صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
20. باب سُجُودِ التِّلاَوَةِ:
باب: سجدہ تلاوت کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 578 ترقیم شاملہ: -- 1301
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ مِينَاءَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: " سَجَدْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ وَاقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ ".
عطاء بن میناء نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ «إذا السماء انشقت» اور «اقرأ باسم ربك» میں سجدہ کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1301]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ﴿إِذَا السَّمَاءُ انشَقَّتْ﴾ [سورة الانشقاق: 1] اور ﴿اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ﴾ [سورة العلق: 1] میں سجدہ کیا۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1301]
ترقیم فوادعبدالباقی: 578
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 578 ترقیم شاملہ: -- 1302
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ مَوْلَى بَنِي مَخْزُومٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ قَالَ: " سَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ وَاقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ ".
صفوان بن سلیم نے بنو مخزوم کے آزاد کردہ غلام عبدالرحمن اعرج سے روایت کی، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «إذا السماء انشقت» اور «اقرأ باسم ربك» میں سجدہ کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1302]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ﴿إِذَا السَّمَاءُ انشَقَّتْ﴾ [سورة الانشقاق: 1] اور ﴿اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ﴾ [سورة العلق: 1] میں سجدہ کیا۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1302]
ترقیم فوادعبدالباقی: 578
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 578 ترقیم شاملہ: -- 1303
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ.
عبیداللہ بن ابی جعفر نے عبدالرحمن اعرج سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1303]
امام صاحب ایک اور استاد سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1303]
ترقیم فوادعبدالباقی: 578
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 578 ترقیم شاملہ: -- 1304
وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ بَكْرٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ صَلَاةَ الْعَتَمَةِ، " فَقَرَأَ إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ فَسَجَدَ فِيهَا "، فَقُلْتُ لَهُ: مَا هَذِهِ السَّجْدَةُ؟ فَقَالَ: سَجَدْتُ بِهَا خَلْفَ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَا أَزَالُ أَسْجُدُ بِهَا حَتَّى أَلْقَاهُ، وَقَالَ ابْنُ عَبْدِ الأَعْلَى: فَلَا أَزَالُ أَسْجُدُهَا.
عبیداللہ بن معاذ عنبری اور محمد بن عبدالاعلیٰ نے کہا: ہمیں معتمر نے اپنے والد (سلیمان تیمی) سے حدیث سنائی، انہوں نے بکر (بن عبداللہ مزنی) سے اور انہوں نے ابورافع سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھی تو انہوں نے «إذا السماء انشقت» کی تلاوت کی اور اس میں سجدہ کیا۔ میں نے پوچھا: یہ سجدہ کیسا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: میں نے اس میں ابوالقاسم (محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پیچھے سجدہ کیا، اس لیے میں اس میں ہمیشہ سجدہ کرتا رہوں گا یہاں تک کہ آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) سے جا ملوں۔ (محمد) بن عبدالاعلیٰ نے کہا: میں بھی ہمیشہ یہ سجدہ کرتا ہوں۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1304]
حضرت ابورافع رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھی، انہوں نے ﴿إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ﴾ [سورة الانشقاق: 1] کی تلاوت کی اور اس میں سجدہ کیا، میں نے پوچھا: ”یہ سجدہ کیسا ہے؟“ تو انہوں نے جواب دیا: ”میں نے اس میں ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سجدہ کیا ہے، اس لیے میں اس میں ہمیشہ سجدہ کرتا رہوں گا یہاں تک کہ ان سے جا ملوں (فوت ہو جاؤں)۔“ ابن عبدالاعلیٰ نے کہا: ”میں بھی ہمیشہ یہ سجدہ کرتا رہوں گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1304]
ترقیم فوادعبدالباقی: 578
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 578 ترقیم شاملہ: -- 1305
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ . ح، قَالَ: وحَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ . ح، قَالَ: وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمُ بْنُ أَخْضَرَ كُلُّهُمْ، عَنِ التَّيْمِيِّ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ، غَيْرَ أَنَّهُمْ لَمْ يَقُولُوا: خَلْفَ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
عیسیٰ بن یونس، یزید بن زریع اور سلیم بن اخضر سب نے (سلیمان) تیمی سے سابقہ سند کے ساتھ روایت کی لیکن انہوں نے خلف ابی القاسم صلی اللہ علیہ وسلم (ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے) کے الفاظ نہیں کہے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1305]
امام صاحب تین اور اساتذہ سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں لیکن انہوں نے «خَلْفَ أَبِي الْقَاسِمِ صلی اللہ علیہ وسلم » ”ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے“ نہیں کہا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1305]
ترقیم فوادعبدالباقی: 578
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 578 ترقیم شاملہ: -- 1306
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، قَالَ: رَأَيْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، " يَسْجُدُ فِي إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ "، فَقُلْتُ: تَسْجُدُ فِيهَا؟ فَقَالَ: نَعَمْ، رَأَيْتُ خَلِيلِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَسْجُدُ فِيهَا، فَلَا أَزَالُ أَسْجُدُ فِيهَا، حَتَّى أَلْقَاهُ، قَالَ شُعْبَةُ: قُلْتُ: النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ.
شعبہ نے عطاء بن ابی میمونہ سے، انہوں نے ابورافع سے روایت کی، کہا: میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا، وہ «إذا السماء انشقت» میں سجدہ کرتے تھے۔ میں نے پوچھا: آپ اس میں سجدہ کرتے ہیں؟ انہوں نے کہا: ہاں! میں نے اپنے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم کو اس میں سجدہ کرتے دیکھا، اس لیے میں ہمیشہ اس میں سجدہ کرتا رہوں گا حتیٰ کہ ان سے جا ملوں۔ شعبہ نے کہا: میں نے (عطاء سے) پوچھا: (خلیل سے مراد) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1306]
ابورافع رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو ﴿إِذَا السَّمَاءُ انشَقَّتْ﴾ [سورة الانشقاق: 1] میں سجدہ کرتے دیکھا تو میں نے پوچھا: ”آپ اس میں سجدہ کرتے ہیں؟“ انہوں نے کہا: ”ہاں، میں نے اپنے خلیل (دوست صلی اللہ علیہ وسلم ) کو اس میں سجدہ کرتے دیکھا ہے، اس لیے میں ہمیشہ اس میں سجدہ کرتا رہوں گا حتیٰ کہ ان سے جا ملوں۔“ شعبہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”میں نے استاد سے پوچھا: کیا اس سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مراد ہیں؟ انہوں نے کہا: ہاں۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1306]
ترقیم فوادعبدالباقی: 578
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
21. باب صِفَةِ الْجُلُوسِ فِي الصَّلاَةِ وَكَيْفِيَّةِ وَضْعِ الْيَدَيْنِ عَلَى الْفَخِذَيْنِ:
باب: نماز میں بیٹھنے اور دونوں رانوں پر دونوں ہاتھ رکھنے کی کیفیت۔
ترقیم عبدالباقی: 579 ترقیم شاملہ: -- 1307
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرِ بْنِ رِبْعِيٍّ الْقَيْسِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ الْمَخْزُومِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ وَهُوَ ابْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ ، حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذَا قَعَدَ فِي الصَّلَاةِ، جَعَلَ قَدَمَهُ الْيُسْرَى بَيْنَ فَخِذِهِ وَسَاقِهِ، وَفَرَشَ قَدَمَهُ الْيُمْنَى، وَوَضَعَ يَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى رُكْبَتِهِ الْيُسْرَى، وَوَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى وَأَشَارَ بِإِصْبَعِهِ ".
عثمان بن حکم نے کہا: عامر بن عبداللہ بن زبیر نے اپنے والد سے روایت کرتے ہوئے مجھے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز میں بیٹھتے تو اپنا بایاں پاؤں اپنی ران اور اپنی پنڈلی کے درمیان کر لیتے اور اپنا دایاں پاؤں بچھا لیتے اور اپنا بایاں ہاتھ اپنے بائیں گٹھنے پر اور اپنا دایاں ہاتھ اپنی دائیں ران پر رکھ لیتے اور اپنی انگلی سے اشارہ کر لیتے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1307]
عامر بن عبداللہ بن زبیر رحمہ اللہ اپنے باپ (حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ) سے بیان کرتے ہیں کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز میں بیٹھتے تو اپنے بائیں پیر کو اپنی ران اور اپنی پنڈلی کے درمیان کر لیتے اور دائیں پاؤں کو بچھا لیتے اور اپنا بایاں ہاتھ اپنے بائیں گھٹنے پر رکھ لیتے اور اپنا دایاں ہاتھ اپنی دائیں ران پر رکھ لیتے اور انگلی سے اشارہ کرتے۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1307]
ترقیم فوادعبدالباقی: 579
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 579 ترقیم شاملہ: -- 1308
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ . ح قَالَ: وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَاللَّفْظ لَهُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَن ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذَا قَعَدَ يَدْعُو، وَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى، وَيَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُسْرَى، وَأَشَارَ بِإِصْبَعِهِ السَّبَّابَةِ، وَوَضَعَ إِبْهَامَهُ عَلَى إِصْبَعِهِ الْوُسْطَى، وَيُلْقِمُ كَفَّهُ الْيُسْرَى رُكْبَتَهُ ".
ابن عجلان نے عامر بن عبداللہ بن زبیر سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب (نماز میں) بیٹھ کر دعا کرتے تو اپنا دایاں ہاتھ اپنی دائیں ران پر اور اپنا بایاں ہاتھ اپنی بائیں ران پر رکھتے اور اپنی شہادت کی انگلی سے اشارہ کرتے اور اپنا انگوٹھا اپنی درمیانی انگلی پر رکھتے اور بائیں گٹھنے کو اپنی بائیں ہتھیلی کے اندر لے لیتے (پکڑ لیتے۔) [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1308]
حضرت عامر بن عبداللہ بن زبیر رحمہ اللہ اپنے باپ (حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ) سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب (نماز میں) بیٹھتے تو دعا کرتے وقت ”اپنا دایاں ہاتھ اپنی دائیں ران پر رکھتے اور اپنا بایاں ہاتھ اپنی بائیں ران پر رکھتے اور اپنی شہادت کی انگلی سے اشارہ کرتے اور اپنا انگوٹھا اپنی درمیانی انگلی پر رکھتے اور اپنے بائیں ہاتھ سے اپنے گھٹنے کو پکڑ لیتے۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1308]
ترقیم فوادعبدالباقی: 579
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 580 ترقیم شاملہ: -- 1309
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، قَالَ عَبْدُ: أَخْبَرَنَا، وَقَالَ ابْنُ رَافِعٍ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " كَانَ إِذَا جَلَسَ فِي الصَّلَاةِ، وَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ، وَرَفَعَ إِصْبَعَهُ الْيُمْنَى، الَّتِي تَلِي الإِبْهَامَ، فَدَعَا بِهَا، وَيَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى رُكْبَتِهِ الْيُسْرَى، بَاسِطُهَا عَلَيْهَا ".
عبیداللہ بن عمر نے نافع سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز میں بیٹھتے تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں گٹھنوں پر رکھ لیتے اور انگوٹھے سے ملنے والی دائیں ہاتھ کی انگلی (شہادت کی انگلی) اٹھا کر اس سے دعا کرتے اور اس حالت میں آپ کا بایاں ہاتھ آپ کے بائیں گٹھنے پر ہوتا، اسے (آپ) اس (گٹھنے) پر پھیلائے ہوتے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1309]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز میں بیٹھتے تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں گھٹنوں پر رکھ لیتے اور انگوٹھے سے ملنے والی دائیں انگلی (شہادت کی انگلی) اٹھا کر اس سے اشارہ کرتے اور اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بایاں ہاتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں گھٹنے پر بچھا ہوتا تھا۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1309]
ترقیم فوادعبدالباقی: 580
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 580 ترقیم شاملہ: -- 1310
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " كَانَ إِذَا قَعَدَ فِي التَّشَهُّدِ، وَضَعَ يَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى رُكْبَتِهِ الْيُسْرَى، وَوَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى رُكْبَتِهِ الْيُمْنَى، وَعَقَدَ ثَلَاثَةً وَخَمْسِينَ، وَأَشَارَ بِالسَّبَّابَةِ ".
ایوب نے نافع سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب تشہد میں بیٹھتے تو اپنا بایاں ہاتھ اپنے بائیں گٹھنے پر رکھتے اور اپنا دایاں ہاتھ اپنے دائیں گٹھنے پر رکھتے اور انگلیوں سے تریپن (53) کی گرہ بناتے اور انگشت شہادت سے اشارہ کرتے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1310]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب تشہد کے لیے بیٹھتے تو اپنا بایاں ہاتھ اپنے بائیں گھٹنے پر رکھتے اور اپنا دایاں ہاتھ اپنے دائیں گھٹنے پر رکھتے اور ترپن کی شکل بناتے اور انگشتِ شہادت سے اشارہ کرتے۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1310]
ترقیم فوادعبدالباقی: 580
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة