صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
19. باب السَّهْوِ فِي الصَّلاَةِ وَالسُّجُودِ لَهُ:
باب: نماز میں بھولنے اور سجدہ سہو کرنے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 573 ترقیم شاملہ: -- 1291
وَحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْمَاعِيل الْخَزَّازُ ، حَدَّثَنَا عَلِيٌّ وَهُوَ ابْنُ الْمُبَارَكِ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، صَلَّى رَكْعَتَيْنِ مِنْ صَلَاةِ الظُّهْرِ، ثُمَّ سَلَّمَ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَقُصِرَتِ الصَّلَاةُ، أَمْ نَسِيتَ؟ وَسَاقَ الْحَدِيثَ.
علی بن مبارک نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں یحییٰ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں ابوسلمہ نے حدیث سنائی، کہا: ہمیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی دو رکعتیں پڑھائیں، پھر سلام پھیر دیا تو بنو سلیم کا ایک آدمی آپ کے قریب آیا اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا نماز کم کر دی گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ (آگے (سابقہ) حدیث بیان کی۔) [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1291]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی دو رکعتیں پڑھیں، پھر سلام پھیر دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سلیم قبیلہ کا ایک آدمی آیا اور پوچھا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! نماز کم کر دی گئی ہے یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھول گئے ہیں؟“ پھر مذکورہ حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1291]
ترقیم فوادعبدالباقی: 573
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 573 ترقیم شاملہ: -- 1292
وحَدَّثَنِي إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ شَيْبَانَ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: بَيْنَا أَنَا أُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، صَلَاةَ الظُّهْرِ، سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ، فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ، وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ.
شیبان نے یحییٰ سے، انہوں نے ابوسلمہ سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (اقتداء میں) ظہر کی نماز پڑھ رہا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتوں پر سلام پھیر دیا، اس پر بنی سلیم کا ایک آدمی کھڑا ہوا (آگے (مذکورہ بالا) حدیث بیان کی۔) [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1292]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ظہر کی نماز پڑھ رہا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتوں پر سلام پھیر دیا تو سلیم خاندان کا ایک آدمی کھڑا ہوا،“ آگے مذکورہ بالا حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1292]
ترقیم فوادعبدالباقی: 573
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 574 ترقیم شاملہ: -- 1293
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ جميعا، عَنِ ابْنِ عُلَيَّةَ ، قَالَ زُهَيْرٌ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، صَلَّى الْعَصْرَ، فَسَلَّمَ فِي ثَلَاثِ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ دَخَلَ مَنْزِلَهُ، فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ، يُقَالُ لَهُ: الْخِرْبَاقُ، وَكَانَ فِي يَدَيْهِ طُولٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَذَكَرَ لَهُ صَنِيعَهُ، وَخَرَجَ غَضْبَانَ، يَجُرُّ رِدَاءَهُ، حَتَّى انْتَهَى إِلَى النَّاسِ، فَقَالَ: أَصَدَقَ هَذَا؟ قَالُوا: نَعَمْ، " فَصَلَّى رَكْعَةً، ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ ".
اسماعیل بن ابراہیم نے خالد (حذاء) سے، انہوں نے ابوقلابہ سے، انہوں نے ابومہلب سے اور انہوں نے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز پڑھائی اور تین رکعتوں پر سلام پھیر دیا، پھر اپنے گھر تشریف لے گئے تو ایک آدمی جسے خرباق کہا جاتا تھا اور اس کے ہاتھ لمبے تھے، وہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے عرض کی: اے اللہ کے رسول! پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جو (سہو) ہوا تھا اس کا آپ کے سامنے تذکرہ کیا، آپ غصے کی حالت میں، چادر گھسیٹتے ہوئے نکلے حتیٰ کہ لوگوں کے پاس آ پہنچے اور پوچھا: ”کیا یہ سچ کہہ رہا ہے؟“ لوگوں نے کہا: جی ہاں! تو آپ نے ایک رکعت پڑھائی، پھر سلام پھیرا، پھر سہو کے دو سجدے کیے، پھر سلام پھیرا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1293]
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز پڑھائی اور تین رکعات پر سلام پھیر دیا، پھر اپنے گھر جانے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی آیا، جسے خرباق کہا جاتا تھا اور اس کے ہاتھ لمبے تھے، اس نے کہا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کو کیا ہوا؟“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم غصے کی حالت میں چادر کھینچتے ہوئے نکلے، حتیٰ کہ لوگوں کے پاس آ گئے اور پوچھا: ”کیا یہ سچ کہہ رہا ہے؟“ لوگوں نے کہا: ”ہاں۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رکعت پڑھائی اور سلام پھیر دیا، پھر دو سجدے (سہو کے لیے) کیے، پھر سلام پھیرا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1293]
ترقیم فوادعبدالباقی: 574
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 574 ترقیم شاملہ: -- 1294
وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ وَهُوَ الْحَذَّاءُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ الْحُصَيْنِ ، قَالَ: سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثَلَاثِ رَكَعَاتٍ مِنَ الْعَصْرِ، ثُمَّ قَامَ فَدَخَلَ الْحُجْرَةَ، فَقَامَ رَجُلٌ بَسِيطُ الْيَدَيْنِ، فَقَالَ: أَقُصِرَتِ الصَّلَاةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، فَخَرَجَ مُغْضَبًا، " فَصَلَّى الرَّكْعَةَ الَّتِي كَانَ تَرَكَ، ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ، ثُمَّ سَلَّمَ ".
عبدالوہاب ثقفی نے خالد حذاء سے باقی ماندہ اسی سند کے ساتھ حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی تیسری رکعت میں سلام پھیر دیا، پھر اٹھ کر اپنے حجرے میں داخل ہو گئے، ایک (لمبے) چوڑے ہاتھوں والا آدمی کھڑا ہوا اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا نماز کم کر دی گئی ہے؟ پھر آپ غصے کے عالم میں نکلے اور چھوڑی ہوئی رکعت پڑھائی، پھر سلام پھیر دیا، پھر سہو کے دو سجدے کیے، پھر سلام پھیرا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1294]
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی تیسری رکعت کے بعد سلام پھیر دیا، پھر اٹھ کر کمرے میں داخل ہونے لگے تو کھلے ہاتھوں والا ایک آدمی کھڑا ہوا اور عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا نماز کم کر دی گئی ہے؟“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم غصے کی حالت میں نکلے اور وہ رکعت جو چھوٹ گئی تھی پڑھائی، پھر سلام پھیر دیا، پھر بھول کے دو سجدے کیے، پھر سلام پھیرا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1294]
ترقیم فوادعبدالباقی: 574
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
20. باب سُجُودِ التِّلاَوَةِ:
باب: سجدہ تلاوت کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 575 ترقیم شاملہ: -- 1295
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى كلهم، عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ ، قَالَ زُهَيْرٌ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " كَانَ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ، فَيَقْرَأُ سُورَةً فِيهَا سَجْدَةٌ، فَيَسْجُدُ، وَنَسْجُدُ مَعَهُ، حَتَّى مَا يَجِدُ بَعْضُنَا مَوْضِعًا لِمَكَانِ جَبْهَتِهِ ".
یحییٰ بن سعید قطان نے عبیداللہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: مجھے نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قرآن مجید کی تلاوت فرمایا کرتے تھے۔ آپ اس سورت کی تلاوت فرماتے جس میں سجدہ ہوتا اور سجدہ کرتے تو ہم (سب) بھی آپ کے ساتھ سجدہ کرتے، حتیٰ کہ ہم میں سے بعض کو پیشانی رکھنے کے لیے بھی جگہ نہ ملتی تھی۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1295]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن مجید کی تلاوت فرمایا کرتے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ والی سورت کی تلاوت فرماتے اور سجدہ کرتے، ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سجدہ کرتے، یہاں تک کہ (بھیڑ کی وجہ سے) ہم میں سے بعض کو پیشانی رکھنے کی جگہ نہ ملتی تھی۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1295]
ترقیم فوادعبدالباقی: 575
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 575 ترقیم شاملہ: -- 1296
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: " رُبَّمَا قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقُرْآنَ، فَيَمُرُّ بِالسَّجْدَةِ، فَيَسْجُدُ بِنَا، حَتَّى ازْدَحَمْنَا عِنْدَهُ، حَتَّى مَا يَجِدُ أَحَدُنَا مَكَانًا لِيَسْجُدَ فِيهِ، فِي غَيْرِ صَلَاةٍ ".
محمد بن بشر نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں عبیداللہ نے نافع سے حدیث بیان کی اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: بسا اوقات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن پڑھتے ہوئے سجدے (والی آیت) سے گزرتے تو ہمارے ساتھ سجدہ کرتے، آپ کے پاس ہماری بھیڑ لگ جاتی حتیٰ کہ ہم میں سے بعض کو سجدہ کرنے کے لیے جگہ نہ ملتی (یہ سجدہ) نماز کے علاوہ ہوتا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1296]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ”بسا اوقات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن مجید کی تلاوت کرتے، سجدہ والی آیت سے گزرتے اور ہمارے ساتھ سجدہ کرتے، حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہماری بھیڑ لگ جاتی، حتیٰ کہ نماز کے بغیر ہی ہم میں سے بعض کو سجدہ کرنے کے لیے جگہ نہ ملتی۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1296]
ترقیم فوادعبدالباقی: 575
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 576 ترقیم شاملہ: -- 1297
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، قَالَ: سَمِعْتُ الأَسْوَدَ ، يُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " أَنَّهُ قَرَأَ وَالنَّجْمِ فَسَجَدَ فِيهَا، وَسَجَدَ مَنْ كَانَ مَعَهُ، غَيْرَ أَنَّ شَيْخًا، أَخَذَ كَفًّا مِنْ حَصًى أَوْ تُرَابٍ، فَرَفَعَهُ إِلَى جَبْهَتِهِ، وَقَالَ: يَكْفِينِي هَذَا "، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: لَقَدْ رَأَيْتُهُ بَعْدُ قُتِلَ كَافِرًا.
حضرت عبداللہ (بن مسعود رضی اللہ عنہ) نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورة النجم کی تلاوت کی اور اس میں سجدہ کیا اور آپ کے ساتھ جتنے لوگ تھے سب نے سجدہ کیا، مگر ایک بوڑھے (امیہ بن خلف) نے کنکریوں یا مٹی کی ایک مٹھی بھر کر اپنی پیشانی سے لگا لی اور کہا: میرے لیے یہی کافی ہے۔ عبداللہ (بن مسعود رضی اللہ عنہ) نے کہا: میں نے بعد میں دیکھا، اسے کفر کی حالت میں قتل کیا گیا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1297]
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سُورَةُ النَّجْمِ کی تلاوت کی اور اس میں سجدہ کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تمام حاضرین نے سجدہ کیا، صرف ایک بوڑھے نے کنکریوں یا مٹی کی ایک مٹھی بھر کر اپنی پیشانی سے لگائی اور کہا: ”میرے لیے یہی کافی ہے“، عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ”میں نے اس کو (یعنی امیہ بن خلف) کفر کی حالت میں قتل ہوتے دیکھا۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1297]
ترقیم فوادعبدالباقی: 576
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 577 ترقیم شاملہ: -- 1298
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وابْنُ حُجْرٍ ، قَالَ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الآخَرُونَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ ، عَنِ ابْنِ قُسَيْطٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَأَلَ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ ، عَنِ الْقِرَاءَةِ مَعَ الإِمَامِ، فَقَالَ: " لَا قِرَاءَةَ مَعَ الإِمَامِ فِي شَيْءٍ، وَزَعَمَ، أَنَّهُ قَرَأَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّجْمِ إِذَا هَوَى فَلَمْ يَسْجُدْ ".
عطاء بن یسار نے (اپنے شاگرد ابن قسیط کو) بتایا کہ انہوں نے امام کے ساتھ (قرآن کی کسی سورت کی) قراءت کرنے کے بارے میں حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے سوال کیا؟ انہوں نے کہا: امام کے ساتھ (فاتحہ کے سوا) کچھ نہ پڑھے اور کہا: انہوں (زید رضی اللہ عنہ) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے «والنجم اذا ہوى» پڑھی تو آپ نے سجدہ نہ کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1298]
حضرت عطاء بن یسار رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے، امام کے ساتھ قرأت کرنے کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا: ”امام کے ساتھ کچھ نہ پڑھے۔“ اور کہا، انہوں (زید رضی اللہ عنہ) نے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ﴿وَالنَّجْمِ إِذَا هَوَى﴾ [سورة النجم: 1] پڑھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ نہ کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1298]
ترقیم فوادعبدالباقی: 577
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 578 ترقیم شاملہ: -- 1299
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ مَوْلَى الأَسْوَدِ بْنِ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، " قَرَأَ لَهُمْ إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ، فَسَجَدَ فِيهَا، فَلَمَّا انْصَرَفَ أَخْبَرَهُمْ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَجَدَ فِيهَا ".
اسود بن سفیان کے آزاد کردہ غلام عبداللہ بن یزید نے ابوسلمہ بن عبدالرحمن سے روایت کی کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ان کے سامنے سورة «إذا السماء انشقت» پڑھی اور اس میں سجدہ کیا، پھر جب سلام پھیرا تو انہیں بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سورت میں سجدہ کیا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1299]
حضرت ابوسلمہ بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ان کے سامنے سورت ﴿إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ﴾ [سورة الانشقاق: 1] پڑھی اور اس میں سجدہ کیا اور سلام پھیرنے کے بعد انہیں بتایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سورت میں سجدہ کیا تھا۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1299]
ترقیم فوادعبدالباقی: 578
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 578 ترقیم شاملہ: -- 1300
وحَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا عِيسَى ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ . ح، قَالَ: وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ هِشَامٍ كِلَاهُمَا، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ.
یحییٰ بن ابی کثیر نے ابوسلمہ سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کی مانند روایت کی۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1300]
امام صاحب دو اور اساتذہ سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1300]
ترقیم فوادعبدالباقی: 578
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة