صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
14. باب فِي طَرْحِ الْخَوَاتِمِ:
باب: انگوٹھیاں پھینکنے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 2093 ترقیم شاملہ: -- 5485
حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْعَمِّيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
ابوعاصم نے ابن جریج سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5485]
امام صاحب رحمہ اللہ ایک اور استاد سے یہی حدیث نقل کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5485]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2093
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
15. باب فِي خَاتَمِ الْوَرِقِ فَصُّهُ حَبَشِيٌّ:
باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی چاندی کی انگوٹھی کا بیان اس کا نگینہ حبشی تھا۔
ترقیم عبدالباقی: 2094 ترقیم شاملہ: -- 5486
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ الْمِصْرِيُّ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قال: " كَانَ خَاتَمُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ وَرِقٍ وَكَانَ فَصُّهُ حَبَشِيًّا ".
عبداللہ بن وہب مصری نے کہا: مجھے یونس بن یزید نے ابن شہاب سے خبر دی، کہا: مجھے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی چاندی کی تھی اور اس کا نگینہ حبش کا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5486]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی چاندی کی تھی اور اس کا نگینہ حبشی تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5486]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2094
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2094 ترقیم شاملہ: -- 5487
وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَبَّادُ بْنُ مُوسَى ، قالا: حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَي َهُوَ الْأَنْصَارِيُّ ثم الزرقي ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : " أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَبِسَ خَاتَمَ فِضَّةٍ فِي يَمِينِهِ فِيهِ فَصٌّ حَبَشِيٌّ، كَانَ يَجْعَلُ فَصَّهُ مِمَّا يَلِي كَفَّهُ ".
طلحہ بن یحییٰ انصاری نے یونس سے، انہوں نے ابن شہاب سے، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دائیں ہاتھ میں چاندی کی ایک انگوٹھی پہنی، اس میں حبش کا نگینہ تھا، آپ اس کے نگینے کو ہتھیلی کی طرف رکھا کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5487]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی انگوٹھی اپنے دائیں ہاتھ میں پہنی، جس میں حبشی نگینہ تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے نگینے کو ہتھیلی کی طرف کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5487]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2094
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2094 ترقیم شاملہ: -- 5488
وحدثني زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَ حَدِيثِ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَي.
سلیمان بن بلال نے یونس بن یزید سے اسی سند کے ساتھ طلحہ بن یحییٰ کی حدیث کے مانند بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5488]
امام صاحب ایک اور استاد سے یہی روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5488]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2094
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
16. باب فِي لُبْسِ الْخَاتَمِ فِي الْخِنْصَرِ مِنَ الْيَدِ:
باب: بائیں ہاتھ کی چھنگلیا میں انگوٹھی پہننے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 2095 ترقیم شاملہ: -- 5489
وحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قال: " كَانَ خَاتَمُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذِهِ وَأَشَارَ إِلَى الْخِنْصِرِ مِنْ يَدِهِ الْيُسْرَى ".
ثابت نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی اس انگلی میں تھی، یہ کہہ کر انہوں نے بائیں ہاتھ کی چھنگلی کی طرف اشارہ کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5489]
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی اس میں تھی اور اپنے بائیں ہاتھ کی چھنگلی کی طرف اشارہ کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5489]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2095
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
17. باب النَّهْيِ عَنِ التَّخَتُّمِ فِي الْوُسْطَى وَالَّتِي تَلِيهَا:
باب: بڑی انگلی اور اس کے ساتھ والی انگلی میں انگوٹھی پہننے کی ممانعت۔
ترقیم عبدالباقی: 2078 ترقیم شاملہ: -- 5490
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ جَمِيعًا، عَنْ ابْنِ إِدْرِيسَ، وَاللَّفْظُ لِأَبِي كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، قال: سَمِعْتُ عَاصِمَ بْنَ كُلَيْبٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ: " نَهَانِي يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَجْعَلَ خَاتَمِي فِي هَذِهِ أَوِ الَّتِي تَلِيهَا، لَمْ يَدْرِ عَاصِمٌ فِي أَيِّ الثِّنْتَيْنِ "، " وَنَهَانِي عَنْ لُبْسِ الْقَسِّيِّ، وَعَنْ جُلُوسٍ عَلَى الْمَيَاثِرِ "، قَالَ: فَأَمَّا الْقَسِّيِّ فَثِيَابٌ مُضَلَّعَةٌ يُؤْتَى بِهَا مِنْ مِصْرَ وَالشَّامِ فِيهَا شِبْهُ كَذَا، وَأَمَّا الْمَيَاثِرُ فَشَيْءٌ كَانَتْ تَجْعَلُهُ النِّسَاءُ لِبُعُولَتِهِنَّ عَلَى الرَّحْلِ كَالْقَطَائِفِ الْأُرْجُوَانِ.
ابن ادریس نے کہا: میں نے عاصم بن کلیب سے سنا، انہوں نے ابوبردہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: آپ یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس انگلی یا اس کے پاس والی انگلی میں انگوٹھی پہننے سے منع فرمایا۔ عاصم کو یہ یاد نہیں رہا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کون سی دو انگلیوں میں (پہننے سے منع کیا تھا)۔ اور آپ نے مجھے قس کے ریشمی کپڑے پہننے اور ریشمی گدوں پر بیٹھنے سے منع فرمایا۔ انہوں نے (حضرت علی رضی اللہ عنہ) نے کہا «قَسَي» (ریشمی) دھاریوں والا کپڑا مصر اور شام سے آتا تھا، اس میں کچھ شبیہیں (تصویروں جیسے نقش و نگار) ہوتی ہیں۔ اور میاثر اس کہتے ہیں جو عورتیں اپنے خاوندوں کی خاطر زین پر رکھنے کے لیے بناتی تھیں، جس طرح ارغوانی رنگ کے گدے ہوں۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5490]
حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے آپ نے یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا کہ ”میں انگوٹھی اس میں یا اس کے ساتھ والی میں ڈالوں“ عاصم کو معلوم نہیں وہ کون سی انگلیاں ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ”قسی پہننے سے اور ریشمی زین پوشوں پر بیٹھنے سے منع فرمایا“ اور بتایا قسی سے مراد وہ چار خانہ دار کپڑے ہیں جو مصر اور شام سے آتے تھے، ان میں اس قسم کی تصویر ہوتی، رہے میاثر تو یہ ایک چیز ہے جو عورتیں اپنے خاوندوں کے پالان پر ڈالتی تھیں، جس طرح ارغوانی چادریں ہوتی ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5490]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2078
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2078 ترقیم شاملہ: -- 5491
وحدثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ ، عَنْ ابْنٍ لَأَبِي مُوسَى ، قال: سَمِعْتُ عَلِيًّا ، فَذَكَرَ هَذَا الْحَدِيثَ عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ.
سفیان نے عاصم بن کلیب سے، انہوں نے ابوموسیٰ (اشعری رضی اللہ عنہ) کے ایک بیٹے سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے سنا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مطابق روایت کی۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5491]
امام صاحب رحمہ اللہ ایک اور استاذ سے یہ حدیث بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5491]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2078
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2078 ترقیم شاملہ: -- 5492
وحدثنا ابْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ ، قال: سَمِعْتُ أَبَا بُرْدَةَ ، قال: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ ، قال: نَهَى أَوْ نَهَانِي يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ نَحْوَهُ.
شعبہ نے عاصم بن کلیب سے روایت کی، کہا: میں نے ابوبردہ رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا: میں نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا: منع فرمایا، یا مجھے منع فرمایا، ان کی مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے تھی (اس کے بعد) اسی طرح بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5492]
حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”منع فرمایا“ یا ”مجھے روکا“، آگے مذکورہ بالا روایت ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5492]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2078
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2095 ترقیم شاملہ: -- 5493
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، قال: قَالَ عَلِيٌّ : " نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَتَخَتَّمَ فِي إِصْبَعِي هَذِهِ أَوْ هَذِهِ، قَالَ: فَأَوْمَأَ إِلَى الْوُسْطَى وَالَّتِي تَلِيهَا ".
ابواحوص نے عاصم بن کلیب سے، انہوں نے ابوبردہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: حضرت علی رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا تھا کہ میں ان دونوں میں سے کسی انگلی میں انگوٹھی پہنوں، پھر انہوں نے درمیانی اور (انگوٹھے کی طرف سے) اس کے ساتھ والی انگلی کی طرف اشارہ کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5493]
حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ”میری اس انگلی یا اس انگلی میں انگوٹھی پہننے سے منع فرمایا“ اور درمیانی انگلی اور اس کے ساتھ والی (انگشتِ شہادت) کی طرف اشارہ کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5493]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2095
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
18. بَابُ اسْتِحُبَابِ لُبْسِ النَّعَالِ وَمَا فِي مَعْنَاهَا
باب: جوتا پہننے کے مستحب ہونے کے بیان میں۔
ترقیم عبدالباقی: 2096 ترقیم شاملہ: -- 5494
حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قال: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ فِي غَزْوَةٍ غَزَوْنَاهَا: " اسْتَكْثِرُوا مِنَ النِّعَالِ، فَإِنَّ الرَّجُلَ لَا يَزَالُ رَاكِبًا مَا انْتَعَلَ ".
ابوزبیر نے حضرت جابر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہا: میں نے ایک غزوے کے دوران میں، جو ہم نے لڑا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”کثرت سے (اکثر اوقات) جوتے پہنا کرو، کیونکہ آدمی جب تک جوتے پہن کر رکھتا ہے سوار ہوتا ہے۔ (اس کے پاؤں اسی طرح محفوظ رہتے ہیں جس طرح سوار کے اور وہ سوار ہی کی طرح تیزی سے چل سکتا ہے۔)“ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5494]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ایک غزوے میں جو ہم نے کیا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ فرماتے سنا: ”جوتے خوب استعمال کرو، بکثرت پہنو، کیونکہ انسان جب تک جوتا پہنے رہتا ہے، وہ گویا سوار ہوتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5494]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2096
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة