🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
48. باب جَوَازِ الْجَمَاعَةِ فِي النَّافِلَةِ وَالصَّلاَةِ عَلَى حَصِيرٍ وَخُمْرَةٍ وَثَوْبٍ وَغَيْرِهَا مِنَ الطَّاهِرَاتِ:
باب: نفل نماز جماعت کے ساتھ اور بورئیے وغیرہ پر نماز پڑھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 660 ترقیم شاملہ: -- 1501
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْنَا، وَمَا هُوَ إِلَّا أَنَا، وَأُمِّي، وَأُمُّ حَرَامٍ خَالَتِي، فَقَالَ: " قُومُوا فَلِأُصَلِّيَ بِكُمْ فِي غَيْرِ وَقْتِ صَلَاةٍ، فَصَلَّى بِنَا، فَقَالَ رَجُلٌ لِثَابِتٍ: أَيْنَ جَعَلَ أَنَسًا مِنْهُ؟ قَالَ: جَعَلَهُ عَلَى يَمِينِهِ، ثُمَّ دَعَا لَنَا أَهْلَ الْبَيْتِ بِكُلِّ خَيْرٍ مِنْ خَيْرِ الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ، فَقَالَتْ أُمِّي: يَا رَسُولَ اللَّهِ، خُوَيْدِمُكَ ادْعُ اللَّهَ لَهُ، قَالَ: فَدَعَا لِي بِكُلِّ خَيْرٍ، وَكَانَ فِي آخِرِ مَا دَعَا لِي بِهِ، أَنْ قَالَ: اللَّهُمَّ أَكْثِرْ مَالَهُ، وَوَلَدَهُ، وَبَارِكْ لَهُ فِيهِ ".
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے وہاں میرے، میری والدہ اور میری خالہ ام حرام کے سوا کوئی نہ تھا، آپ نے فرمایا: کھڑے ہو جاؤ میں تمہیں نماز پڑھا دوں۔ (فرض) نماز کے وقت کے بغیر، آپ نے ہمیں نماز پڑھائی۔ ایک آدمی نے ثابت سے پوچھا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انس رضی اللہ عنہ کو اپنی کس جانب کھڑا کیا تھا؟ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے دائیں ہاتھ کھڑا کیا تھا۔ پھر آپ نے ہمارے، سب گھر والوں کے لیے دنیا اور آخرت کی تمام بھلائیوں کی دعا فرمائی، اس کے بعد میری ماں کہنے لگی: اللہ کے رسول! (یہ) آپ کا چھوٹا سا خدمت گزار ہے، اللہ سے اس کے لیے (خصوصی) دعا کریں۔ کہا: آپ نے میرے لیے ہر بھلائی کی دعا کی اور میرے لیے آپ نے جو دعا کی اس کے آخر میں یہ تھا، آپ نے فرمایا: اے اللہ! اس کا مال اور اس کی اولاد زیادہ کر اور اس کے لیے ان میں برکت ڈال دے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1501]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور (گھر میں) صرف میں اور میری والدہ اور میری خالہ ام حرام موجود تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اٹھو، میں تمہیں نماز پڑھا دوں، حالانکہ یہ کسی (فرض) نماز کا وقت نہ تھا، ایک آدمی نے (انس کے شاگرد) ثابت سے پوچھا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انس کو کہاں کھڑا کیا تھا؟ تو انہوں نے جواب دیا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انس کو اپنے دائیں کھڑا کیا تھا، حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے لیے یعنی ہمارے گھرانے کے لیے دنیا اور آخرت کی ہر قسم کی بھلائی کی دعا فرمائی تو میری ماں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چھوٹا اور پیارا خادم (انس) اس کے حق میں دعا فرمائیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے ہر قسم کی خیر کی دعا فرمائی اور میرے لیے دعا کرتے ہوئے آخر میں دعا کی: «اللَّهُمَّ أَكْثِرْ مَالَهُ وَوَلَدَهُ، وَبَارِكْ لَهُ فِيهِ» اے اللہ! اس کو مال اور اولاد کثرت سے عنایت فرما اور اس میں اس کے لیے برکت ودیعت فرما۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1501]
ترقیم فوادعبدالباقی: 660
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 660 ترقیم شاملہ: -- 1502
وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُخْتَارِ ، سَمِعَ مُوسَى بْنَ أَنَسٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " صَلَّى بِهِ، وَبِأُمِّهِ، أَوْ خَالَتِهِ، قَالَ: فَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ، وَأَقَامَ الْمَرْأَةَ خَلْفَنَا ".
معاذ عنبری نے کہا: ہمیں شعبہ نے عبداللہ بن مختار سے حدیث سنائی، انہوں نے موسیٰ بن انس سے سنا، وہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اور ان کی والدہ یا ان کی خالہ کو نماز پڑھائی، کہا: آپ نے مجھے اپنی دائیں جانب اور عورت کو ہمارے پیچھے کھڑا کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1502]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے، اس کی والدہ اور اس کی خالہ کو نماز پڑھائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے دائیں طرف کھڑا کیا اور عورتوں کو ہمارے پیچھے کھڑا کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1502]
ترقیم فوادعبدالباقی: 660
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 660 ترقیم شاملہ: -- 1503
وحَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ . ح وَحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ.
محمد بن جعفر اور عبدالرحمان بن مہدی نے شعبہ سے اسی سند کے ساتھ یہی حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1503]
امام مسلم رحمہ اللہ نے مذکورہ بالا روایت دوسرے اساتذہ کے واسطے سے بھی بیان کی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1503]
ترقیم فوادعبدالباقی: 660
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 513 ترقیم شاملہ: -- 1504
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ ، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ . ح، وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ كِلَاهُمَا، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي مَيْمُونَةُ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُصَلِّي وَأَنَا حِذَاءَهُ، وَرُبَّمَا أَصَابَنِي ثَوْبُهُ إِذَا سَجَدَ، وَكَانَ يُصَلِّي عَلَى خُمْرَةٍ ".
عبداللہ بن شداد سے روایت ہے، کہا: مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا نے حدیث بیان کی، فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے اور میں آپ کے سامنے ہوتی اور اکثر ایسا ہوتا کہ جب آپ سجدہ کرتے تو آپ کا کپڑا مجھے لگتا اور آپ (کھجور کے پتوں اور دھاگوں سے بنی ہوئی) ایک جائے نماز پر نماز پڑھتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1504]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ میمونہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے برابر کھڑے ہو کر نماز پڑھتے اور بعض اوقات سجدہ کرتے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کپڑا مجھے لگ جاتا تھا اور آپ بوریے (چھوٹی چٹائی) پر نماز پڑھتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1504]
ترقیم فوادعبدالباقی: 513
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 661 ترقیم شاملہ: -- 1505
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ . ح، وحَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ جَمِيعًا، عَنِ الأَعْمَشِ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لَهُ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ ، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " فَوَجَدَهُ يُصَلِّي عَلَى حَصِيرٍ يَسْجُدُ عَلَيْهِ ".
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہا: ہمیں حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے حدیث سنائی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں حاضر ہوئے تو دیکھا کہ آپ ایک چٹائی پر نماز پڑھ رہے ہیں، اسی پر سجدہ کر رہے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1505]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم چٹائی پر نماز پڑھ رہے ہیں اور اس پر سجدہ کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1505]
ترقیم فوادعبدالباقی: 661
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
49. باب فَضْلِ صَلاَةِ الْجَمَاعَةِ وَانْتِظَارِ الصَّلاَةِ:
باب: فرض نماز باجماعت ادا کرنے اور نماز کا انتظار کرنے اور مساجد میں بکثرت آنے جانے کی فضیلت۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 649 ترقیم شاملہ: -- 1506
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ جَمِيعًا ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ ، قَالَ أَبُو كُرَيْبٍ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " صَلَاةُ الرَّجُلِ فِي جَمَاعَةٍ، تَزِيدُ عَلَى صَلَاتِهِ فِي بَيْتِهِ، وَصَلَاتِهِ فِي سُوقِهِ، بِضْعًا وَعِشْرِينَ دَرَجَةً، وَذَلِكَ أَنَّ أَحَدَهُمْ إِذَا تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ أَتَى الْمَسْجِدَ، لَا يَنْهَزُهُ إِلَّا الصَّلَاةُ، لَا يُرِيدُ إِلَّا الصَّلَاةَ، فَلَمْ يَخْطُ خَطْوَةً، إِلَّا رُفِعَ لَهُ بِهَا دَرَجَةٌ، وَحُطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةٌ، حَتَّى يَدْخُلَ الْمَسْجِدَ، فَإِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ، كَانَ فِي الصَّلَاةِ، مَا كَانَتِ الصَّلَاةُ هِيَ تَحْبِسُهُ، وَالْمَلَائِكَةُ يُصَلُّونَ عَلَى أَحَدِكُمْ، مَا دَامَ فِي مَجْلِسِهِ الَّذِي صَلَّى فِيهِ، يَقُولُونَ: اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ، اللَّهُمَّ تُبْ عَلَيْهِ، مَا لَمْ يُؤْذِ فِيهِ، مَا لَمْ يُحْدِثْ فِيهِ ".
ابومعاویہ نے اعمش سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابوصالح سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی کی باجماعت (ادا کی گئی) نماز اس کی گھر میں یا بازار میں پڑھی ہوئی نماز کی نسبت بیس سے زیادہ درجے بڑھ کر ہے اور وہ یوں کہ جب ان میں سے کوئی وضو کرتا ہے اور اچھی طرح وضو کرتا ہے، پھر مسجد آتا ہے، اسے نماز ہی نے اٹھایا ہے اور نماز کے علاوہ کچھ نہیں چاہتا۔ تو وہ کوئی قدم نہیں اٹھاتا مگر اس کے سبب سے اس کا درجہ بلند کر دیا جاتا ہے اور اس کا ایک گناہ مٹا دیا جاتا ہے، یہاں تک کہ مسجد میں داخل ہو جاتا ہے، پھر جب مسجد میں داخل ہو جاتا ہے تو جب تک نماز اسے روکے رکھتی ہے وہ نماز ہی میں ہوتا ہے (اس کے انتظار کا وقت نماز میں شمار ہوتا ہے) اور تم میں سے کوئی شخص جب تک اس جگہ رہتا ہے جہاں اس نے نماز پڑھی ہے تو فرشتے اس کے حق میں دعا کرتے رہتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں: اے اللہ اس پر رحم فرما! اے اللہ! اس کی توبہ قبول فرما! جب تک وہ اس جگہ (پر کسی کو) تکلیف نہیں پہنچاتا اور جب تک وہ اس جگہ بے وضو نہیں ہوتا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1506]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی کا جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا اس کے اکیلے گھر میں یا اکیلے بازار میں نماز پڑھنے سے بیس سے زائد درجہ ثواب کا باعث ہے، کیونکہ جب کوئی نمازی وضو کرتا ہے اور اچھی طرح وضو کرتا ہے، پھر وہ مسجد میں آتا ہے اور صرف نماز ہی کی خاطر اٹھتا ہے، صرف نماز ہی کا ارادہ کرتا ہے، تو وہ جو قدم بھی اٹھاتا ہے، اس کے بدلے میں اس کا ایک درجہ بلند ہوتا ہے اور ایک گناہ اس کے سبب مٹا دیا جاتا ہے، حتیٰ کہ وہ مسجد میں داخل ہو جاتا ہے، پھر جب وہ مسجد میں داخل ہو جاتا ہے تو جب تک نماز اس کو روکے رکھتی ہے (نماز کا انتظار کرتا ہے) وہ نماز میں سمجھا جاتا ہے، اور تم میں سے کوئی ایک جب تک اپنی نماز پڑھنے والی جگہ میں رہتا ہے فرشتے اس کے حق میں یہ دعا کرتے رہتے ہیں، وہ کہتے ہیں: «اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ، اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَيْهِ، اللَّهُمَّ تُبْ عَلَيْهِ» اے اللہ! اس پر رحم فرما، اے اللہ! اس کو بخش دے، اے اللہ! اس پر نظر رحمت فرما، اس کی توبہ قبول فرما، جب تک وہ تکلیف نہیں پہنچاتا، جب تک کوئی نیا کام نہیں کرتا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1506]
ترقیم فوادعبدالباقی: 649
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 649 ترقیم شاملہ: -- 1507
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الأَشْعَثِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْثَرٌ . ح، وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارِ بْنِ الرَّيَّانِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ زَكَرِيَّاءَ . ح، وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ كُلُّهُمْ، عَنِ الأَعْمَشِ ، فِي هَذَا الإِسْنَادِ بِمِثْلِ مَعْنَاهُ.
عبثر، اسماعیل بن زکریا اور شعبہ، سب نے اعمش کی اسی سند کے ساتھ اس کے ہم معنی روایت بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1507]
امام صاحب نے اپنے دوسرے اساتذہ سے بھی اعمش کی سند ہی سے اس کے ہم معنی روایت نقل کی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1507]
ترقیم فوادعبدالباقی: 649
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 649 ترقیم شاملہ: -- 1508
وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الْمَلَائِكَةَ تُصَلِّي عَلَى أَحَدِكُمْ مَا دَامَ فِي مَجْلِسِهِ، تَقُولُ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ، اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ، مَا لَمْ يُحْدِثْ وَأَحَدُكُمْ فِي صَلَاةٍ، مَا كَانَتِ الصَّلَاةُ تَحْبِسُهُ ".
ابن سیرین نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص جب تک اپنی (نماز پڑھنے کی) جگہ پر بیٹھا رہتا ہے، فرشتے اس کے حق میں دعا کرتے رہتے ہیں، کہتے ہیں: اے اللہ! اسے بخش دے! اے اللہ اس پر رحم فرما! جب تک وہ بے وضو نہیں ہوتا، نیز جب تک تم میں سے کسی شخص کو نماز روکے رکھتی ہے، وہ نماز ہی میں ہوتا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1508]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی ایک جب تک نماز پڑھنے کی جگہ بیٹھا رہتا ہے، فرشتے اس کے حق میں یوں دعا کرتے ہیں: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ، اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ» اے اللہ! اس کو بخش دے، اے اللہ! اس پر رحم فرما، جب تک وہ بے وضو نہیں ہوتا اور جب تم میں سے کوئی شخص نماز کی خاطر رکا ہوا ہے وہ نماز ہی میں ہوتا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1508]
ترقیم فوادعبدالباقی: 649
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 649 ترقیم شاملہ: -- 1509
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يَزَالُ الْعَبْدُ فِي صَلَاةٍ، مَا كَانَ فِي مُصَلَّاهُ يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ، وَتَقُولُ الْمَلَائِكَةُ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ، اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ، حَتَّى يَنْصَرِفَ أَوْ يُحْدِثَ "، قُلْتُ: مَا يُحْدِثُ؟ قَالَ: يَفْسُو أَوْ يَضْرِطُ.
ابورافع نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بندہ مسلسل نماز ہی میں ہوتا ہے جب تک وہ نماز کی جگہ پر نماز کے انتظار میں رہتا ہے اور فرشتے کہتے رہتے ہیں: اے اللہ! اسے معاف فرما! اے اللہ! اس پر رحم فرما! یہاں تک کہ وہ چلا جاتا ہے یا بے وضو ہو جاتا ہے۔ (ابورافع کہتے ہیں:) میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا: یحدث کا مطلب کیا ہے؟ انہوں نے کہا: آواز کے بغیر یا آواز کے ساتھ ہوا خارج کر دے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1509]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بندہ نماز ہی میں ہوتا ہے جب تک وہ نماز کے انتظار میں نماز گاہ میں رہتا ہے اور فرشتے دعا کرتے ہیں: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ، اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ» اے اللہ! اسے معاف فرما، اے اللہ! اس پر رحمت فرما، حتیٰ کہ وہ چلا جائے یا وضو توڑ دے۔ ابو رافع رحمہ اللہ کہتے ہیں، میں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا: «يُحْدِثُ» کا مطلب کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا: آہستہ یا بلند آواز سے ہوا خارج کردے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1509]
ترقیم فوادعبدالباقی: 649
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 649 ترقیم شاملہ: -- 1510
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يَزَالُ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاةٍ، مَا دَامَتِ الصَّلَاةُ تَحْبِسُهُ، لَا يَمْنَعُهُ أَنْ يَنْقَلِبَ إِلَى أَهْلِهِ، إِلَّا الصَّلَاةُ ".
ابوزناد نے اعرج سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تک تم میں سے کسی کو نماز روکے رکھتی ہے وہ مسلسل نماز میں ہوتا ہے، اسے گھر کی طرف لوٹنے سے نماز کے علاوہ اور کسی چیز نے نہیں روکا ہوتا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1510]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے ہر ایک نماز ہی میں ہوتا ہے جب تک کہ نماز اسے روکے رکھتی ہے، اور اسے اپنے گھر کی طرف پلٹنے سے نماز ہی نے روک رکھا ہوتا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1510]
ترقیم فوادعبدالباقی: 649
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں