🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. باب اسْتِحْبَابِ تَغْيِيرِ الاِسْمِ الْقَبِيحِ إِلَى حَسَنٍ وَتَغْيِيرِ اسْمِ بَرَّةَ إِلَى زَيْنَبَ وَجُوَيْرِيَةَ وَنَحْوِهِمَا:
باب: برے نام کا بدل ڈالنا مستحب ہے اور برّہ کو زینب سے بدلنے کے استحباب کے بیان میں۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2140 ترقیم شاملہ: -- 5606
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، وَاللَّفْظُ لِعَمْرٍو، قالا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قال: " كَانَتْ جُوَيْرِيَةُ اسْمُهَا بَرَّةُ، فَحَوَّلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْمَهَا جُوَيْرِيَةَ، وَكَانَ يَكْرَهُ أَنْ يُقَالَ خَرَجَ مِنْ عِنْدَ بَرَّةَ "، وَفِي حَدِيثِ ابْنِ أَبِي عُمَرَ، عَنْ كُرَيْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ.
عمرو ناقد اور ابن ابی عمر نے حدیث بیان کی۔ الفاظ عمرو کے ہیں۔ دونوں نے کہا: ہمیں سفیان نے آل طلحہ کے آزاد کردہ غلام محمد بن عبدالرحمان سے حدیث بیان کی، انہوں نے کریب سے، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہا: (پہلے ام المؤمنین حضرت) جویریہ رضی اللہ عنہا کا نام (برہ) تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام بدل کر جویریہ رکھ دیا۔ آپ کو پسند نہ تھا کہ اس طرح کہا جائے کہ آپ برہ (نیکیوں والی) کے ہاں سے نکل گئے۔ ابن ابی عمر کی حدیث میں ہے: کریب سے روایت ہے، کہا: میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا۔ [صحيح مسلم/كتاب الآداب/حدیث: 5606]
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضرت جویریہ کا نام بره تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نام بدل کر جویریہ رکھا اور آپ اس بات کو ناپسند کرتے تھے کہ کہا جائے، آپ کے پاس سے برہ چلی گئی، ابن ابی عمرہ کی روایت میں عن كريب عن ابن عباس [صحيح مسلم/كتاب الآداب/حدیث: 5606]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2140
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2141 ترقیم شاملہ: -- 5607
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ ، سَمِعْتُ أَبَا رَافِعٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ . ح وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حدثنا أبى ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : " أَنَّ زَيْنَبَ كَانَ اسْمُهَا بَرَّةَ، فَقِيلَ تُزَكِّي نَفْسَهَا، فَسَمَّاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْنَبَ ". وَلَفْظُ الْحَدِيثِ لِهَؤُلَاءِ دُونَ ابْنِ بَشَّارٍ، وقَالَ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ .
ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن مثنیٰ اور محمد بن بشار نے کہا: ہمیں محمد بن جعفر نے حدیث بیان کی، محمد بن جعفر اور عبیداللہ کے والد معاذ نے شعبہ سے، انہوں نے عطاء بن ابی میمونہ سے، انہوں نے ابورافع سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ حضرت زینب (بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہا) کا نام برہ تھا تو کہا گیا کہ وہ (نام بتاتے وقت خود) اپنی پارسائی بیان کرتی ہیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام زینب رکھ دیا۔ حدیث کے الفاظ ابن بشار کے علاوہ باقی سب کے (بیان کردہ) ہیں۔ ابن ابی شیبہ نے کہا: ہمیں محمد بن جعفر نے شعبہ سے حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الآداب/حدیث: 5607]
امام صاحب اپنے چار اساتذہ کی دو سندوں سے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الآداب/حدیث: 5607]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2141
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2142 ترقیم شاملہ: -- 5608
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ . ح وحدثنا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، قالا: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ، حَدَّثَتْنِي زَيْنَبُ بِنْتُ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: كَانَ اسْمِي بَرَّةَ، فَسَمَّانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْنَبَ، قَالَتْ: " وَدَخَلَتْ عَلَيْهِ زَيْنَبُ بِنْتُ جَحْشٍ، وَاسْمُهَا بَرَّةُ، فَسَمَّاهَا زَيْنَبَ ".
ولید بن کثیر نے کہا: مجھے محمد بن عمرو بن عطاء نے حدیث بیان کی، کہا: مجھے حضرت زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بتایا، کہا: میرا نام برہ تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا نام زینب رکھ دیا۔ انہوں نے کہا: جب زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا آپ کے حبالہ عقد میں داخل ہوئیں تو ان کا نام بھی برہ تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام بھی زینب رکھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الآداب/حدیث: 5608]
حضرت زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں، میرا نام بره تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا نام زینب رکھا اور بیان کرتی ہیں، آپ کے نکاح میں حضرت زینب بنت حجش رضی اللہ تعالی عنہا آئیں، ان کا نام بره تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نام زینب رکھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الآداب/حدیث: 5608]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2142
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2142 ترقیم شاملہ: -- 5609
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ، قال: سَمَّيْتُ ابْنَتِي بَرَّةَ، فَقَالَتْ لِي زَيْنَبُ بِنْتُ أَبِي سَلَمَةَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ هَذَا الِاسْمِ وَسُمِّيتُ بَرَّةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تُزَكُّوا أَنْفُسَكُمُ اللَّهُ أَعْلَمُ بِأَهْلِ الْبِرِّ مِنْكُمْ "، فَقَالُوا: بِمَ نُسَمِّيهَا، قَالَ: " سَمُّوهَا زَيْنَبَ ".
یزید بن ابی حبیب نے محمد بن عمرو بن عطاء سے روایت کی، کہا: میں نے اپنی بیٹی کا نام برہ رکھا تو حضرت زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہا نے مجھ سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نام رکھنے سے منع فرمایا ہے۔ اور (بتایا کہ) میرا نام بھی پہلے برہ رکھا گیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ اپنی پارسائی بیان کرو اللہ تعالیٰ ہی خوب جانتا ہے کہ تم میں سے نیکو کار کون ہے۔ (گھر کے) لوگوں نے کہا: پھر ہم اس کا کیا نام رکھیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کا نام زینب رکھ دو۔ [صحيح مسلم/كتاب الآداب/حدیث: 5609]
محمد بن عمرو بن عطاء بیان کرتے ہیں، میں نے اپنی بیٹی کا نام بره رکھا تو مجھے حضرت زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا نے کہا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نام کے رکھنے سے روکا ہے، میرا نام بره رکھا گیا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خود اپنا تزکیہ نہ کرو، اللہ تعالیٰ تم میں سے وفاداروں اور نیکوکاروں کو خوب جانتا ہے تو میرے ورثاء نے پوچھا، ہم اس کا کیا نام رکھیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کا نام زینب رکھو۔ [صحيح مسلم/كتاب الآداب/حدیث: 5609]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2142
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4. باب تَحْرِيمِ التَّسَمِّي بِمَلِكِ الأَمْلاَكِ وَبِمَلِكِ الْمُلُوكِ:
باب: شہنشاہ نام رکھنے کی حرمت کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2143 ترقیم شاملہ: -- 5610
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْأَشْعَثِيُّ ، وَأَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَاللَّفْظُ لِأَحْمَدَ، قَالَ الْأَشْعَثِيُّ: أَخْبَرَنَا، وقَالَ الْآخَرَانِ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ أَخْنَعَ اسْمٍ عِنْدَ اللَّهِ رَجُلٌ تَسَمَّى مَلِكَ الْأَمْلَاكِ "، زَادَ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ فِي رِوَايَتِهِ، لَا مَالِكَ إِلَّا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، قَالَ الْأَشْعَثِيُّ: قَالَ سُفْيَانُ: مِثْلُ شَاهَانْ شَاهْ، وقَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ: سَأَلْتُ أَبَا عَمْرٍو، عَنْ أَخْنَعَ، فَقَالَ: أَوْضَعَ.
سعید بن عمرو اشعثی، احمد بن حنبل رحمہ اللہ اور ابوبکر بن ابی شیبہ نے ہمیں حدیث بیان کی۔ الفاظ امام احمد کے ہیں، اشعثی نے کہا: ہمیں سفیان بن عیینہ نے خبر دی جبکہ دیگر نے کہا: ہمیں حدیث بیان کی۔ ابوزناد سے، انہوں نے اعرج سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے قابل تحقیر نام اس شخص کا ہے جو شہنشاہ کہلائے۔ اور ابن ابی شیبہ نے اپنی روایت میں اضافہ کیا: (اللہ عزوجل کے سوا کوئی (بادشاہت کا) مالک نہیں ہے۔) اشعثی کا قول ہے: سفیان نے کہا: جیسے شاہان شاہ (شہنشاہ) ہے۔ اور احمد بن حنبل نے کہا: میں نے ابوعمرو (اسحاق بن مرار شیبانی، نحوی، کوفی) سے (اخنع) کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: (اس کے معنی ہیں) اوضع (انتہائی حقیر)۔ [صحيح مسلم/كتاب الآداب/حدیث: 5610]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے نزدیک سب سے برا نام اس آدمی کا ہے جو اپنا نام شاہ شاہاں رکھتا ہے ابن ابی شیبہ نے اپنی روایت میں یہ اضافہ بیان کیا ہے اللہ عزوجل کے سوا کوئی مالک نہیں ہے۔ سفیان نے کہا، جیسے شاہان شاہ ہے، امام احمد بن حنبل کہتے ہیں، میں نے ابو عمرو سے اخنع کا معنی دریافت کیا تو اس نے کہا، سب سے زیادہ پست و ذلیل۔ [صحيح مسلم/كتاب الآداب/حدیث: 5610]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2143
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2143 ترقیم شاملہ: -- 5611
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قال: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عن رسول الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَغْيَظُ رَجُلٍ عَلَى اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَأَخْبَثُهُ وَأَغْيَظُهُ عَلَيْهِ، رَجُلٍ كَانَ يُسَمَّى مَلِكَ الْأَمْلَاكِ لَا مَلِكَ إِلَّا اللَّهُ ".
ہمیں معمر ہمام بن منبہ سے خبر دی، کہا: یہ احادیث ہمیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیں، پھر انہوں نے کچھ احادیث بیان کیں، ان میں سے یہ حدیث (بھی) ہے: اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے نزدیک قیامت کے دن سب سے زیادہ گندا اور غضب کا مستحق شخص وہ ہوگا جو شہنشاہ کہلاتا ہوگا، اللہ کے سوا کوئی اور بادشاہ نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الآداب/حدیث: 5611]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کی بیان کردہ روایات میں سے ایک یہ ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے نزدیک قیامت کے دن سب سے مبغوض آدمی اور سب سے خبیث فرد، جس پر وہ سب سے زیادہ ناراض ہو گا، وہ آدمی ہے جا کا نام شہنشاہ رکھا گیا، اللہ کے سوا کوئی بادشاہ نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الآداب/حدیث: 5611]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2143
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
5. باب اسْتِحْبَابِ تَحْنِيكِ الْمَوْلُودِ عِنْدَ وِلاَدَتِهِ وَحَمْلِهِ إِلَى صَالِحٍ يُحَنِّكُهُ وَجَوَازِ تَسْمِيَتِهِ يَوْمَ وِلاَدَتِهِ وَاسْتِحْبَابِ التَّسْمِيَةِ بِعَبْدِ اللَّهِ وَإِبْرَاهِيمَ وَسَائِرِ أَسْمَاءِ الأَنْبِيَاءِ عَلَيْهِمُ السَّلاَمُ:
باب: بچہ کے منہ میں کچھ چبا کر ڈالنے کا اور دوسری چیزوں کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2144 ترقیم شاملہ: -- 5612
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قال: ذَهَبْتُ بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيِّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ وُلِدَ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عَبَاءَةٍ يَهْنَأُ بَعِيرًا لَهُ، فَقَالَ: " هَلْ مَعَكَ تَمْرٌ؟ "، فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَنَاوَلْتُهُ تَمَرَاتٍ، فَأَلْقَاهُنَّ فِي فِيهِ، فَلَاكَهُنَّ ثُمَّ فَغَرَ فَا الصَّبِيِّ، فَمَجَّهُ فِي فِيهِ، فَجَعَلَ الصَّبِيُّ يَتَلَمَّظُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " حُبُّ الْأَنْصَارِ التَّمْرَ وَسَمَّاهُ عَبْدَ اللَّهِ ".
ثابت بنانی نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: جب عبداللہ بن ابی طلحہ پیدا ہوئے تو میں انہیں لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دھاری دار عبا (چادر) زیب تن فرمائے اپنے ایک اونٹ کو (خارش سے نجات دلانے کے لیے) گندھک (یا کول تار) لگا رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کچھ کھجور ساتھ ہے؟ میں نے عرض کی: جی ہاں، پھر میں نے آپ کو کچھ کھجوریں پیش کیں، آپ نے ان کو اپنے منہ میں ڈالا، انہیں چبایا، پھر بچے کا منہ کھول کر ان کو اپنے دہن مبارک سے براہ راست اس کے منہ میں ڈال دیا۔ بچے نے زبان ہلا کر اس کا ذائقہ لینا شروع کر دیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ انصار کی کھجوروں سے محبت ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نام عبداللہ رکھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الآداب/حدیث: 5612]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، میں عبداللہ بن ابی طلحہ انصاری رضی اللہ تعالی عنہ کو جب وہ پیدا ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک چادر میں اپنے اونٹ کو گندھک مل رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تیرے پاس کھجوریں ہیں؟ میں نے کہا، جی ہاں تو میں نے آپ کو چند خشک کھجوریں پکڑائیں اور آپ نے انہیں منہ میں ڈال لیا اور انہیں چبایا، پھر بچے کا منہ کھولا اور انہیں اس کے منہ میں ڈال دیا تو بچہ انہیں چوسنے لگا، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انصار کی محبوب چیز کھجوریں ہیں۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نام عبداللہ رکھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الآداب/حدیث: 5612]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2144
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2144 ترقیم شاملہ: -- 5613
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قال: كَانَ ابْنٌ لِأَبِي طَلْحَةَ يَشْتَكِي، فَخَرَجَ أَبُو طَلْحَةَ فَقُبِضَ الصَّبِيُّ، فَلَمَّا رَجَعَ أَبُو طَلْحَةَ، قَالَ: مَا فَعَلَ ابْنِي؟ قَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ: هُوَ أَسْكَنُ مِمَّا كَانَ، فَقَرَّبَتْ إِلَيْهِ الْعَشَاءَ، فَتَعَشَّى ثُمَّ أَصَابَ مِنْهَا، فَلَمَّا فَرَغَ، قَالَتْ: وَارُوا الصَّبِيَّ، فَلَمَّا أَصْبَحَ أَبُو طَلْحَةَ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ: " أَعْرَسْتُمُ اللَّيْلَةَ؟ "، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: " اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمَا "، فَوَلَدَتْ غُلَامًا، فَقَالَ لِي أَبُو طَلْحَةَ: احْمِلْهُ حَتَّى تَأْتِيَ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَى بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَبَعَثَتْ مَعَهُ بِتَمَرَاتٍ، فَأَخَذَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " أَمَعَهُ شَيْءٌ؟ "، قَالُوا: نَعَمْ تَمَرَاتٌ، فَأَخَذَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَضَغَهَا ثُمَّ أَخَذَهَا مِنْ فِيهِ، فَجَعَلَهَا فِي فِي الصَّبِيِّ ثُمَّ حَنَّكَهُ وَسَمَّاهُ عَبْدَ اللَّهِ.
یزید بن ہارون نے کہا: ہمیں ابن عون نے ابن سیرین سے خبر دی، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کا ایک لڑکا بیمار تھا، وہ باہر گئے ہوئے تھے کہ وہ لڑکا فوت ہو گیا۔ جب وہ لوٹ کر آئے تو انہوں نے پوچھا کہ میرا بچہ کیسا ہے؟ (ان کی بیوی) ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کہا کہ اب پہلے کی نسبت اس کو آرام ہے (یہ موت کی طرف اشارہ ہے اور کچھ جھوٹ بھی نہیں)۔ پھر ام سلیم شام کا کھانا ان کے پاس لائیں تو انہوں نے کھایا۔ اس کے بعد ام سلیم سے صحبت کی۔ جب فارغ ہوئے تو ام سلیم نے کہا کہ جاؤ بچہ کو دفن کر دو۔ پھر صبح کو ابوطلحہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سب حال بیان کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کیا تم نے رات کو اپنی بیوی سے صحبت کی تھی؟ ابوطلحہ نے کہا جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی کہ اے اللہ ان دونوں کو برکت دے۔ پھر ام سلیم کے ہاں لڑکا پیدا ہوا تو ابوطلحہ نے مجھ سے کہا کہ اس بچہ کو اٹھا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے جا اور ام سلیم نے بچے کے ساتھ تھوڑی کھجوریں بھی بھیجیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بچے کو لے لیا اور پوچھا کہ اس کے ساتھ کچھ ہے؟ لوگوں نے کہا کہ کھجوریں ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجوروں کو لے کر چبایا، پھر اپنے منہ سے نکال کر بچے کے منہ میں ڈال کر اسے گھٹی دی اور اس کا نام عبداللہ رکھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الآداب/حدیث: 5613]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ایک بچہ بیمار تھا، حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ گھر سے باہر گئے تو بچہ کی روح قبض کر لی گئی، جب ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ واپس آئے تو انہوں نے پوچھا، میرے بیٹے کا کیا بنا؟ ام سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا، وہ پہلے سے زیادہ پرسکون ہے اور انہیں شام کا کھانا پیش کیا، انہوں نے وہ کھا لیا، پھر اس سے تعلقات قائم کیے، جب وہ فارغ ہو گئے تو انہیں کہا، بچے کو دفن کر دیجئے، جب صبح ہوئی تو حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہیں صورت حال سے آگاہ کیا، آپ نے پوچھا آج رات تم تعلقات قائم کر چکے ہو؟ اس نے کہا، جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی اے اللہ! ان دونوں کو برکت سے نواز۔ تو حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ایک بچہ جنا اور مجھے حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا، اسے اٹھا کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے جاؤ تو وہ اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے اور ام سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اس کے ساتھ خشک کھجوریں بھیجیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بچے کو پکڑ کر پوچھا کیا اس کے ساتھ کوئی اور چیز ہے؟ حاضرین نے کہا، جی ہاں، چھوہارے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں لے کر چبایا، پھر انہیں اپنے منہ سے نکالا اور انہیں بچے کے منہ میں ڈال دیا، پھر اسے گھٹی دی اور اس کا نام عبداللہ رکھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الآداب/حدیث: 5613]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2144
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2144 ترقیم شاملہ: -- 5614
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَنَسٍ بِهَذِهِ الْقِصَّةِ نَحْوَ حَدِيثِ يَزِيدَ.
حماد بن مسعدہ نے کہا: ہمیں ابن عون نے محمد (ابن سیرین) سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے اسی قصے کے ساتھ یزید کی حدیث کی طرح بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الآداب/حدیث: 5614]
امام صاحب کو یہی روایت، واقعہ سمیت ایک اور استاد نے سنائی۔ [صحيح مسلم/كتاب الآداب/حدیث: 5614]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2144
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2145 ترقیم شاملہ: -- 5615
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَرَّادٍ الْأَشْعَرِيُّ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قال: " وُلِدَ لِي غُلَامٌ، فَأَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَمَّاهُ إِبْرَاهِيمَ وَحَنَّكَهُ بِتَمْرَةٍ ".
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہا: میرے ہاں ایک لڑکا پیدا ہوا، میں اس کو لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ نے اس کا نام ابراہیم رکھا اور اس کو ایک کھجور (کے دانے) سے گھٹی دی۔ [صحيح مسلم/كتاب الآداب/حدیث: 5615]
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، میرے ہاں بچہ پیدا ہوا تو میں اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نام ابراہیم رکھا اور اسے کھجور کی گھٹی دی۔ [صحيح مسلم/كتاب الآداب/حدیث: 5615]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2145
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں