🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
8. باب كَرَاهَةِ قَوْلِ الْمُسْتَأْذِنِ أَنَا. إِذَا قِيلَ مَنْ هَذَا:
باب: جب کوئی باہر سے پکارے اور اندر سے پوچھیں کون ہے تو اس کے جواب میں اپنا نام لے، میں ہوں کہنا مکروہ ہے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2155 ترقیم شاملہ: -- 5636
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَكْرٍ، قَالَ يَحْيَي: أَخْبَرَنَا، وقَالَ أَبُو بَكْرٍ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قال: اسْتَأْذَنْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " مَنْ هَذَا؟ "، فَقُلْتُ: أَنَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنَا أَنَا ".
وکیع نے شعبہ سے، انہوں نے محمد بن منکدر سے، انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں اجازت طلب کی، آپ نے فرمایا: یہ کون ہے؟ میں نے کہا: میں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں، میں! (سے کیا پتہ چل سکتا ہے؟) [صحيح مسلم/كتاب الآداب/حدیث: 5636]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حاضری کی اجازت طلب کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کون ہے؟ میں نے کہا: میں ہوں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «أَنَا، أَنَا» میں، میں۔ [صحيح مسلم/كتاب الآداب/حدیث: 5636]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2155
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2155 ترقیم شاملہ: -- 5637
وحدثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، وَأَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنِي وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ . ح وحَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ كُلُّهُمْ، عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَفِي حَدِيثِهِمْ كَأَنَّهُ كَرِهَ ذَلِكَ.
نضر بن شمیل، ابوعامر عقدی، وہب بن جریر اور بہز، سب نے شعبہ سے اسی سند کے ساتھ روایت کی، ان سب کی حدیث میں (یہ جملہ بھی) ہے: جیسے آپ نے اس کو ناپسند فرمایا ہو۔ [صحيح مسلم/كتاب الآداب/حدیث: 5637]
امام صاحب کو یہ روایت تین اور اساتذہ نے سنائی، ان سب کی روایت ہے، گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے جواب کو پسند نہیں فرمایا۔ [صحيح مسلم/كتاب الآداب/حدیث: 5637]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2155
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
9. باب تَحْرِيمِ النَّظَرِ فِي بَيْتِ غَيْرِهِ:
باب: غیر کے گھر میں جھانکنا حرام ہے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2156 ترقیم شاملہ: -- 5638
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، قالا: أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، وَاللَّفْظُ لِيَحْيَي. ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ أَخْبَرَهُ، أَنَّ رَجُلًا اطَّلَعَ فِي جُحْرٍ فِي بَابِ ِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِدْرًى يَحُكُّ بِهِ رَأْسَهُ، فَلَمَّا رَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَوْ أَعْلَمُ أَنَّكَ تَنْتَظِرُنِي لَطَعَنْتُ بِهِ فِي عَيْنِكَ "، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا جُعِلَ الْإِذْنُ مِنْ أَجْلِ الْبَصَرِ ".
لیث نے ابن شہاب سے روایت کی کہ حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے کی جھری میں اندر جھانک کر دیکھا، اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس (لکڑی یا لوہے کا لمبی لمبی کئی نوکوں والا) بال درست کرنے کا ایک آلہ تھا جس سے آپ سر کھجا رہے تھے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو دیکھا تو فرمایا: اگر مجھے یقینی طور پر پتہ چل جاتا کہ تم مجھے دیکھ رہے ہو تو میں اس کو تمہاری آنکھوں میں گھسا دیتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اجازت لینے کا طریقہ آنکھ ہی کی وجہ سے تو رکھا گیا ہے۔ (کہ آنکھ کسی خلوت کے عالم میں نہ دیکھ سکے۔) [صحيح مسلم/كتاب الآداب/حدیث: 5638]
حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے کے روزن (جھری) سے جھانکا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھرکھرا تھا، جس سے آپ اپنے سر کو کھجلا رہے تھے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا تو فرمایا: اگر مجھے معلوم ہو جاتا کہ تم مجھے دیکھ رہے ہو تو میں اس سے تیری آنکھ کا نشانہ لیتا۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نظر سے بچنے کی خاطر اللہ تعالیٰ نے اجازت کا حکم دیا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الآداب/حدیث: 5638]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2156
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2156 ترقیم شاملہ: -- 5639
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ الْأَنْصَارِيَّ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَجُلًا اطَّلَعَ مِنْ جُحْرٍ فِي بَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِدْرًى يُرَجِّلُ بِهِ رَأْسَهُ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْ أَعْلَمُ أَنَّكَ تَنْظُرُ طَعَنْتُ بِهِ فِي عَيْنِكَ، إِنَّمَا جَعَلَ اللَّهُ الْإِذْنَ مِنْ أَجْلِ الْبَصَرِ ".
یونس نے ابن شہاب سے روایت کی کہ سہل بن سعد انصاری رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے میں بن جانے والی جھری میں سے جھانک کر دیکھا، اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بال درست کرنے والا لوہے کا ایک آلہ تھا جس سے آپ سر کے بالوں کو سنوار رہے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: اگر میں جان لیتا کہ تو واقعی مجھے دیکھ رہے ہو تو میں اس کو تمہاری آنکھوں میں چبھو دیتا۔ اللہ نے اجازت لینے کا طریقہ آنکھ ہی کے لیے تو رکھا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الآداب/حدیث: 5639]
حضرت سہل بن سعد انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے کے سوراخ سے اندر جھانکا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لوہے کا کنگھا تھا، جس سے اپنے سر میں کنگھی کر رہے تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: اگر مجھے معلوم ہو جاتا کہ تم دیکھ رہے ہو تو میں اسے تیری آنکھوں میں مارتا، اللہ تعالیٰ نے اجازت نظر بازی سے بچنے ہی کے لیے مقرر کی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الآداب/حدیث: 5639]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2156
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2156 ترقیم شاملہ: -- 5640
وحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ . ح وحدثنا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ كِلَاهُمَا، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ حَدِيثِ اللَّيْثِ وَيُونُسَ.
سفیان بن عیینہ اور معمر دونوں نے زہری سے انہوں نے حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لیث اور یونس کی حدیث کی طرح روایت کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الآداب/حدیث: 5640]
امام صاحب کے پانچ اساتذہ نے مذکورہ بالا روایت سنائی۔ [صحيح مسلم/كتاب الآداب/حدیث: 5640]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2156
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2157 ترقیم شاملہ: -- 5641
حَدَّثَنَا يَحْيي بْنُ يَحْيَي ، وَأَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَاللَّفْظُ لِيَحْيَي، وَأَبِي كَامِلٍ، قَالَ يَحْيَي: أَخْبَرَنَا، وقَالَ الْآخَرَانِ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، " أَنَّ رَجُلًا اطَّلَعَ مِنْ بَعْضِ حُجَرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ إِلَيْهِ بِمِشْقَصٍ أَوْ مَشَاقِصَ فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْتِلُهُ لِيَطْعُنَهُ ".
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرے میں جھانک کر دیکھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چوڑے پھل کا ایک تیر یا کئی تیر لے کر اٹھے جیسے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہا ہوں کہ آپ خاموشی سے اس کی آنکھوں میں وہ تیر چبھونے کے امکان کا جائزہ لے رہے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الآداب/حدیث: 5641]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی کمرے کے اندر سے جھانکا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف تیر لے کر لپکے، گویا کہ میں دیکھ رہا ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو تیر مارنے کے لیے حیلہ یا تدبیر کر رہے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الآداب/حدیث: 5641]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2157
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2158 ترقیم شاملہ: -- 5642
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنِ اطَّلَعَ فِي بَيْتِ قَوْمٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِمْ فَقَدْ حَلَّ لَهُمْ أَنْ يَفْقَئُوا عَيْنَهُ ".
سہیل کے والد ابوصالح نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: جس نے اجازت کے بغیر لوگوں کے گھر میں تانک جھانک کی، انہیں اجازت ہے کہ وہ اس کی آنکھ پھوڑ دیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الآداب/حدیث: 5642]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو انسان کسی کے گھر میں ان کی اجازت کے بغیر جھانکتا ہے تو ان کے لیے جائز ہے کہ وہ اس کی آنکھ پھوڑ دیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الآداب/حدیث: 5642]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2158
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2158 ترقیم شاملہ: -- 5643
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَوْ أَنَّ رَجُلًا اطَّلَعَ عَلَيْكَ بِغَيْرِ إِذْنٍ، فَخَذَفْتَهُ بِحَصَاةٍ فَفَقَأْتَ عَيْنَهُ مَا كَانَ عَلَيْكَ مِنْ جُنَاحٍ ".
اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر کوئی شخص اجازت کے بغیر تمہارے ہاں جھانکے اور تم کنکری مار کر اس کی آنکھ پھوڑ دو تو تم پر کوئی گناہ نہیں ہے (کوئی سزا یا جرمانہ نہیں۔) [صحيح مسلم/كتاب الآداب/حدیث: 5643]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر کوئی انسان تمہاری اجازت کے بغیر تم پر جھانکے اور تم اس کو کنکر مار کر، اس کی آنکھ پھوڑ دو تو تم پر کوئی گناہ یا تنگی نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الآداب/حدیث: 5643]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2158
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
10. باب نَظَرِ الْفَجْأَةِ:
باب: جو نظر دفعتاً پڑ جائے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2159 ترقیم شاملہ: -- 5644
حَدَّثَنِي قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ . ح وحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ كِلَاهُمَا، عَنْ يُونُسَ . ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قال: " سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَظَرِ الْفُجَاءَةِ، فَأَمَرَنِي أَنْ أَصْرِفَ بَصَرِي ".
یزید بن زریع، اسماعیل بن علیہ اور ہشیم نے یونس سے، انہوں نے عمرو بن سعید سے، انہوں نے ابوزرعہ سے، انہوں نے حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اچانک نظر پڑ جانے کے بارے میں پوچھا تو آپ نے مجھے حکم دیا کہ میں اپنی نظر ہٹا لوں۔ [صحيح مسلم/كتاب الآداب/حدیث: 5644]
امام صاحب اپنے مختلف اساتذہ کی سندوں سے حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اچانک نظر پڑ جانے کے بارے میں سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنی نظر پھیرنے یا ہٹانے کا حکم دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الآداب/حدیث: 5644]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2159
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2159 ترقیم شاملہ: -- 5645
وحدثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، وَقَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ كِلَاهُمَا، عَنْ يُونُسَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
عبدالاعلیٰ اور سفیان دونوں نے یونس سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الآداب/حدیث: 5645]
امام صاحب رحمہ اللہ کو ایک اور استاذ نے یہی روایت سنائی۔ [صحيح مسلم/كتاب الآداب/حدیث: 5645]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2159
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں