Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1ق. باب فِي إِنْشَادِ الْاشْعَارِ وَبَيَانِ أَشْعَرِ الْكَلِمَةِ وَذَمِّ الشعْرِ
باب: شعر پڑھنے، بیان کرنے اور اس کی مذمت کے بیان میں۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2255 ترقیم شاملہ: -- 5885
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ كِلَاهُمَا، عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: " رَدِفْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا، فَقَالَ: هَلْ مَعَكَ مِنْ شِعْرِ أُمَيَّةَ بْنِ أَبِي الصَّلْتِ شَيْءٌ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: هِيهْ، فَأَنْشَدْتُهُ بَيْتًا، فَقَالَ: هِيهْ، ثُمَّ أَنْشَدْتُهُ بَيْتًا، فَقَالَ: هِيهْ، حَتَّى أَنْشَدْتُهُ مِائَةَ بَيْتٍ ".
عمرو ناقد اور ابن ابی عمر، دونوں نے ابن عیینہ سے روایت کی۔ ابن ابی عمر نے کہا: ہمیں سفیان بن عیینہ نے حدیث بیان کی، ابراہیم بن میسرہ سے روایت ہے، انہوں نے عمرو بن شرید سے، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہا: ایک دن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سوار ہوا تو آپ نے فرمایا:کیا تمہیں امیہ بن ابی صلت کے شعروں میں سے کچھ یاد ہے؟میں نے عرض کی، جی ہاں۔ آپ نے فرمایا:تو لاؤ (سناؤ)۔میں نے آپ کو ایک شعر سنایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اور سناؤ۔میں نے ایک اور شعر سنایا۔ آپ نے فرمایا:اور سناؤ۔میں نے ایک اور شعر سنایا۔ آپ نے فرمایا:اور سناؤ۔یہاں تک کہ میں نے آپ کو ایک سو اشعار سنائے۔ [صحيح مسلم/كتاب الشعر/حدیث: 5885]
عمرو بن شرید رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں، ایک دن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہیں، امیہ بن ابی صلت کے اشعار میں سے کچھ یاد ہیں؟ میں نے کہا، جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سناؤ۔میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک شعر سنایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور سناؤ۔ پھر میں نے آپ کو ایک شعرسنایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور حتیٰ کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سو(100) اشعار سنائے۔ [صحيح مسلم/كتاب الشعر/حدیث: 5885]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2255
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2255 ترقیم شاملہ: -- 5886
وحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، جَمِيعًا، عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ أَوْ يَعْقُوبَ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ الشَّرِيدِ ، قَالَ: أَرْدَفَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلْفَهُ، فَذَكَرَ بِمِثْلِهِ.
زہیر بن حرب اور احمد بن عبدہ دونوں نے ابن عیینہ سے، انہوں نے ابراہیم بن میسرہ سے، انہوں نے عمرو بن شرید یا یعقوب بن عاصم سے، انہوں نے حضرت شرید رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھ سوار کیا، اس کے بعد اسی کے مانند حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الشعر/حدیث: 5886]
یہی روایت امام صاحب کو دو اور اساتذہ نے سنائی کہ شرید رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں۔ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیچھے سوار کر لیا، آگے مذکورہ بالا روایت ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الشعر/حدیث: 5886]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2255
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2255 ترقیم شاملہ: -- 5887
وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ . ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، كِلَاهُمَا، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطَّائِفِيِّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: اسْتَنْشَدَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ، وَزَادَ قَالَ: إِنْ كَادَ لِيُسْلِمُ، وَفِي حَدِيثِ ابْنِ مَهْدِيٍّ، قَالَ: فَلَقَدْ كَادَ يُسْلِمُ فِي شِعْرِهِ.
معتمر بن سلیمان اور عبدالرحمن بن مہدی دونوں نے عبداللہ بن عبدالرحمن طائفی سے، انہوں نے عمرو بن شرید سے، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے شعر سنانے کے لیے فرمایا، ابراہیم بن میسرہ کی روایت کے مانند اور مزید یوں کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:قریب تھا کہ وہ مسلمان ہو جاتا۔اور ابن مہدی کی حدیث میں ہے:وہ اپنے اشعار میں مسلمان ہونے کے قریب تھا۔(اس نے تقریباً وہی باتیں کیں جو ایک مسلمان کہہ سکتا ہے)۔ [صحيح مسلم/كتاب الشعر/حدیث: 5887]
یہی روایت امام صاحب دو اور اساتذہ کی سند سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے شعر سننے کے تقاضا فرمایا، اس میں یہ اضافہ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، قریب تھا کہ وہ مسلمان ہو جاتا۔ ابن مہدی کی روایت میں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ اپنے اشعار میں اسلام لانے کے قریب تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الشعر/حدیث: 5887]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2255
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2256 ترقیم شاملہ: -- 5888
حَدَّثَنِي أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ جميعا، عَنْ شَرِيكٍ ، قَالَ ابْنُ حُجْرٍ: أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَشْعَرُ كَلِمَةٍ تَكَلَّمَتْ بِهَا الْعَرَبُ كَلِمَةُ لَبِيدٍ: أَلَا كُلُّ شَيْءٍ مَا خَلَا اللَّهَ بَاطِلٌ ".
شریک نے عبدالملک بن عمیر سے، انہوں نے ابوسلمہ سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا:عربوں نے شعر میں جو سب سے عمدہ بات کہی وہ بات لبید کا یہ جملہ ہے: سن رکھو! اللہ کے سوا ہر چیز (جس کی عبادت کی جاتی ہے) باطل ہے۔(دوسرا مصرع ہے: «وكلُّ نعيمٍ لا محالَةَ زائلُ» اور ہر نعمت لازمی طور پر زائل ہونے والی ہے)۔ [صحيح مسلم/كتاب الشعر/حدیث: 5888]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عربوں نے جو بول بولے ہیں، ان میں بہترین کلام،لبید کا یہ شعر ہے۔ خبردار، اللہ کےسوا ہر چیز، فانی اور زوال پذیر ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الشعر/حدیث: 5888]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2256
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2256 ترقیم شاملہ: -- 5889
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَصْدَقُ كَلِمَةٍ قَالَهَا شَاعِرٌ كَلِمَةُ لَبِيدٍ: أَلَا كُلُّ شَيْءٍ مَا خَلَا اللَّهَ بَاطِلٌ "، وَكَادَ أُمَيَّةُ بْنُ أَبِي الصَّلْتِ، أَنْ يُسْلِمَ.
سفیان نے عبدالملک بن عمیر سے روایت کی، کہا: ہمیں ابوسلمہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:سب سے سچی بات جو کسی شاعر نے کہی لبید کی بات ہے: سن رکھو! اللہ کے سوا ہر چیز (جس کی عبادت کی جاتی ہے) باطل ہے۔اور قریب تھا کہ امیہ بن ابی صلت مسلمان ہو جاتا۔ [صحيح مسلم/كتاب الشعر/حدیث: 5889]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب سے سچا بول، جوکسی شاعر نے بولا ہے، لبید کا یہ بول ہے خبردار! اللہ کے سوا ہر چیز فانی اور زوال پذیر ہے۔ اور قریب تھا کہ امیہ بن ابی صلت، مسلمان ہو جاتا۔ [صحيح مسلم/كتاب الشعر/حدیث: 5889]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2256
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2256 ترقیم شاملہ: -- 5890
وحَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَصْدَقُ بَيْتٍ قَالَهُ الشَّاعِرُ: أَلَا كُلُّ شَيْءٍ مَا خَلَا اللَّهَ بَاطِلٌ "، وَكَادَ ابْنُ أَبِي الصَّلْتِ أَنْ يُسْلِمَ.
زائدہ نے عبدالملک بن عمیر سے، انہوں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمن سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:کسی بھی شاعر کا کہا ہوا سب سے سچا شعر وہ ہے جو لبید نے کہا ہے: سنو اللہ کے سوا ہر چیز باطل ہے۔اور قریب تھا کہ امیہ بن ابی صلت مسلمان ہو جاتا۔ [صحيح مسلم/كتاب الشعر/حدیث: 5890]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب سے سچا بول شعر جو کسی شاعر نے کہا ہے، یہ ہےخبردار! اللہ کے سوا ہر چیز بے حقیقت ہے۔ اور قریب تھا کہ ابن ابی صلت اسلام لے آتا۔ [صحيح مسلم/كتاب الشعر/حدیث: 5890]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2256
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2256 ترقیم شاملہ: -- 5891
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَصْدَقُ بَيْتٍ قَالَتْهُ الشُّعَرَاءُ: أَلَا كُلُّ شَيْءٍ مَا خَلَا اللَّهَ بَاطِلٌ ".
شعبہ نے عبدالملک بن عمیر سے، انہوں نے ابوسلمہ سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، کہ آپ نے فرمایا:شاعروں کے کلام میں سب سے سچا شعر لبید کا ہے: سن رکھو! اللہ کے سوا ہر چیز باطل ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الشعر/حدیث: 5891]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب سے سچا شعر جو شعراء نے کہا ہے، خبردار! ہر چیز اللہ کے سوا فانی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الشعر/حدیث: 5891]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2256
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2256 ترقیم شاملہ: -- 5892
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا يَحْيَي بْنُ زَكَرِيَّاءَ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنَّ أَصْدَقَ كَلِمَةٍ قَالَهَا شَاعِرٌ، كَلِمَةُ لَبِيدٍ: أَلَا كُلُّ شَيْءٍ مَا خَلَا اللَّهَ بَاطِلٌ "، مَا زَادَ عَلَى ذَلِكَ.
اسرائیل نے عبدالملک بن عمیر سے، انہوں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمن سے روایت کی، کہا: میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، کہہ رہے تھے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرمارہے تھے:سب سے سچی بات جو کسی شاعر نے کہی لبید کی بات ہے: سن رکھو! اللہ کے سوا ہر چیز باطل ہے۔انہوں (اسرائیل) نے اس پر کوئی اضافہ نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الشعر/حدیث: 5892]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: سب سے سچا بول جو کسی شاعر نے بولا ہے، لبید کا قول ہے، خبردار، دنیا کی ہر چیز اللہ کے سوا فنا پذیر ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے زائد نہیں کہا۔ [صحيح مسلم/كتاب الشعر/حدیث: 5892]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2256
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2257 ترقیم شاملہ: -- 5893
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، كِلَاهُمَا، عَنْ الْأَعْمَشِ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَأَنْ يَمْتَلِئَ جَوْفُ الرَّجُلِ قَيْحًا يَرِيهِ، خَيْرٌ مِنْ أَنْ يَمْتَلِئَ شِعْرًا "، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: إِلَّا أَنَّ حَفْصًا لَمْ يَقُلْ يَرِيهِ.
ابوبکر بن ابی شیبہ نے کہا: ہمیں حفص اور ابومعاویہ نے حدیث بیان کی۔ ابوکریب نے کہا: ہمیں ابومعاویہ نے حدیث بیان کی، ان دونوں (ابومعاویہ اور حفص) نے اعمش سے روایت کی، ابوسعید اشج نے کہا: ہمیں وکیع نے حدیث بیان کی کہا: ہمیں اعمش نے ابوصالح سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:کسی انسان کے پیٹ میں پیپ بھر جانا جو اس کے پیٹ کو تباہ کر دے، شعر کے ساتھ بھر جانے کی نسبت بہتر ہے۔ابوبکر نے کہا: مگر حفص نے «يَريهِ» (جو اس کے پیٹ کو تباہ کردے) کے الفاظ روایت نہیں کیے۔ [صحيح مسلم/كتاب الشعر/حدیث: 5893]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انسان کے پیٹ میں ایسی پیپ بھر جائے، جو اس کو بگاڑ دے، اس سے بہتر ہے کہ اس کا پیٹ شعروں سے بھرے۔ حفص کی روایت میں يريه [صحيح مسلم/كتاب الشعر/حدیث: 5893]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2257
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2258 ترقیم شاملہ: -- 5894
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ سَعْدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَأَنْ يَمْتَلِئَ جَوْفُ أَحَدِكُمْ قَيْحًا يَرِيهِ، خَيْرٌ مِنْ أَنْ يَمْتَلِئَ شِعْرًا ".
حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا:تم میں سے کسی شخص کا پیٹ پیپ سے بھر جائے وہ اس سے بہتر ہے کہ اس کا پیٹ شعر سے بھر جائے۔ [صحيح مسلم/كتاب الشعر/حدیث: 5894]
حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، تم میں سے کسی کے پیٹ کا ایسی پیپ سے بھرنا جو اس کو بگاڑ دے، اس سے بہتر ہے کہ وہ شعروں سے بھرے۔ [صحيح مسلم/كتاب الشعر/حدیث: 5894]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2258
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
12»