🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
18. باب النَّهْيِ عَنْ نَشْدِ الضَّالَّةِ فِي الْمَسْجِدِ وَمَا يَقُولُهُ مَنْ سَمِعَ النَّاشِدَ:
باب: مسجد میں گمشدہ چیز ڈھونڈنے کی ممانعت اور ڈھونڈنے والے کو کیا کہنا چاہئیے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 568 ترقیم شاملہ: -- 1261
وحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الأَسْوَدِ ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَى شَدَّادٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ بِمِثْلِهِ.
(ابن وہب کے بجائے) مقری نے حیوہ سے باقی ماندہ اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1261]
امام صاحب مذکورہ بالا روایت ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1261]
ترقیم فوادعبدالباقی: 568
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 569 ترقیم شاملہ: -- 1262
وحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا الثَّوْرِيُّ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَجُلًا، نَشَدَ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: مَنْ دَعَا إِلَى الْجَمَلِ الأَحْمَرِ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا وَجَدْتَ، إِنَّمَا بُنِيَتِ الْمَسَاجِدُ لِمَا بُنِيَتْ لَهُ ".
سفیان ثوری نے ہمیں خبر دی، انہوں نے علقمہ بن مرثد سے، انہوں نے سلیمان بن بریدہ سے اور انہوں نے اپنے والد (بریدہ بن حصیب اسلمی رضی اللہ عنہ) سے روایت کی کہ ایک آدمی نے مسجد میں اعلان کیا اور کہا: جو سرخ اونٹ (کی نشاندہی) کے لیے آواز دے گا۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تجھے (تیرا اونٹ) نہ ملے، مسجدیں صرف انہی کاموں کے لیے بنائی گئی ہیں جن کے لیے انہیں بنایا گیا۔ (یعنی عبادت اور اللہ کے ذکر کے لیے۔) [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1262]
حضرت سلیمان بن بریدہ رحمہ اللہ اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے مسجد میں اعلان کیا کہ: سرخ اونٹ کے بارے میں کون بتائے گا؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تجھے وہ نہ ملے، مسجدیں تو انہی کاموں کے لیے بنی ہیں جن کے لیے وہ بنائی جاتی ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1262]
ترقیم فوادعبدالباقی: 569
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 569 ترقیم شاملہ: -- 1263
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَمَّا صَلَّى، قَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: مَنْ دَعَا إِلَى الْجَمَلِ الأَحْمَرِ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا وَجَدْتَ، " إِنَّمَا بُنِيَتِ الْمَسَاجِدُ لِمَا بُنِيَتْ لَهُ ".
ابوسنان نے علقمہ بن مرثد سے، انہوں نے سلیمان بن بریدہ سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ (ایک بار) جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی تو ایک آدمی کھڑا ہوا اور کہا: جو سرخ اونٹ (کی نشاندہی) کے لیے آواز دے گا۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم (اپنا اونٹ) نہ پاؤ، مسجدیں صرف انہی کاموں کے لیے بنائی گئی ہیں جن کے لیے انہیں بنایا گیا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1263]
سلیمان بن بریدہ رحمہ اللہ اپنے والد (بریدہ رضی اللہ عنہ) سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے فارغ ہو گئے تو ایک آدمی نے کھڑے ہو کر کہا: «مَنْ دَعَا إِلَى الْجَمَلِ الْأَحْمَرِ؟» سرخ اونٹ کے لیے کس نے بلایا ہے؟ (یعنی سرخ اونٹ کس کو ملا ہے، کے بارے میں کون بتا سکتا ہے؟) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «لَا وَجَدْتَ، إِنَّمَا بُنِيَتِ الْمَسَاجِدُ لِمَا بُنِيَتْ لَهُ» تجھے وہ نہ ملے، مساجد صرف انہیں کاموں کے لیے ہیں جن کے لیے ان کو بنایا گیا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1263]
ترقیم فوادعبدالباقی: 569
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 569 ترقیم شاملہ: -- 1264
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ شَيْبَةَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ بَعْدَ مَا صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْفَجْرِ، فَأَدْخَلَ رَأْسَهُ مِنْ بَابِ الْمَسْجِدِ، فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِهِمَا، قَالَ مُسْلِم: هُو وَشَيْبَةُ بْنُ نَعَامَةَ أَبُو نَعَامَةَ، رَوَى عَنْهُ مِسْعَرٌ، وَهُشَيْمٌ، وَجَرِيرٌ، وَغَيْرُهُمْ مِنْ الْكُوفِيِّينَ.
محمد بن شیبہ نے علقمہ بن مرثد سے، انہوں نے (سلیمان) بن بریدہ سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز پڑھ چکے تو ایک بدوی آیا اور مسجد کے دروازے سے اپنا سر اندر کیا (پھر ان دونوں کی حدیث کی طرح بیان کیا۔) امام مسلم نے کہا: محمد بن شیبہ سے مراد ابونعامہ شیبہ بن نعامہ ہے جس سے مسعر، ہشیم، جریر اور دوسرے کوفی راویوں نے روایت کی۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1264]
حضرت ابن بریدہ رحمہ اللہ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز پڑھ چکے تو ایک بدوی آیا اور مسجد کے دروازے سے اپنا سر اندر کیا اور مذکورہ بالا روایت بیان کی۔ امام مسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ محمد بن شیبہ سے مراد ابو نعامہ شیبہ بن نعامہ ہے جس سے مسعر، ہشیم، جریر اور دوسرے کوفی راوی روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1264]
ترقیم فوادعبدالباقی: 569
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
19. باب السَّهْوِ فِي الصَّلاَةِ وَالسُّجُودِ لَهُ:
باب: نماز میں بھولنے اور سجدہ سہو کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 389 ترقیم شاملہ: -- 1265
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا قَامَ يُصَلِّي، جَاءَهُ الشَّيْطَانُ، فَلَبَسَ عَلَيْهِ، حَتَّى لَا يَدْرِيَ كَمْ صَلَّى، فَإِذَا وَجَدَ ذَلِكَ أَحَدُكُمْ، فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ ".
امام مالک نے ابن شہاب (زہری) سے، انہوں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمن سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلاشبہ تم میں سے کوئی جب نماز پڑھنے کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو شیطان آ کر اسے التباس (شبہ) میں ڈالتا ہے حتیٰ کہ وہ نہیں جانتا کہ اس نے کتنی (رکعتیں) پڑھی ہیں۔ تم میں سے کوئی جب یہ (کیفیت) پائے تو وہ (آخری تشہد میں) بیٹھے ہوئے دو سجدے کر لے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1265]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی جب نماز پڑھنے کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو شیطان آ کر اسے التباس (شبہ) میں ڈالتا ہے، حتیٰ کہ اسے پتہ نہیں رہتا کہ اس نے کتنی رکعت پڑھی ہیں، تم میں سے کوئی جب اس فعل میں مبتلا ہو جائے تو وہ بیٹھ کر یعنی آخر میں دو سجدے کر لے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1265]
ترقیم فوادعبدالباقی: 389
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 569 ترقیم شاملہ: -- 1266
سفیان بن عیینہ اور لیث بن سعد نے زہری سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1266]
امام صاحب رحمہ اللہ اپنے چار اساتذہ سے مذکورہ بالا حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1266]
ترقیم فوادعبدالباقی: 569
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 569 ترقیم شاملہ: -- 1267
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَهُمْ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا نُودِيَ بِالأَذَانِ، أَدْبَرَ الشَّيْطَانُ لَهُ ضُرَاطٌ، حَتَّى لَا يَسْمَعَ الأَذَانَ، فَإِذَا قُضِيَ الأَذَانُ أَقْبَلَ، فَإِذَا ثُوِّبَ بِهَا أَدْبَرَ، فَإِذَا قُضِيَ التَّثْوِيبُ أَقْبَلَ، يَخْطُرُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَنَفْسِهِ، يَقُولُ: اذْكُرْ كَذَا، اذْكُرْ كَذَا، لِمَا لَمْ يَكُنْ يَذْكُرُ، حَتَّى يَظَلَّ الرَّجُلُ إِنْ يَدْرِي كَمْ صَلَّى، فَإِذَا لَمْ يَدْرِ أَحَدُكُمْ كَمْ صَلَّى، فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ " ,
یحییٰ بن ابی کثیر سے روایت ہے، کہا: ہمیں ابوسلمہ بن عبدالرحمن نے حدیث سنائی کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے انہیں حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب اذان کہی جاتی ہے تو شیطان پیٹھ پھیر کر بھاگتا ہے، گوز مار رہا ہوتا ہے تاکہ اذان (کی آواز) نہ سنے۔ جب اذان ختم ہو جاتی ہے تو (واپس) آتا ہے، پھر جب نماز کے لیے تکبیر کہی جاتی ہے تو پیٹھ پھیر کر بھاگ جاتا ہے، جب تکبیر ختم ہو جاتی ہے تو آ جاتا ہے تاکہ انسان اور اس کے دل کے درمیان خیال آرائی شروع کرائے، وہ کہتا ہے: فلاں بات یاد کرو، فلاں چیز یاد کرو، وہ چیزیں (اسے یاد کراتا ہے) جو اسے یاد نہیں ہوتیں حتیٰ کہ وہ شخص یوں ہو جاتا ہے کہ اسے یاد نہیں رہتا اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں، چنانچہ جب تم میں سے کسی کو یاد نہ رہے کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں تو وہ (تشہد میں) بیٹھے بیٹھے دو سجدے کر لے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1267]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب اذان کہی جاتی ہے تو شیطان گوز مارتا ہوا، پشت پھیر کر بھاگتا ہے تاکہ اذان سنائی نہ دے، جب اذان مکمل ہو جاتی ہے تو واپس آتا ہے، جب نماز کے لیے تکبیر کہی جاتی ہے، پھر جاتا ہے، جب تکبیر کہی جا چکتی ہے تو آ کر انسان اور اس کے دل میں حائل ہوتا ہے یعنی اس کے دل میں شکوک و شبہات پیدا کرتا ہے، کہتا ہے: فلاں بات یاد کرو، فلاں چیز یاد کرو، وہ چیزیں جو اسے یاد نہیں ہوتیں حتیٰ کہ اسے یاد نہیں رہتا اس نے کتنی رکعت پڑھی ہیں، جب تم میں سے کسی کو یہ یاد نہ رہے کہ اس نے کتنی رکعت پڑھی ہیں تو بیٹھے بیٹھے (تشہد میں) دو سجدے کر لے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1267]
ترقیم فوادعبدالباقی: 569
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 569 ترقیم شاملہ: -- 1268
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّ الشَّيْطَانَ إِذَا ثُوِّبَ بِالصَّلَاةِ وَلَّى، وَلَهُ ضُرَاطٌ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ وَزَادَ: فَهَنَّاهُ وَمَنَّاهُ وَذَكَّرَهُ مِنْ حَاجَاتِهِ، مَا لَمْ يَكُنْ يَذْكُرُ.
عبدالرحمن اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب نماز کے لیے تکبیر کہی جاتی ہے تو شیطان پیٹھ پھیر کر گوز مارتا ہوا بھاگتا ہے (آگے اوپر کی روایت کی طرح ذکر کیا) اور یہ اضافہ کیا: اسے رغبت اور امید دلاتا ہے اور اسے اس کی ایسی ضرورتیں یاد دلاتا ہے جو اسے یاد نہیں ہوتیں۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1268]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب نماز کے لیے تکبیر کہی جاتی ہے تو شیطان ہوا خارج کرتا ہوا پشت پھیر کر بھاگتا ہے، اوپر کی طرح روایت سنائی اور اس میں یہ اضافہ کیا: اسے رغبتیں اور امیدیں دلاتا ہے اور اسے اس کی وہ ضرورتیں یاد دلاتا ہے جو اسے یاد نہ تھیں۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1268]
ترقیم فوادعبدالباقی: 569
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 570 ترقیم شاملہ: -- 1269
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ بُحَيْنَةَ ، قَالَ: " صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: رَكْعَتَيْنِ مِنْ بَعْضِ الصَّلَوَاتِ، ثُمَّ قَامَ فَلَمْ يَجْلِسْ، فَقَامَ النَّاسُ مَعَهُ، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ وَنَظَرْنَا تَسْلِيمَهُ، كَبَّرَ، فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ، قَبْلَ التَّسْلِيمِ، ثُمَّ سَلَّمَ ".
مالک نے ابن شہاب سے، انہوں نے عبدالرحمن اعرج سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن بحسینہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کسی ایک نماز کی دو رکعتیں پڑھائیں، پھر (تیسری کے لیے) کھڑے ہو گئے اور (درمیان کے تشہد کے لیے) نہ بیٹھے تو لوگ بھی آپ کے ساتھ کھڑے ہو گئے، جب آپ نے نماز پوری کر لی اور ہم آپ کے سلام کے انتظار میں تھے تو آپ نے تکبیر کہی اور بیٹھے بیٹھے سلام سے پہلے دو سجدے کیے، پھر سلام پھیر دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1269]
حضرت عبداللہ بن بحینہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی نماز کی دو رکعتیں پڑھائیں پھر (تیسری کے لیے) کھڑے ہو گئے، درمیانی تشہد کے لیے نہ بیٹھے اور لوگ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھڑے ہو گئے، تو جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کر لی اور ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سلام کا انتظار کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی اور بیٹھے بیٹھے سلام سے پہلے دو سجدے کیے پھر سلام پھیرا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1269]
ترقیم فوادعبدالباقی: 570
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 570 ترقیم شاملہ: -- 1270
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح، قَالَ: وحَدَّثَنَا ابْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ بُحَيْنَةَ الأَسْدِيِّ حَلِيفِ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِب، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " قَامَ فِي صَلَاةِ الظُّهْرِ وَعَلَيْهِ جُلُوسٌ، فَلَمَّا أَتَمَّ صَلَاتَهُ، سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، يُكَبِّرُ فِي كُلِّ سَجْدَةٍ وَهُوَ جَالِسٌ، قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ، وَسَجَدَهُمَا النَّاسُ مَعَهُ، مَكَانَ مَا نَسِيَ مِنَ الْجُلُوسِ ".
لیث نے ابن شہاب سے، انہوں نے اعرج سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن بحسینہ اسدی رضی اللہ عنہ سے، جو بنو عبدالمطلب کے حلیف تھے، روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز میں، جب آپ کو (دوسری رکعت کے بعد) بیٹھنا تھا، کھڑے ہو گئے، پھر جب آپ نے اپنی نماز مکمل کر لی تو آپ نے بیٹھے بیٹھے ہر سجدے کے لیے تکبیر کہتے ہوئے سلام سے پہلے دو سجدے کیے، اور لوگوں نے بھی (تشہد کے لیے) بیٹھنے کی جگہ، جو آپ بھول گئے تھے، آپ کے ساتھ دو سجدے کیے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1270]
حضرت عبداللہ بن بحینہ اسدی رضی اللہ عنہ، جو عبدالمطلب کی اولاد کے حلیف تھے، ان سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز میں (دوسری رکعت کے بعد) بیٹھنے کی بجائے (تیسری رکعت کے لیے) کھڑے ہو گئے، تو جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کر لی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھے بیٹھے سلام سے پہلے ہر سجدہ کے لیے تکبیر کہہ کر دو سجدے کر لیے اور لوگوں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دو سجدے کیے، اس جلوس (بیٹھنا) کی جگہ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھول گئے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1270]
ترقیم فوادعبدالباقی: 570
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں