🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (1114)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
13. باب السهو
سجدہ سہو کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 244
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، قَالَ: ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَ: ثَنَا زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَزَادَ فِي الصَّلاةِ أَوْ نَقَصَ، قَالَ مَنْصُورٌ: قَالَ إِبْرَاهِيمُ النَّاسِي: ذَلِكَ عَلْقَمَةُ أَوْ عَلْقَمَةُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلاةَ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، حَدَثَ فِي الصَّلاةِ شَيْءٌ، قَالَ: وَمَا ذَاكَ؟ فَأَخْبَرَنَاهُ بِالَّذِي صَنَعَ، فَثَنَى رِجْلَهُ وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَيْنَا، فَقَالَ: " إِنَّهُ لَوْ حَدَثَ فِي الصَّلاةِ شَيْءٌ لَنَبَّأْتُكُمْ وَلَكِنِّي بَشَرٌ أَذَكَرُ كَمَا تَذْكُرُونَ وَأَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ، فَإِذَا نَسِيتُ فَذَكِّرُونِي وَأَيُّكُمْ مَا شَكَّ فِي صَلاتِهِ فَلْيَنْظُرْ أَقْرَبَ ذَلِكَ إِلَى الصَّوَابِ فَلْيُتِمَّ عَلَيْهِ ثُمَّ يُسَلِّمُ وَيَسْجُدُ سَجْدَتَيْنِ" .
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی، تو اس میں کمی یا بیشی کر دی، ابراہیم کہتے ہیں: یہ شبہ علقمہ کو ہوا یا علقمہ نے عبد اللہ بن مسعود سے نقل کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کرنے کے بعد ہماری طرف منہ کیا تو ہم نے پوچھا: اللہ کے رسول! کیا نماز کے متعلق کوئی نیا حکم آ گیا ہے؟ فرمایا: کیا ہوا؟، ہم نے بتایا، تو آپ نے پاؤں موڑا اور قبلہ رخ ہو کر دو سجدے کیے، پھر ہماری طرف رخ انور کر کے فرمایا: اگر نماز کے متعلق کوئی نیا حکم نازل ہوتا، تو میں آپ کو آگاہ کر دیتا لیکن میں بھی انسان ہوں، آپ کی طرح یاد بھی رکھتا ہوں اور بھول بھی جاتا ہوں، جب میں بھول جاؤں، تو یاد کروا دیا کریں۔ جسے بھی نماز میں شک ہو جائے تو وہ زیادہ صحیح کا تعین کرے، پھر اس کے مطابق نماز مکمل کر کے سلام پھیرنے کے بعد دو سجدے کر لے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الصلاة/حدیث: 244]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 1226، 401، صحيح مسلم: 572»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 245
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: ثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " صَلَّى صَلاةَ الْعَصْرِ ثَلاثَ رَكَعَاتٍ فَسَلَّمَ، فَقِيلَ لَهُ، فَصَلَّى رَكْعَةً ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ" .
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عصر کی تین رکعات پڑھا کر سلام پھیر دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا، تو ایک رکعت مزید پڑھائی، پھر سلام پھیرنے کے بعد دو سجدے کیے اور پھر سلام پھیر دیا۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الصلاة/حدیث: 245]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح مسلم: 574»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 246
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: صَلَّى بِهِمْ عَلْقَمَةُ خَمْسًا، قَالَ: فَقَالُوا: يَا أَبَا شِبْلٍ زِدْتَ فِي الصَّلاةِ، قَالَ: فَقَالَ: لَمْ أَفْعَلْ، قَالَ: قَالُوا: بَلَى، قَالَ: قَالَ إِبْرَاهِيم: فَقُلْتُ: بَلَى مِنْ جَانِبِ الْمَسْجِدِ، قَالَ: فَقَالَ وَأَنْتَ أَعْوَرُ تَقُولُ ذَلِكَ، قَالَ: فَانْفَتَلَ وَسَجَدَ بِهِمْ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ حَدَّثَهُمْ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" صَلَّى بِهِمْ خَمْسًا، قَالَ: فَسَجَدَ بِهِمْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ، وَقَالَ: " إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ" ، إِبْرَاهِيمُ هَذَا هُوَ ابْنُ سُوَيْدٍ النَّخَعِيُّ وَلَيْسَ بِإِبْرَاهِيمَ بْنِ يَزِيدَ النَّخَعِيِّ.
ابراہیم بن سوید رحمہ اللہ کہتے ہیں: علقمہ رحمہ اللہ نے انہیں پانچ رکعات نماز پڑھا دی، لوگوں نے کہا: اے ابو شبل! آپ نے نماز میں اضافہ کر دیا ہے، انہوں نے کہا: میں نے تو اضافہ نہیں کیا، لوگوں نے کہا: آپ نے اضافہ کیا ہے، ابراہیم کہتے ہیں: میں نے بھی مسجد کی ایک طرف سے کہا: جی ہاں! (آپ نے اضافہ کیا ہے) علقمہ رحمہ اللہ کہنے لگے: اوکانے! تو بھی یہی بات کہتا ہے؟ چنانچہ انہوں نے مڑ کر دو سجدے کیے۔ پھر انہیں سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پانچ رکعتیں پڑھا دی تھیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھے بیٹھے دو سجدے کیے، پھر فرمایا: میں بھی انسان ہوں، جس طرح آپ بھولتے ہیں، میں بھی بھول جاتا ہوں۔ اس سے ابراہیم بن سوید نخعی مراد ہیں نہ کہ ابراہیم بن یزید نخعی۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الصلاة/حدیث: 246]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح مسلم: 572»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 247
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُثَنِي الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ: أَنِي أَشْعَثُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " صَلَّى بِهِمْ فَسَهَى فِي صَلاتِهِ، فَسَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ ثُمَّ تَشَهَّدَ ثُمَّ سَلَّمَ" .
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نماز پڑھائی۔ نماز میں بھول گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سہو کے دو سجدے کیے، پھر تشہد پڑھی اور سلام پھیر دیا۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الصلاة/حدیث: 247]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده صحيح: سنن أبي داود: 1039، سنن الترمذي: 395، اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن غریب صحیح، امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (1062) اور امام ابن حبان رحمہ اللہ (2670، 2672) نے صحیح کہا ہے، امام حاکم رحمہ اللہ (1/323) نے امام بخاری رحمہ اللہ اور امام مسلم رحمہ اللہ کی شرط پر صحیح کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے، ”ثم تشہد“ کے الفاظ محمد بن سیرین رحمہ اللہ کے شاگردوں میں سے صرف اشعث بن عبد الملک حرانی رحمہ اللہ نے بیان کیے ہیں اور وہ ثقہ ہیں، لہذا یہ زیادت محفوظ ہے، باقی رہا محمد بن سیرین رحمہ اللہ کا یہ کہنا: «لَمْ أَسْمَعْ فِي التَّشَهُّدِ وَأَحَبُّ إِلَيَّ أَنْ يَتَشَهَّدَ» ”میں نے تشہد کے بارے میں کچھ نہیں سنا، تشہد بیٹھنا ہی مجھے محبوب ہے۔“ (سنن أبي داود: 1040) تو یہ اس روایت کے لیے موجبِ ضعف نہیں، یہ انسی بعد ما حدث کے قبیل سے ہے، لہذا امام ابن منذر رحمہ اللہ (الاوسط: 3/317) امام بیہقی رحمہ اللہ (السنن الکبری: 2/355) اور حافظ ابن عبد البر رحمہ اللہ (التمہید: 10/209) وغیرہ کا ”ثم تشہد“ کے الفاظ کو خطا اور غیر ثابت کہنا صحیح نہیں۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
14. ما جاء في صلاة الكسوف
سورج گرہن کی نماز کے متعلق جو کچھ مروی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 248
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثَنَا مُطَرِّفٌ ، وَقَرَأْتُهُ، عَلَى ابْنِ نَافِعٍ عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" كَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ مَعَهُ، فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلا نَحْوًا مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلا ثُمَّ رَفَعَ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلا وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الأَوَّلِ ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلا وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الأَوَّلِ ثُمَّ سَجَدَ"، قَالَ ابْنُ يَحْيَى: لَعَلَّهُمَا قَالا: ثُمَّ رَفَعَ أَوْ لَمْ يَقُولاهُ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلا وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الأَوَّلِ ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلا وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الأَوَّلِ ثُمَّ رَفَعَ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلا وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الأَوَّلِ ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلا وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الأَوَّلِ ثُمَّ سَجَدَ ثُمَّ انْصَرَفَ، وَقَدْ تَجَلَّتِ الشَّمْسُ، فَقَالَ:" إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ لا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أحَدٍ وَلا لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَاذْكُرُوا اللَّهَ . قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، رَأَيْنَاكَ تَنَاوَلْتَ شَيْئًا فِي مَقَامِكَ هَذَا ثُمَّ رَأَيْنَاكَ تَكَعْكَعْتَ، فَقَالَ: " رَأَيْتُ الْجَنَّةَ أَوْ أُرِيتُ الْجَنَّةَ فَتَنَاوَلْتُ مِنْهَا عُنْقُودًا وَلَوْ أَخَذْتُهُ لأَكَلْتُمْ مِنْهُ مَا بَقِيَتِ الدُّنْيَا، وَرَأَيْتُ النَّارَ فَلَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ مَنْظَرًا قَطُّ، وَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا النِّسَاءَ، قَالُوا: بِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: بِكُفْرِهِنَّ، قِيلَ: يَكْفُرْنَ بِاللَّهِ؟ قَالَ: يَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ، وَيَكْفُرْنَ الإِحْسَانَ، لَوْ أَحْسَنْتَ إِلَى إِحْدَاهُنَّ الدَّهْرَ كُلَّهُ ثُمَّ رَأَتْ مِنْكَ شَيْئًا، قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ مِنْكَ خَيْرًا قَطُّ" ، أَخْبَرَنِي الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، أَنَّ الشَّافِعِيَّ ، أَخْبَرَهُمْ، قَالَ: وَأَنَا مَالِكٌ بِهَذَا الْحَدِيثِ، وَلَمْ يَقُلْ فِي الْمَوْضِعِ الَّذِي شَكَّ فِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ثُمَّ رَفَعَ.
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں سورج کو گرہن لگ گیا، تو آپ نے لوگوں کو نماز (کسوف) پڑھائی، چنانچہ آپ نے سورت بقرہ (کی تلاوت) کے بقدر لمبا قیام کیا، پھر لمبا رکوع کیا، رکوع سے سر اٹھا کر لمبا قیام کیا، جو پہلے قیام کی بہ نسبت چھوٹا تھا، پھر لمبا رکوع کیا، جو پہلے رکوع کی بہ نسبت چھوٹا تھا، پھر سجدہ کیا۔ ابن یحیٰی کہتے ہیں: شاید ان دونوں نے یہ بھی کہا تھا: پھر آپ اٹھے۔ پھر لمبا قیام کیا، جو پہلے قیام کی بہ نسبت چھوٹا تھا، پھر لمبا رکوع کیا، جو پہلے رکوع کی بہ نسبت چھوٹا تھا، رکوع سے سر اٹھا کر لمبا قیام کیا، جو پہلے کی بہ نسبت چھوٹا تھا، پھر لمبا رکوع کیا، جو پہلے رکوع کی بہ نسبت چھوٹا تھا، پھر سجدہ کیا، پھر آپ نے سلام پھیرا، تو سورج گرہن ختم ہو چکا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سورج اور چاند اللہ عز وجل کی نشانیاں ہیں، ان کو کسی کی موت یا زندگی کی وجہ سے گرہن نہیں لگتا، جب آپ ایسا منظر دیکھیں تو اللہ کا ذکر کریں، صحابہ کرام نے پوچھا: اللہ کے رسول! ہم نے آپ کو دیکھا کہ آپ نے اس جگہ سے کچھ لیا ہے، پھر ہم نے آپ کو الٹے پاؤں پیچھے ہٹتے دیکھا، فرمایا: میں نے جنت دیکھی، یا مجھے جنت دکھائی گئی تو میں نے اس میں سے ایک خوشہ لینا چاہا، اگر میں وہ خوشہ لے لیتا، تو رہتی دنیا تک آپ اسے کھاتے رہتے، نیز میں نے جہنم کو بھی دیکھا، ایسا (برا) منظر میں نے (پہلے) کبھی نہیں دیکھا تھا، جیسا آج دیکھا ہے، میں نے اس میں عورتوں کی کثرت دیکھی۔ لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! اس کی وجہ کیا ہے؟ فرمایا: ان کی ناشکری۔ کسی نے پوچھا: کیا وہ اللہ کی ناشکری کرتی ہیں؟ فرمایا: شوہر کی ناشکری کرتی ہیں اور احسان نہیں مانتیں، اگر آپ زندگی بھر کسی عورت (بیوی) سے احسان کرتے رہیں، پھر وہ آپ کی طرف سے کوئی بات مرضی کے خلاف دیکھ لے تو کہتی ہے: میں نے تو تیرے اندر کبھی خیر دیکھی ہی نہیں۔ اس روایت کو ربیع بن سلیمان نے بھی امام شافعی رحمہ اللہ سے ذکر کیا ہے، مگر اس میں محمد بن یحیٰی کے شک والے الفاظ (ثم رفع) کا ذکر نہیں ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الصلاة/حدیث: 248]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 1052، صحيح مسلم: 907»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 249
حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ:" خَسَفَتِ الشَّمْسُ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَسْجِدِ، فَقَامَ وَكَبَّرَ وَصَفَّ النَّاسُ وَرَاءَهُ، فَاقْتَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِرَاءَةً طَوِيلَةً ثُمَّ كَبَّرَ فَرَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلا ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، ثُمَّ قَامَ فَاقْتَرَأَ قِرَاءَةً طَوِيلَةً هِيَ أَدْنَى مِنَ الْقِرَاءَةِ الأُولَى ثُمَّ كَبَّرَ فَرَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلا وَهُوَ أَدْنَى مِنَ الرُّكُوعِ الأَوَّلِ، ثُمَّ قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، ثُمَّ فَعَلَ فِي الرَّكْعَةِ الأُخْرَى مثل ذَلِكَ فَاسْتَكْمَلَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ وَانْجَلَتِ الشَّمْسُ قَبْلَ أَنْ يَنْصَرِفَ ثُمَّ قَامَ فَخَطَبَ النَّاسَ وَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ لا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أحَدٍ وَلا لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهَا فَافْزَعُوا إِلَى الصَّلاةِ" .
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں سورج کو گرہن لگ گیا، تو آپ مسجد میں آئے، نماز کے لیے کھڑے ہوئے، «الله اكبر» کہا اور لوگوں نے آپ کے پیچھے صف بنائی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لمبی قرآت کی، پھر «الله اكبر» کہ کر لمبا رکوع کیا، پھر سر اٹھایا اور یہ دعا پڑھی: «سمع الله لمن حمده ربنا ولك الحمد»، پھر کھڑے ہو کر لمبی قرآت کی، جو پہلی کی بہ نسبت چھوٹی تھی، پھر «الله اكبر» کہہ کر لمبا رکوع کیا، جو پہلے کی بہ نسبت چھوٹا تھا، پھر یہ دعا پڑھی: «سمع الله لمن حمده رهنا ولك الحمد»، پھر اسی طرح دوسری رکعت ادا کی، چنانچہ چار رکوع اور چار سجدے مکمل کیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فارغ ہونے سے پہلے سورج صاف ہو گیا، پھر کھڑے ہو کر لوگوں کو خطبہ دیا اور اللہ تعالیٰ کے شایانِ شان ستائش بیان کی، پھر فرمایا: سورج اور چاند اللہ عز وجل کی نشانیاں ہیں، ان کو کسی کی موت یا زندگی کی وجہ سے گرہن نہیں لگتا، جب آپ گرہن دیکھیں تو فورا نماز پڑھنے لگ جائیں۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الصلاة/حدیث: 249]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 1064، صحيح مسلم: 901»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 250
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ ، ثَنَا عَبْدَةُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" خَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى فَأَطَالَ الْقِيَامَ جِدًّا، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ جِدًّا، ثُمَّ رَفَعَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الأَوَّلِ ثُمَّ رَكَعَ وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الأَوَّلِ ثُمَّ سَجَدَ، ثُمَّ قَامَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الأَوَّلِ ثُمَّ رَكَعَ وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الأَوَّلِ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَامَ وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الأَوَّلِ ثُمَّ رَكَعَ وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الأَوَّلِ ثُمَّ سَجَدَ فَفَرَغَ مِنْ صَلاتِهِ وَقَدْ جُلِّيَ عَنِ الشَّمْسِ، فَقَامَ فَخَطَبَ النَّاسَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ لا يَنْخَسِفَانِ لِمَوْتِ أحَدٍ وَلا لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَصَلُّوا وَتَصَدَّقُوا وَاذْكُرُوا اللَّهَ" . ثُمَّ قَالَ:" يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ، وَاللَّهِ مَا مِنْ أحَدٍ أَغْيَرُ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَزْنِيَ عَبْدُهُ أَوْ تَزْنِيَ أَمَتُهُ، يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ، لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا وَلَضَحِكْتُمْ قَلِيلا" .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں سورج کو گرہن لگ گیا، تو آپ نماز کے لیے کھڑے ہوئے اور بہت لمبا قیام کیا، پھر بہت لمبا رکوع کیا، پھر اٹھے اور (دوبارہ) لمبا قیام کیا، جو پہلے قیام کی بہ نسبت چھوٹا تھا، پھر رکوع کیا، جو پہلے رکوع کی بہ نسبت چھوٹا تھا، پھر سجدہ کیا، پھر اٹھے اور لمبا قیام کیا، جو پہلے کی بہ نسبت چھوٹا تھا، پھر رکوع کیا، جو کہ پہلے کی بہ نسبت چھوٹا تھا، سر اٹھا کر (دوبارہ) لمبا قیام کیا، جو پہلے کی بہ نسبت چھوٹا تھا، پھر رکوع کیا، جو پہلے کی بہ نسبت چھوٹا تھا، پھر سجدہ کیا۔ نماز سے فارغ ہوئے، تو سورج گرہن ختم ہو چکا تھا، آپ نے کھڑے ہو کر لوگوں کو خطبہ دیا اور اللہ کی حمد و ثنا بیان کرنے کے بعد فرمایا: سورج اور چاند اللہ عزوجل کی نشانیاں ہیں، ان کو کسی کی موت یا زندگی کی وجہ سے گرہن نہیں لگتا، جب ایسا منظر دیکھو، تو نماز پڑھیں، صدقہ کریں اور اللہ کا ذکر کریں۔ پھر فرمایا: امت محمد! اللہ کی قسم! اللہ عزوجل سے بڑھ کر اس بات میں کوئی غیرت والا نہیں کہ اس کا غلام یا لونڈی (مرد یا عورت) زنا کرے، اے امت محمد! اگر آپ وہ باتیں جان لیں، جو میں جانتا ہوں، تو روتے زیادہ اور ہنستے کم۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الصلاة/حدیث: 250]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 1044، صحيح مسلم: 901»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 251
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ طَرْخَانَ ، قَالَ: ثَنَا أَبُو حُذَيْفَةَ ، قَالَ: ثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَمَرَ بِالْعَتَاقَةِ فِي كُسُوفِ الشَّمْسِ" .
سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چاند گرہن میں غلام آزاد کرنے کا حکم دیا ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الصلاة/حدیث: 251]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 1054»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 252
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، عَنْ ابْنِ عَلِيٍّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ فَاطِمَةَ ، عَنْ أَسْمَاءَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" كُنَّا نُؤْمَرُ بِالْعَتَاقَةِ فِي كُسُوفِ الشَّمْسِ" .
سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: چاند گرہن میں ہمیں غلام آزاد کرنے کا حکم دیا جاتا تھا۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الصلاة/حدیث: 252]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 2519»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
15. ما جاء في صلاة الاستسقاء
نمازِ استسقاء (بارش کی دعا کی نماز) کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 253
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو الْغَزِّيُّ ، قَالَ: ثَنَا الْفِرْيَابِيُّ ، قَالَ: ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كِنَانَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " خَرَجَ فِي اسْتِسْقَاءٍ، فَلَمْ يَخْطُبْ خُطَبَكُمْ هَذِهِ، خَرَجَ مُتَضَرِّعًا مُتَبَذِّلا فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ كَمَا يُصَلِّي الْعِيدَ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بارش کی دعا کرنے کے لیے باہر تشریف لے گئے، چنانچہ آپ نے ایسا خطبہ نہیں پڑھا، جیسے یہ تمہارا خطبہ ہے، آپ گڑ گڑاتے ہوئے سادہ کپڑوں میں نکلے اور نماز عید کی طرح دو رکعتیں ادا کیں۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الصلاة/حدیث: 253]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده حسن: مسند الإمام أحمد: 1/269، سنن أبي داود: 1165، سنن النسائي: 1506، 1508، 1521، سنن الترمذي: 558، سنن ابن ماجه: 1266، اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن صحیح، امام ابو عوانہ رحمہ اللہ (2524)، امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (1405) اور امام ابن حبان رحمہ اللہ (2862) نے صحیح کہا ہے۔ امام سفیان ثوری رحمہ اللہ نے سماع کی تصریح کر رکھی ہے، نیز ان کے متابع بھی ہیں، ہشام بن اسحاق راوی ”حسن الحدیث“ ہے، ائمہ محدثین نے اس کی حدیث کی تصحیح کر کے اس کی توثیق ثابت کر دی ہے۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں