🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند الشهاب سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الشهاب میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1499)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
49. الْحَيَاءُ لَا يَأْتِي إِلَّا بِخَيْرٍ
حیا خیر ہی لاتی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 71
71 - أَخْبَرَ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ نَظِيفٍ الْفَرَّاءُ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّافِقِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْخَضِرِ بْنِ عَلِيٍّ الْبَزَّازُ، ثنا أَبُو سُفْيَانَ عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ مُطَرِّفٍ الرُّؤَاسِيُّ، ثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي السَّوَّارِ الْعَدَوِيِّ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْحَيَاءُ لَا يَأْتِي إِلَّا بِخَيْرٍ» وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُثَنَّى، وَمُحَمَّدِ بْنِ بَشَّارٍ. وَاللَّفْظُ لِابْنِ مُثَنَّى قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا السَّوَّارِ يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَمِعَ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذَكَرَهُ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حیا خیر ہی لاتی ہے۔ اسے مسلم نے بھی اپنی سند کے ساتھ روایت کیا ہے کہ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔ اور انہوں نے یہ حدیث بیان کی۔ [مسند الشهاب/حدیث: 71]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، أخرجه البخاري 6117، ومسلم: 37، والمعجم الكبير: 505، 506، جز: 18»
وضاحت: تشریح
ان احادیث میں بتایا گیا ہے کہ حیا سراسر خیر ہے اس سے انسان کو خیر ہی ملتی ہے۔ حیا دراصل انسان کی اس خاص طبعی کیفیت کا نام ہے جو اسے دین و دنیا کے بعض معروف اور غیر معروف کام کرنے کی صورت میں دل میں گھٹن کی وجہ سے محسوس اور نمایاں ہو۔ حیا اللہ تعالیٰ ٰ سے بھی ہوتی ہے، انسانوں سے بھی ہوتی ہے اور خود اپنی ذات سے بھی ہوتی ہے۔ کبھی انسان گناہ سے اس لیے باز آ جاتا ہے کہ اسے اللہ تعالیٰ دیکھ رہا ہے، یہ اللہ تعالیٰ سے حیا ہے۔ اور کبھی لوگوں سے حیا کرتے ہوئے گناہ سے باز رہتا ہے کہ اگر انہیں پتا چل گیا تو کیا کہیں گے؟ اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ اسے دیکھنے والا کوئی دوسرا انسان نہیں ہوتا لیکن وہ خود اپنے جی میں شرم محسوس کرنے لگتا ہے کہ میں کیا کر رہا ہوں اور کسے دھوکہ دے رہا ہوں؟ یوں وہ گناہ سے باز آ جاتا ہے، یہ نفس کی حیاء ہے۔
تو حیا کسی سے بھی ہو، اور اس کی کوئی بھی صورت ہو، یہ انسان کے لیے خیر ہی لاتی ہے اور اسے گناہ سے بچا لیتی ہے۔ اور اگر کبھی حیا کی وجہ سے کوئی دینوی نقصان ہو بھی جائے تو آخرت کا اجر و ثواب بہرحال اسے ضرور ملے گا۔ بعض دفعہ لوگ کسی نیکی کا مظاہرہ نہ کرنے کو بھی حیاء کہہ دیتے ہیں حالانکہ وہ شرعی حیاء نہیں بلکہ کمزوری اور بزدلی ہے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
50. الْمَسْجِدُ بَيْتُ كُلِّ تَقِيٍّ
مسجد ہر متقی کا گھر ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 72
72 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمُ يَحْيَى بْنُ عَلِيٍّ الصَّوَّافُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْخَيَّاشُ، ثنا إِسْحَاقُ هُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ يُونُسَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ ثَعْلَبٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ مُطْعِمِ بْنِ الْمِقْدَامِ وَغَيْرِهِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ وَاسِعٍ، قَالَ: كَتَبَ أَبُو الدَّرْدَاءِ إِلَى سَلْمَانَ: أَمَّا بَعْدُ يَا أَخِي فَاغْتَنِمْ صِحَّتَكَ قَبْلَ سَقَمِكَ، وَفَرَاغَكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ بِكَ مِنَ الْبَلَاءِ مَا لَا يَسْتَطِيعُ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ رَدَّهُ، وَيَا أَخِي اغْتَنِمْ دَعْوَةَ الْمُؤْمِنِ الْمُبْتَلَى، وَيَا أَخِي وَلْيَكُنِ الْمَسْجِدُ بَيْتَكَ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الْمَسْجِدُ بَيْتُ كُلِّ تَقِيٍّ»
محمد بن واسع کہتے ہیں کہ سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ کو لکھا: اما بعد! اے میرے بھائی! اپنی صحت کو بیماری سے پہلے غنیمت سمجھو اور اپنی فراغت کو اس آزمائش کے نازل ہونے سے پہلے غنیمت سمجھو جسے لوگوں میں سے کوئی بھی ٹالنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ اے میرے بھائی! اس مومن کی دعا کو غنیمت سمجھو جو کسی آزمائش میں مبتلا ہو۔ اے میرے بھائی! مسجد تمہارا گھر ہونا چاہیے کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے: مسجد ہر متقی کا گھر ہے۔ [مسند الشهاب/حدیث: 72]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، أخرجه شعب الايمان: 10174، تاريخ دمشق: 157/47» روایت متعدد عمل کی وجہ سے ضعیف ہے۔ دیکھئے: «العلل للدار قطني: 1094»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 73
73 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَمْرٍو الْمُقْرِئُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ الْخَالِقِ الْبَزَّارُ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُمَحِيُّ، ثنا صَالِحُ بْنُ بَشِيرٍ الْمُرِّيُّ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، قَالَ: كَتَبَ سَلْمَانُ إِلَى أَبِي الدَّرْدَاءِ: يَا أَخِي عَلَيْكَ بِالْمَسْجِدِ فَالْزَمْهُ، فَإِنِّي سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الْمَسْجِدُ بَيْتُ كُلِّ تَقِيٍّ»
ابوعثمان کہتے ہیں کہ سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کی طرف لکھا کہ اے میرے بھائی! مسجد کو اپنے اوپر لازم کرلو کیونکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے: مسجد ہر متقی کا گھر ہے۔ [مسند الشهاب/حدیث: 73]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، المعجم الكبير: 6143، شعب الايمان: 2689» صالح بن بشیر مری ضعیف عند الجمہور ہے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
51. آفَةُ الْحَدِيثِ الْكَذِبُ، وَآفَةُ الْعِلْمِ النِّسْيَانُ، وَآفَةُ الْحِلْمِ السَّفَهُ، وَآفَةُ الْعِبَادَةِ الْفَتْرَةُ، وَآفَةُ الظُّرْفِ الصَّلَفُ، وَآفَةُ الشَّجَاعَةِ الْبَغْيُ، وَآفَةُ السَّمَاحَةِ الْمَنُّ، وَآفَةُ الْجَمَالِ الْخُيَلَاءُ، وَآفَةُ الْحَسَبِ الْفَخْرُ
جھوٹ باتوں کی تباہی ہے، نسیان علم کی تباہی ہے، بے وقوفی حلم کی تباہی ہے، سستی عبادت کی تباہی ہے، مبالغہ آرائی ظرافت کی تباہی ہے، سرکشی شجاعت کی تباہی ہے، احسان جتلانا سخاوت کی تباہی یے، غرور حسن کی تباہی ہے اور فخر حسب و نسب کی تباہی ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 74
74 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقُهُسْتَانِيُّ، أبنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ الْقَاسِمِ بْنِ الْفَضْلِ بْنِ حَسَّانَ الدِّمَّمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُلَيْمَانَ أَبُو جَعْفَرٍ مُطَيَّنٌ ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الزَّيَّاتُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَبُو رَجَاءٍ الْحَبَطِيُّ، مِنْ أَهْلِ تُسْتَرَ، ثنا شُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْحَارِثِ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ وَذَكَرَ ذَلِكَ فِي حَدِيثِ الْوَصِيَّةِ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا۔۔۔۔۔۔ اور انہوں نے حدیث وصیت میں ان باتوں کا بھی ذکر کیا۔۔۔۔۔۔ اور انہوں نے یہ حدیث بیان کی۔ [مسند الشهاب/حدیث: 74]
تخریج الحدیث: «موضوع، أخرجه المعجم الكبير: 2688» محمد بن عبد الله ابورجاء حبطی کذاب، حارث سخت ضعیف ہے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 75
75 - وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحَسَنُ بْنُ خَلَفٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ عُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ شَاهِينَ، ثنا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ نَصْرٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ وَهْبٍ الْعَلَّافُ الْوَاسِطِيُّ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ يَزِيدَ، أبنا عَمْرِو بْنِ حَمَّادٍ النَّصِيبِيُّ أَبُو إِسْمَاعِيلَ، عَنِ السَّرِيِّ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: دَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذَكَرَ وَصِيَّتَهُ لِعَلِيٍّ وَزَادَ فِيهَا: «وَآفَةُ الظُّرْفِ الصَّلَفُ، وَآفَةُ الْجُودِ السَّرَفُ، وَآفَةُ الدِّينِ الْهَوَى»
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا اور آپ نے علی کے لیے اپنی وصیت کا ذکر فرمایا اور اس روایت میں ان الفاظ کا اضافہ ہے: مبالغہ آرائی ظرافت کی تباہی ہے، اسراف سخاوت کی تباہی ہے اور خواہش نفس دین کی تباہی ہے۔ [مسند الشهاب/حدیث: 75]
تخریج الحدیث: موضوع، عمروبن حماد جو کہ ابواسماعیل حماد بن عمر نصیبی ہے یہ کذاب جبکہ سری بن خالد ضعیف ہے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
52. السَّعِيدُ مَنْ وُعِظَ بِغَيْرِهِ، وَالشَّقِيُّ مَنْ شَقِيِّ فِي بَطْنِ أُمِّهِ
نیک بخت وہ ہے جو دوسروں سے نصیحت پکڑے اور بد بخت وہ ہے جو اپنی ماں کے پیٹ میں بد بخت ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 76
76 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الطَّرَابُلُسِيُّ، ثنا الْمَيَانَجِيُّ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ ذَرِيحٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ إِدْرِيسَ بْنِ يَزِيدَ الْأَوْدِيِّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُنَا فَيَقُولُ: «السَّعِيدُ مَنْ وُعِظَ بِغَيْرِهِ، وَالشَّقِيُّ مَنْ شَقِيَ فِي بَطْنِ أُمِّهِ»
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں خطبہ دیا کرتے تو آپ فرمایا کرتے: نیک بخت وہ ہے جو دوسروں سے نصیحت پکڑے اور بد بخت وہ ہے جو اپنی ماں کے پیٹ میں بد بخت ہو۔ [مسند الشهاب/حدیث: 76]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، أخرجه السنة لابن ابي عاصم: 178» ابواسحاق مدلس کا عنعنہ ہے۔
وضاحت: فائدہ:
سیدنا عامر بن واثلہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے سنا: بدبخت وہ ہے جو اپنی ماں کے پیٹ میں بدبخت ہو اور نیک بخت وہ ہے جو دوسروں سے نصیحت پکڑے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے ایک شخص آیا جن کا نام سیدنا حذیفہ بن اسید غفاری رضی اللہ عنہ تھا تو عامر نے انہیں ابن مسعود کا یہ قول سنایا اس پر وہ کہنے لگے عمل کے بغیر کوئی شخص بدبخت کیسے ہو سکتا ہے؟ تو انہیں ایک شخص نے کہا: کیا آپ اس پر تعجب کرتے ہیں؟ بے شک میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: جب نطفہ پر بیالیس راتیں گزر جاتی ہیں تو اللہ تعالیٰ ٰ اس کے پاس ایک فرشتہ بھیجتا ہے وہ اس کی صورت بناتا ہے، اس کے کان، آنکھیں، کھال، گوشت اور اس کی ہڈیاں (وغیرہ) بناتا ہے پھر کہتا ہے: اے رب! یہ مذکر ہے یا مؤنث؟ تو تمہارا رب جو چاہتا ہے حکم فرماتا ہے اور فرشتہ لکھ لیتا ہے، پھر فرشتہ کہتا ہے: اے رب! اس کی مدت حیات (کیا ہے)؟ تو تمہارا رب جو چاہتا ہے حکم فرماتا ہے اور فرشتہ لکھ لیتا ہے، پھر فرشتہ کتاب ہاتھ میں لے کر نکل جاتا ہے، اس میں اللہ کے حکم پر کوئی زیادتی ہوتی ہے اور نہ کوئی کمی۔ (مسلم: 2645)
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ٰ نے رحم مادر پر ایک فرشتہ مقرر کر دیا ہے، وہ کہتا ہے: اے رب! یہ نطفہ قرار پایا ہے، اے رب! اب یہ جما ہوا خون بن گیا ہے۔ اے رب! اب یہ گوشت کی بوٹی! بن گیا ہے۔ پھر جب اللہ تعالیٰ ٰ چاہتا ہے کہ یہ اپنی بناوٹ پوری کرے تو فرشتہ پوچھتا ہے: اے رب! یہ لڑکا ہے یا لڑکی؟ اس کی روزی کیا ہوگی؟ نیک بخت ہے یا بدبخت؟ اسے موت کب آئے گی؟ اسی طرح یہ سب باتیں ماں کے پیٹ ہی میں لکھ دی جاتی ہیں۔ (بخاری: 6596)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
53. كَفَّارَةُ الذَّنْبِ النَّدَامَةُ
ندامت و شرمندگی گناہ کا کفارہ ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 77
77 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَمْرٍو الْمُقْرِئُ، أبنا الْحَسَنُ بْنُ رَشِيقٍ، ثنا السُّرْمَرِيُّ أَبُو عَلِيٍّ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ الْأَعْسَمُ، ثنا مُوسَى بْنُ سَعِيدٍ الطَّرَسُوسِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ النُّكْرِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَفَّارَةُ الذَّنْبِ النَّدَامَةُ»
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ندامت و شرمندگی گناہ کا کفارہ ہے۔ [مسند الشهاب/حدیث: 77]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، أخرجه أحمد: 1/ 289، المعجم الكبير: 12795، شعب الايمان: 6638» یحیٰی بن عمر د بن مالک نکری ضعیف ہے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
54. الْجُمُعَةُ حَجُّ الْمَسَاكِينِ
جمعہ مسکینوں کا حج ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 78
78 - أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ الْبَزَّازُ، أبنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ثنا مُشْرِفُ بْنُ سَعِيدٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْهَاشِمِيُّ، عَنْ مُقَاتِلٍ، عَنِ الضَّحَّاكِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْجُمُعَةُ حَجُّ الْمَسَاكِينِ»
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جمعہ مسکینوں کا حج ہے۔ [مسند الشهاب/حدیث: 78]
تخریج الحدیث: «موضوع، ابن الاعرابي: 2378» مقاتل بن سلیمان کذاب اور عیسٰی بن ابراہیم ہاشمی ضعیف ہے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 79
79 - وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ التُّجِيبِيُّ، أبنا ابْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا الْحَسَنُ هُوَ ابْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ثنا أَبُو يُوسُفَ، عَنْ عِيسَى بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مُقَاتِلٍ، عَنِ الضَّحَّاكِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْجُمُعَةُ حَجُّ الْفُقَرَاءِ»
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جمعہ فقراء کا حج ہے۔ [مسند الشهاب/حدیث: 79]
تخریج الحدیث: «موضوع، ابن الاعرابي: 2378» مقاتل بن سلیمان کذاب اور عیسٰی بن ابراہیم ہاشمی ضعیف ہے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
55. الْحَجُّ جِهَادُ كُلِّ ضَعِيفٍ، وَجِهَادُ الْمَرْأَةِ حُسْنِ التَّبَعُّلِ
حج ہر کمزور آدمی کا جہاد ہے اور عورت کا جہاد خاوند کے ساتھ اچھی گزران ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 80
80 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ التُّجِيبِيُّ، أبنا ابْنُ جَامِعٍ، أبنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْحَجُّ جِهَادُ كُلِّ ضَعِيفٍ»
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حج ہر کمزور آدمی کا جہاد ہے۔ [مسند الشهاب/حدیث: 80]
تخریج الحدیث: «منقطع، أخرجه ابن ماجه: 2902، أحمد: 6/ 294» محمد بن علی اور سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے درمیان انقطاع ہے۔
وضاحت: فائدہ:
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بوڑھے، بچے، کمزور اور عورت کا جہاد حج وعمرہ ہے۔ [نسائي: 2627وسنده صحيح]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں