّ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كُنْتُ أَنَا وَعَائِشَةُ قَاعِدَةٌ، فَدَخَلَتْ امْرَأَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَقَالَتْ: فَعَلَ اللَّهُ بِفُلَانٍ وَفَعَلَ تَعْنِي ابْنَهَا قَالَتْ: فَقُلْتُ لَهَا: وَمَا ذَلِكَ؟ قَالَتْ: ابْنِي كَانَ فِيمَنْ حَدَّثَ الْحَدِيثَ , قَالَتْ: فَقُلْتُ لَهَا: وَمَا الْحَدِيثُ؟ قَالَتْ: كَذَا وَكَذَا، فقالت عائشة: أسمع بذلك أبو بكر؟ قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَتْ: أَسَمِعَ بِذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، فَوَقَعَتْ أَوْ سَقَطَتْ مَغْشِيًّا عَلَيْهَا، فَأَفَاقَتْ حُمَّى بِنَافِضٍ، فَأَلْقَيْتُ عَلَيْهَا الثِّيَابَ، فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " مَا لِهَذِهِ؟" قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَخَذَتْهَا حُمَّى بِنَافِضٍ، قَالَ:" لَعَلَّهُ مِنَ الْحَدِيثِ الَّذِي تُحُدِّثَ بِهِ؟" , قَالَتْ , قُلْتُ: نَعَمْ , يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَرَفَعَتْ عَائِشَةُ رَأْسَهَا، وَقَالَتْ: إِنْ قُلْتُ، لَمْ تَعْذِرُونِي، وَإِنْ حَلَفْتُ، لَمْ تُصَدِّقُونِي، وَمَثَلِي وَمَثَلُكُمْ، كَمَثَلِ يَعْقُوبَ وَبَنِيهِ , حِينَ قَالَ: فَصَبْرٌ جَمِيلٌ وَاللَّهُ الْمُسْتَعَانُ عَلَى مَا تَصِفُونَ سورة يوسف آية 18 , فَلَمَّا نَزَلَ عُذْرُهَا، أَتَاهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرَهَا بِذَلِكَ، فَقَالَتْ: بِحَمْدِ اللَّهِ، لَا بِحَمْدِكَ أَوْ قَالَتْ: وَلَا بِحَمْدِ أَحَدٍ .
حضرت ام رومان رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ”جو کہ حضرت عائشہ کی والدہ تھیں“ کہتی ہیں کہ میں اور عائشہ بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک انصاری عورت آکر کہنے لگی، اللہ فلاں کے ساتھ ”مراد اس کا بیٹا تھا“ ایسا کرے، میں نے اس سے وجہ پوچھی، تو وہ کہنے لگی کہ میرا بیٹا بھی چہ میگوئیاں کرنے والوں میں شامل ہے، میں نے پوچھا: کیسی چہ میگوئیاں؟ اس نے ساری تفصیل بتا دی، تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا کہ کیا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی یہ باتیں سنی ہیں؟ اس نے کہا: جی ہاں، انہوں نے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی سنی ہیں؟ اس نے کہا: جی ہاں! غش کھا کر گر پڑیں اور انہیں نہایت تیز بخارچڑھ گیا، میں نے انہیں چادریں اوڑھا دیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم آئے، تو پوچھا کہ اسے کیا ہوا؟ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اسے نہایت تیز بخار چڑھ گیا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شاید ان باتوں کی وجہ سے جو جاری ہیں“، میں نے عرض کیا: جی یا رسول اللہ! اسی دوران عائشہ رضی اللہ عنہا نے سر اٹھایا اور کہا: اگر میں آپ کے سامنے اپنے آپ کو عیب سے پاک کہوں گی تو آپ کو یقین نہیں آ سکتا اور اگر میں ناکردہ گناہ کا آپ کے سامنے اقرار کر دوں (اور اللہ گواہ ہے کہ میں اس سے پاک ہوں) تو آپ مجھ کو سچا جان لیں گے، اللہ کی قسم! مجھے اپنی اور آپ کی مثال سوائے حضرت یعقوب علیہ السلام کے کوئی نہیں ملتی انہوں نے کہا تھا، «فصبر جميل والله المستعان على ما تصفون» جب ان کا عذر نازل ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آئے اور انہیں اس کی خبر دی، تو وہ کہنے لگیں کہ اس پر میں صرف اللہ کا شکر ادا کرتی ہوں کسی اور کا نہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27070]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، خ: 3388، أبو جعفر الرازي مختلف فيه، وقد توبع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27071
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُصَيْنٌ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ أُمِّ رُومَانَ ، قَالَتْ: بَيْنَا أَنَا عِنْدَ عَائِشَةَ إِذْ دَخَلَتْ عَلَيْنَا امْرَأَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَقَالَتْ: فَعَلَ اللَّهُ بِابْنِهَا وَفَعَلَ، قَالَتْ عَائِشَةُ: وَلِمَ؟ قَالَتْ: إِنَّهُ كَانَ فِيمَنْ حَدَّثَ الْحَدِيثَ، قَالَتْ: عَائِشَةُ: وَأَيُّ حَدِيثٍ؟ قَالَتْ: كَذَا وَكَذَا، قَالَتْ: وَقَدْ بَلَغَ ذَاكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، وَبَلَغَ أَبَا بَكْرٍ؟ قَالَتْ: نَعَمْ , قَالَتْ: فَخَرَّتْ عَائِشَةُ مَغْشِيًّا عَلَيْهَا، فَمَا أَفَاقَتْ إِلَّا وَعَلَيْهَا حُمَّى بِنَافِضٍ , قَالَتْ: فَقُمْتُ فَدَثَّرْتُهَا , قَالَتْ: وَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " مَا شَأْنُ هَذِهِ؟" , قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَخَذَتْهَا حُمَّى بِنَافِضٍ، قَالَ:" لَعَلَّهُ فِي حَدِيثٍ تُحُدِّثَ بِهِ؟" , قَالَتْ: فَاسْتَوَتْ لَهُ عَائِشَةُ قَاعِدَةً، فَقَالَتْ: وَاللَّهِ لَئِنْ حَلَفْتُ لَكُمْ، لَا تُصَدِّقُونِي، وَلَئِنْ اعْتَذَرْتُ إِلَيْكُمْ، لَا تَعْذِرُونِي، فَمَثَلِي وَمَثَلُكُمْ، كَمَثَلِ يَعْقُوبَ وَبَنِيهِ، وَاللَّهُ الْمُسْتَعَانُ عَلَى مَا تَصِفُونَ، قَالَتْ: وَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: وَأَنْزَلَ اللَّهُ عُذْرَهَا، فَرَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهُ أَبُو بَكْرٍ، فَدَخَلَ، فَقَالَ:" يَا عَائِشَةُ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَنْزَلَ عُذْرَكِ" , قَالَتْ: بِحَمْدِ اللَّهِ، لَا بِحَمْدِكَ، قَالَتْ: قَالَ لَهَا أَبُو بَكْرٍ: تَقُولِينَ هَذَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَتْ: نَعَمْ , قَالَتْ: فَكَانَ فِيمَنْ حَدَّثَ الْحَدِيثَ رَجُلٌ، كَانَ يَعُولُهُ أَبُو بَكْرٍ، فَحَلَفَ أَبُو بَكْرٍ أَنْ لَا يَصِلَهُ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: وَلا يَأْتَلِ أُولُو الْفَضْلِ مِنْكُمْ وَالسَّعَةِ سورة النور آية 22 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ , قَالَ أَبُو بَكْرٍ: بَلَى فَوَصَلَهُ .
حضرت ام رومان رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ”جو کہ حضرت عائشہ کی والدہ تھیں“ کہتی ہیں کہ میں اور عائشہ بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک انصاری عورت آکر کہنے لگی، اللہ فلاں کے ساتھ ”مراد اس کا بیٹا تھا“ ایسا کرے، میں نے اس سے وجہ پوچھی، تو وہ کہنے لگی کہ میرا بیٹا بھی چہ میگوئیاں کرنے والوں میں شامل ہے، میں نے پوچھا: کیسی چہ میگوئیاں؟ اس نے ساری تفصیل بتا دی، تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا کہ کیا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی یہ باتیں سنی ہیں؟ اس نے کہا: جی ہاں، انہوں نے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی سنی ہیں؟ اس نے کہا: جی ہاں! غش کھا کر گر پڑیں اور انہیں نہایت تیز بخارچڑھ گیا، میں نے انہیں چادریں اوڑھا دیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم آئے، تو پوچھا کہ اسے کیا ہوا؟ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اسے نہایت تیز بخار چڑھ گیا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شاید ان باتوں کی وجہ سے جو جاری ہیں“، میں نے عرض کیا: جی یا رسول اللہ! اسی دوران عائشہ رضی اللہ عنہا نے سر اٹھایا اور کہا: اگر میں آپ کے سامنے اپنے آپ کو عیب سے پاک کہوں گی تو آپ کو یقین نہیں آ سکتا اور اگر میں ناکردہ گناہ کا آپ کے سامنے اقرار کر دوں (اور اللہ گواہ ہے کہ میں اس سے پاک ہوں) تو آپ مجھ کو سچا جان لیں گے، اللہ کی قسم! مجھے اپنی اور آپ کی مثال سوائے حضرت یعقوب علیہ السلام کے کوئی نہیں ملتی انہوں نے کہا تھا، «فصبر جميل والله المستعان على ما تصفون» جب ان کا عذر نازل ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آئے اور انہیں اس کی خبر دی، تو وہ کہنے لگیں کہ اس پر میں صرف اللہ کا شکر ادا کرتی ہوں کسی اور کا نہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27071]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح دون قولها: "فكان فيمن حدث الحديث.." فصحيح من حديث عائشة، وهذا اسناد ضعيف لضعف على بن عاصم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1210. حَدِيثُ أُمِّ بِلَالٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27072
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي أُمِّي ، عَنْ أُمِّ بِلَالٍ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " ضَحُّوا بِالْجَذَعِ مِنَ الضَّأْنِ، فَإِنَّهُ جَائِزٌ" .
حضرت ام بلال رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بھیڑ کا بچہ اگر چھ ماہ کا بھی ہو تو اس کی قربانی کر لیا کرو کہ یہ جائز ہے۔“ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27072]

الحكم على الحديث:
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة والدة محمد بن أبى يحيي، وقد اختلف فيه على محمد بن أبى يحيي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27073
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو ضَمْرَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي يَحْيَى مَوْلَى الْأَسْلَمِيِّينَ، عَنْ أُمِّهِ ، قَالَ: أَخْبَرَتْنِي أُمُّ بِلَالٍ ابْنَةُ هِلَالٍ ، عَنْ أَبِيهَا ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يَجُوزُ الْجَذَعُ مِنَ الضَّأْنِ، أُضْحِيَّةً" .
حضرت ام بلال رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بھیڑ کا بچہ اگر چھ ماہ کا بھی ہو تو اس کی قربانی کر لیا کرو کہ یہ جائز ہے۔“ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27073]

الحكم على الحديث:
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة والدة محمد بن أبى يحيي، وقد اختلف فيه على محمد بن أبى يحيي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1211. حَدِيثُ امْرَأَةٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27074
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ وَرْدَانَ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ بْنُ حُنَيْنٍ مَوْلَى خَارِجَةَ , أَنَّ الْمَرْأَةَ الَّتِي سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , عَنْ صِيَامِ يَوْمِ السَّبْتِ حَدَّثَتْهُ , أَنَّهَا سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ؟ فَقَالَ: " لَا لَكِ، وَلَا عَلَيْكِ" .
ایک خاتون صحابیہ رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہفتہ کے دن روزہ رکھنے کا حکم پوچھا، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کا کوئی خاص ثواب ہے اور نہ ہی کوئی وبال۔“ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27074]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لضعف ابن لهيعة، وقد تفرد به، واختلف فيه على ابن لهيعة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1212. حَدِيثُ الصَّمَّاءِ بِنْتِ بُسْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27075
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِم ، قَال: َحَدَّثَنَا ثَوْرٌ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْر ، عَنْ أُخْتِه ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَال: " لَا تَصُومُوا يَوْمَ السَّبْتِ إِلَّا مَا افْتُرِضَ عَلَيْكُمْ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ أَحَدُكُمْ إِلَّا عُودَ عِنَب، أَوْ لِحَى شَجَرَةٍ , فَلْيَمْضُغْهَا" .
حضرت صماء بنت بسر رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ہفتہ کے دن فرض روزوں کے علاوہ کوئی روزہ نہ رکھا کرو اور اگر تم میں سے کسی کو کھانے کے لئے کچھ بھی نہ ملے سوائے انگور کی ٹہنی کے یا درخت کی چھال کے تو اس ہی کو چبا لے۔“ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27075]

الحكم على الحديث:
حديث ضعيف، وقد أعل بالاضطراب والمعارضة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27076
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاق ، قَال: أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَة ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ وَرْدَانَ ، عَنْ عُبَيْدٍ الْأَعْرَجِ ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي : أَنَّهَا دَخَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَتَغَدَّى، وَذَلِكَ يَوْمَ السَّبْتِ، فَقَال:" تَعَالَيْ فَكُلِي"، فَقَالَت: إِنِّي صَائِمَةٌ , فَقَالَ لَهَا:" صُمْتِ أَمْسِ؟" , فَقَالَتْ: لَا، قَالَ: " فَكُلِي، فَإِنَّ صِيَامَ يَوْمِ السَّبْت؟ لَا لَكِ، وَلَا عَلَيْك" .
ایک خاتون صحابیہ رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہفتہ کے دن روزہ رکھنے کا حکم پوچھا، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کا کوئی خاص ثواب ہے اور نہ ہی کوئی وبال۔“ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27076]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف للاختلاف فيه على ابن لهيعة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27077
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ ، قَال: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْوَلِيدِ الزُّبَيْدِيّ ، عَنْ لُقْمَانَ بْنِ عَامِر ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ ، عَنْ أُخْتِهِ الصَّمَّاءِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم، قَال: " لَا يَصُومَنَّ أَحَدُكُمْ يَوْمَ السَّبْتِ إِلَّا فِي فَرِيضَة، وَإِنْ لَمْ يَجِدْ إِلَّا لِحَى شَجَرَة، فَلْيُفْطِرْ عَلَيْهَا" .
حضرت صماء بنت بسر رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ہفتہ کے دن فرض روزوں کے علاوہ کوئی روزہ نہ رکھا کرو اور اگر تم میں سے کسی کو کھانے کے لئے کچھ بھی نہ ملے سوائے انگور کی ٹہنی کے یا درخت کی چھال کے تو اس ہی کو چبا لے۔“ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27077]

الحكم على الحديث:
حديث ضعيف، وقد أعل بالاضطراب والمعارضة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1213. حَدِيثُ فَاطِمَةَ عَمَّةِ أَبِي عُبَيْدَةَ وَأُخْتِ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27078
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُور ، عَنْ رِبْعِيٍّ ، عَنِ امْرَأَتِهِ ، عَنْ أُخْتٍ لِحُذَيْفَةَ ، قَالَتْ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَال:" يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ، لَا تَحَلَّيْنَ الذَّهَب، أَمَا لَكُنَّ فِي الْفِضَّةِ مَا تَحَلَّيْنَ بِهِ؟ مَا مِنْكُنَّ امْرَأَةٌ تَحَلَّى ذَهَبًا تُظْهِرُه، إِلَّا عُذِّبَتْ بِهِ" .
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہا کی بہن سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: ”اے گروہ خواتین! کیا تمہارے لئے چاندی کے زیورات کافی نہیں ہو سکتے؟ یاد رکھو! تم میں سے جو عورت نمائش کے لئے سونا پہنے گی، اسے قیامت کے دن عذاب میں مبتلا کیا جائے گا۔“ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27078]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لجهالة امرأة ربعي بن حراش
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27079
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ حُذَيْفَة ، عَنْ عَمَّتِهِ فَاطِمَةَ , أَنَّهَا قَالَتْ: أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعُودُهُ فِي نِسَاءٍ، فَإِذَا سِقَاءٌ مُعَلَّقٌ نَحْوَه، يَقْطُرُ مَاؤُهُ عَلَيْهِ مِنْ شِدَّةِ مَا يَجِدُ مِنْ حَرِّ الْحُمَّى، قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , لَوْ دَعَوْتَ اللَّهَ فَشَفَاكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " إِنَّ مِنْ أَشَدِّ النَّاسِ بَلَاءً الْأَنْبِيَاء، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ , ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُم ْ" .
حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم کچھ خواتین نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عیادت کے لئے حاضر ہوئیں، تو دیکھا کہ ایک مشکیزہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب لٹکا ہوا ہے اور اس کا پانی نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ٹپک رہا ہے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بخار کی حرارت شدت سے محسوس ہو رہی تھی، ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اگر آپ اللہ سے دعاء کرتے، تو وہ آپ کو شفاء دے دیتا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمام لوگوں میں سب سے زیادہ سخت مصیبتیں انبیاء کرام علیہم السلام پر آتی رہی ہیں، پھر درجہ بدرجہ ان کے قریب لوگوں پر آتی ہیں۔“ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27079]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره ، وهذا إسناد حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں