صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
6. باب التَّوَاضُعِ فِي اللِّبَاسِ وَالاِقْتِصَارِ عَلَى الْغَلِيظِ مِنْهُ وَالْيَسِيرِ فِي اللِّبَاسِ وَالْفِرَاشِ وَغَيْرِهِمَا وَجَوَازِ لُبْسِ الثَّوْبِ الشَّعَرِ وَمَا فِيهِ أَعْلاَمٌ:
باب: لباس میں تواضع اختیار کرنے اور سادہ اور موٹا کپڑا پہننے کے بیان میں۔
ترقیم عبدالباقی: 2081 ترقیم شاملہ: -- 5445
وحَدَّثَنِي سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ زَكَرِيَّاءَ بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ . ح وحَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ . ح وحدثنا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّاءَ ، أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ شَيْبَةَ ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ غَدَاةٍ وَعَلَيْهِ مِرْطٌ مُرَحَّلٌ مِنْ شَعَرٍ أَسْوَدَ ".
صفیہ بنت شیبہ رضی اللہ عنہا نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: ایک صبح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح باہر نکلے کہ آپ کے جسم پر ایک موٹی مربع لکیروں والی کالے بالوں سے بنی ہوئی چادر تھی۔ (عام سی کھردری اور کم قیمت چادر۔) [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5445]
امام صاحب مختلف اساتذہ کی سندوں سے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے بیان کرتے ہیں کہ ایک صبح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیاہ بالوں کا کمبل جس پر پالان کی تصویر بنی ہوئی تھی، اوڑھ کر نکلے۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5445]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2081
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2082 ترقیم شاملہ: -- 5446
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " كَانَ وِسَادَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي يَتَّكِئُ عَلَيْهَا مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ ".
عبدہ بن سلیمان نے ہمیں ہشام بن عروہ سے حدیث سنائی، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تکیہ جس کے ساتھ آپ ٹیک لگاتے تھے چمڑے کا بنا ہوا تھا جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5446]
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ گاؤ تکیہ جس پر آپ ٹیک لگاتے تھے، چمڑے کا تھا، جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5446]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2082
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2082 ترقیم شاملہ: -- 5447
وحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " إِنَّمَا كَانَ فِرَاشُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي يَنَامُ عَلَيْهِ أَدَمًا حَشْوُهُ لِيفٌ ".
علی بن مسہر نے ہمیں ہشام بن عروہ سے خبر دی، انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بستر (گدا) جس پر آپ سوتے تھے، چمڑے کا تھا جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5447]
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بستر جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوتے تھے، محض چمڑے کا تھا، جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5447]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2082
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2082 ترقیم شاملہ: -- 5448
وحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ . ح وحدثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ كِلَاهُمَا ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَا: ضِجَاعُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ يَنَامُ عَلَيْهِ.
ابن نمیر اور ابومعاویہ دونوں نے ہمیں ہشام بن عروہ سے اسی سند کے ساتھ خبر دی اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا استراحت کا بچھونا۔ اور ابومعاویہ کی حدیث میں ہے: جس پر آپ سوتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5448]
یہی روایت امام صاحب اپنے دو اور اساتذہ سے بیان کرتے ہیں، اس میں فِراش کی جگہ ضِجَاع ہے، جس پر لیٹا جاتا ہے اور ابو معاویہ کی حدیث میں، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5448]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2082
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
7. باب جَوَازِ اتِّخَاذِ الأَنْمَاطِ:
باب: قالین یا سوزینوں کے جواز کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 2083 ترقیم شاملہ: -- 5449
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وإسحاق بن إبراهيم، واللفظ لعمرو وَقَالَ عَمْرٌو وَقُتَيْبَةُ : حَدَّثَنَا، وَقَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قال: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَمَّا تَزَوَّجْتُ اتَّخَذْتَ أَنْمَاطًا؟ "، قُلْتُ: وَأَنَّى لَنَا أَنْمَاطٌ، قَالَ: " أَمَا إِنَّهَا سَتَكُونُ ".
قتیبہ بن سعید، عمرو ناقد اور اسحٰق بن ابراہیم نے کہا: ہمیں سفیان نے ابن منکدر سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہا: جب میں نے شادی کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا: ”کیا تم نے بچھونوں کے غلاف بنائے ہیں؟“ میں نے عرض کی: ہمارے پاس غلاف کہاں سے آئے؟ آپ نے فرمایا: ”اب عنقریب ہوں گے۔“ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5449]
حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، جب میں نے شادی کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دریافت فرمایا: ”کیا تم نے قالین رکھے ہیں؟“ میں نے عرض کیا، ہمارے ہاں قالین کہاں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، اب جلد ہی ہوں گے۔“ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5449]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2083
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2083 ترقیم شاملہ: -- 5450
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قال: لَمَّا تَزَوَّجْتُ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اتَّخَذْتَ أَنْمَاطًا؟ "، قُلْتُ: وَأَنَّى لَنَا أَنْمَاطٌ، قَالَ: " أَمَا إِنَّهَا سَتَكُونُ "، قَالَ جَابِرٌ: وَعِنْدَ امْرَأَتِي نَمَطٌ، فَأَنَا أَقُولُ نَحِّيهِ عَنِّي، وَتَقُولُ قَدْ، قَالَ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهَا سَتَكُونُ.
وکیع نے ہمیں سفیان سے حدیث بیان کی، انہوں نے محمد بن منکدر سے انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہا: جب میں نے شادی کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا: ”کیا تم نے بچھونوں کے غلاف بنائے ہیں؟“ میں نے عرض کی: ہمارے پاس غلاف کہاں سے آئے؟ آپ نے فرمایا: ”اب عنقریب ہو جائیں گے۔“ حضرت جابر رضی اللہ عنہما نے کہا: میری بیوی کے پاس ایک غلاف تھا میں اس سے کہتا تھا: اسے مجھ سے دور رکھو، اور وہ کہتی تھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”عنقریب غلاف ہوا کریں گے۔“ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5450]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں، جب میں نے شادی کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”کیا تم نے قالین رکھے ہیں؟“ میں نے عرض کیا، ہمارے پاس قالین کہاں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، یہ عنقریب ہوں گے۔“ حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں، میری بیوی کے پاس ایک غالیچہ ہے، میں کہتا ہوں، اسے مجھ سے دور کر دو، وہ کہتی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرما چکے ہیں ”یہ عنقریب ہوں گے۔“ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5450]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2083
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2083 ترقیم شاملہ: -- 5451
وحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَزَادَ فَأَدَعُهَا.
عبدالرحمن نے کہا: ہمیں سفیان نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور یہ اضافہ کیا: تو میں اسے (اس کے حال پر) چھوڑ دیتا۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5451]
امام صاحب یہی روایت ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں، اس میں یہ اضافہ ہے تو میں اسے چھوڑ دیتا ہوں، یعنی قالین کو گھر سے نہیں نکالتا۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5451]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2083
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
8. باب كَرَاهَةِ مَا زَادَ عَلَى الْحَاجَةِ مِنَ الْفِرَاشِ وَاللِّبَاسِ:
باب: حاجت سے زیادہ بچھونے اور لباس بنانا مکروہ ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 2084 ترقیم شاملہ: -- 5452
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو هَانِئٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، يَقُولُ: عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَهُ فِرَاشٌ لِلرَّجُلِ، وَفِرَاشٌ لِامْرَأَتِهِ، وَالثَّالِثُ لِلضَّيْفِ، وَالرَّابِعُ لِلشَّيْطَانِ ".
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”ایک بستر مرد کے لیے ہے ایک اس کی بیوی کے لیے تیسرا بستر مہمان کے لیے اور چوتھا بستر شیطان کے لیے ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5452]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا: ”ایک بستر خاوند کے لیے اور ایک بستر اس کی بیوی کے لیے اور تیسرا مہمان کے لیے اور چوتھا شیطان کے لیے ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5452]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2084
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
9. باب تَحْرِيمِ جَرِّ الثَّوْبِ خُيَلاَءَ وَبَيَانِ حَدِّ مَا يَجُوزُ إِرْخَاؤُهُ إِلَيْهِ وَمَا يُسْتَحَبُّ:
باب: غرور سے (ٹخنوں سے نیچے) کپڑا لٹکانے کی حرمت کے بیان میں اور اس کا بیان کہ کہاں تک کپڑا لٹکانا مستحب ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 2085 ترقیم شاملہ: -- 5453
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، قال: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، وَزَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ كلهم يخبره، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَى مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ خُيَلَاءَ ".
امام مالک نے نافع عبداللہ بن دینار اور زید بن اسلم سے روایت کی، ان سب نے انہیں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص تکبر سے کپڑا گھسیٹ کر چلے اللہ تعالیٰ اس کی طرف نظر تک نہیں کرے گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5453]
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو انسان تکبر اور گھمنڈ سے اپنا کپڑا گھسیٹتا ہے، اللہ تعالیٰ اس پر نظر رحمت نہیں ڈالتا۔“ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5453]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2085
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2085 ترقیم شاملہ: -- 5454
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو أُسَامَةَ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، قالا: حَدَّثَنَا يَحْيَي وَهُوَ الْقَطَّانُ كلهم، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ . ح وحدثنا أَبُو الرَّبِيعِ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ . ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُكِلَاهُمَا، عَنْ أَيُّوبَ . ح وحدثنا قُتَيْبَةُ ، وَابْنُ رُمْحٍ ، عَنْ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ . ح وحدثنا هَارُونُ الْأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي أُسَامَةُ كُلُّ هَؤُلَاءِ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بمثل حديث مَالِكٍ وَزَادُوا فِيهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.
عبید اللہ ایوب لیث بن سعد اور اسامہ ان سب نے نافع سے انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مالک کی حدیث کی طرح روایت کی اور یہ اضافہ کیا: قیامت کے دن (نظر نہیں کرے گا۔) [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5454]
امام صاحب اپنے مختلف اساتذہ کی سات (7) سندوں سے یہی حدیث بیان کرتے ہیں اور انہوں نے اس میں يوم القيامه، [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5454]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2085
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة