🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
19. باب السَّهْوِ فِي الصَّلاَةِ وَالسُّجُودِ لَهُ:
باب: نماز میں بھولنے اور سجدہ سہو کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 570 ترقیم شاملہ: -- 1271
وَحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكٍ ابْنِ بُحَيْنَةَ الأَزْدِيِّ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَامَ فِي الشَّفْعِ، الَّذِي يُرِيدُ أَنْ يَجْلِسَ فِي صَلَاتِهِ، فَمَضَى فِي صَلَاتِهِ، فَلَمَّا كَانَ فِي آخِرِ الصَّلَاةِ، سَجَدَ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ، ثُمَّ سَلَّمَ ".
(ابن شہاب کے بجائے) یحییٰ بن سعید نے عبدالرحمن اعرج سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن مالک ابن بحسینہ ازدی رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعتوں کے بعد جہاں نماز میں آپ کا بیٹھنے کا ارادہ تھا، (وہاں) کھڑے ہو گئے، آپ نے اپنی نماز جاری رکھی۔ پھر جب نماز کے آخر میں پہنچے تو سلام سے پہلے سجدے کیے، اس کے بعد سلام پھیرا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1271]
حضرت عبداللہ بن مالک بن بحینہ ازدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پہلے دوگانہ کے بعد جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھنا چاہتے تھے کھڑے ہو گئے اور نماز پڑھتے رہے، پھر جب نماز کے آخر میں پہنچ گئے تو سلام سے پہلے دو سجدے کیے اور پھر سلام پھیرا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1271]
ترقیم فوادعبدالباقی: 570
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 571 ترقیم شاملہ: -- 1272
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ، فَلَمْ يَدْرِ كَمْ صَلَّى، ثَلَاثًا، أَمْ أَرْبَعًا، فَلْيَطْرَحِ الشَّكَّ، وَلْيَبْنِ عَلَى مَا اسْتَيْقَنَ، ثُمَّ يَسْجُدُ سَجْدَتَيْنِ، قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ، فَإِنْ كَانَ صَلَّى خَمْسًا، شَفَعْنَ لَهُ صَلَاتَهُ، وَإِنْ كَانَ صَلَّى إِتْمَامًا لِأَرْبَعٍ، كَانَتَا تَرْغِيمًا لِلشَّيْطَانِ ".
سلیمان بن بلال نے زید بن اسلم سے، انہوں نے عطاء بن یسار سے اور انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو اپنی نماز میں شک ہو جائے اور اسے معلوم نہ ہو کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھ لی ہیں؟ تین یا چار؟ تو وہ شک کو چھوڑ دے اور جتنی رکعتوں پر اسے یقین ہے ان پر بنیاد رکھے (تین یقینی ہیں تو چوتھی پڑھ لے) پھر سلام سے پہلے دو سجدے کر لے، اگر اس نے پانچ رکعتیں پڑھ لی ہیں تو یہ سجدے اس کی نماز کو جفت (چھ رکعتیں) کر دیں گے اور اگر اس نے چار کی تکمیل کر لی تھی تو یہ سجدے شیطان کی ذلت و رسوائی کا باعث ہوں گے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1272]
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو اپنی نماز کے بارے میں شک پڑ جائے اور اسے معلوم نہ ہو سکے کہ اس نے تین رکعت پڑھی ہیں یا چار تو وہ شک کو پھینک دے (نظر انداز کر دے) اور یقین پر بنا کرے، پھر سلام سے پہلے دو سجدے کرے، اگر اس نے پانچ رکعت پڑھ لی ہیں تو وہ (سجدے) اس کی نماز کو جوڑا (چھ رکعت) کر دیں گے اور اگر اس نے اس رکعت سے چار کی تکمیل کر لی ہے تو یہ سجدے شیطان کی ذلت و رسوائی کا باعث ہوں گے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1272]
ترقیم فوادعبدالباقی: 571
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 571 ترقیم شاملہ: -- 1273
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي عَمِّي عَبْدُ اللَّهِ ، حَدَّثَنِي دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ، وَفِي مَعْنَاهُ، قَالَ: يَسْجُدُ سَجْدَتَيْنِ، قَبْلَ السَّلَامِ، كَمَا قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ.
داؤد بن قیس نے زید بن اسلم سے اسی سند کے ساتھ روایت کی اور اس کے معنی کے مطابق یہ کہا: وہ (نمازی) سلام پھیرنے سے پہلے دو سجدے کر لے۔ جس طرح سلیمان بن بلال نے کہا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1273]
امام صاحب ایک اور استاد سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1273]
ترقیم فوادعبدالباقی: 571
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 572 ترقیم شاملہ: -- 1274
وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ ، وَأَبُو بَكْرِ ابْنَا أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، جَمِيعًا، عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ عُثْمَانُ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ إِبْرَاهِيمُ، زَادَ أَوْ نَقَصَ: فَلَمَّا سَلَّمَ، قِيلَ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَحَدَثَ فِي الصَّلَاةِ شَيْءٌ؟ قَالَ: وَمَا ذَاكَ؟ قَالُوا: صَلَّيْتَ كَذَا وَكَذَا، قَالَ: فَثَنَى رِجْلَيْهِ، وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ، فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ. فَقَالَ: " إِنَّهُ لَوْ حَدَثَ فِي الصَّلَاةِ شَيْءٌ، أَنْبَأْتُكُمْ بِهِ، وَلَكِنْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَنْسَى، كَمَا تَنْسَوْنَ، فَإِذَا نَسِيتُ فَذَكِّرُونِي، وَإِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ، فَلْيَتَحَرَّ الصَّوَابَ، فَلْيُتِمَّ عَلَيْهِ، ثُمَّ لِيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ ".
جریر نے ہمیں حدیث بیان کی، انہوں نے منصور سے، انہوں نے ابراہیم سے اور انہوں نے علقمہ سے روایت کی، کہا: حضرت عبداللہ (بن مسعود رضی اللہ عنہ) نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی۔ ابراہیم نے کہا: آپ نے اس میں زیادتی یا کمی کر دی۔ پھر جب آپ نے سلام پھیرا تو آپ سے عرض کی گئی: اے اللہ کے رسول! کیا نماز میں کوئی نئی چیز (تبدیلی) آ گئی ہے؟ آپ نے پوچھا: وہ کیا؟ صحابہ نے عرض کی: آپ نے اتنی اتنی رکعتیں پڑھائی ہیں۔ (راوی نے کہا:) آپ نے اپنے پاؤں موڑے، قبلہ کی طرف رخ کیا اور دو سجدے کیے، پھر سلام پھیرا، پھر آپ نے ہماری طرف رخ کیا اور فرمایا: اگر نماز میں کوئی نئی بات ہوتی تو میں تمہیں بتا دیتا، لیکن میں ایک انسان ہوں، جس طرح تم بھولتے ہو میں بھی بھول جاتا ہوں، اس لیے جب میں بھول جاؤں تو مجھے یاد دلا دیا کرو اور جب تم میں سے کسی کو اپنی نماز کے بارے میں شک ہو جائے تو وہ صحیح کی جستجو کرے اور اس کے مطابق (نماز کی) تکمیل کرے، پھر (سہو کے) دو سجدے کر لے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1274]
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی، ابراہیم نے کہا: اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زیادتی یا کمی کی، تو جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا نماز میں کوئی نیا حکم آ گیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: وہ کیا ہے؟ صحابہ نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنی اتنی رکعتیں پڑھائی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں پاؤں موڑے، قبلہ کی طرف رخ کیا اور دو سجدے کیے پھر سلام پھیرا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری طرف رخ کیا اور فرمایا: اگر نماز میں کوئی نیا حکم نازل ہوتا تو میں تمہیں بتا دیتا، لیکن میں بھی انسان ہوں، تمہاری طرح بھول جاتا ہوں، اس لیے جب میں بھول جاؤں تو مجھے یاد دلا دیا کرو۔ اور جب تم میں سے کسی کو اپنی نماز کے بارے میں شک پڑ جائے تو وہ درستگی یا صحیح بات کی طرف پہنچنے کی کوشش کرے اور اس کے مطابق نماز پوری کر لے، پھر دو سجدے کر لے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1274]
ترقیم فوادعبدالباقی: 572
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 572 ترقیم شاملہ: -- 1275
حَدَّثَنَاه أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ بِشْرٍ . ح، قَالَ: وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ كِلَاهُمَا، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ، وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ بِشْرٍ: فَلْيَنْظُرْ أَحْرَى ذَلِكَ لِلصَّوَابِ، وَفِي رِوَايَةِ وَكِيعٍ: فَلْيَتَحَرَّ الصَّوَابَ.
ابن بشر اور وکیع دونوں نے مسعر سے اور انہوں نے منصور سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی۔ ابن بشر کی روایت میں ہے: وہ غور کرے کہ اس میں سے صحت کے قریب تر کیا ہے؟ اور وکیع کی روایت میں ہے: وہ صحیح (صورت کو یاد کرنے) کی جستجو کرے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1275]
امام صاحب دو اور اساتذہ سے روایت بیان کرتے ہیں، ابن بشر کی روایت میں ہے: وہ غور و فکر کرے کہ صحت کے قریب تر کیا ہے؟ اور وکیع کی روایت میں ہے: وہ صحت کا قصد کرے یعنی ظن غالب پر عمل کرے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1275]
ترقیم فوادعبدالباقی: 572
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 572 ترقیم شاملہ: -- 1276
وحَدَّثَنَاه عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ، وقَالَ: مَنْصُورٌ: فَلْيَنْظُرْ أَحْرَى ذَلِكَ لِلصَّوَابِ.
وہیب بن خالد نے کہا: ہمیں منصور نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی۔ منصور نے کہا: وہ غور کرے کہ اس میں صحت کے قریب تر کیا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1276]
امام صاحب ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں کہ «فَلْيَنْظُرْ أَحْرَىٰ ذٰلِكَ لِلصَّوَابِ» وہ غور و فکر کرے صحت و درستگی کے قریب تر صورت کونسی ہے؟ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1276]
ترقیم فوادعبدالباقی: 572
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 572 ترقیم شاملہ: -- 1277
حَدَّثَنَاه إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ الأُمَوِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ، وَقَالَ: فَلْيَتَحَرَّ الصَّوَابَ.
سفیان نے منصور سے مذکورہ سند کے ساتھ یہی حدیث بیان کی اور کہا: وہ صحیح کی جستجو کرے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1277]
امام صاحب ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں کہ «فَلْيَتَحَرَّ الصَّوَابَ» وہ صحیح کا قصد کرے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1277]
ترقیم فوادعبدالباقی: 572
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 572 ترقیم شاملہ: -- 1278
حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ، وَقَالَ: فَلْيَتَحَرَّ أَقْرَبَ ذَلِكَ إِلَى الصَّوَابِ.
شعبہ نے منصور سے اسی سند کے ساتھ یہی حدیث بیان کی اور کہا: اس میں جو صحیح کے قریب تر ہے اس کی جستجو کرے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1278]
امام صاحب رحمہ اللہ ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں کہ: «فَلْيَتَحَرَّ أَقْرَبَ ذٰلِكَ إِلَى الصَّوَابِ» ان میں سے جو صورت صحیح کے قریب تر ہو اس تک پہنچنے کا ارادہ کرے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1278]
ترقیم فوادعبدالباقی: 572
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 572 ترقیم شاملہ: -- 1279
حَدَّثَنَاه يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ، وَقَالَ: فَلْيَتَحَرَّ الَّذِي يَرَى أَنَّهُ الصَّوَابُ.
فضیل بن عیاض نے منصور سے اسی سند کے ساتھ خبر دی اور کہا: وہ اس کی جستجو کرے جسے وہ صحیح سمجھتا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1279]
امام صاحب ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں کہ: «فَلْيَتَحَرَّ الَّذِي يَرَىٰ أَنَّهُ الصَّوَابُ» وہ اس کا قصد کرے جس کے بارے میں یہ سمجھا جائے گا کہ وہ صحیح ہے یا درست ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1279]
ترقیم فوادعبدالباقی: 572
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 572 ترقیم شاملہ: -- 1280
حَدَّثَنَاه ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، بِإِسْنَادِ هَؤُلَاءِ، وَقَالَ: فَلْيَتَحَرَّ الصَّوَابَ.
عبدالعزیز بن عبدالصمد نے منصور سے ان سب راویوں کی سند کے ساتھ یہی حدیث بیان کی اور کہا: وہ صحیح کی جستجو کرے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1280]
امام صاحب ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں کہ «فَلْيَتَحَرَّ الصَّوَابَ» وہ صحیح کا قصد کرے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1280]
ترقیم فوادعبدالباقی: 572
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں