🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
16. باب كَرَاهَةِ التَّنَفُّسِ فِي نَفْسِ الإِنَاءِ وَاسْتِحْبَابِ التَّنَفُّسِ ثَلاَثًا خَارِجَ الإِنَاءِ:
باب: پانی پینے میں برتن کے اندر سانس لینا مکروہ ہے اور باہر مستحب ہے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2028 ترقیم شاملہ: -- 5287
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ . ح وحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنْ أَبِي عِصَامٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَنَفَّسُ فِي الشَّرَابِ ثَلَاثًا، وَيَقُولُ: إِنَّهُ أَرْوَى وَأَبْرَأُ وَأَمْرَأُ "، قَالَ أَنَسٌ: فَأَنَا أَتَنَفَّسُ فِي الشَّرَابِ ثَلَاثًا.
عبدالوارث نے ابوعصام سے، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پینے کی چیز میں تین مرتبہ سانس لیتے تھے اور فرماتے تھے: ”یہ (طریقہ) زیادہ سیر کرنے والا، زیادہ محفوظ اور زیادہ مزیدار ہے۔“ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: میں (بھی) پینے کی چیز میں تین مرتبہ سانس لیتا ہوں۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5287]
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پیتے وقت تین سانس لیتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ” «إِنَّهُ أَرْوَى وَأَبْرَأُ وَأَمْرَأُ» ”اس سے خوب سیرابی ہوتی اور یہ پیاس سے محفوظ رہنے کا باعث اور بہت زود ہضم ہے“۔“ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5287]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2028
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2028 ترقیم شاملہ: -- 5288
وحَدَّثَنَاه قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتَوَائِيِّ ، عَنْ أَبِي عِصَامٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ، وَقَالَ: فِي الْإِنَاءِ.
ہشام دستوائی نے ابوعصام سے، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے اسی کے مانند روایت کی اور کہا: ”برتن میں (سے پیتے ہوئے)“ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5288]
امام صاحب یہی روایت اپنے دیگر دو اساتذہ سے بیان کرتے ہیں اور اس میں «فِي الشَّرَابِ» ”پینے کے متعلق“ (کے الفاظ ہیں)۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5288]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2028
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
17. باب اسْتِحْبَابِ إِدَارَةِ الْمَاءِ وَاللَّبَنِ وَنَحْوِهِمَا عَنْ يَمِينِ الْمُبْتَدِئِ:
باب: دودھ یا پانی یا کوئی چیز شروع کرنے والے کے داہنی طرف سے تقسیم کرنا۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2029 ترقیم شاملہ: -- 5289
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : " أَن رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِلَبَنٍ قَدْ شِيبَ بِمَاءٍ، وَعَنْ يَمِينِهِ أَعْرَابِيٌّ، وَعَنْ يَسَارِهِ أَبُو بَكْرٍ، فَشَرِبَ ثُمَّ أَعْطَى الْأَعْرَابِيَّ، وَقَالَ: الْأَيْمَنَ فَالْأَيْمَنَ ".
امام مالک رحمہ اللہ نے ابن شہاب سے، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دودھ پیش کیا گیا جس میں (ٹھنڈا کرنے کے لئے) پانی ملایا گیا تھا۔ آپ کی دائیں طرف ایک اعرابی بیٹھا ہوا تھا اور بائیں طرف حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ پیا، پھر اعرابی کو دیا اور فرمایا: ”دایاں، اس کے بعد پھر دایاں (مقدم ہوگا)“ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5289]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا دودھ پیش کیا گیا جس میں پانی کی آمیزش تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں طرف ایک اعرابی تھا، اور بائیں طرف حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیا پھر اعرابی کو دیا اور فرمایا: ”دایاں، پھر دایاں“ یعنی دائیں کو پہلے دیا جائے گا۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5289]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2029
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2029 ترقیم شاملہ: -- 5290
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَأَنَا ابْنُ عَشْرٍ، وَمَاتَ وَأَنَا ابْنُ عِشْرِينَ وَكُنَّ أُمَّهَاتِي يَحْثُثْنَنِي عَلَى خِدْمَتِهِ، فَدَخَلَ عَلَيْنَا دَارَنَا، فَحَلَبْنَا لَهُ مِنْ شَاةٍ دَاجِنٍ وَشِيبَ لَهُ مِنْ بِئْرٍ فِي الدَّارِ، " فَشَرِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ وَأَبُو بَكْرٍ عَنْ شِمَالِهِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَعْطِ أَبَا بَكْر ٍ، فَأَعْطَاهُ أَعْرَابِيًّا عَنْ يَمِينِهِ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْأَيْمَنَ فَالْأَيْمَنَ ".
سفیان بن عینیہ رحمہ اللہ نے زہری سے، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں تشریف لائے تو میں دس برس کا تھا۔ اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو میں بیس سال کا تھا۔ میری مائیں (والدہ، خالائیں، پھوپھیاں) مسلسل مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرنے کا شوق دلایا کرتی تھیں۔ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر تشریف لائے، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے پالتو بکری کا دودھ دوہا اور اس میں گھر کے کنوئیں کا پانی ملایا گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نوش فرمایا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی، اور اس وقت ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بائیں جانب تھے۔ اللہ کے رسول! ابوبکر کو عنایت فرما دیجئے، لیکن آپ نے وہ (دودھ کا برتن) اپنی دائیں جانب (بیٹھے ہوئے) بدو کو تھما دیا اور فرمایا: ”دایاں، پھر (اس کے بعد والا) دایاں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5290]
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے جبکہ میں دس سال کا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی جبکہ میں بیس سال کا تھا اور میری مائیں مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت پر ابھارتی تھیں۔ آپ ہمارے ہاں ہمارے گھر میں داخل ہوئے تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے گھریلو بکری کا دودھ دوہا اور اس میں گھر کے کنویں سے پانی ملایا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نوش فرمایا، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا — جبکہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بائیں طرف تھے —: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ابوبکر کو دیجئے“، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ اعرابی کو دیا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں طرف تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «الْأَيْمَنَ فَالْأَيْمَنَ» ”دائیں کو پہلے پس دائیں کو پہلے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5290]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2029
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2029 ترقیم شاملہ: -- 5291
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرِ بْنِ حَزْمٍ أَبِي طُوَالَةَ الْأَنْصَارِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ، قَالَ: أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي دَارِنَا فَاسْتَسْقَى فَحَلَبْنَا لَهُ شَاةً، ثُمَّ شُبْتُهُ مِنْ مَاءِ بِئْرِي هَذِهِ، قَالَ: فَأَعْطَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَشَرِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ عَنْ يَسَارِهِ وَعُمَرُ وِجَاهَهُ وَأَعْرَابِيٌّ عَنْ يَمِينِهِ، فَلَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ شُرْبِهِ، قَالَ عُمَرُ: هَذَا أَبُو بَكْرٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ، يُرِيهِ إِيَّاهُ، فَأَعْطَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَعْرَابِيَّ وَتَرَكَ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْأَيْمَنُونَ الْأَيْمَنُونَ الْأَيْمَنُونَ "، قَالَ أَنَسٌ: فَهِيَ سُنَّةٌ فَهِيَ سُنَّةٌ فَهِيَ سُنَّةٌ.
ابوطوالہ عبداللہ بن عبدالرحمن انصاری سے روایت ہے، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کو حدیث بیان کرتے ہوئے سنا، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر میں آئے اور پانی مانگا۔ ہم نے بکری کا دودھ دوہا، پھر اس میں اپنے اس کنوئیں سے پانی ملایا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیا اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں طرف بیٹھے تھے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سامنے اور دائیں طرف ایک اعرابی تھا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیر ہو کر پی لیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے (سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ) کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یا رسول اللہ! یہ ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (باقی) اعرابی کو دیا اور سیدنا ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہ کو نہیں دیا اور فرمایا: ”دائیں طرف والے مقدم ہیں دائیں طرف والے، پھر دائیں طرف والے۔“ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہ سنت ہے، یہ سنت ہے، یہ سنت ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5291]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2029
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2030 ترقیم شاملہ: -- 5292
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِشَرَابٍ فَشَرِبَ مِنْهُ وَعَنْ يَمِينِهِ غُلَامٌ وَعَنْ يَسَارِهِ أَشْيَاخٌ، فَقَالَ لِلْغُلَامِ: " أَتَأْذَنُ لِي أَنْ أُعْطِيَ هَؤُلَاءِ؟ "، فَقَالَ الْغُلَامُ: لَا وَاللَّهِ لَا أُوثِرُ بِنَصِيبِي مِنْكَ أَحَدًا، قَالَ فَتَلَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَدِهِ.
امام مالک رحمہ اللہ نے ابوحازم سے، انہوں نے حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پینے کی کوئی چیز آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں طرف ایک لڑکا تھا اور بائیں طرف بڑے لوگ تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لڑکے سے فرمایا: ”تو مجھ کو بڑے لوگوں کو پہلے دینے کی اجازت دیتا ہے؟“ وہ بولا کہ نہیں اللہ کی قسم میں اپنا حصہ کسی دوسرے کو نہیں دینا چاہتا۔ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لڑکے کے ہاتھ میں دے دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5292]
حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مشروب پیش کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے نوش فرمایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں جانب ایک نوعمر لڑکا تھا اور بائیں طرف بڑی عمر کے افراد تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نوعمر لڑکے سے پوچھا: ”کیا تم مجھے اجازت دیتے ہو کہ میں ان کو دے دوں؟“ لڑکے نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملنے والے اپنے حصے پر میں کسی کو ترجیح نہیں دوں گا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اس کے ہاتھ میں تھما دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5292]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2030
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2030 ترقیم شاملہ: -- 5293
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ . ح وحَدَّثَنَاه قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيَّ كِلَاهُمَا، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ، وَلَمْ يَقُولَا فَتَلَّهُ وَلَكِنْ فِي رِوَايَةِ يَعْقُوبَ، قَالَ: فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ.
عبدالعزیز بن ابی حازم اور یعقوب بن عبدالرحمن القاری، دونوں نے ابوحازم سے، انہوں نے حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی، ان دونوں نے یہ نہیں کہا: آپ نے وہ (پیالہ اس کے ہاتھ پر) رکھ دیا، البتہ یعقوب کی روایت میں اس طرح ہے کہ آپ نے وہ (پیالہ) اسے عطا فرما دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5293]
امام صاحب رحمہ اللہ اپنے دو اور اساتذہ سے یہی روایت بیان کرتے ہیں، انہوں نے «فَتَلَهُ» ”اس نے اسے بٹا“۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5293]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2030
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
18. باب اسْتِحُبَابِ لَعْقِ الْأَصَابِعِ وَالْقَصْعَةِ، وَأَكُلِ اللُّقْمَةِ السَّاقِطَةِ بَعْدَ مَسْحِ مَا يُصِيبُهَا مِنّ أَذًي، وَّكَراهَةِ مَسْح الْيَدِ قَبْلَ لَعْقِهَا لِاحْتِمَالِ كَوْنِ بَرَكَةِ الطَّعَامِ فَي ذٰلِكَ الْبَاقِي وَ أَنَّ السُّنَّةُ الْأَكْلُ بِثَلَاثِ أَصَابِعَ
باب: کھانے (کے بعد) انگلیاں چاٹنا مستحبب ہے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2031 ترقیم شاملہ: -- 5294
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، قَالَ إِسْحَاقُ: أَخْبَرَنَا، وقَالَ الْآخَرُونَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ طَعَامًا فَلَا يَمْسَحْ يَدَهُ حَتَّى يَلْعَقَهَا أَوْ يُلْعِقَهَا ".
عمرو نے عطاء سے، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص کھانا کھائے تو اس وقت تک اپنا ہاتھ صاف نہ کرے جب تک اسے (اپنی انگلیوں کو) خود نہ چاٹ لے یا کسی اور کو نہ چٹوائے۔“ (جسے محبت ہو وہ چاٹ سکتا ہے۔) [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5294]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو تم میں سے کوئی ایک کھانا کھائے تو وہ اپنا ہاتھ (انگلیاں) چاٹے یا چٹائے بغیر اپنا ہاتھ صاف نہ کرے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5294]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2031
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2031 ترقیم شاملہ: -- 5295
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَاصِمٍ جَمِيعًا، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ . ح وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَطَاءً ، يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ مِنَ الطَّعَامِ فَلَا يَمْسَحْ يَدَهُ حَتَّى يَلْعَقَهَا أَوْ يُلْعِقَهَا ".
ابن جریج نے ہمیں حدیث سنائی، کہا: میں نے عطاء سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص کھانا کھائے تو وہ اس وقت تک اپنا ہاتھ صاف نہ کرے، جب تک اسے خود نہ چاٹ لے یا کسی اور کو نہ چٹوائے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5295]
امام صاحب مختلف سندوں سے بیان کرتے ہیں، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی کھانا کھائے تو اس وقت تک اپنا ہاتھ صاف نہ کرے، جب تک اسے چاٹ نہ لے یا چٹوا نہ لے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5295]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2031
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2032 ترقیم شاملہ: -- 5296
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: " رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلْعَقُ أَصَابِعَهُ الثَّلَاثَ مِنَ الطَّعَامِ "، وَلَمْ يَذْكُرْ ابْنُ حَاتِمٍ الثَّلَاثَ، وَقَالَ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ: فِي رِوَايَتِهِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ أَبِيهِ.
ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب اور محمد بن حاتم نے کہا: ہمیں ابن مہدی نے سفیان سے حدیث بیان کی، انہوں نے سعد بن ابراہیم سے، انہوں نے حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کے بیٹے سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی، کہا: میں نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھانے کے بعد اپنی تین انگلیاں چاٹ رہے تھے۔ ابن حاتم نے تین کا ذکر نہیں کیا، اور ابوبکر بن ابی شیبہ کی روایت میں (ابن کعب بن مالک کے بجائے) عبدالرحمان بن کعب سے روایت ہے، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی، کے الفاظ ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5296]
حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانا کھانے کے بعد اپنی تین انگلیاں چاٹتے دیکھا۔ ابن حاتم نے تین کا لفظ استعمال نہیں کیا اور ابن ابی شیبہ نے اپنی روایت میں ابن کعب کی جگہ عبدالرحمٰن بن کعب کہا۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5296]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2032
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں