🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
18. باب فِي رَحْمَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلنِّسَاءِ وَأَمْرِ السُّوَّاقِ مَطَايَاهُنَّ بِالرِّفْقِ بِهِنَّ:
باب: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا عورتوں پر رحم کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2323 ترقیم شاملہ: -- 6038
وحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، كِلَاهُمَا عَنْ ابْنِ عُلَيَّةَ، قَالَ زُهَيْرٌ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَتَى عَلَى أَزْوَاجِهِ وَسَوَّاقٌ يَسُوقُ بِهِنَّ، يُقَالُ لَهُ: أَنْجَشَةُ، فَقَالَ: وَيْحَكَ يَا أَنْجَشَةُ، رُوَيْدًا سَوْقَكَ بِالْقَوَارِيرِ "، قَالَ: قَالَ أَبُو قِلَابَةَ: تَكَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَلِمَةٍ، لَوْ تَكَلَّمَ بِهَا بَعْضُكُمْ، لَعِبْتُمُوهَا عَلَيْهِ.
اسماعیل (بن علیہ) نے کہا: ہمیں ایوب نے ابوقلابہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ازواج کے پاس گئے، اس وقت انجشہ نام کا ایک اونٹ ہانکنے والا ان (کے اونٹوں) کو ہانک رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:انجشہ تم پر افسوس! شیشہ آلات (خواتین) کو آہستگی اور آرام سے چلاؤ۔ایوب نے کہا: ابوقلابہ نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کلمہ بولا کہ اگر تم میں سے کوئی ایسا کلمہ کہتا تو تم اس پر عیب لگاتے۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6038]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ازواج کے پاس پہنچے، انجشہ نامی اونٹ ہانکنے والا ان کی سواریاں ہانک رہا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: افسوس! اے انجشہ! شیشوں کی سواریوں کو نرمی سے ہانکو۔ ابوقلابہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی بات کہی کہ اگر تم میں سے کوئی ایسی بات کہتا تو تم اس پر اعتراض اور نکتہ چینی کرتے۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6038]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2323
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2323 ترقیم شاملہ: -- 6039
وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، حَدَّثَنَا التَّيْمِيُّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: " كَانَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ مَعَ نِسَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُنَّ يَسُوقُ بِهِنَّ سَوَّاقٌ، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيْ أَنْجَشَةُ، رُوَيْدًا سَوْقَكَ بِالْقَوَارِيرِ ".
سلیمان تیمی نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کی، کہا: حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کے ساتھ تھیں اور ایک اونٹ ہانکنے والا ان کے اونٹ ہانک رہا تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:انجشہ! شیشہ آلات (خواتین) کو آہستگی اور آرام سے چلاؤ۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6039]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا ازواجِ مطہرات کے ساتھ تھیں اور ایک سواریوں کو ہانکنے والا انہیں ہانک رہا تھا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے انجشہ! شیشوں کو آہستہ آہستہ چلاؤ۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6039]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2323
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2323 ترقیم شاملہ: -- 6040
وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنِي هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: " كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَادٍ حَسَنُ الصَّوْتِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: رُوَيْدًا يَا أَنْجَشَةُ، لَا تَكْسِرِ الْقَوَارِيرَ يَعْنِي ضَعَفَةَ النِّسَاءِ ".
ہمام نے کہا: ہمیں قتادہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کی، کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک خوش آواز حدی خواں تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا:انجشہ! آرام سے (ہانکو) شیشہ آلات کو مت توڑو، یعنی کمزور عورتوں کو۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6040]
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک خوش الحان حدی خواں تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: «رُوَيْدَكَ يَا أَنْجَشَةُ، لَا تَكْسِرِ الْقَوَارِيرَ» آہستہ آہستہ، اے انجشہ! شیشوں کو نہ توڑو۔ یعنی کمزور اور ناتواں عورتوں کو۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6040]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2323
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2323 ترقیم شاملہ: -- 6041
وحَدَّثَنَاه ابْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يَذْكُرْ: حَادٍ حَسَنُ الصَّوْتِ.
ہشام نے قتادہ سے، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی اور اس میں خوش الحان حدی خواں کا ذکر نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6041]
امام صاحب کو ایک اور استاد نے یہ روایت سنائی، لیکن اس میں خوش الحان، حدی خواں کا ذکر نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6041]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2323
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
19. بَابُ قُرْبِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ النَّاسِ، وَتَبَرُّكِهِمْ بِهِ وَتوَاضُعِهِ لَهُمْ
باب: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا لوگوں سے برتاؤ اور آپ کی تواضع۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2324 ترقیم شاملہ: -- 6042
حَدَّثَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ النَّضْرِ بْنِ أَبِي النَّضْرِ ، وهارون بن عبد الله جميعا، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ يَعْنِي هَاشِمَ بْنَ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى الْغَدَاةَ، جَاءَ خَدَمُ الْمَدِينَةِ بِآنِيَتِهِمْ فِيهَا الْمَاءُ، فَمَا يُؤْتَى بِإِنَاءٍ إِلَّا غَمَسَ يَدَهُ فِيهَا، فَرُبَّمَا جَاءُوهُ فِي الْغَدَاةِ الْبَارِدَةِ، فَيَغْمِسُ يَدَهُ فِيهَا ".
ثابت نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب صبح کی نماز سے فارغ ہوتے تو مدینہ کے خادم (غلام) اپنے برتن لے آتے جن میں پانی ہوتا، جو بھی برتن آپ کے سامنے لایا جاتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا دست مبارک اس میں ڈبو دیتے، بسا اوقات سخت ٹھنڈی صبح میں برتن لائے جاتے تو آپ (پھر بھی) ان میں اپنا ہاتھ ڈبو دیتے۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6042]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب صبح کی نماز پڑھ لیتے تو مدینہ کے نوکر چاکر اپنے اپنے پانی کے برتن لاتے، تو جو برتن بھی لایا جاتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں اپنا ہاتھ ڈبو دیتے، بسا اوقات وہ انتہائی ٹھنڈی صبح میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے تو بھی آپ برتن میں اپنا ہاتھ ڈبو دیتے۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6042]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2324
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2325 ترقیم شاملہ: -- 6043
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: " لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالْحَلَّاقُ يَحْلِقُهُ، وَأَطَافَ بِهِ أَصْحَابُهُ، فَمَا يُرِيدُونَ أَنْ تَقَعَ شَعْرَةٌ، إِلَّا فِي يَدِ رَجُلٍ ".
ثابت نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، بال مونڈنے والا آپ کے سر کے بال اتار رہا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم آپ کے اردگرد تھے، وہ نہیں چاہتے تھے کہ آپ کا کوئی بھی بال ان میں سے کسی ایک کے ہاتھوں کے علاوہ کہیں اور گرے۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6043]
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا جبکہ سر مونڈنے والا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال مونڈ رہا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گھیرے ہوئے تھے اور وہ چاہتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی بال کسی آدمی کے ہاتھ ہی میں گرے۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6043]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2325
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2326 ترقیم شاملہ: -- 6044
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنَّ امْرَأَةً كَانَ فِي عَقْلِهَا شَيْءٌ، فَقَالَتْ: " يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي إِلَيْكَ حَاجَةً، فَقَالَ: يَا أُمَّ فُلَانٍ، انْظُرِي أَيَّ السِّكَكِ شِئْتِ، حَتَّى أَقْضِيَ لَكِ حَاجَتَكِ، فَخَلَا مَعَهَا فِي بَعْضِ الطُّرُقِ، حَتَّى فَرَغَتْ مِنْ حَاجَتِهَا ".
ثابت نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ایک عورت کی عقل میں کچھ نقص تھا (ایک دن) وہ کہنے لگی: اللہ کے رسول! مجھے آپ سے کام ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (بہت شفقت واحترام سے) فرمایا:ام فلاں! دیکھو، جس گلی میں تم چاہو (کھڑی ہوجاؤ) میں (وہاں آکر) تمہارا کام کر دوں گا۔آپ ایک راستے میں اس سے الگ ملے، یہاں تک کہ اس نے اپنا کام کر لیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6044]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ایک عورت کی عقل میں کچھ فتور تھا، وہ کہنے لگی: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے آپ سے کام ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ام فلاں! دیکھ تو کس گلی میں کھڑی ہو کر بات کرنا چاہتی ہے، تاکہ میں تیری ضرورت پوری کر دوں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ساتھ کسی راستہ میں کھڑے ہو کر علیحدگی میں گفتگو کی، یہاں تک کہ اس نے اپنی ضرورت پوری کر لی۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6044]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2326
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
20. باب مُبَاعَدَتِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلآثَامِ وَاخْتِيَارِهِ مِنَ الْمُبَاحِ أَسْهَلَهُ وَانْتِقَامِهِ لِلَّهِ عِنْدَ انْتِهَاكِ حُرُمَاتِهِ:
باب: آپ صلی اللہ علیہ وسلم انتقام نہ لیتے مگر اللہ کے واسطے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2327 ترقیم شاملہ: -- 6045
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ. ح وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا قَالَتْ: " مَا خُيِّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَمْرَيْنِ، إِلَّا أَخَذَ أَيْسَرَهُمَا، مَا لَمْ يَكُنْ إِثْمًا، فَإِنْ كَانَ إِثْمًا، كَانَ أَبْعَدَ النَّاسِ مِنْهُ، وَمَا انْتَقَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِنَفْسِهِ، إِلَّا أَنْ تُنْتَهَكَ حُرْمَةُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ".
امام مالک رحمہ اللہ نے ابن شہاب سے، انہوں نے عروہ بن زبیر سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: جب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دو کاموں میں سے (ایک کا) انتخاب کرنا ہوتا تو آپ ان دونوں میں سے زیادہ آسان کو منتخب فرماتے۔ بشرط یہ کہ وہ گناہ نہ ہوتا اگر وہ گناہ کا کام ہوتا تو آپ سب لوگوں سے بڑھ کر اس سے دور ہوتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی خاطر کبھی کسی سے انتقام نہیں لیا، سوائے اس صورت کے کہ اللہ کی حد کو توڑا جاتا۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6045]
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دو کاموں میں سے ایک کے انتخاب کا اختیار دیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے آسان کو اختیار کیا، بشرطیکہ وہ گناہ کا باعث نہ ہوتا، اگر وہ گناہ کا کام ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سب لوگوں سے بڑھ کر اس سے دور ہوتے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی اپنی ذات کی خاطر بدلہ نہیں لیا، الا یہ کہ کوئی اللہ عزوجل کی حرام کردہ چیز کا مرتکب ہوتا (اس کی حرمت کو پامال کرتا)۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6045]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2327
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2327 ترقیم شاملہ: -- 6046
وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا، عَنْ جَرِيرٍ . ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ كِلَاهُمَا، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، فِي رِوَايَةِ فُضَيْلٍ ابْنُ شِهَابٍ، وَفِي رِوَايَةِ جَرِيرٍ مُحَمَّدٌ الزُّهْرِيُّ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ،
منصور نے محمد سے۔ فضیل کی روایت میں ہے: ابن شہاب سے، جریر کی روایت میں ہے: محمد زہری سے۔ انہوں نے عروہ سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے (یہی) روایت بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6046]
یہی روایت امام صاحب اپنے دو اساتذہ کی سندوں سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6046]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2327
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2327 ترقیم شاملہ: -- 6047
وحَدَّثَنِيهِ حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، نَحْوَ حَدِيثِ مَالِكٍ.
یونس نے ابن شہاب سے اسی سند کے ساتھ امام مالک کی حدیث کے مانند روایت کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6047]
ایک اور استاد سے یہی روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6047]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2327
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں