🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
17. باب نَهْيِ مَنْ أَكَلَ ثُومًا أَوْ بَصَلاً أَوْ كُرَّاثًا أَوْ نَحْوَهَا عَنْ حُضُورِ الْمَسْجِدِ:
باب: لہسن، پیاز، گندنا یا کوئی بدبودار چیز کھا کر مسجد میں جانا اس وقت تک ممنوع ہے جب تک اس کی بو منہ سے نہ جائے اور اس کو مسجد سے نکالنا۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 562 ترقیم شاملہ: -- 1251
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، عَبْدُ بْنُ حميد ، قَالَ عَبْدُ: أَخْبَرَنَا، وَقَالَ ابْنُ رَافِعٍ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ، فَلَا يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا، وَلَا يُؤْذِيَنَّا بِرِيحِ الثُّومِ ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اس پودے میں سے کچھ کھایا ہو وہ ہرگز ہماری مسجد کے قریب نہ آئے اور نہ ہمیں لہسن کی بو سے تکلیف دے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1251]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اس سبزی سے کھایا وہ ہرگز ہماری مسجد کے قریب نہ آئے اور ہمیں لہسن کی بو سے تکلیف نہ دے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1251]
ترقیم فوادعبدالباقی: 562
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 563 ترقیم شاملہ: -- 1252
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتَوَائِيِّ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ أَكْلِ الْبَصَلِ، وَالْكُرَّاثِ، فَغَلَبَتْنَا الْحَاجَةُ فَأَكَلْنَا مِنْهَا، فَقَالَ: مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ الْمُنْتِنَةِ، فَلَا يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا، فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَأَذَّى مِمَّا يَتَأَذَّى مِنْهُ الإِنْسُ ".
ابوزبیر نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیاز اور گندنا کھانے سے منع فرمایا۔ سو (ایک مرتبہ) ہم ضرورت سے مجبور ہو گئے اور انہیں کھا لیا تو آپ نے فرمایا: جس نے اس بدبودار سبزی میں سے کچھ کھایا ہو وہ ہرگز ہماری مسجد کے قریب نہ آئے، فرشتے بھی یقیناً اس چیز سے تکلیف محسوس کرتے ہیں جس سے انسان تکلیف محسوس کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1252]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیاز اور گندنا کھانے سے منع فرمایا، تو ہم نے ضرورت سے مجبور ہو کر اسے کھا لیا، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اس بدبودار سبزی کو استعمال کیا وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آئے، کیونکہ فرشتوں کو بھی اس چیز سے تکلیف ہوتی ہے جس سے انسانوں کو تکلیف ہوتی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1252]
ترقیم فوادعبدالباقی: 563
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 564 ترقیم شاملہ: -- 1253
وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وحَرْمَلَةُ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: وَفِي رِوَايَةِ حَرْمَلَةَ، وَزَعَمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ أَكَلَ ثُومًا، أَوْ بَصَلًا، فَلْيَعْتَزِلْنَا أَوْ لِيَعْتَزِلْ مَسْجِدَنَا، وَلْيَقْعُدْ فِي بَيْتِهِ، وَإِنَّهُ أُتِيَ بِقِدْرٍ فِيهِ خَضِرَاتٌ مِنْ بُقُولٍ، فَوَجَدَ لَهَا رِيحًا "، فَسَأَلَ، فَأُخْبِرَ بِمَا فِيهَا مِنَ الْبُقُولِ، فَقَالَ: قَرِّبُوهَا إِلَى بَعْضِ أَصْحَابِهِ، فَلَمَّا رَآهُ كَرِهَ أَكْلَهَا، قَالَ: كُلْ، فَإِنِّي أُنَاجِي مَنْ لَا تُنَاجِي.
ابوطاہر اور حرملہ نے کہا: ہمیں ابن وہب نے خبر دی، کہا: مجھے یونس نے ابن شہاب سے خبر دی، انہوں نے کہا: مجھے عطاء بن ابی رباح نے حدیث بیان کی کہ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہا۔ حرملہ کی روایت میں ہے، ان (جابر رضی اللہ عنہما) کو یقین تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے لہسن یا پیاز کھایا وہ ہم سے دور رہے یا ہماری مسجدوں سے دور رہے اور اپنے گھر بیٹھے۔ اور ایسا ہوا کہ (ایک دفعہ) آپ کے پاس ایک ہانڈی لائی گئی جس میں کچھ سبز ترکاریاں تھیں، آپ نے ان سے کچھ بو محسوس کی تو ان کے متعلق پوچھا۔ آپ کو ان ترکاریوں کے بارے میں بتایا گیا جو اس میں (ڈالی گئی) تھیں تو آپ نے اسے اپنے ساتھیوں میں سے ایک کے پاس لے جانے کو کہا۔ جب اس نے بھی اسے دیکھ کر (آپ کی ناپسندیدگی کی بنا پر) اس کو ناپسند کیا تو آپ نے فرمایا: تم کھا لو کیونکہ میں ان سے سرگوشی کرتا ہوں جن سے تم سرگوشی نہیں کرتے ہو۔ (اس سے فرشتے مراد ہیں۔ صحیح ابن خزیمہ اور صحیح ابن حبان کی روایت میں اس بات کی صراحت موجود ہے۔) [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1253]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے لہسن یا پیاز کھایا وہ ہم سے علیحدہ رہے یا ہماری مسجدوں سے الگ رہے اور اپنے گھر میں بیٹھے۔ اور ایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہانڈی لائی گئی جس میں ترکاریاں تھیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی بدبو محسوس کی اور پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ترکاریوں کے بارے میں بتایا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو فلاں ساتھی کے قریب کر دو۔ تو اس نے اسے دیکھ کر (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کراہت کی بنا پر) اسے ناپسند کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم کھا لو کیونکہ میں اس سے سرگوشی کرتا ہوں جس سے تم سرگوشی نہیں کرتے ہو۔ یعنی میں فرشتوں سے سرگوشی کرتا ہوں۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1253]
ترقیم فوادعبدالباقی: 564
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 564 ترقیم شاملہ: -- 1254
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الْبَقْلَةِ، الثُّومِ، وَقَالَ مَرَّةً: " مَنْ أَكَلَ الْبَصَلَ، وَالثُّومَ، وَالْكُرَّاثَ، فَلَا يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا، فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَتَأَذَّى مِمَّا يَتَأَذَّى مِنْهُ بَنُو آدَمَ ".
یحییٰ بن سعید نے ابن جریج سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: مجھے عطاء نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے یہ ترکاری لہسن کھائی۔ اور ایک دفعہ فرمایا: جس نے پیاز، لہسن اور گندنا کھایا تو وہ ہرگز ہماری مسجد کے قریب نہ آئے کیونکہ فرشتے (بھی) ان چیزوں سے اذیت محسوس کرتے ہیں جن سے آدم کے بیٹے اذیت محسوس کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1254]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے یہ ترکاری، لہسن کھایا۔ اور ایک دفعہ فرمایا: جس نے پیاز، لہسن یا گندنا کھایا وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آئے کیونکہ فرشتے ان چیزوں سے اذیت محسوس کرتے ہیں، جن سے انسانوں کو اذیت پہنچتی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1254]
ترقیم فوادعبدالباقی: 564
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 564 ترقیم شاملہ: -- 1255
وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ . ح، قَالَ: وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَا: جَمِيعًا أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ، مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ، يُرِيدُ الثُّومَ، فَلَا يَغْشَنَا فِي مَسْجِدِنَا، وَلَمْ يَذْكُرْ: الْبَصَلَ وَالْكُرَّاثَ.
محمد بن بکر اور عبدالرزاق نے (دو مختلف سندوں سے روایت کرتے ہوئے) کہا: ہمیں ابن جریج نے اسی (سابقہ) سند کے ساتھ خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اس پودے (آپ کی مراد لہسن سے تھی) میں سے کچھ کھایا ہو وہ ہماری مسجد میں ہمارے پاس نہ آئے۔ اور انہوں (ابن جریج) نے پیاز اور گندنے کا ذکر نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1255]
امام صاحب اپنے دو اور اساتذہ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اس پودے (لہسن مراد ہے) سے کھایا وہ ہماری مسجد میں ہمارے پاس نہ آئے۔ پیاز اور گندنا کا تذکرہ نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1255]
ترقیم فوادعبدالباقی: 564
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 565 ترقیم شاملہ: -- 1256
وَحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ: لَمْ نَعْدُ أَنْ فُتِحَتْ خَيْبَرُ، فَوَقَعْنَا أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي تِلْكَ الْبَقْلَةِ: الثُّومِ، وَالنَّاسُ جِيَاعٌ، فَأَكَلْنَا مِنْهَا أَكْلًا شَدِيدًا، ثُمَّ رُحْنَا إِلَى الْمَسْجِدِ، فَوَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرِّيحَ، فَقَالَ: " مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ الْخَبِيثَةِ شَيْئًا، فَلَا يَقْرَبَنَّا فِي الْمَسْجِدِ "، فَقَالَ النَّاسُ: حُرِّمَتْ، حُرِّمَتْ، فَبَلَغَ ذَاكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّهُ لَيْسَ بِي تَحْرِيمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لِي، وَلَكِنَّهَا شَجَرَةٌ أَكْرَهُ رِيحَهَا ".
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم خیبر کی فتح سے فارغ نہیں ہوئے تھے کہ ہم، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی، اس ترکاری (لہسن) پر جا پڑے، لوگ بھوکے تھے اور ہم نے اسے خوب اچھی طرح کھایا، پھر ہم مسجد کی طرف گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بو محسوس کی۔ آپ نے فرمایا: جس نے اس بدبودار پودے میں سے کچھ کھایا ہے وہ مسجد میں ہمارے قریب نہ آئے۔ اس پر لوگ کہنے لگے: (لہسن) حرام ہو گیا، حرام ہو گیا۔ یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو آپ نے فرمایا: اے لوگو! ایسی چیز کو حرام کرنا میرے ہاتھ میں نہیں جسے اللہ نے میرے لیے حلال کر دیا ہے لیکن یہ ایسا پودا ہے جس کی بو مجھے ناپسند ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1256]
حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم خیبر کی فتح سے آگے نہیں بڑھے تھے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی لہسن کی ترکاری پر ٹوٹ پڑے کیونکہ لوگ بھوکے تھے اور ہم نے اسے خوب پیٹ بھر کر کھایا، پھر ہم مسجد کی طرف گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدبو محسوس فرمائی تو فرمایا: جس نے اس ناپسندیدہ (خبیث) پودے سے کچھ کھایا وہ ہماری مسجد میں ہمارے قریب نہ آئے۔ تو لوگوں نے کہا: لہسن حرام قرار دیا گیا، حرام ہو گیا، یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے لوگو! اللہ نے جو کچھ میرے لیے حلال کر دیا ہے میں اس کو حرام نہیں کر سکتا، لیکن یہ ایک پودا ہے میں اس کی بو کو ناپسند کرتا ہوں۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1256]
ترقیم فوادعبدالباقی: 565
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 566 ترقیم شاملہ: -- 1257
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ ، وأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الأَشَجِّ ، عَنِ ابْنِ خَبَّابٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " مَرَّ عَلَى زَرَّاعَةِ بَصَلٍ، هُوَ وَأَصْحَابُهُ، فَنَزَلَ نَاسٌ مِنْهُمْ، فَأَكَلُوا مِنْهُ وَلَمْ يَأْكُلْ آخَرُونَ، فَرُحْنَا إِلَيْهِ، فَدَعَا الَّذِينَ لَمْ يَأْكُلُوا الْبَصَلَ، وَأَخَّرَ الآخَرِينَ، حَتَّى ذَهَبَ رِيحُهَا ".
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ (ایک دفعہ) پیاز کے ایک کھیت کے پاس سے گزرے۔ ان میں سے کچھ لوگ اترے اور اس میں سے کچھ کھا لیا، اور دوسروں نے نہ کھایا۔ ہم آپ کے پاس گئے تو آپ نے ان لوگوں کو (قریب) بلا لیا جنہوں نے پیاز نہیں کھائی تھی اور دوسروں (جنہوں نے پیاز کھایا تھا) کو پیچھے کر دیا یہاں تک کہ اس کی بو ختم ہو گئی۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1257]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ پیاز کے کھیت سے گزرے، ان میں کچھ لوگوں نے اتر کر اس سے کچھ کھا لیا اور دوسروں نے نہ کھایا، ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو قریب بلا لیا جنہوں نے پیاز نہیں کھایا تھا اور جنہوں نے پیاز کھایا تھا، ان کو پیچھے کر دیا یہاں تک کہ اس کی بو ختم ہو گئی۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1257]
ترقیم فوادعبدالباقی: 566
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 567 ترقیم شاملہ: -- 1258
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، خَطَبَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَذَكَرَ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَذَكَرَ أَبَا بَكْرٍ، قَالَ: إِنِّي رَأَيْتُ كَأَنَّ دِيكًا نَقَرَنِي ثَلَاثَ نَقَرَاتٍ، وَإِنِّي لَا أُرَاهُ إِلَّا حُضُورَ أَجَلِي، وَإِنَّ أَقْوَامًا يَأْمُرُونَنِي أَنْ أَسْتَخْلِفَ، وَإِنَّ اللَّهَ لَمْ يَكُنْ لِيُضَيِّعَ دِينَهُ، وَلَا خِلَافَتَهُ، وَلَا الَّذِي بَعَثَ بِهِ نَبِيَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنْ عَجِلَ بِي أَمْرٌ، فَالْخِلَافَةُ شُورَى بَيْنَ هَؤُلَاءِ السِّتَّةِ، الَّذِينَ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَنْهُمْ رَاضٍ، وَإِنِّي قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ أَقْوَامًا يَطْعَنُونَ فِي هَذَا الأَمْرِ، أَنَا ضَرَبْتُهُمْ بِيَدِي هَذِهِ عَلَى الإِسْلَامِ، فَإِنْ فَعَلُوا ذَلِكَ، فَأُولَئِكَ أَعْدَاءُ اللَّهِ الْكَفَرَةُ، الضُّلَّالُ، ثُمَّ إِنِّي لَا أَدَعُ بَعْدِي شَيْئًا أَهَمَّ عِنْدِي مِنَ الْكَلَالَةِ، مَا رَاجَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَيْءٍ مَا رَاجَعْتُهُ فِي الْكَلَالَةِ، وَمَا أَغْلَظَ لِي فِي شَيْءٍ مَا أَغْلَظَ لِي فِيهِ، حَتَّى طَعَنَ بِإِصْبَعِهِ فِي صَدْرِي، فَقَالَ: يَا عُمَرُ، أَلَا تَكْفِيكَ آيَةُ الصَّيْفِ الَّتِي فِي آخِرِ سُورَةِ النِّسَاءِ؟ وَإِنِّي إِنْ أَعِشْ، أَقْضِ فِيهَا بِقَضِيَّةٍ يَقْضِي بِهَا مَنْ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَمَنْ لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ، ثُمَّ قَالَ: اللَّهُمَّ إِنِّي أُشْهِدُكَ عَلَى أُمَرَاءِ الأَمْصَارِ، وَإِنِّي إِنَّمَا بَعَثْتُهُمْ عَلَيْهِمْ لِيَعْدِلُوا عَلَيْهِمْ، وَلِيُعَلِّمُوا النَّاسَ دِينَهُمْ، وَسُنَّةَ نَبِيِّهِمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَيَقْسِمُوا فِيهِمْ، فَيْئَهُمْ وَيَرْفَعُوا إِلَيَّ مَا أَشْكَلَ عَلَيْهِمْ مِنْ أَمْرِهِمْ، ثُمَّ إِنَّكُمْ أَيُّهَا النَّاسُ تَأْكُلُونَ شَجَرَتَيْنِ، لَا أَرَاهُمَا إِلَّا خَبِيثَتَيْنِ هَذَا، الْبَصَلَ، وَالثُّومَ، لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " إِذَا وَجَدَ رِيحَهُمَا مِنَ الرَّجُلِ فِي الْمَسْجِدِ، أَمَرَ بِهِ، فَأُخْرِجَ إِلَى الْبَقِيعِ، فَمَنْ أَكَلَهُمَا فَلْيُمِتْهُمَا طَبْخًا "،
ہشام نے کہا: ہم سے قتادہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے سالم بن ابی جعد سے اور انہوں نے حضرت معدان بن ابی طلحہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے جمعے کے دن خطبہ دیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کا تذکرہ کیا، کہا: میں نے خواب دیکھا ہے، جیسے ایک مرغ نے مجھے تین ٹھونگیں ماری ہیں اور اس کو میں اپنی موت قریب آنے کے سوا اور کچھ نہیں سمجھتا۔ اور کچھ قبائل مجھ سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ میں کسی کو اپنا جانشین بنا دوں۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ اپنے دین کو ضائع نہیں ہونے دے گا، نہ اپنی خلافت کو اور نہ اس شریعت کو جس کے ساتھ اس نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا۔ اگر مجھے جلد موت آ جائے تو خلافت ان چھ حضرات کے باہم مشورے سے طے ہو گی جن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی وفات کے وقت خوش تھے۔ اور میں جانتا ہوں کہ کچھ لوگ جن کو میں نے اسلام کی خاطر اپنے اس ہاتھ سے مارا ہے، وہ اس امر (خلافت) پر اعتراض کریں گے، اگر وہ ایسا کریں گے تو وہ اللہ کے دشمن، کافر اور گمراہ ہوں گے، پھر میں اپنے بعد جو (حل طلب) چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں ان میں سے میرے نزدیک کلالہ کی وراثت کے مسئلے سے بڑھ کر کوئی مسئلہ زیادہ اہم نہیں۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی مسئلے کے بارے میں اتنی دفعہ رجوع نہیں کیا جتنی دفعہ کلالہ کے بارے میں کیا اور آپ نے (بھی) میرے ساتھ کسی مسئلے میں اس قدر سختی نہیں برتی جتنی میرے ساتھ آپ نے اس مسئلے میں سختی کی حتیٰ کہ آپ نے انگلی میرے سینے میں چبھو کر فرمایا: اے عمر! کیا گرمی کے موسم میں اترنے والی آیت تمہارے لیے کافی نہیں جو سورة النساء کے آخر میں ہے؟ میں اگر زندہ رہا تو میں اس مسئلے (کلالہ) کے بارے میں ایسا فیصلہ کروں گا کہ (ہر انسان) جو قرآن پڑھتا ہے یا نہیں پڑھتا ہے اس کے مطابق فیصلہ کر سکے گا، پھر آپ نے فرمایا: اے اللہ! میں شہروں کے گورنروں کے بارے میں تجھے گواہ بناتا ہوں کہ میں نے لوگوں پر انہیں صرف اس لیے مقرر کر کے بھیجا کہ وہ ان سے انصاف کریں اور لوگوں کو ان کے دین اور ان کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی تعلیم دیں اور ان کے اموال فیے ان میں تقسیم کریں اور اگر لوگوں کے معاملات میں انہیں کوئی مشکل پیش آئے تو اسے میرے سامنے پیش کریں۔ پھر اے لوگو! تم دو پودے کھاتے ہو، میں انہیں (بو کے اعتبار سے) برے پودے ہی سمجھتا ہوں، یہ پیاز اور لہسن ہیں۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، جب مسجد میں آپ کو کسی آدمی سے ان کی بو آتی تو آپ اسے بقیع کی طرف نکال دینے کا حکم صادر فرماتے، لہٰذا جو شخص انہیں کھانا چاہتا ہے وہ انہیں پکا کر ان کی بو مار دے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1258]
حضرت معدان بن ابی طلحہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جمعہ کے دن خطبہ دیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا تذکرہ کیا اور کہا: میں نے خواب دیکھا ہے، گویا کہ ایک مرغ نے مجھے تین ٹھونگیں ماری ہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ میری موت قریب آ گئی ہے اور کچھ لوگ مجھے مشورہ دے رہے ہیں کہ میں خلیفہ نامزد کر دوں اور اللہ تعالیٰ اپنے دین کو ضائع نہیں ہونے دے گا، نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خلافت کو اور نہ اس شریعت کو جسے اپنے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دے کر بھیجا ہے، اگر مجھے جلد موت آ جائے تو خلافت ان چھ حضرات کے باہمی مشورے سے طے ہوگی، جن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم راضی ہو کر فوت ہوئے اور میں جانتا ہوں کچھ لوگ جن سے میں نے اسلام کی خاطر اپنے اس ہاتھ سے جنگ لڑی ہے، وہ اس خلافت پر اعتراض کریں گے، اگر وہ ایسا کریں گے تو وہ اللہ کے دشمن، کافر اور گمراہ ہوں گے، پھر میں اپنے بعد اپنے نزدیک کلالہ (کی وراثت) کا مسئلہ سب سے اہم چھوڑ رہا ہوں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی مسئلے کے بارے میں اس قدر نہیں پوچھا جس قدر کلالہ کے بارے میں پوچھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی میرے ساتھ کسی مسئلے میں اس قدر شدت نہیں برتی جتنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ساتھ اس مسئلے میں شدت اختیار فرمائی حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلی سے میرے سینے کو ٹھوک کر فرمایا: اے عمر! کیا گرمی کے موسم میں اترنے والی، سورہ نساء کی آخری آیت ﴿یَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللّٰهُ یُفْتِیْكُمْ فِی الْكَلٰلَةِ﴾ [سورة النساء: 176] تمہارے لیے تسلی بخش نہیں ہے؟ اور اگر میں زندہ رہا تو میں اس کے بارے میں ایسا فیصلہ کروں گا کہ اس کے مطابق ہر انسان جو قرآن پڑھتا ہے یا نہیں پڑھتا ہے فیصلہ کر سکے گا، پھر فرمایا: اے اللہ! میں تمہیں شہروں کے گورنروں کے بارے میں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے انہیں لوگوں پر صرف اس لیے مقرر کیا ہے کہ وہ ان سے انصاف کریں اور لوگوں کو ان کا دین سکھائیں اور ان کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی تعلیم دیں اور ان کی غنیمت ان میں تقسیم کریں اور ان کے معاملات میں اگر انہیں کوئی مشکل پیش آئے تو اسے میرے سامنے پیش کریں، پھر تم، اے لوگو! دو پودے کھاتے ہو، میں انہیں خبیث ہی سمجھتا ہوں یہ پیاز اور لہسن ہیں۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، جب تم میں سے کسی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں ان کی بو محسوس کرتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے بقیع کی طرف نکالنے کا حکم دیتے لہٰذا جو شخص انہیں کھانا چاہتا ہے وہ انہیں پکا کر ان کی بو ختم کر دے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1258]
ترقیم فوادعبدالباقی: 567
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 567 ترقیم شاملہ: -- 1259
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ . ح، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، كلاهما، عَنْ شَبَابَةَ بْنِ سَوَّارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ جَمِيعًا، عَنْ قَتَادَةَ ، فِي هَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
سعید بن ابی عروبہ اور شعبہ نے قتادہ سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1259]
امام صاحب رحمہ اللہ اپنے تین اساتذہ سے مذکورہ بالا حدیث بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1259]
ترقیم فوادعبدالباقی: 567
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
18. باب النَّهْيِ عَنْ نَشْدِ الضَّالَّةِ فِي الْمَسْجِدِ وَمَا يَقُولُهُ مَنْ سَمِعَ النَّاشِدَ:
باب: مسجد میں گمشدہ چیز ڈھونڈنے کی ممانعت اور ڈھونڈنے والے کو کیا کہنا چاہئیے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 568 ترقیم شاملہ: -- 1260
حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ حَيْوَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَى شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ سَمِعَ رَجُلًا يَنْشُدُ ضَالَّةً فِي الْمَسْجِدِ، فَلْيَقُلْ: لا رَدَّهَا اللَّهُ عَلَيْكَ، فَإِنَّ الْمَسَاجِدَ لَمْ تُبْنَ لِهَذَا ".
ابن وہب نے ہمیں حدیث سنائی، انہوں نے حیوہ سے، انہوں نے محمد بن عبدالرحمن سے، انہوں نے شداد بن ہاد کے آزاد کردہ غلام ابوعبداللہ سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی آدمی کو مسجد میں کسی گم شدہ جانور کے بارے میں اعلان کرتے ہوئے سنے تو وہ کہے: اللہ تمہارا جانور تمہیں نہ لوٹائے کیونکہ مسجدیں اس کام کے لیے نہیں بنائی گئیں۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1260]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی آدمی کو مسجد میں بلند آواز سے اپنی گم شدہ چیز کو تلاش کرتے ہوئے سنا، وہ کہے: «لَا رَدَّهَا اللَّهُ عَلَيْكَ» اللہ کرے تیری چیز تجھے نہ ملے کیونکہ مسجدیں اس مقصد کے لیے نہیں بنائی گئیں۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1260]
ترقیم فوادعبدالباقی: 568
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں