🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
16. باب كَرَاهَةِ الصَّلاَةِ بِحَضْرَةِ الطَّعَامِ الَّذِي يُرِيدُ أَكْلَهُ فِي الْحَالِ وَكَرَاهَةِ الصَّلاَةِ مَعَ مُدَافَعَةِ الأَخْبَثَيْنِ.
باب: جب کھانا سامنے آ جائے اور اس کے کھانے کا قصد ہو تو بغیر کھائے نماز پڑھنا مکروہ ہے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 557 ترقیم شاملہ: -- 1241
أَخْبَرَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا حَضَرَ الْعَشَاءُ، وَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ، فَابْدَءُوا بِالْعَشَاءِ ".
سفیان بن عیینہ نے زہری سے، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، آپ نے فرمایا: جب رات کا کھانا آ جائے اور نماز کے لیے تکبیر (بھی) کہہ دی جائے تو پہلے کھانا کھا لو۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1241]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب شام کا کھانا سامنے آ جائے اور نماز کے لیے تکبیر ہو جائے تو پہلے کھانا کھا لو۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1241]
ترقیم فوادعبدالباقی: 557
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 557 ترقیم شاملہ: -- 1242
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا قُرِّبَ الْعَشَاءُ، وَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ، فَابْدَءُوا بِهِ قَبْلَ أَنْ تُصَلُّوا صَلَاةَ الْمَغْرِبِ، وَلَا تَعْجَلُوا عَنْ عَشَائِكُمْ ".
عمرو (بن حارث) نے ابن شہاب (زہری) سے خبر دی، انہوں نے کہا: مجھے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب رات کا کھانا پیش کر دیا جائے اور نماز کا (بھی) وقت ہو جائے تو مغرب کی نماز پڑھنے سے پہلے کھانے کی ابتدا کرو اور (نماز کے لیے) اپنا رات کا کھانا چھوڑنے میں عجلت نہ کرو۔ (اس زمانے میں رات کا کھانا مغرب کے قریب ہی کھایا جاتا تھا۔) [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1242]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب شام کا کھانا پیش کر دیا جائے اور نماز کا وقت ہو جائے تو مغرب کی نماز پڑھنے سے پہلے کھانا کھانا شروع کرو اور کھانا چھوڑ کر نماز کے لیے جلدی نہ کرو۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1242]
ترقیم فوادعبدالباقی: 557
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 558 ترقیم شاملہ: -- 1243
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَفْصٌ ، وَكِيعٌ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ.
ابن نمیر، حفص اور وکیع نے ہشام سے، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے واسطے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی جس طرح ابن عیینہ نے زہری سے اور انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1243]
امام صاحب رحمہ اللہ اپنے ایک اور استاد سے مذکورہ بالا روایت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1243]
ترقیم فوادعبدالباقی: 558
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 559 ترقیم شاملہ: -- 1244
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح، قَالَ: وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا وُضِعَ عَشَاءُ أَحَدِكُمْ، وَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ، فَابْدَءُوا بِالْعَشَاءِ، وَلَا يَعْجَلَنَّ حَتَّى يَفْرُغَ مِنْهُ ".
عبداللہ نے نافع سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کا رات کا کھانا لگا دیا جائے اور نماز کے لیے اقامت ہو جائے تو کھانے سے ابتدا کرو اور وہ (شخص) نماز کے لیے ہرگز جلدی نہ کرے یہاں تک کہ اس کھانے سے فارغ ہو جائے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1244]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کا کھانا لگا دیا جائے اور نماز کے لیے اقامت ہو جائے تو کھانے سے ابتدا کرو اور فراغت سے پہلے نماز کے لیے جلدی نہ کرو۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1244]
ترقیم فوادعبدالباقی: 559
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 559 ترقیم شاملہ: -- 1245
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق الْمُسَيَّبِيُّ ، حَدَّثَنِي أَنَسٌ يَعْنِي ابْنَ عِيَاضٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ . ح، وحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ . ح، قَالَ: وحَدَّثَنَا الصَّلْتُ بْنُ مَسْعُودٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ مُوسَى، عَنْ أَيُّوبَ كُلُّهُمْ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِنَحْوِهِ.
موسیٰ بن عقبہ، ابن جریج اور ایوب سب نے نافع سے، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مذکورہ بالا روایت کی طرح روایت بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1245]
امام صاحب اپنے مختلف اساتذہ سے مذکورہ بالا روایت کے ہم معنی روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1245]
ترقیم فوادعبدالباقی: 559
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 560 ترقیم شاملہ: -- 1246
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ هُوَ ابْنُ إِسْمَاعِيل ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ مُجَاهِدٍ ، عَنْ ابْنِ أَبِي عَتِيقٍ ، قَالَ: تَحَدَّثْتُ أَنَا وَالْقَاسِمُ عِنْدَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا حَدِيثًا، وَكَانَ الْقَاسِمُ رَجُلًا لَحَّانَةً، وَكَانَ لِأُمِّ وَلَدٍ، فَقَالَتْ لَهُ عَائِشَةُ: مَا لَكَ، لَا تَحَدَّثُ كَمَا يَتَحَدَّثُ ابْنُ أَخِي هَذَا؟ أَمَا إِنِّي قَدْ عَلِمْتُ، مِنْ أَيْنَ أُتِيتَ هَذَا، أَدَّبَتْهُ أُمُّهُ، وَأَنْتَ، أَدَّبَتْكَ أُمُّكَ؟ قالَ: فَغَضِبَ القَاسِمُ وأَضَبَّ عَلَيْهَا، فَلَمَّا رَأَى مَائِدَةَ عَائِشَةَ، قَدْ أُتِيَ بِهَا، قَامَ قَالَتْ: أَيْنَ؟ قَالَ: أُصَلِّي، قَالَتْ: اجْلِسْ؟ قَالَ: إِنِّي أُصَلِّي، قَالَتْ: اجْلِسْ غُدَرُ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" لَا صَلَاةَ بِحَضْرَةِ الطَّعَامِ، وَلَا هُوَ يُدَافِعُهُ الأَخْبَثَانِ"،
حاتم بن اسماعیل نے (ابوحزرہ) یعقوب بن مجاہد سے، انہوں نے ابن ابی عتیق (عبداللہ بن محمد بن عبدالرحمن بن ابی بکر صدیق) سے روایت کی، کہا: میں نے اور قاسم (بن محمد بن ابی بکر صدیق) نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس (بیٹھے ہوئے) گفتگو کی۔ قاسم زبان کی شدید غلطیاں کرنے والے انسان تھے، وہ ایک کنیز کے بیٹے تھے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس سے کہا: کیا بات ہے تم میرے اس بھتیجے کی طرح کیوں گفتگو نہیں کرتے؟ ہاں، میں جانتی ہوں (تم میں) یہ بات کہاں سے آئی ہے، اس کو اس کی ماں نے ادب (گفتگو کا طریقہ) سکھایا اور تمہیں تمہاری ماں نے سکھایا۔ اس پر قاسم ناراض ہو گئے اور ان کے خلاف دل میں غصہ کیا، پھر جب انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا دسترخوان آتے دیکھا تو اٹھ کھڑے ہوئے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا: کہاں جاتے ہو؟ انہوں نے کہا: میں نماز پڑھنے لگا ہوں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: بیٹھ جاؤ۔ انہوں نے کہا: میں نے نماز پڑھنی ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: بیٹھ جاؤ، دھوکے باز! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: کھانا سامنے آ جائے تو نماز نہیں۔ اور نہ وہ (شخص نماز پڑھے) جس پر پیشاب، پاخانہ کی ضرورت غالب آ رہی ہو۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1246]
حضرت ابن ابی عتیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے اور قاسم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک گفتگو کی اور قاسم گفتگو میں اعرابی غلطی بہت کرتے تھے کیونکہ وہ لونڈی کے بیٹے تھے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا: کیا بات ہے تم میرے اس بھتیجے کی طرح گفتگو نہیں کرتے ہو؟ ہاں، میں جانتی ہوں تم میں یہ بات کہاں سے آئی ہے، اس کو اس کی ماں نے ادب سکھایا (تعلیم دی) اور تجھے تیری ماں نے ادب سکھایا۔ اس پر قاسم ناراض ہو گئے اور حسد و کینہ کا اظہار کیا اور جب انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا دسترخوان آتے دیکھا تو اٹھ کھڑے ہوئے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: کہاں جاتے ہو؟ انہوں نے کہا: نماز پڑھنے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: بیٹھ جاؤ۔ انہوں نے کہا: نماز پڑھتا ہوں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اے بے وفا! بیٹھ جا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: کھانا سامنے آ جائے تو نماز نہ پڑھو، اسی طرح پیشاب، پاخانہ روک کر نماز نہ پڑھو۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1246]
ترقیم فوادعبدالباقی: 560
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 560 ترقیم شاملہ: -- 1247
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو حَزْرَةَ الْقَاصُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عَتِيقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِي الْحَدِيثِ: قِصَّةَ الْقَاسِمِ.
اسماعیل بن جعفر نے کہا: مجھے ابوحزرہ القاص (یعقوب بن مجاہد) نے عبداللہ بن ابی عتیق سے خبر دی، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی اور حدیث میں قاسم کا واقعہ بیان نہ کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1247]
امام صاحب نے اپنے مختلف اساتذہ سے مذکورہ بالا روایت کی اور اس حدیث میں قاسم کا واقعہ نہیں بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1247]
ترقیم فوادعبدالباقی: 560
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
17. باب نَهْيِ مَنْ أَكَلَ ثُومًا أَوْ بَصَلاً أَوْ كُرَّاثًا أَوْ نَحْوَهَا عَنْ حُضُورِ الْمَسْجِدِ:
باب: لہسن، پیاز، گندنا یا کوئی بدبودار چیز کھا کر مسجد میں جانا اس وقت تک ممنوع ہے جب تک اس کی بو منہ سے نہ جائے اور اس کو مسجد سے نکالنا۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 561 ترقیم شاملہ: -- 1248
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ الْقَطَّانُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ فِي غَزْوَةِ خَيْبَرَ: " مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ، يَعْنِي الثُّومَ، فَلَا يَأْتِيَنَّ الْمَسَاجِدَ "، قَالَ زُهَيْرٌ فِي غَزْوَةٍ: وَلَمْ يَذْكُرْ خَيْبَرَ.
محمد بن مثنیٰ اور زہیر بن حرب دونوں نے کہا: یحییٰ قطان نے ہمیں عبیداللہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: مجھے نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر کے موقع پر فرمایا: جس نے اس پودے، آپ کی مراد لہسن تھا۔ میں سے کچھ کھایا ہو وہ مسجدوں میں ہرگز نہ آئے۔ زہیر نے صرف غزوہ کہا، خیبر کا نام نہیں لیا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1248]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر کے موقع پر فرمایا: جس نے یہ پودا یعنی لہسن کھایا وہ مسجد میں ہرگز نہ آئے، زہیر نے صرف غزوہ خیبر کا نام نہیں لیا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1248]
ترقیم فوادعبدالباقی: 561
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 561 ترقیم شاملہ: -- 1249
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ . ح، قَالَ: وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الْبَقْلَةِ، فَلَا يَقْرَبَنَّ مَسَاجِدَنَا، حَتَّى يَذْهَبَ رِيحُهَا، يَعْنِي الثُّومَ ".
عبداللہ بن نمیر نے کہا: ہم سے عبیداللہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے نافع سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اس ترکاری میں سے کچھ کھایا ہو وہ ہماری مسجدوں کے قریب نہ آئے یہاں تک کہ اس کی بو چلی جائے۔ آپ کی مراد لہسن سے تھی۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1249]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے یہ ترکاری یعنی لہسن کھایا وہ اس وقت تک ہماری مسجدوں کے ہرگز قریب نہ آئے کہ جب تک اس کی بدبو نہ چلی جائے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1249]
ترقیم فوادعبدالباقی: 561
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 562 ترقیم شاملہ: -- 1250
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَهُوَ ابْنُ صُهَيْبٍ ، قَالَ: سُئِلَ أَنَسٌ عَنِ الثُّومِ، فقالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ، فَلَا يَقْرَبَنَّا، وَلَا يُصَلِّي مَعَنَا ".
عبدالعزیز، جو صہیب کے بیٹے ہیں، سے روایت ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے لہسن کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اس پودے میں سے کچھ کھایا ہو وہ ہرگز ہمارے قریب نہ آئے اور نہ ہمارے ساتھ نماز پڑھے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1250]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے لہسن کے بارے میں دریافت کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس نے اس سبزی سے کھایا وہ ہرگز ہمارے قریب نہ آئے اور ہمارے ساتھ نماز نہ پڑھے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1250]
ترقیم فوادعبدالباقی: 562
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں