مسند الشهاب سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
70. صَنَائِعُ الْمَعْرُوفِ تَقِي مَصَارِعَ السُّوءِ
نیکی کے کام برائی میں گرنے سے بچاتے ہیں
حدیث نمبر: 101
101 - أَخْبَرَنَا هِبَةُ اللَّهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْخَوْلَانِيُّ، أبنا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ بُنْدَارٍ الْأَذَنِيُّ، ثنا أَبُو عِمْرَانَ مُوسَى بْنُ الْأَشْيَبِ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الدُّنْيَا، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ أَبِي حَاتِمٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ الْأَسْلَمِيُّ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي حَرْمَلَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فِعْلُ الْمَعْرُوفِ يَقِي مَصَارِعَ السُّوءِ»
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نیکی کے کام برائی میں گرنے سے بچاتے ہیں۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 101]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدا، قضاء الحوائج: 3» ۔ محمد بن عمر واقدی کذاب ہے۔
حدیث نمبر: 102
102 - أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أبنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ السَّقَطِيُّ، وَذُو النُّونِ بْنُ مُحَمَّدٍ التُّسْتَرِيُّ قَالَا: ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعَسْكَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ بْنِ كُوفِيٍّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ هُوَ التِّنِّيسِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي صَدَقَةَ، عَنِ الْأَصْبَغِ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «صَنَائِعُ الْمَعْرُوفُ تَقِي مَصَارِعَ السُّوءِ، وَإِنَّ صَدَقَةَ السِّرِّ تُطْفِئُ غَضَبَ الرَّبِّ، وَإِنَّ صِلَةَ الرَّحِمِ تَزِيدُ فِي الْعُمُرِ وَتَنْفِي الْفَقْرَ»
سیدنا معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بے شک نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نیکی کے کام برائی میں گرنے سے بچاتے ہیں اور پوشیدہ صدقہ رب تعالیٰ کا غصہ بجھاتا ہے اور بے شک صلہ رحمی عمر دراز کرتی ہے اور فقر و فاقہ مٹاتی ہے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 102]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه المعجم الاوسط: 943» صدقه بن عبد اللہ ضعیف اور اصبغ نامعلوم شخص ہے۔
71. الرَّجُلُ فِي ظِلِّ صَدَقَتِهِ حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ
لوگوں کے درمیان فیصلہ ہونے تک آدمی اپنے صدقے کے سائے میں ہوگا
حدیث نمبر: 103
103 - أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ جَامِعٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَارِمٌ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُبَارَكٍ، ثنا حَرْمَلَةُ بْنُ عِمْرَانَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الرَّجُلُ فِي ظِلِّ صَدَقَتِهِ حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ أَوْ يُحْكَمَ بَيْنَ النَّاسِ»
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(قیامت کے دن) آدمی اپنے صدقے کے سائے میں ہوگا یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 103]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه أحمد، وابن خزيمة: 2431، وابن حبان: 3299»
وضاحت: تشریح:
اس حدیث میں صدقہ و خیرات کی فضیلت بیان فرمائی گئی ہے کہ صدقہ کرنے والا شخص روز قیامت اپنے صدقے کے سائے میں ہوگا یہاں تک کہ لوگوں کا حساب و کتاب مکمل ہو جائے۔ یہ بڑا ہی مشکل مرحلہ ہوگا جہاں صدقہ چھتری اور سائبان کی شکل میں بندے پر سایہ فگن ہو گا اور اسے قیامت کی دھوپ اور گرمی سے بچائے گا۔ کیونکہ دنیا میں اس شخص نے غرباء ومساکین کو اپنے سایہ کرم میں رکھا تھا لہٰذا آج اس کٹھن مرحلے میں اس کا وہ عمل اس کے کام آیا اور اسے سایہ مل گیا۔
اس حدیث کے ایک راوی ابوالخیر مرثد بن عبد اللہ کے متعلق آتا ہے کہ وہ اس حدیث کے پیش نظر کوئی دن ایسا نہ جانے دیتے جس میں کچھ نہ کچھ صدقہ و خیرات نہ کرتے اگر چہ وہ خشک روٹی یا پیاز یا اس طرح کی کوئی اور چیز ہی کیوں نہ ہوتی۔ [أحمد: 4/ 148]
اس حدیث میں صدقہ و خیرات کی فضیلت بیان فرمائی گئی ہے کہ صدقہ کرنے والا شخص روز قیامت اپنے صدقے کے سائے میں ہوگا یہاں تک کہ لوگوں کا حساب و کتاب مکمل ہو جائے۔ یہ بڑا ہی مشکل مرحلہ ہوگا جہاں صدقہ چھتری اور سائبان کی شکل میں بندے پر سایہ فگن ہو گا اور اسے قیامت کی دھوپ اور گرمی سے بچائے گا۔ کیونکہ دنیا میں اس شخص نے غرباء ومساکین کو اپنے سایہ کرم میں رکھا تھا لہٰذا آج اس کٹھن مرحلے میں اس کا وہ عمل اس کے کام آیا اور اسے سایہ مل گیا۔
اس حدیث کے ایک راوی ابوالخیر مرثد بن عبد اللہ کے متعلق آتا ہے کہ وہ اس حدیث کے پیش نظر کوئی دن ایسا نہ جانے دیتے جس میں کچھ نہ کچھ صدقہ و خیرات نہ کرتے اگر چہ وہ خشک روٹی یا پیاز یا اس طرح کی کوئی اور چیز ہی کیوں نہ ہوتی۔ [أحمد: 4/ 148]
72. الصَّدَقَةُ تُطْفِئُ الْخَطِيئَةَ كَمَا يُطْفِئُ الْمَاءُ النَّارَ
صدقہ گناہ کو اس طرح بجھاتا ہے جس طرح پانی آگ کو بجھاتا ہے
حدیث نمبر: 104
104 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحَسَنُ بْنُ خَلَفٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ كَيْسَانَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ ثَوْرٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَأَصْبَحَتْ يَوْمًا قَرِيبًا مِنْهُ وَنَحْنُ نَسِيرُ فَقَالَ: «أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى أَبْوَابِ الْخَيْرِ الصَّوْمُ جُنَّةٌ، وَالصَّدَقَةُ تُطْفِئُ الْخَطِيئَةَ كَمَا يُطْفِئُ الْمَاءُ النَّارَ، وَصَلَاةُ الرَّجُلِ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ»
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک سفر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھا، ایک دن ہم چل رہے تھے تو میں آپ کے قریب ہوا آپ نے فرمایا: ”کیا میں تجھے نیکی کے دروازے نہ بتاؤں؟ روزہ ڈھال ہے، صدقہ گناہ (کی آگ) کو اس طرح بجھاتا ہے جس طرح پانی آگ کو بجھاتا ہے اور آدمی کا رات کے دوران میں نماز ادا کرنا۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 104]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه ترمذي: 2616،وابن ماجه: 3973، وأحمد: 5/ 231» ابووائل کا سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے سماع ثابت نہیں۔ دیکھیے: جامع العلوم والحكم: (29)، تحفة التحصيل، ص: (149)۔
حدیث نمبر: 105
105 - أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ السَّدُوسِيُّ، أبنا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الرَّازِيُّ، ثنا مِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَابِطٍ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِكَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ: «يَا كَعْبُ الصَّلَاةُ قُرْبَانٌ، وَالصَّوْمُ جُنَّةٌ، وَالصَّدَقَةُ تُطْفِئُ غَضَبَ الرَّبِّ كَمَا يُطْفِئُ الْمَاءُ النَّارَ»
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بے شک نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کعب بن عجرہ سے فرمایا: ”اے کعب! نماز وسیلہ ہے، روزہ ڈھال ہے اور صدقہ رب تعالیٰ کا غصہ ایسے بجھاتا ہے جیسے پانی آگ بجھاتا ہے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 105]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه المصنف لعبد الرزاق: 20719» عبدالرحمن بن سابط کا سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے سماع ثابت نہیں۔
وضاحت: فائدہ:
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: ”اے کعب بن عجرہ! میں تجھے اپنے بعد آنے والے امراء سے اللہ کی پناہ میں دیتا ہوں جو ان کے دروازے پر جائے اور جھوٹ میں ان کی تصدیق کرے اور ان کے ظلم پر ان کا معاون بنے تو وہ مجھ سے نہیں اور نہ میں اس سے ہوں، اور نہ ہی وہ حوض کوثر پر وہ میرے پاس وارد ہوگا اور جو شخص ان کے دروازے پر جائے یا نہ جائے (لیکن) جھوٹ میں ان کی تصدیق نہ کرے اور ان کے ظلم پر معاون نہ بنے تو وہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں اور جلد ہی وہ حوض پر میرے پاس وارد ہوگا۔ اے کعب بن عجرہ! نماز دلیل ہے، روزہ ڈھال اور قلعہ ہے اور صدقہ گناہوں کو ایسے مٹاتا ہے جیسے پانی آگ بجھاتا ہے۔ اے کعب! جو گوشت حرام مال سے پلا ہو آگ اس کے زیادہ لائق و قریب ہے۔“ [إسناده حسن، وأخرجه الترمذي: 614]
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: ”اے کعب بن عجرہ! میں تجھے اپنے بعد آنے والے امراء سے اللہ کی پناہ میں دیتا ہوں جو ان کے دروازے پر جائے اور جھوٹ میں ان کی تصدیق کرے اور ان کے ظلم پر ان کا معاون بنے تو وہ مجھ سے نہیں اور نہ میں اس سے ہوں، اور نہ ہی وہ حوض کوثر پر وہ میرے پاس وارد ہوگا اور جو شخص ان کے دروازے پر جائے یا نہ جائے (لیکن) جھوٹ میں ان کی تصدیق نہ کرے اور ان کے ظلم پر معاون نہ بنے تو وہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں اور جلد ہی وہ حوض پر میرے پاس وارد ہوگا۔ اے کعب بن عجرہ! نماز دلیل ہے، روزہ ڈھال اور قلعہ ہے اور صدقہ گناہوں کو ایسے مٹاتا ہے جیسے پانی آگ بجھاتا ہے۔ اے کعب! جو گوشت حرام مال سے پلا ہو آگ اس کے زیادہ لائق و قریب ہے۔“ [إسناده حسن، وأخرجه الترمذي: 614]
73. الْمُعْتَدِي فِي الصَّدَقَةِ كَمَانِعِهَا
زکوۃ لینے میں زیادتی کرنے والا زکوۃ روکنے والے کی مانند ہے
حدیث نمبر: 106
106 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَمْرٍو الْمُقْرِئُ، أبنا الْحَسَنُ بْنُ رَشِيقٍ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَفْصٍ الطَّالْقَانِيُّ الْمُرَابِطِيُّ سَنَةَ ثَلَاثٍ وَثَلَاثِ مِائَةٍ، ثنا قُتَيْبَةُ، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ سِنَانِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْمُعْتَدِي فِي الصَّدَقَةِ كَمَانِعِهَا»
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زکوٰۃ لینے میں زیادتی کرنے والا زکوٰۃ روکنے والے کی مانند ہے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 106]
تخریج الحدیث: «منكر، وأخرجه أبو داود: 1585، وترمذي: 646، وابن ماجه: 1808،» سعد بن سنان صدوق راوی ہے لیکن یزید بن ابی حبیب کی سعد سے روایت منکر ہوتی ہے۔ دیکھئے: انوار الصحیفة: (64)۔
حدیث نمبر: 107
107 - وَأَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ الْمُبَارَكِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ الْعَسَّالُ، أبنا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، أبنا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ سِنَانٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْمُعْتَدِي فِي الصَّدَقَةِ كَمَانِعِهَا»
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”زکوٰۃ لینے میں زیادتی کرنے والا زکوٰۃ روکنے والے کی مانند ہے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 107]
تخریج الحدیث: «منكر، وأخرجه أبو داود: 1585، وترمذي: 646، وابن ماجه: 1808،» سعد بن سنان صدوق راوی ہے لیکن یزید بن ابی حبیب کی سعد سے روایت منکر ہوتی ہے۔ دیکھئے: انوار الصحیفة: (64)۔
74. التَّائِبُ مِنَ الذَّنْبِ كَمَنْ لَا ذَنْبَ لَهُ
گناہ سے تو بہ کرنے والا اس عیسا ہے جس نے گناہ نہیں کیا
حدیث نمبر: 108
108 - أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ الصَّفَّارُ، أبنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ جَامِعٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ح وَأَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ، ثنا أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيُّ، ثنا وَهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا مَعْمَرٌ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «التَّائِبُ مِنَ الذَّنْبِ كَمَنْ لَا ذَنْبَ لَهُ»
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”گناہ سے توبہ کرنے والا اسی طرح ہے جس نے گناہ نہیں کیا۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 108]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه ابن ماجه: 4250،» ابوعبیدہ کا سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع ثابت نہیں۔ «المراسيل ص: 625»
75. الظُّلْمُ ظُلُمَاتٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
ظلم قیامت کے دن اندھیروں کا باعث ہے۔
حدیث نمبر: 109
109 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ التُّجِيبِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ بُهْزَادَ، ثنا هِشَامٌ، ثنا ابْنُ رَجَاءٍ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الظُّلْمُ ظُلُمَاتٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ»
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ظلم قیامت کے دن اندھیروں کا باعث ہے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 109]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري 2447، ومسلم: 2579»
حدیث نمبر: 110
110 - وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُوسَى السِّمْسَارُ بِدِمَشْقَ، أنا أَبُو زَيْدٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَرْوَزِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفَرَبْرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمَاجِشُونَ، أنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الظُّلْمُ ظُلُمَاتٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ»
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”ظلم قیامت کے دن اندھیروں کا باعث ہے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 110]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري 2447، ومسلم: 2579»
وضاحت: تشریح:
مطلب یہ ہے کہ قیامت کے دن ظالم نور سے محروم ہوگا اسے ہر طرف سے اندھیرے گھیرے ہوں گے اور وہ اپنی منزل نہیں پا سکے گا۔ دوسری طرف مؤمن ان اندھیروں سے محفوظ ہوگا اسے ایسا نور ملے گا جو اس کے آگے اور دائیں دوڑ رہا ہوگا چنانچہ وہ اس کی روشنی میں اپنی منزل تک جا پہنچے گا۔ اللہ تعالیٰ ٰ نے مومنوں کے نور کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:
﴿نُورُهُمْ يَسْعَىٰ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَبِأَيْمَانِهِمْ﴾ (التحريم: 8)
”ان کا نور ان کے آگے اور ان کے دائیں دوڑ رہا ہو گا۔“
اس حدیث کا ایک مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اندھیروں سے آخرت کے وہ شدائد تکالیف ومشکلات اور عذاب مراد ہوں جن سے قیامت کے دن ظالم کا واسطہ پڑناہے۔ قرآن مجید میں بھی بعض جگہ ظلمات (اندھیرے) کے معنی شدائد مراد لیے گئے ہیں جیسا کہ فرمان باری تعالیٰ ٰ ہے:
﴿قُلْ مَن يُنَجِّيكُم مِّن ظُلُمَاتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ﴾ (الانعام: 63)
”فرما دیجیے: کون ہے جو تمہیں خشکی اور ترکی کی مصیبتوں سے نجات دیتا ہے؟“
بہر حال ظالم کے لیے آخرت میں بڑا مہنگا سودا ہے، اللہ تعالیٰ ظلم سے محفوظ رکھے۔ ظلم کی کئی اقسام میں کفر، شرک بھی ظلم ہے، گناہ و بدکاری بھی ظلم ہے، کسی کو ستانا اور کسی کا حق مارنا بھی ظلم ہے۔ آگے پھر ان کے درجات بھی مختلف ہیں چنانچہ بدترین ظلم کفر و شرک ہے اس کے بعد دوسروں کا حق مارنا ہے۔ جیسا ظلم روز قیامت ویسی ہی تاریکی۔ انسان جو کچھ بوئے گا آخرت میں وہی کاٹے گا۔
اس حدیث میں مظلوم کے لیے بھی دلاسا اور تسلی ہے وہ یہ کہ اگر مظلوم چاہتا ہے کہ ظالم کو کڑی سے کڑی اور سخت سے سخت سزا ملے تو وہ دنیا میں صبر کرے کیونکہ آخرت کی سزا سے بڑی سزا کہیں نہیں، مظلوم دنیا میں صبر کرے ظالم اپنے ظلم کی آخرت میں ضرور سزا بھگتے گا۔
مطلب یہ ہے کہ قیامت کے دن ظالم نور سے محروم ہوگا اسے ہر طرف سے اندھیرے گھیرے ہوں گے اور وہ اپنی منزل نہیں پا سکے گا۔ دوسری طرف مؤمن ان اندھیروں سے محفوظ ہوگا اسے ایسا نور ملے گا جو اس کے آگے اور دائیں دوڑ رہا ہوگا چنانچہ وہ اس کی روشنی میں اپنی منزل تک جا پہنچے گا۔ اللہ تعالیٰ ٰ نے مومنوں کے نور کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:
﴿نُورُهُمْ يَسْعَىٰ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَبِأَيْمَانِهِمْ﴾ (التحريم: 8)
”ان کا نور ان کے آگے اور ان کے دائیں دوڑ رہا ہو گا۔“
اس حدیث کا ایک مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اندھیروں سے آخرت کے وہ شدائد تکالیف ومشکلات اور عذاب مراد ہوں جن سے قیامت کے دن ظالم کا واسطہ پڑناہے۔ قرآن مجید میں بھی بعض جگہ ظلمات (اندھیرے) کے معنی شدائد مراد لیے گئے ہیں جیسا کہ فرمان باری تعالیٰ ٰ ہے:
﴿قُلْ مَن يُنَجِّيكُم مِّن ظُلُمَاتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ﴾ (الانعام: 63)
”فرما دیجیے: کون ہے جو تمہیں خشکی اور ترکی کی مصیبتوں سے نجات دیتا ہے؟“
بہر حال ظالم کے لیے آخرت میں بڑا مہنگا سودا ہے، اللہ تعالیٰ ظلم سے محفوظ رکھے۔ ظلم کی کئی اقسام میں کفر، شرک بھی ظلم ہے، گناہ و بدکاری بھی ظلم ہے، کسی کو ستانا اور کسی کا حق مارنا بھی ظلم ہے۔ آگے پھر ان کے درجات بھی مختلف ہیں چنانچہ بدترین ظلم کفر و شرک ہے اس کے بعد دوسروں کا حق مارنا ہے۔ جیسا ظلم روز قیامت ویسی ہی تاریکی۔ انسان جو کچھ بوئے گا آخرت میں وہی کاٹے گا۔
اس حدیث میں مظلوم کے لیے بھی دلاسا اور تسلی ہے وہ یہ کہ اگر مظلوم چاہتا ہے کہ ظالم کو کڑی سے کڑی اور سخت سے سخت سزا ملے تو وہ دنیا میں صبر کرے کیونکہ آخرت کی سزا سے بڑی سزا کہیں نہیں، مظلوم دنیا میں صبر کرے ظالم اپنے ظلم کی آخرت میں ضرور سزا بھگتے گا۔