صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
19. باب السَّهْوِ فِي الصَّلاَةِ وَالسُّجُودِ لَهُ:
باب: نماز میں بھولنے اور سجدہ سہو کرنے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 572 ترقیم شاملہ: -- 1281
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، صَلَّى الظُّهْرَ خَمْسًا، فَلَمَّا سَلَّمَ، قِيلَ لَهُ: أَزِيدَ فِي الصَّلَاةِ؟ قَالَ: وَمَا ذَاكَ؟ قَالُوا: صَلَّيْتَ خَمْسًا، فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ".
حکم نے ابراہیم سے، انہوں نے علقمہ سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ (بن مسعود رضی اللہ عنہ) سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز (میں) پانچ رکعتیں پڑھا دیں، جب آپ نے سلام پھیرا تو آپ سے عرض کی گئی: کیا نماز میں اضافہ کر دیا گیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”وہ کیا ہے؟“ صحابہ نے کہا: آپ نے پانچ رکعتیں پڑھی ہیں۔ تو آپ نے دو سجدے کیے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1281]
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز پانچ رکعت پڑھائیں، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: ”کیا نماز میں اضافہ کر دیا گیا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”وہ کیا ہے؟“ صحابہ نے کہا: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ رکعات پڑھی ہیں۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو سجدے کر لیے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1281]
ترقیم فوادعبدالباقی: 572
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 572 ترقیم شاملہ: -- 1282
وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ ، أَنَّهُ صَلَّى بِهِمْ خَمْسًا.
ابن نمیر نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں ابن ادریس نے حسن بن عبیداللہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابراہیم (بن سوید) سے اور انہوں نے علقمہ سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پانچ رکعتیں پڑھائیں۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1282]
حضرت ابراہیم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت علقمہ رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پانچ رکعات پڑھا دیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1282]
ترقیم فوادعبدالباقی: 572
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 572 ترقیم شاملہ: -- 1283
ح حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُوَيْدٍ ، قَالَ: صَلَّى بِنَا عَلْقَمَةُ الظُّهْرَ خَمْسًا، فَلَمَّا سَلَّمَ، قَالَ الْقَوْمُ: يَا أَبَا شِبْلٍ، قَدْ صَلَّيْتَ خَمْسًا؟ قَالَ: كَلَّا مَا فَعَلْتُ؟ قَالُوا: بَلَى، قَالَ: وَكُنْتُ فِي نَاحِيَةِ الْقَوْمِ وَأَنَا غُلَامٌ، فَقُلْتُ: بَلَى، قَدْ صَلَّيْتَ خَمْسًا، قَالَ لِي: وَأَنْتَ أَيْضًا يَا أَعْوَرُ، تَقُولُ ذَاكَ؟ قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: فَانْفَتَلَ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمْسًا، فَلَمَّا انْفَتَلَ، تَوَشْوَشَ الْقَوْمُ بَيْنَهُمْ، فَقَالَ: مَا شَأْنُكُمْ؟ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ زِيدَ فِي الصَّلَاةِ؟ قَالَ: لَا، قَالُوا: فَإِنَّكَ قَدْ صَلَّيْتَ خَمْسًا، فَانْفَتَلَ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: " إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ، أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ، "، وَزَادَ ابْنُ نُمَيْرٍ فِي حَدِيثِهِ، " فَإِذَا نَسِيَ أَحَدُكُمْ، فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ ".
عثمان بن ابی شیبہ نے ہمیں حدیث بیان کی۔ لفظ انہی کے ہیں۔ انہوں نے کہا: ہمیں جریر نے حسن بن عبیداللہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابراہیم بن سوید سے روایت کی، کہا: ہمیں علقمہ نے ظہر کی پانچ رکعتیں پڑھا دیں۔ جب انہوں نے سلام پھیرا تو لوگوں نے کہا: ابوشبل! آپ نے پانچ رکعتیں پڑھائی ہیں۔ انہوں نے کہا: بالکل نہیں، میں نے ایسا نہیں کیا۔ لوگوں نے کہا: کیوں نہیں! (آپ نے ایسا ہی کیا ہے۔) ابراہیم نے کہا: میں لوگوں کے کنارے (والے حصے) میں تھا اور بچہ تھا، میں نے کہا: ہاں! آپ نے پانچ رکعتیں پڑھی ہیں۔ انہوں نے مجھ سے کہا: ایک آنکھ والے! تو بھی یہی کہتا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں! تو وہ مڑے اور دو سجدے کیے، پھر سلام پھیرا، پھر کہا: عبداللہ (بن مسعود رضی اللہ عنہ) نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں پانچ رکعتیں پڑھا دیں، جب آپ مڑے تو لوگوں نے آپس میں کھسر پھسر شروع کر دی۔ آپ نے پوچھا: ”تمہیں کیا ہوا ہے؟“ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا نماز میں اضافہ کر دیا گیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں۔“ لوگوں نے کہا: آپ نے پانچ رکعتیں پڑھائی ہیں۔ تو آپ پلٹے، پھر دو سجدے کیے، پھر سلام پھیرا، پھر فرمایا: ”میں تمہاری ہی طرح کا انسان ہوں، میں (بھی) بھول جاتا ہوں جس طرح تم لوگ بھول جاتے ہو۔“ ابن نمیر نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا: ”جب تم میں سے کوئی بھول جائے تو وہ دو سجدے کر لے۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1283]
ابراہیم بن سوید رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ علقمہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں ظہر کی نماز پانچ رکعت پڑھا دیں، تو جب انہوں نے سلام پھیرا لوگوں نے کہا: ”اے ابو شبل! آپ نے تو پانچ رکعات پڑھا دی ہیں۔“ انہوں نے کہا: ”ہرگز میں نے یہ کام نہیں کیا۔“ لوگوں نے کہا: ”کیوں نہیں!“ اور میں لوگوں کے ایک طرف تھا اور میں نوجوان تھا تو میں نے کہا: ”کیوں نہیں! آپ نے واقعی پانچ رکعات پڑھائی ہیں۔“ انہوں نے مجھے کہا: ”اے اعور! تو بھی یہی کہتا ہے؟“ تو میں نے کہا: ”ہاں۔“ ابراہیم نے کہا: تو وہ مڑے اور دو سجدے کیے پھر سلام پھیرا اور پھر کہا: عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ رکعات پڑھا دیں، تو جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مڑے لوگوں میں تشویش پیدا ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تمہیں کیا ہوا ہے؟“ لوگوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا نماز میں اضافہ ہو گیا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں۔“ لوگوں نے کہا: ”تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ رکعات پڑھا دی ہیں۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مڑے اور دو سجدے کیے پھر سلام پھیرا اور پھر فرمایا: ”نہیں، بس تمہاری طرح بشر ہوں میں بھی، میں بھی بھول جاتا ہوں جیسے تم بھول جاتے ہو۔“ اور ابن نمیر نے اپنی حدیث میں یہ اضافہ کیا: ”تو جب تم میں سے کوئی بھول جائے تو وہ دو سجدے کر لے۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1283]
ترقیم فوادعبدالباقی: 572
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 572 ترقیم شاملہ: -- 1284
حَدَّثَنَاه عَوْنُ بْنُ سَلَّامٍ الْكُوفِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّهْشَلِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمْسًا، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَزِيدَ فِي الصَّلَاةِ؟ قَالَ: وَمَا ذَاكَ؟ قَالُوا: صَلَّيْتَ خَمْسًا، قَالَ: " إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ، أَذْكُرُ كَمَا تَذْكُرُونَ، وَأَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ ".
عبدالرحمن بن اسود نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں پانچ رکعتیں پڑھا دیں تو ہم نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا نماز میں اضافہ کر دیا گیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”وہ کیا؟“ صحابہ نے کہا: آپ نے پانچ رکعتیں پڑھائی ہیں۔ آپ نے فرمایا: ”میں تمہاری طرح انسان ہوں، میں بھی اسی طرح یاد رکھتا ہوں جس طرح تم یاد رکھتے ہو اور میں (بھی) اسی طرح بھول جاتا ہوں جس طرح تم بھول جاتے ہو۔“ پھر آپ نے سہو کے دو سجدے کیے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1284]
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں پانچ رکعات پڑھا دیں، تو ہم نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا نماز میں اضافہ کر دیا گیا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ کیا؟“ لوگوں نے عرض کیا: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ رکعات پڑھائی ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں بھی تمہاری طرح بشر ہوں، میں یاد رکھتا ہوں جس طرح تم یاد رکھتے ہو اور میں بھول جاتا ہوں جس طرح تم بھولتے ہو۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھولنے کے دو سجدے کیے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1284]
ترقیم فوادعبدالباقی: 572
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 572 ترقیم شاملہ: -- 1285
وحَدَّثَنَا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ التَّمِيمِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ مُسْهِرٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَزَادَ أَوْ نَقَصَ، قَالَ إِبْرَاهِيمُ: وَالْوَهْمُ مِنِّي؟ فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَزِيدَ فِي الصَّلَاةِ شَيْءٌ؟ فَقَالَ: " إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ، أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ، فَإِذَا نَسِيَ أَحَدُكُمْ، فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ "، ثُمَّ تَحَوَّلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ.
(علی) بن مسہر نے اعمش سے، انہوں نے ابراہیم سے، انہوں نے علقمہ سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی اور اس میں کچھ اضافہ کر دیا۔ ابراہیم نے کہا کہ یہاں وہم مجھے ہوا ہے، علقمہ کو نہیں۔ عرض کی گئی: اللہ کے رسول! کیا نماز میں اضافہ کر دیا گیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”میں تمہاری طرح انسان ہی ہوں، میں بھی بھولتا ہوں جیسے تم بھولتے ہو، اس لیے جب تم میں سے کوئی بھول جائے تو وہ بیٹھے بیٹھے دو سجدے کر لے۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رخ (قبلہ کی طرف) پھیرا اور دو سجدے کیے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1285]
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی، اس میں اضافہ یا کمی کی (ابراہیم کا قول ہے یہاں وہم مجھے ہوا)۔ پوچھا گیا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا نماز میں اضافہ کر دیا گیا ہے؟“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں بھی تمہاری طرح انسان ہوں، میں بھی بھول سکتا ہوں، جیسے تم بھولتے ہو، تو جب تم میں سے کوئی بھول جائے تو وہ بیٹھے بیٹھے دو سجدے کر لے۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبلہ رخ ہوئے اور دو سجدے کیے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1285]
ترقیم فوادعبدالباقی: 572
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 572 ترقیم شاملہ: -- 1286
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، أَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ . ح، قَالَ: وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " سَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ، بَعْدَ السَّلَامِ وَالْكَلَامِ ".
حفص اور ابومعاویہ نے اعمش سے باقی ماندہ اس سند کے ساتھ حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام اور گفتگو کے بعد سہو کے دو سجدے کیے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1286]
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”سجودِ سہو سلام و کلام (گفتگو) کے بعد کیے۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1286]
ترقیم فوادعبدالباقی: 572
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 572 ترقیم شاملہ: -- 1287
وحَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: صَلَّيْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِمَّا زَادَ أَوْ نَقَصَ، قَالَ إِبْرَاهِيمُ: وَايْمُ اللَّهِ، مَا جَاءَ ذَاكَ، إِلَّا مِنْ قِبَلِي، قَالَ: فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَحَدَثَ فِي الصَّلَاةِ شَيْءٌ؟ فَقَالَ: لَا، قَالَ: فَقُلْنَا لَهُ: الَّذِي صَنَعَ، فَقَالَ: " إِذَا زَادَ الرَّجُلُ أَوْ نَقَصَ، فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ "، قَالَ: ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ.
زائدہ نے سلیمان (اعمش) سے باقی ماندہ اسی سند کے ساتھ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے، آپ نے زیادہ پڑھا دیا یا کم۔ ابراہیم نے کہا: اللہ کی قسم! یہ (وہم) میری طرف سے ہے۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: تو ہم نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا نماز میں کوئی نیا حکم آ گیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں۔“ تو ہم نے آپ کو جو آپ نے کیا تھا اس سے آگاہ کیا تو آپ نے فرمایا: ”جب آدمی زیادتی یا کمی کر لے تو دو سجدے کرے۔“ (عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے) کہا: اس کے بعد آپ نے دو سجدے کیے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1287]
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اضافہ یا کمی کی، ابراہیم کہتے ہیں: ”اللہ کی قسم! یہ (وہم) میری ہی طرف سے ہے“، تو ہم نے کہا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا نماز کے بارے میں کوئی نیا حکم نازل ہوا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں۔“ تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کیے سے آگاہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب آدمی زیادتی یا کمی کر بیٹھے تو وہ دو سجدے کر لے۔“ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو سجدے کیے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1287]
ترقیم فوادعبدالباقی: 572
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 573 ترقیم شاملہ: -- 1288
حَدَّثَنِي، زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وعَمْرٌو النَّاقِدُ جميعا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، قَالَ عَمْرٌو: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ سِيرِينَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِحْدَى صَلَاتَيِ الْعَشِيِّ، إِمَّا الظُّهْرَ، وَإِمَّا الْعَصْرَ، فَسَلَّمَ فِي رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ أَتَى جِذْعًا فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ، فَاسْتَنَدَ إِلَيْهَا مُغْضَبًا، وَفِي الْقَوْمِ أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرَ، فَهَابَا أَنْ يَتَكَلَّمَا، وَخَرَجَ سَرَعَانُ النَّاسِ، قُصِرَتِ الصَّلَاةُ، فَقَامَ ذُو الْيَدَيْنِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَقُصِرَتِ الصَّلَاةُ، أَمْ نَسِيتَ؟ فَنَظَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَمِينًا، وَشِمَالًا، فَقَالَ: مَا يَقُولُ ذُو الْيَدَيْنِ؟ قَالُوا: صَدَقَ، لَمْ تُصَلِّ إِلَّا رَكْعَتَيْنِ، " فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، وَسَلَّمَ، ثُمَّ كَبَّرَ، ثُمَّ سَجَدَ، ثُمَّ كَبَّرَ، فَرَفَعَ، ثُمَّ كَبَّرَ، وَسَجَدَ، ثُمَّ كَبَّرَ، وَرَفَعَ "، قَالَ: وَأُخْبِرْتُ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، أَنَّهُ قَالَ: وَسَلَّمَ.
سفیان بن عیینہ نے کہا: ہم سے ایوب نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے محمد بن سیرین سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوپہر کے بعد کی ایک نماز ظہر یا عصر پڑھائی اور دو رکعتوں کے بعد سلام پھیر دیا، پھر قبلے کی سمت (گڑے ہوئے) کجھور کے ایک تنے کے پاس آئے اور غصے کی کیفیت میں اس سے ٹیک لگا لی۔ لوگوں میں ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما موجود (بھی) تھے، انہوں نے آپ کی ہیبت کی بنا پر گفتگو نہ کی جبکہ جلد باز لوگ (نماز پڑھ کر) نکل گئے، اور کہنے لگے: نماز میں کمی ہو گئی ہے۔ تو ذوالیدین (نامی شخص) کھڑا ہوا اور کہا: اے اللہ کے رسول! کیا نماز مختصر کر دی گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دائیں اور بائیں دیکھ کر پوچھا: ”ذوالیدین کیا کہہ رہا ہے؟“ لوگوں نے کہا: سچ کہہ رہا ہے، آپ نے دو رکعتیں ہی پڑھی ہیں۔ چنانچہ آپ نے دو رکعتیں (مزید) پڑھیں اور سلام پھیر دیا، پھر اللہ اکبر کہا اور سجدہ کیا، پھر اللہ اکبر کہا اور سر اٹھایا، پھر اللہ اکبر کہا اور سجدہ کیا، پھر اللہ اکبر کہا اور سر اٹھایا۔ (محمد بن سیرین نے) کہا: عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے حوالے سے مجھے بتایا گیا کہ انہوں نے کہا: اور سلام پھیرا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1288]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوپہر کی ایک نماز ظہر یا عصر پڑھائی اور دو رکعتوں پر سلام پھیر دیا، پھر مسجد کے سامنے ایک تنے کے ساتھ ٹیک لگا کر غصہ کی حالت میں کھڑے ہو گئے، لوگوں میں ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما موجود تھے، انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہیبت کی بنا پر گفتگو نہ کی، اور جلد باز لوگ نکل گئے (یہ سمجھتے ہوئے) کہ نماز میں کمی ہو گئی ہے، تو ذوالیدین رضی اللہ عنہ نامی شخص کھڑا ہوا اور کہا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا نماز کم کر دی گئی ہے یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھول گئے ہیں؟“ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دائیں اور بائیں دیکھ کر فرمایا: ”ذوالیدین کیا کہہ رہا ہے؟“ لوگوں نے کہا: ”سچ کہہ رہا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو ہی رکعتیں پڑھی ہیں“، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں (اور) پڑھ کر سلام پھیر دیا، پھر «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ اکبر“ کہہ کر سجدہ کیا، پھر «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ اکبر“ کہہ کر سر اٹھایا، پھر «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ اکبر“ کہہ کر سجدہ کیا، پھر «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ اکبر“ کہہ کر سجدہ سے اٹھے، محمد بن سیرین رحمہ اللہ کہتے ہیں: عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کی طرف سے مجھے بتایا گیا کہ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1288]
ترقیم فوادعبدالباقی: 573
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 573 ترقیم شاملہ: -- 1289
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِحْدَى صَلَاتَيِ الْعَشِيِّ، بِمَعْنَى حَدِيثِ سُفْيَانَ.
(سفیان کے بجائے) حماد نے ہمیں حدیث بیان کی (کہا:) ہمیں ایوب نے محمد بن سیرین سے حدیث سنائی، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دوپہر کے بعد کی دو نمازوں میں سے ایک نماز پڑھائی (آگے سفیان (بن عیینہ) کے ہم معنی حدیث سنائی۔) [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1289]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوپہر کی ایک نماز پڑھائی، سفیان کے ہم معنی حدیث سنائی۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1289]
ترقیم فوادعبدالباقی: 573
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 573 ترقیم شاملہ: -- 1290
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ مَوْلَى ابْنِ أَبِي أَحْمَدَ، أَنَّهُ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْعَصْرِ، فَسَلَّمَ فِي رَكْعَتَيْنِ، فَقَامَ ذُو الْيَدَيْنِ، فَقَالَ: أَقُصِرَتِ الصَّلَاةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَمْ نَسِيتَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كُلُّ ذَلِكَ لَمْ يَكُنْ، فَقَالَ: قَدْ كَانَ بَعْضُ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى النَّاسِ، فَقَالَ: أَصَدَقَ ذُو الْيَدَيْنِ؟ فَقَالُوا: نَعَمْ، يَا رَسُولَ اللَّهِ، " فَأَتَمَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بَقِيَ مِنَ الصَّلَاةِ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ بَعْدَ التَّسْلِيمِ ".
ابن ابی احمد کے آزاد کردہ غلام ابوسفیان سے روایت ہے کہ اس نے کہا: میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عصر کی نماز پڑھائی اور دو رکعتوں میں سلام پھیر دیا۔ ذوالیدین (نامی شخص) کھڑا ہوا اور کہا: اے اللہ کے رسول! کیا نماز کم کر دی گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا کوئی کام نہیں ہوا۔“ اس نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کوئی ایک کام تو ہوا ہے۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور پوچھا: ”کیا ذوالیدین نے سچ کہا؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں! اے اللہ کے رسول! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو نماز رہ گئی تھی پوری کی، پھر بیٹھے بیٹھے سلام پھیرنے کے بعد دو سجدے کیے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1290]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز پڑھائی اور دو رکعتوں پر سلام پھیر دیا، تو حضرت ذوالیدین رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر پوچھا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! نماز کم کر دی گئی ہے یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی بھول گئے ہیں؟“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دونوں کام نہیں ہوئے۔“ تو انہوں نے عرض کی: ”ایک کام تو ہوا ہے، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر پوچھا: ”کیا ذوالیدین سچ کہہ رہا ہے؟“ انہوں نے کہا: ”ہاں اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے باقی ماندہ نماز پوری کی، پھر دو سجدے سلام پھیرنے کے بعد بیٹھے بیٹھے کیے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1290]
ترقیم فوادعبدالباقی: 573
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة