صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
روزے کی حالت میں جہالت و نادانی کی ممانعت
حدیث نمبر: 1992
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى ، عَنِ الأَعْمَشِ . ح وَثَنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا كَانَ صَوْمُ أَحَدِكُمْ، فَلا يَرْفُثْ، وَلا يَجْهَلْ، فَإِنْ جُهِلَ عَلَيْهِ، فَلْيَقُلْ: إِنِّي صَائِمٌ" . وَقَالَ الأَشَجُّ:" إِذَا كَانَ يَوْمُ صَوْمِ أَحَدِكُمْ"
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی شخص کا روزہ ہو تو وہ فحش اور بیہودہ کلام نہ کرے اور نہ نادانی کے کام کرے اور اگر کوئی شخص اُس پر نادانی کا اظہار کرے تو وہ کہہ دے کہ بیشک میں روزے دار ہوں ـ“ جناب اشج کی روایت میں ہے کہ جب تم میں سے کسی شخص کے روزے کا دن ہو ـ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1992]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1894، 1904، 5927، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1151، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1099، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1890، 1896، 1997، 1898، 1899، 1900، 1992، 1993، 1994، 1996، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3416، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1575، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2213، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2363، والترمذي فى (جامعه) برقم: 764، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1638، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8206، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7295»
روزے کی حالت میں گالی دینے اور لڑائی کرنے کی ممانعت ہے
حدیث نمبر: 1993
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا كَانَ يَوْمُ صَوْمِ أَحَدِكُمْ فَلا يَرْفُثْ، فَإِنْ شَاتَمَهُ، أَوْ سَابَّهُ، وَقَاتَلَهُ، فَلْيَقُلْ: إِنِّي صَائِمٌ"
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی شخص کے روزے کا دن ہو تو وہ فحش کلامی نہ کرے، پھر اگر کوئی اُسے گالی دے یا بُرا بھلا کہے یا اُس کے ساتھ لڑائی جھگڑا کرے تو اُسے کہہ دینا چاہیے کہ میں روزے دار ہوں۔“ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1993]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1894، 1904، 5927، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1151، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1099، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1890، 1896، 1997، 1898، 1899، 1900، 1992، 1993، 1994، 1996، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3416، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1575، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2213، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2363، والترمذي فى (جامعه) برقم: 764، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1638، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8206، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7295»
اگر روزے دار کھڑا ہو اور اُسے گالی دی جائے تو اُسے بیٹھ جانا چاہیے تاکہ اُسے غصہ نہ آئے اور وہ گالی کا بدلہ نہ لے
حدیث نمبر: 1994
نا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ عَجْلانَ مَوْلَى الْمُشْمَعِلِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا تُسَابَّ وَأَنْتَ صَائِمٌ، فَإِنْ سَابَّكَ أَحَدٌ، فَقُلْ: إِنِّي صَائِمٌ، وَإِنْ كُنْتَ قَائِمًا فَاجْلِسْ"
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم روزے کی حالت میں گالی گلوچ مت کرو اور اگر تمہیں کوئی شخص گالی دے تو تم کہو کہ بیشک میں روزے دار ہوں۔ اور اگر تم کھڑے ہو تو بیٹھ جاؤ۔“ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1994]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1894، 1904، 5927، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1151، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1099، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1890، 1896، 1997، 1898، 1899، 1900، 1992، 1993، 1994، 1996، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3416، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1575، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2213، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2363، والترمذي فى (جامعه) برقم: 764، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1638، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8206، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7295»
روزے کی حالت میں جھوٹی بات کرنے اور اسپر عمل کرنے کی ممانعت اور جاہلانہ حرکت کے ارتکاب پر سختی کا بیان
حدیث نمبر: 1995
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، نا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، نا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ . ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى ، نا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ لَمْ يَدَعْ قَوْلَ الزُّورِ وَالْعَمَلَ بِهِ، فَلَيْسَ لِلَّهِ حَاجَةٌ بِأَنْ يَدَعَ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ" . هَذَا حَدِيثُ بُنْدَارٍ. وَفِي حَدِيثِ ابْنِ الْمُبَارَكِ:" وَالْعَمَلَ بِهِ وَالْجَهْلَ"
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص جھوٹ بولنا اور اس پر عمل کرنا نہیں چھوڑتا تو اللہ تعالیٰ کو اُس کے کھانا اور پینا چھوڑنے کی کوئی ضرورت اور پروا نہیں ہے۔ یہ جناب بندار کی روایت ہے۔ ابن المبارک کی روایت میں ہے کہ ” جھوٹ پر عمل کرنا اور جاہلانہ حرکا ت ترک نہیں کرتا تو۔۔۔“ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1995]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1903، 6057، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1995، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3480، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 3232، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2362، والترمذي فى (جامعه) برقم: 707، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1689، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8400، وأحمد فى (مسنده) برقم: 9974»
روزے کی حالت میں فضول باتوں کی ممانعت اور اس بات کی دلیل کہ فضول باتیں اور فحش گوئی ترک کرنا روزے کی تکمیل کا حصّہ ہے
حدیث نمبر: 1996
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ، أَنَّ ابْنَ وَهْبٍ أَخْبَرَهُمْ، وَأَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَمِّهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَيْسَ الصِّيَامُ مِنَ الأَكْلِ وَالشُّرْبِ، إِنَّمَا الصِّيَامُ مِنَ اللَّغْوِ وَالرَّفَثِ، فَإِنْ سَابَّكَ أَحَدٌ أَوْ جَهِلَ عَلَيْكَ، فَلْتَقُلْ: إِنِّي صَائِمٌ، إِنِّي صَائِمٌ"
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”روزہ صرف کھانا پینا ترک کر دینے کا نام نہیں بلکہ روزہ تو فضول باتوں اور فحش گوئی سے رکنے کا نام ہے۔ پس اگر کوئی شخص تمہیں گالیاں دے یا تم پر نادانی کا اظہار کرے تو تم کہہ دو کہ بیشک میں روزے دار ہوں، بلاشبہ میں روزے سے ہوں۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1996]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1894، 1904، 5927، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1151، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1099، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1890، 1896، 1997، 1898، 1899، 1900، 1992، 1993، 1994، 1996، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3416، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1575، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2213، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2363، والترمذي فى (جامعه) برقم: 764، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1638، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8206، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7295»
کھانے پینے سے اجتناب کرنے کے ساتھ دیگر ممنوع کام کرنے والے روزے دار کے ثواب کی نفی کا بیان -
حدیث نمبر: 1997
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا عَمْرٌو هُوَ ابْنُ أَبِي عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " رُبَّ صَائِمٍ حَظُّهُ مِنْ صِيَامِهِ الْجُوعُ وَالْعَطَشُ، وَرُبَّ قَائِمٍ حَظُّهُ مِنْ قِيَامِهِ السَّهَرُ"
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بہت سارے روزے دار ایسے ہیں جنہیں اُن کے روزوں سے صرف بھوک پیاس ہی حاصل ہوتی ہے۔ اور کتنے ہی قیام کرنے والے ایسے ہیں جنہیں اُن کے قیام سے صرف شب بیداری (اور تھکاوٹ) ہی حاصل ہوتی ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1997]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1894، 1904، 5927، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1151، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1099، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1890، 1896، 1997، 1898، 1899، 1900، 1992، 1993، 1994، 1996، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3416، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1575، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2213، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2363، والترمذي فى (جامعه) برقم: 764، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1638، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8206، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7295»